Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, اپریل 23, 2016

    رائٹ طیار

    روایتی طیارہ جو سب سے مشہور بھائیوں کی شراکت میں تیار ہوا 


    ہوا میں اڑنے کا خواب شاید حضرت انسان کا تب سے رہا ہے جب سے آسمان فلک پر اس نے پرندوں کو اڑان بھرتے دیکھا۔ صدیوں سے حضرت انسان اپنی اس کوشش میں جتا رہا اور ہر بار ناکامی سے دوچار رہا۔ ایک مشہور سائنس دان نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہوا سے بھاری اڑنے والی مشین بنائی ہی نہیں جاسکتی۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ہمت مرداں مدد خدا اسی کہاوت پر عمل پیرا ہوکر امریکہ کے دو بھائیوں نے جہد مسلسل کے بعد آخر کار جان لیا کہ ہوا میں کیسے اڑا جاسکتا ہے!!!!!
    سائیکل کی دکان والے ان بھائیوں نے آخر کار اس راز کو جان لیا جس کی بدولت مشین کو ہوا میں معلق رکھ کر اسے قابو کیا جاسکے یہی وہ بریک تھرو تھا جو صدیوں کے تجربات میں مفقود تھا۔ ان کی اس ایجاد نے دنیا پر اپنے گہرے اثرات مرتب کئے۔ انہی کی ایجاد کی بدولت انسان اس قابل ہوا کہ خلائے بسیط کی فضاؤں کو چھاننے کی کوشش کرسکے۔
    آئیے دیکھتے ہیں کہ پہلا جہاز دیکھنے میں کیسا دکھائی دیتا تھا اور اس کے کون کون سے اہم حصے تھے!

    اورول اور ولبر رائٹ نے اپنی زندگی طاقتور طیارے کو تیار کرنے کے لئے وقف کر رکھی تھی ۔ انتہائی احتیاط کے ساتھ جانچا ہوا رائٹ طیار ڈیٹن، اوہائیو میں بنایا گیا تھا تاہم اسے 14 دسمبر 1903ء کو پہلی مرتبہ تجرباتی پرواز کے دوران ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ۔ بالآخر بعد میں یہ 17 دسمبر کو اڑان بھرنے میں کامیاب ہوگیا اور ولبر اور اورول نے اپنی ایجاد کو 260 میٹر (852 فٹ) کی اونچائی تک اڑایا۔ طیارے کو ایک مختصر سی یک پٹری سے سائیکل کے دو تبدیل شدہ ہب سے چھوڑا گیا تھا۔ انجن بہت ہی بنیادی تھا اور صرف ایک ہاتھ سے چلنے والے بیرم سے کام کرتا تھا جس کا کام صرف ایندھن کی رسد کو کھولنا اور بند کرنا تھا۔ طیار کو بنانے سے قبل، بھائیوں نے 1900ء سے 1903ء کے دوران مختلف گلائیڈرز بنائے جن کی جانچ عظیم کامیابی کے ساتھ کی گئی۔ بالآخر انھیں وہ مکمل کلیہ مل گیا جس کی مدد سے انہوں نے دنیا کی پہلی ہوا سے بھاری مشین کو ہوا میں معلق کرلیا تھا۔

    دو پنکھی ہوائی جہاز کی ساخت کے طور پر بنا ہوا رائٹ طیار بناگہانی بد قسمت موت سے اس وقت ہمکنار ہوا جب وہ اپنی پہلی اڑان کے چار دن بعد ہوا کے بڑے جھونکے سے تباہ ہوگیا۔ طیارے کے ڈیزائن کا کام 1948ء میں اورول کی موت کے بعد یو ایس اے میں واقع اسمتھسونین نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم میں منتقل ہونے سے پہلے برٹش سائنس میوزیم میں ہوا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: رائٹ طیار Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top