Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات, مارچ 31, 2016

    بلیک ہول یا روزن سیاہ



    ١٧٨٣ء میں برطانوی ماہر فلکیات جان مچل وہ پہلا شخص تھا جس نے اس بات کو سوچا کہ اس وقت کیا ہوگا جب کوئی ستارہ اتنا بڑا ہو جائے کہ روشنی خود سے اس ستارے سے فرار حاصل نہ کر سکے۔ وہ جانتا تھا کہ ایسے کسی بھی جسم کی فراری سمتار یا فراری سمتی رفتار ضرور ہونی چاہئے۔ فراری سمتی رفتار سے مراد اس جسم کی جاذبی قوّت کو شکست دینے کی قوّت ہے۔ (مثال کے طور پر زمین کی فراری سمتی رفتار ٢٥ ہزار میل فی گھنٹہ ہے، یہ وہ رفتار ہے جو کسی بھی راکٹ کو زمین کی کشش ثقل سے جان چھڑانے کے لئے درکار ہوتی ہے۔) مچل نے سوچا کہ اس وقت کیا ہوگا جب ستارہ اس قدر ضخیم ہو جائے کہ اس کی فراری سمتی رفتار ، روشنی کی رفتار جتنی ہو جائے گی۔ اس کی قوّت ثقل اس قدر زیادہ ہوگی کہ کوئی بھی چیز اس سے راہ فرار حاصل نہیں کر سکتی ہوگی یہاں تک کہ روشنی بھی نہیں اور ایسا کوئی بھی جسم خارجی دنیا کو سیاہ نظر آئے گا۔ ایسے کسی بھی جسم کو خلاء میں دیکھنا ناممکن ہوگا کیونکہ وہ مرئی ہی نہیں ہوگا۔

    مچل کے تاریک ستارے کے سوال کو ڈیڑھ صدی تک بھلا دیا گیا۔ لیکن اس مسئلے نے دوبارہ ١٩١٦ء میں اس وقت دوبارہ سر اٹھایا جب ایک جرمن طبیعیات دان کارل شوارز چائلڈ نے ضخیم ستارے کے لئے آئن سٹائن کی مساوات کا بالکل ٹھیک حل نکالا۔ یہ طبیعیات دان جرمنی کی فوج کو اپنی خدمات فراہم کر رہا تھا ۔ آئن سٹائن سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شوارز چائلڈ توپوں کی گھن گرج میں رہتے ہوئے اس کی اتنی مشکل مساوات کو حل بھی کر سکتا ہے ۔ اس کو یہ جان کر بھی کافی حیرت ہوئی کہ شوارز چائلڈ کے حل کے کچھ مخصوص خواص ہیں۔ دور سے شوارز چائلڈ کا حل ایک عام ستارے کی قوّت ثقل بھی بیان کرتا تھا ۔ آئن سٹائن نے برق رفتاری کے ساتھ اس کے حل کو سورج کے ارد گرد موجود قوّت ثقل کو معلوم کرنے کے لئے اور اپنے اولین حاصل کردہ اعداد و شمار کی درستگی کو معلوم کرنے کے لئے استعمال کیا جس میں اس نے کچھ اندازے استعمال کئے تھے۔ اس کام کے لئے وہ شوارز چائلڈ کے لئے ابد تک شکرگزار تھا۔ لیکن شوارز چائلڈ نے دوسرے مقالے میں بیان کیا کہ ایک بہت ہی ضخیم ستارے کے گرد ایک خیالی "جادوئی کرہ" اپنی عجیب و غریب خصائص کے ساتھ موجود ہوگا۔ یہ "جادوئی کرہ" ایک ایسی جگہ ہوگی جہاں سے واپس نہیں پلتا جا سکتا۔ کوئی بھی جو اس جادوئی کرہ سے گزرے گا وہ فی الفور ستارے کی زبردست کشش کی وجہ سے اس میں گر جائے گا اور پھر کبھی نظر نہیں آئے گا۔ یہاں تک کہ روشنی بھی اگر اس کرہ میں گر جائے گی وہ بھی راہ فرار حاصل نہ کر پائے گی۔ شوارز چائلڈ کو یہ اندازہ نہیں ہوا کہ وہ آئن سٹائن کی مساوات کے ذریعہ دوبارہ سے مچل کا تاریک ستارہ دریافت کر رہا ہے۔ اس نے پھر اس جادوئی کرہ کے نصف قطر کا حساب لگایا (جس کو شوارز چائلڈ کا نصف قطر کہتے ہیں)۔

