Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 7 مارچ، 2016

    بگ بینگ کے وقت وحدت - حصّہ اوّل


    بگ بینگ کے وقت وحدت

    طبیعیات کو ایک بنیادی سوال کا سامنا ہے: ایسا کیوں ہے کہ چار مختلف قوّتوں کی حکمرانی کائنات پر ہے ؟ اور یہ چاروں قوّتیں ایک دوسرے سے اتنی مختلف کیوں ہیں۔ ان کی طاقت مختلف کیوں ہے ؟ کیوں یہ مختلف انداز سے تعامل کرتی ہیں اور ان کے طبیعیاتی خواص مختلف کیوں ہیں؟

    آئن سٹائن وہ پہلا شخص تھا جس نے ان چاروں قوّتوں کو ایک جامع نظریہ میں پرونے کی مہم شروع کی۔ اس نے شروعات قوّت ثقل اور برقی مقناطیسی قوّت کو متحد کرنے سے کی۔ لیکن وہ ناکام ہو گیا کیونکہ وہ اپنے عہد سے کافی آگے تھا؛ اس وقت مضبوط قوّت کے بارے میں بہت ہی کم معلومات تھیں جو ایک حقیقی وحدتی عملی نظریئے کے لئے درکار تھی۔ لیکن آئن سٹائن کے حوصلہ مند کام نے دنیائے طبیعیات کی آنکھیں ممکنہ "ہر شئے کے نظریئے" کے لئے کھول دیں۔


      ١٩٥٠ء کے عشرے میں ایک وحدتی میدانی نظریئے کا حصول بالکل ہی نا ممکن نظر آتا تھا ، خاص طور پر جب بنیادی ذرّات کی طبیعیات مکمل طور پر بے ربط تھی ، جوہری تصادم گر مادّے کے مرکزے کو توڑ کر "بنیادی جزئیات " کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ لیکن ان کو اس تجرباتی عمل میں سینکڑوں بنیادی ذرّات حاصل ہو رہے تھے۔ " بنیادی ذرّاتی طبیعیات" اپنی اصطلاح سے متصادم تھی، یہ ایک کائناتی مذاق تھا۔ یونانی سمجھتے تھے کہ جب کسی شئے کو توڑ کر بنیادی اینٹوں تک پہنچے گے تو چیزیں سادہ ہوں گی۔ لیکن اس کا تو الٹ ہو رہا تھا۔ طبیعیات دان اس جستجو میں لگے تھے کہ مزید یونانی حروف ڈھونڈیں تاکہ ان ذرّات کو نام دے سکیں۔ جے رابرٹ اپن ہائیمر تو مذاق میں یہ کہا کرتے تھے کہ اب نوبیل انعام اس طبیعیات دان کو ملے گا جو کوئی نیا بنیادی ذرّہ دریافت نہیں کرے گا۔ نوبیل انعام یافتہ اسٹیون وائن برگ حیران تھے کہ آیا انسانی دماغ کبھی اس قابل بھی ہو سکے گا کہ نیوکلیائی قوّت کے راز کو حل کر سکے۔

    بہرحال تذبذب کا شور و غوغا اس وقت تھمتا ہوا نظر آیا جب کالٹک کے مررے جیل مین اور جارج زووائیگ نے کوارک کا نظریہ پیش کیا ، وہ جز جو پروٹون اور نیوٹران کو بناتے تھے۔ کوارک نظریئے کے مطابق، تین کوارک مل کر ایک پروٹون اور ایک نیوٹران کو بناتے ہیں اور ایک کوارک اور ضد کوارک مل کر میسون (ایک ذرّہ جو مرکزے کو جوڑ کر رکھتا ہے) بناتے ہیں۔ یہ صرف آدھا حل تھا (کیونکہ آج ہم مختلف قسم کے کوارک کے سمندر کو دیکھتے ہیں)، تاہم اس نے ایک مردہ میدان میں نئی روح پھونک دی تھی۔

