Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات, اپریل 7, 2016

    تھورن کی ٹائم مشین





    ٹائم مشین کا خیال لگ بھگ١٩٨٥ء تک تقریباً ٣٥ برسوں تک بھلا دیا گیا جب ماہر فلکیات کارل ساگان نے اپنا ناول "کنٹیکٹ" لکھا جس میں وہ چاہتا تھا کہ ہیروئن ایک ستارے تک کا سفر کر سکے۔ اس کو دو طرفہ سفر کروانا تھا ، ایک مرتبہ ہیروئن کو ستارے تک جانا تھا اور پھر واپس آنا تھا۔ یہ ایک ایسی چیز تھی جس کی اجازت بلیک ہول یا ثقب کرم نہیں دیتے تھے۔ وہ طبیعیات دان کپ تھورن کے پاس مشورہ لینے کے لئے گیا۔ تھورن نے طبیعیات کی دنیا کو آئن سٹائن کی مساوات کے ایک نئے حل کو پیش کرکے بھونچکا کر دیا۔ یہ نیا حل وقت میں سفر کو پہلے مسائل سے جان چھڑاتا ہوا ممکن بنا دیتا تھا۔١٩٨٨ء میں اپنے رفیق مائیکل مورس اور الوی یرٹسیور کے ساتھ تھورن نے اس بات کی تجویز پیش کی کہ ٹائم مشین کو بنانا ممکن ہے بشرطیکہ کوئی مادّے اور توانائی کی عجیب قسموں کو حاصل کر لے مثلاً "عجیب منفی مادّہ" اور "عجیب منفی توانائی" ۔طبیعیات دان پہلے تو اس نئے حل کے بارے میں متشکک ہوئے کیونکہ کسی نے بھی اب تک اس قسم کے اجنبی مادّے کو نہیں دیکھا تھا، اور منفی توانائی تو بہت ہی معمولی مقدار میں وجود رکھتی تھی۔ لیکن اس نے وقت میں سفر میں ہمارے ادراک کو کافی تبدیل کر دیا۔ 

    منفی مادّے اور منفی توانائی کا سب سے زیادہ فائدہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسا ثقب کرم بنا سکتے ہیں جس میں سے آیا جایا جاسکتا ہوگا اس طرح سے واقعاتی افق سے پریشان ہونے کی ضرورت کے بغیر دو طرفہ سفر ممکن ہو سکتا ہے۔ اصل میں تو کپ تھورن کی جماعت نے اس ٹائم مشین میں سفر کرنے کو کافی پرسکون بتایا ہے۔ یہ بالکل کسی تجارتی ہوائی جہاز کے سفر جیسا ہی ہوگا۔

    ایک مسئلہ بہرحال یہ ہوگا کہ یہ اجنبی مادّہ( یا منفی توانائی) اپنے خواص میں انتہائی منفرد ہے۔ ضد مادّہ کے برعکس (جس کا وجود سب مانتے ہیں اور جو زمین کے مقناطیسی میدان کے زیر اثر زمین کی سطح پر گر سکتا ہے)، منفی مادّہ زمین کی کشش ثقل کی موجودگی میں اوپر اٹھے گا کیونکہ اس میں ضد ثقل ہوتی ہے۔ یہ عام مادّے اور دوسرے منفی مادّے کے ذریعہ کھینچنے کے بجائے دفع ہو تا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اس کا وجود بھی ہے تو بھی اس کو قدرتی طور پر تلاش کرنا کافی مشکل کام ہے۔ جب کرۂ ارض چار ارب پچاس کروڑ برس پہلے بنی تھی تو کسی بھی قسم کے منفی مادّہ بفرض محال کہ وہ زمین پر موجود تھا بھی تو وہ خلاء کی بیکراں گہرائیوں میں فرار ہو گیا ہوگا۔ لہٰذا ممکن ہے کہ منفی مادّہ خلاء میں سیاروں سے دور تیر رہا ہو۔(منفی مادّہ شاید کبھی بھی کسی ستارے یا سیارے سے نہیں ٹکرائے گا کیونکہ یہ عام مادّے سے دور بھاگتا ہے۔)