    ہمارے سورج جتنے کسی بھی جسم کے لئے یہ کرہ لگ بھگ ٣ کلو میٹر (٢ میل کے آس پاس ) کا ہوگا۔ (زمین کے لئے یہ شوارز چائلڈ کا نصف قطر ایک سینٹی میٹر جتنا ہوگا۔) اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی سورج کو دبا کر دو میل کے قریب کر دے تب وہ ایک تاریک ستارہ بن جائے گا اور ہر اس جسم کو نگل لے گا جو اس نقطہ کے پاس پھٹکے گا جہاں سے واپسی کا سفر ناممکن ہے۔ تجرباتی طور پر جادوئی کرہ کا وجود کوئی مسئلہ ہی نہیں پیدا کرتا کیونکہ سورج جیسی کسی بھی چیز کو دبا کر دو میل تک کرنا ناممکن امر ہے۔ کوئی بھی ایسا نظام موجود نہیں ہے جو اس طرح کا تاریک ستارہ بنا سکے۔ لیکن نظری طور پر یہ تو تباہی تھی۔ ہرچند کہ آئن سٹائن کا عمومی نظریئے اضافیت شاندار نتائج فراہم کرتا ہے ، مثلاً سورج سے ہو کر آتی ہی ستاروں کی روشنی میں ہونے والے خم کو ، لیکن یہ نظریئے عقل عامہ کے خلاف اس وقت دکھائی دیتا ہے جب آپ اس جادوئی کرہ کے پاس پہنچتے ہیں جہاں پر قوّت ثقل لامحدود ہو جاتی ہے۔

    ایک ولندیزی طبیعیات دان جوہانس دروستے نے تو ایک اور پاگل کر دینے والا حل پیش کیا تھا۔ اضافیت کے مطابق روشنی کی کرن جب کسی ایسے جسم کے پاس سے گزرتی تو وہ لہراتی ہے ۔ اصل میں تو شوارز چائلڈ کے نصف قطر کے 1.5 گنا میں تو روشنی کی رفتار اس ستارے کے گرد گول گھومے گی۔ دروستے نے اس بات کو بھی پیش کیا کہ عمومی اضافیت کے مطابق ان ضخیم ستاروں کے گرد وقت میں خلل خصوصی اضافیت سے کہیں زیادہ برا پڑتا ہے۔ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ جب ہم اس جادوئی کرہ کے قریب پہنچیں گے، تو کوئی دور دراز کا شاہد ہماری گھڑیوں کے چلنے کی رفتار کو آہستہ سے آہستہ ہوتا دیکھے گا یہاں تک کہ ہماری گھڑیاں اس وقت رک جائیں گی جب ہم اس جسم سے ٹکرائیں گے۔ اصل میں تو باہر کا شاہد یہ سمجھا گا کہ جب ہم اس جادوئی کرہ کے پاس پہنچیں گے تو ہم وقت میں جمے ہوئے نظر آئیں گے۔ کیونکہ وقت بذات خود اس نقطہ پر آکر رک جائے گا، کچھ طبیعیات دان اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ایسی عجیب اجسام کبھی بھی قدرت میں اپنا وجود نہیں رکھیں گے۔ بات اس وقت مزید دلچسپ ہو جاتی ہے جب ایک ریاضی دان ہرمن ویل نے یہ بتایا کہ اگر کوئی اس جادوئی کرہ کے اندر کی کھوج کر سکے تو ایسا لگتا ہے کہ اس میں دوسری جانب ایک اور کائنات موجود ہے۔

    یہ تمام باتیں اس قدر حیرت انگیز تھیں کہ خود آئن سٹائن ان پر یقین نہیں رکھتا تھا۔١٩٢٢ء میں پیرس میں ہونے والی ایک کانفرنس میں آئن سٹائن سے ریاضی دان جاکس ہیڈامرڈ نے پوچھا کہ اس وقت کیا ہوگا جب یہ "وحدانیت" اصل میں حقیقی ہو، یعنی کہ اگر قوّت ثقل شوارز چائلڈ کے نصف قطر پر پہنچ کر لامحدود ہو جائے۔ آئن سٹائن نے جواب دیا، " یہ نظریئے کے لئے واقعی میں ایک تباہی ہوگی؛ اور یہ بات استدلال سے کہنا بہت مشکل ہوگی کہ طبیعی طور پر کیا ہوگا کیونکہ کلیے کا اطلاق مزید نہیں ہوگا۔" آئن سٹائن اس کو بعد میں ہیڈا مرڈ کی تباہی سے بیان کرتا تھا۔ لیکن اس کے خیال میں تاریک ستارے کے گرد موجود تمام تنازع صرف قیاسی ہی ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ کسی نے بھی ایسا عجیب جسم نہیں دیکھا، اور شاید وہ وجود بھی نہیں رکھتے، یعنی کہ وہ غیر طبیعی ہیں ۔ مزید براں کوئی بھی ایسے اجسام کے پاس پہنچنے کے بعد اس میں گر کر کچل کر موت کے قریب پہنچ جائے گا۔ اور کیونکہ کوئی بھی اس جادوئی کرہ کو کبھی بھی نہیں پار کر سکتا (کیونکہ وقت تھم جائے گا) لہٰذا کوئی بھی اس متوازی کائنات میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکتا۔