    ١٩٦٧ء میں طبیعیات دان اسٹیون وائن برگ اور عبدالسلام نے ایک شاندار دریافت کی ، جس میں اس بات کو ثابت کیا گیا کہ کمزور اور برقی مقناطیسی قوّت کو متحد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک نیا نظریہ پیش کیا جس میں الیکٹران اور نیوٹرینو (جو لیپٹون کہلاتے ہیں) ایک دوسرے سے آپس میں ایک نئے ذرّے اور فوٹون کو ادل بدل کر تعامل کر سکتے ہیں۔ یہ نیا ذرّہ ڈبلیو اور ذی بوسون کہلائے۔ ڈبلیو اور ذی بوسون اور فوٹون کو ایک جگہ پر رکھ کر انہوں نے ایک نظریئے پیش کیا جس میں یہ دونوں قوّتیں متحد نظر آتی تھیں۔ ١٩٧٩ء میں اسٹیون وائن برگ ، شیلڈن گلاشو اور عبدالسلام کو اس کام کے سلسلے میں مشترکہ نوبل انعام دیا گیا جس میں انہوں نے چار میں سے دو قوّتوں یعنی کہ برقی مقناطیسی اور کمزور قوّت کو متحد کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مضبوط نیوکلیائی قوّت کو جاننے میں زبردست مدد ملی تھی۔ ١٩٧٠ء کے عشرے میں طبیعیات دانوں نے اسٹینفورڈ لینیر ایکسلریٹر سینٹر (سلاک) کے اسراع گر سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا ، اس اسراع گر میں شدید الیکٹران کی کرنیں ایک ہدف پر ماری جاتی تھیں تاکہ کی گہرائی کی کھوج کی جا سکے۔ انہوں نے دیکھا کہ طاقتور نیوکلیائی قوّت جس نے کوارک کو پروٹون کے اندر ایک ساتھ رکھا ہوا ہے اس کو ایک نئے ذرّے سے بیان کیا جا سکتا ہے جس کا نام گلوآن رکھا گیا۔ یہ مضبوط نیوکلیائی قوّت کے کوانٹا تھے۔ پروٹون کو آپس میں باندھ کر رکھنے والی قوّت کو کوارک کے درمیان گلوآن کے باہمی تبادلے کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس نے مضبوط نیوکلیائی قوّت کے ایک نئے نظریئے کی بنیاد ڈالی جو کوانٹم لونی حرکیات کہلائی۔

    لہٰذا ١٩٧٠ء کے عشرے کے بیچ میں یہ ممکن ہو گیا تھا کہ چار قوّتوں میں سے تین قوّتوں (قوّت ثقل کو چھوڑ کر)کو جوڑ ا جا سکے۔ اس طرح سے ہمیں معیاری نمونہ حاصل ہوا۔ کوارک، الیکٹران، اور نیوٹران کا نظریہ جو گلوآن، ڈبلیو اور زی بوسون اور فوٹون کو ادل بدل کر تعامل کرتے ہیں۔ یہ عشروں سے کچھوے کی رفتار سے چلنے والی ذرّاتی طبیعیات کی تحقیق کا نقطۂ عروج تھا۔

    سردست معیاری نمونہ ذرّاتی طبیعیات سے متعلق تمام تر تجرباتی اعداد و شمار میں بغیر کسی اِستثنیٰ کے بالکل ٹھیک بیٹھتا ہے۔


    ہرچند کے معیاری نمونہ تاریخ کا سب سے کامیاب نظریہ ہے ، لیکن یہ بہت ہی زیادہ بھدا ہے۔ اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ قدرت اس بنیادی پیمانے پر ایک ایسے نظریہ سے چلتی ہے جو بہت زیادہ قابل مرمت لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اس نظریئے میں انیس خود مختارانہ مقدار معلوم ہیں جن کو خود سے ڈالا جاتا ہے بغیر کسی وجہ یا تک کے (یعنی کہ ، متعدد کمیتیں اور تعاملات کی طاقت کا تعین نظریہ نہیں کرتا بلکہ ان کو تجربہ کے ذریعہ معلوم کرنا ہوتا ہے ، مثالی بات تو وہ ہوگی جب ایک سچے وحدتی نظریہ میں نظریہ خود سے ان مستقلات کا تعین خارجی تجربات پر انحصار کیے بغیر کرے۔)
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: بگ بینگ کے وقت وحدت - حصّہ اوّل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top