Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ, اپریل 29, 2016

    آپ سورج کی زندگی کا کیسے حساب لگاتے ہیں؟



    جواب: اس کے لئے تھوڑی طبیعیات کا اعلیٰ درجے کا علم درکار ہوگا۔ تاہم آپ سورج کی حیات کے دورانیے کو بہت ہی سادہ سے حساب سے بھی معلوم کر سکتے ہیں۔

    سب سے پہلے تو آپ کو سورج کی دور حاضر کی عمر (جو ٥ ارب برس ہے) معلوم کرنا ہوگی۔ یہ عمر ریڈیائی تابکاری کے انحطاط سے  ان اجسام کا تجزیہ کرکے معلوم کیا جا سکتا ہے جو نظام شمسی میں اس وقت سے ہیں جب سے سورج تھا۔

    سورج کی کل عمر کا دورانیہ سرخ دیو بننے سے پہلے کا جیسا کہ آپ نے کہا تھا ١٠ ارب برس ہے ( یعنی یہ تبدیلی آج سے ٥ ارب برس بعد وقوع پذیر ہوگی)۔ اس کا اندازہ ہم اس بات کو فرض کرکے لگا سکتے ہیں کہ جب سورج مر جائے گا تم یہ اپنی توانائی سے محروم ہوگا جو اس کو روشن رکھتی ہے۔ اس  چیز کو وقوع پذیر ہونے کے لئے لگ بھگ وہ وقت درکار ہوگا  جس کو  سورج کی مکمل توانائی   کو اس شرح سے تقسیم کرنا ہوگا جس سے وہ آج توانائی پیدا کر رہا ہے یا :
    سورج کی حیات کا دور= (توانائی)/(شرح[توانائی/وقت] جس پر سورج توانائی کا اخراج کر رہا ہے )

    جس شرح سے سورج روشنی پیدا کر رہا ہے وہ شرح  اس شرح کے برابر ہے جس سے وہ توانائی کو اپنی سطح سے خارج کر رہا ہے ( اس کی تابانی) جو لگ بھگ 3.8X1026 واٹس ہے۔ اس عدد کو سورج کے زمین سے فاصلے اور  یہ زمین سے کتنا روشن  دکھائی دیتا ہے  کو ناپنے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

     وہ کل توانائی جو سورج کو جلانے کے لئے درکار ہوگی اس  کو سمجھنے کے لئے تھوڑا سا علم چاہئے (مثال کے طور پر کچھ نیوکلیائی طبیعیات کا علم)۔ ہم جانتے ہیں کہ سورج اپنے قلب میں  بذریعہ نیوکلیائی تعامل ہائیڈروجن کے چار جوہروں کو  ہیلیئم کے ایک جوہر میں تبدیل کرتا ہے ۔ اگر آپ دوری جدول پر ایک نظر ڈالیں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایک ہیلیئم کے جوہر کی کمیت چار ہائیڈروجن جوہروں کے مقابلے میں صرف 0.7 فیصد کم ہوتی ہے  - یہ  غائب کمیت ہی وہ چیز ہے جو توانائی میں تبدیل ہوتی ہے۔ لہٰذا مطلق طور پر سورج کی کمیت کا صرف 0.7 فیصد  توانائی میں تبدیل ہوتا ہے۔ اور یہی توانائی ہے جو سورج کو جلاتی ہے۔ لہٰذا آئن سٹائن کے مشہور کلیہ E=Mc2 کا استعمال کرتے ہوئے کمیت اور توانائی کی تبدیلی کا حساب لگایا جا سکتا ہے :
    E = 0.007 x M c^2

    جہاں c روشنی کی رفتار ہے جبکہ M سورج کی وہ کمیت ہے جو نیوکلیائی تعامل سے گزرے گی۔

    اب جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ سورج کا مرکزی حصّہ ہی وہی جگہ ہے جہاں اتنا درجہ حرارت ہوتا ہے کہ نیوکلیائی تعامل جاری رہ سکے۔ اب آپ کو ضرورت ہوگی سورج کے اندرون کی تفصیلی ساخت کے نقشے کی تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ سورج میں کتنی جگہ ایسی ہے جہاں کا درجہ حرارت اتنا ہے تاہم اگر ہم اندازہ ہی لگا رہے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ١٠ فیصد سورج کی کمیت اس کے اس مرکزی حصّے میں موجود ہے جو اس قدر گرم ہوتی ہے جہاں نیوکلیائی تعامل جاری رہ سکے۔ تب ہمارے پاس یہ موجود ہوگا :
    E = 0.007 x 0.1 x Msun c2

    جہاں Msun سورج کی کل کمیت ہوگی  یعنی  2 x 1030  کلوگرام۔ لہٰذا  ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سورج جو کل توانائی کو جلائے گا وہ لگ بھگ 1.3x1044 جول ہوگی۔3.8x1026 واٹس  (جس شرح سے سورج توانائی پیدا کر رہا ہے) کو تقسیم  کرکے اس عدد میں ہمیں لگ بھگ ١٠ ارب برس سورج کی کل عمر کا دورانیہ معلوم ہوتا ہے۔



    ڈیوسابق سند یافتہ طالبعلم ہیں اور اب مابعد ڈاکٹریٹ تحقیق میں کارنیل میں مصرف تعلیم ہیں جہاں وہ زیریں سرخ شعاعوں اور ایک ریز کے مشاہدے اور نظری کمپیوٹر نمونے کا استعمال کرتے ہوئے ہماری کہکشاں میں بلیک ہولز کی پرت دار قرص پر تحقیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس سابقہ ویب سائٹ کو بنانے میں زیادہ تر کام بھی کیا تھا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: آپ سورج کی زندگی کا کیسے حساب لگاتے ہیں؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top