Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ، 8 اپریل، 2016

    چیونٹیوں کی بستیاں کیسی نظر آتی ہیں؟



    چیونٹیوں کی ایک فوج ایک ہفتے میں زیر زمین وسیع شہر تعمیر کر سکتی ہے۔


    ایک اکیلی چیونٹی اپنے وزن سے 50 گنا زیادہ تک اٹھا سکتی ہے، لہٰذا ایک بستی کی صورت میں مل کر کام کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ انتہائی متاثر کن کارنامے انجام دے سکتی ہیں۔ اصل میں ایک ہفتے کے اندر ہی باغ کی چیونٹیاں ایک زیر زمین شہر بنا سکتی ہیں جو اتنا بڑا ہوسکتا ہے کہ جس میں ہزار ہا کیڑوں کی بستی سما سکے۔ گہری زمین کے اندر چیونٹیوں کے گھونسلے کثیر خانوں سے بنتے ہیں جو سرنگوں سے منسلک ہوتے ہیں۔ ہر خانے کا مختلف کام ہوتا ہے؛ کچھ خوراک کا ذخیرہ کرنے کے لئے ہوتے ہیں، جبکہ دوسرے نوجوانوں کی پود گاہ ہوتے ہیں باقی جگہ مصروف مزدور چیونٹیوں کے لئے ہوتی ہے۔ آپ ملکہ چیونٹی کو مرکزی خانے میں دیکھ سکتے ہیں جہاں وہ اپنے انڈے دیتی ہے۔ حیرت انگیز ساخت کے اضافے سے مسام دار برج زمین سے اوپر گھونسلے کو ہوا دار اور اندر یکساں درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔


    دیمک کے بڑے شہر


    پانچ میٹر تک لمبا، دیمک کا ٹیلہ مٹی، گوبر اور دیمک کے لعاب سے بنتا ہے اور اسے بنانے میں چار سے پانچ برس لگ جاتے ہیں۔ چیونٹیوں کی طرح دیمک بھی سماجی جانور ہیں اور اس طرح کی متاثر کن عمارتیں بنانے کے لئے مل کر کام کرتی ہیں۔ اگرچہ ٹیلہ ٹھوس لگتا ہے تاہم حقیقت میں یہ مسام دار ہوتا ہے جس سے تمام جگہ ہوا گردش کرکے درجہ حرارت کو یکساں برقرار رکھتی ہے۔ مینار کو شمال اور جنوب کی سمت میں بنایا جاتا ہے تاکہ درجہ حرارت کو قابو کرنے میں مدد دے سکے۔ ہوا ٹیلہ میں ننھے خارجی سوراخوں سے داخل ہوتی ہے اور ڈھانچے میں گردش کرکے درجہ حرارت کو گراتی ہے اور کیڑوں کے لئے تازہ آکسیجن مہیا کرتی ہے۔ جب ہوا گرم ہوتی ہے تو وہ اوپر اٹھ کر ٹیلے کی مرکزی چمنی سے خارج ہوجاتی ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: چیونٹیوں کی بستیاں کیسی نظر آتی ہیں؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top