    ہرچند کہ منفی مادّے کو کبھی نہیں دیکھا گیا( اور بہت ممکن ہے کہ اس کا وجود ہی نہیں ہو)، منفی توانائی حاصل کرنا طبیعی طور پر حاصل کرنا ممکن تو ہے لیکن وہ بہت ہی نایاب ہے۔١٩٣٣ء میں ہینرک کازیمیر نے ثابت کیا کہ دو بغیر بار کی دھاتی پلیٹیں منفی توانائی پیدا کر سکتی ہیں۔ عام طور پر امید کی جاتی ہے کہ دو پلیٹیں ساکن رہیں گی کیونکہ وہ غیر بار دار ہوں گی۔ بہرصورت کازیمیر نے دکھایا کہ ان دونوں غیر بار دار پلیٹوں میں بہت ہی معمولی سی جاذبی قوّت موجود ہوتی ہے۔ ١٩٤٨ء میں یہ ننھی سی قوّت اصل میں ناپ بھی لی گئی یوں ثابت ہو گیا کہ منفی توانائی اصل میں موجود بھی ہے۔ کازیمیر کا اثر خلاء کی ایک عجیب خاصیت کا استعمال کرتا ہے۔ کوانٹم نظرئیے کے مطابق، خالی خلاء "مجازی ذرّات" سے لبریز ہوتی ہے جو عدم سے نکلتے اور اس میں غائب ہوتے رہتے ہیں۔ بقائے توانائی کے اصول سے انحراف ہائیزن برگ کے اصول عدم یقین کی بنیاد پر ہو سکتا ہے۔ جو مستند و عزیز قوانین سے بہت ہی مختصر عرصے کے لئے انحراف کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر الیکٹران اور ضد الیکٹران عدم یقین کی بنا پر بہت ہی کم امکان اس بات کا رکھتے ہیں کہ ان کی تخلیق عدم سے ہو سکے اور پھر یہ دونوں ایک دوسرے کو فنا کرتے ہوئے غائب ہو جائیں۔ کیونکہ متوازی پلیٹیں ایک دوسرے سے کافی قریب ہوتی ہیں لہٰذا یہ مجازی ذرّات ان دونوں پلیٹوں کے درمیان آسانی سے نہیں آ سکتے۔ پس کیونکہ کہ ان پلیٹوں کے ارد گرد زیادہ مجازی ذرّات ان کے درمیان کے مقابلے میں ہوتے ہیں اس لئے ایک اندرون لگنے والی قوّت بیرون سے لگتی ہے جو ان متوازی پلیٹوں کو ایک دوسرے کی طرف ہلکا سا دھکا دیتی ہے۔ یہ اثر انتہائی صحت کے ساتھ لاس الموس نیشنل لیبارٹری میں اسٹیون لاموراکس نے ١٩٩٦ء میں ناپا۔ اس کی ناپی ہوئی جاذبی قوّت انتہائی ننھی ( چیونٹی جیسے کسی بھی کیڑے کے وزن کا ایک بٹا تیس ہزار کے برابر) تھی ۔پلیٹوں کے درمیان جتنا کم فاصلہ ہوگا اتنا ہی جاذبی قوّت زیادہ ہوگی۔

    تو جناب تھورن کے خوابوں کی ٹائم مشین اس طرح چلے گی۔ ایک جدید تہذیب دو متوازی پلیٹوں سے شروعات کرے گی جن کے درمیان بہت ہی کم خلاء ہوگا۔ یہ متوازی پلیٹیں پھر ایک کرۂ کی شکل میں ڈھال لی جائیں گی، لہٰذا اس کرۂ میں ایک اندرونی اور ایک بیرونی خول موجود ہوگا۔ اس طرح سے وہ دو کرے بنا کر ان کو کسی طرح سے ثقب کرم سے تار سے جوڑ دیں گے اس طرح سے خلاء میں ایک سرنگ ان دونوں کروں کو آپس میں جوڑ دے گی۔ ہر کرۂ اب ثقب کرم کا دہانہ بن گیا ہوگا۔ عام طور سے دونوں کروں میں وقت ایک ہی رفتار سے گزرے گا۔ لیکن اب اگر ہم ایک کرۂ کو خلائی جہاز میں ڈال کر روشنی کی رفتار سے بھیج دیں تو اس طرح سے دونوں کرۂ وقت میں ہم آہنگ نہیں رہیں گے۔ خلائی جہاز میں موجود وقت زمین پر موجود وقت کے مقابلے میں کافی سست رفتاری سے گزرے گا۔ اب زمین پر موجود کرۂ میں کوئی چھلانگ لگائے گا تو وہ ثقب کرم سے گزرتا ہوا وہ خلائی جہاز میں ماضی میں کسی وقت میں آ نکلے گا (یہ ٹائم مشین بہرحال کسی کو اپنی تخلیق سے پہلے کے ماضی میں نہیں لے جا سکتی۔)
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: تھورن کی ٹائم مشین Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top