    ١٩٢٠ء کے عشرے میں طبیعیات دان اس مسئلہ میں تذبذب کا شکار تھے۔ لیکن ١٩٣٢ء میں بگ بینگ کے بانی جارج لیمیترے نے ایک اہم دریافت کر لی۔ اس نے بتایا کہ جادوئی کرہ صرف ایسی وحدانیت ہی نہیں ہے جہاں صرف قوّت ثقل لامحدود ہو جاتی ہے؛ یہ تو ریاضیاتی سراب ہے جو ریاضی کے بدقسمت غلط مفروضوں کو لے کر لگایا گیا ہے۔ ( اگر کوئی مختلف محدد کا سیٹ یا متغیر لے کر اس جادوئی کرہ کی جانچ کرے تو وحدانیت غائب ہو جاتی ہے۔)

    اس کے نتائج کو لے کر، ماہرین تکوینیات ایچ پی رابرٹسن نے دروستے کے اصل نتائج کو دوبارہ سے جانچا جہاں وقت جادوئی کرہ کے پاس جا کر تھم جاتا ہے۔ اس کو معلوم ہوا کہ وقت تو صرف ایک شاہد کے لئے ہی ٹھرا ہوا ہوگا جو خلائی جہاز کو اس کرہ میں داخل ہوتے دیکھ رہا ہوگا۔ خلائی جہاز میں بیٹھے ہوئے مسافر کے لئے تو صرف ایک سیکنڈ کے کچھ ہی حصّے میں قوّت ثقل چوس کر اس کو جادوئی کرہ میں کھینچ لے گی۔ بالفاظ دیگر بدقسمت خلائی مسافر جیسی ہی جادوئی کرہ کے پاس پہنچے گا وہ فی الفور کچل کے موت سے ہمکنار ہو جائے گا، لیکن ایک خارجی شاہد کے لئے یہ دیکھنے کے لئے دسیوں ہزار برس لگ جائیں گے۔

    یہ بہت ہی اہم نتیجہ تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ جادوئی کرہ قابل پہنچ تھا اور اب اس کو صرف ریاضی کی جادوگری کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اب تو اس بات کو سنجیدگی سے لینا ہی پڑے کہ اس وقت کیا ہوگا جب کوئی اس جادوئی کرہ سے صحیح سلامت گزر گیا۔ طبیعیات دانوں نے پھر اس بات کا حساب لگانا شروع کر دیا کہ اس جادوئی کرہ میں سے گزر کر کرنے والا سفر کس طرح کا ہوگا۔ (آج ہم اس جادوئی کرہ کو واقعاتی افق کہتے ہیں۔ افق اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں تک کوئی دیکھ سکتا ہے۔ یہاں یہ اس دور دراز کے نقطہ کی جانب اشارہ کرتی ہے جہاں تک روشنی سفر کر سکتی ہے۔ واقعاتی افق کا نصف قطر شوارز چائلڈ کا نصف قطر کہلاتا ہے۔)

    جیسے ہی آپ خلائی جہاز میں بیٹھ کر بلیک ہول سے نزدیک ہونا شروع ہوں گے، آپ دیکھیں کہ روشنی کو بلیک ہول نے ارب ہا برسوں پہلے مقید کرلیا تھا۔ اس وقت سے ہی اس نے روشنی کو قید کرنا شروع کر دیا تھا جب وہ پہلی بار بنا تھا۔ بالفاظ دیگر بلیک ہول کی زندگی کی تاریخ آپ پر آشکار ہو جائے گی۔ آپ جیسے قریب ہوں گے، مد و جذر کی موجیں بتدریج آپ کے جسم کے جوہروں کواس وقت تک ریزہ ریزہ کرتی رہیں گی جب تک کہ آپ کے جسم کے جوہروں کے مرکزے لمبی سویوں جیسے نہ ہو جائیں۔ واقعاتی افق کے ذریعہ سفر یک طرفہ ٹکٹ کی طرح ہے، کیونکہ قوّت ثقل اس قدر طاقتور ہوگی کہ آپ اس کے سیدھے قلب میں کھنچے چلے جائیں گے، جہاں کچل کر آپ کی موت ہو جائے گی۔ ایک دفعہ واقعاتی افق کے اندر داخل ہو جائیں، اس کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ (واقعاتی افق سے نکلنے کے لئے آپ کو روشنی کی رفتار سے تیز سفر کرنا پڑے گا۔ جو ناممکن ہے۔)

    ١٩٣٩ء میں آئن سٹائن نے ایک مقالہ لکھا جس میں اس نے کوشش کی کہ ایسے کسی تاریک ستارے کو رد کر دے، اس نے دعویٰ کیا کہ یہ قدرتی عمل کے نتیجے میں نہیں بن سکتے۔ اس نے شروعات اس مفروضے سے کی کہ ستارے بھنور نما گرد، گیس اور غبار کے مجموعہ کی گھومتی ہوئی کروی قرص سے بنتے ہیں، جو بتدریج قوّت ثقل کے زیر اثر آپس میں قریب ہوتی رہتی ہے۔ پھر اس سے بیان کیا کہ یہ گھومتے ہوئے ذرّات کبھی بھی شوارز چائلڈ کے نصف قطر میں منہدم نہیں ہوں گے۔ لہٰذا یہ کبھی بلیک ہول نہیں بن سکتے۔ بہت ہوا تو یہ گھومتی ہوئی ذرّات کی قرص صرف شوارز چائلڈ کے 1.5 گنا نصف قطر کو حاصل کر سکتی ہے لہٰذا کبھی بھی بلیک ہول نہیں بن سکیں گے۔ (شوارز چائلڈ سے 1.5 گنا کم ہونے پر روشنی کی رفتار سے تیز سفر کرنا ہوگا جو کہ ناممکن ہے۔)" اس تفتیش کا اہم پہلو ہمیں واضح ادراک فراہم کرتا ہے کہ آیا کیوں 'شوارز چائلڈ کی وحدانیت' حقیقی دنیا میں طبیعی طور پر وجود نہیں رکھتی۔" آئن سٹائن لکھتا ہے۔

    آرتھر ایڈنگٹن بھی بلیک ہول کے بارے میں گہرا بغض رکھتا تھا اور پوری زندگی اس شش و پنچ ہی میں رہا کہ وہ کبھی وجود نہیں پا سکتے۔ ایک دفعہ اس نے کہا تھا کہ "قدرت کا ایسا قانون ہونا چاہئے جو ستارے کو اس طرح کے عجیب برتاؤ سے روک سکے۔"

    مزے دار بات یہ ہے کہ اسی برس جے رابرٹ اوپن ہائیمر (جس نے بعد میں جوہری بم بنایا تھا) اور اس کے شاگرد ہارٹلینڈ سینڈر نے یہ ثابت کیا کہ حقیقت میں تو بلیک ہول ایک دوسرے نظام کے تحت بن سکتے ہیں۔ قوّت ثقل کے زیر اثر منہدم ہوتے گھومتے ہوئے گرد و غبار کے ذرّات کے بجائے انہوں نے شروعات ایک بوڑھے ستارے سے کی ، ایک سورج سے ٤٠ گنا زیادہ ضخیم ستارے سے جو اپنا نیوکلیائی ایندھن جلا چکا تھا اور قوّت ثقل کے تحت سکڑتا ہوا شوارز چائلڈ کے نصف قطر کے اندر ٨٠ میل تک کا ہو گیا ہو، اس صورت میں ایسا ستارہ لازمی طور پر منہدم ہوتے ہوئے ایک بلیک ہول میں بدل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف بلیک ہول کا بننا ممکن ہے بلکہ وہ کہکشاں میں موجود ارب ہا ستاروں کی آخری منزل بھی ہو سکتے ہیں۔ (ممکن ہے کہ دھماکے کے اس خیال نے ہی اوپن ہائیمر کو جوہری بم میں استعمال ہونے والے نظام کے بارے میں چند سال بعد تحریک دی ہو۔)
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: بلیک ہول یا روزن سیاہ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top