Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ, اپریل 22, 2016

    مرنڈا (یورینس کا چاند)


    مرنڈا کا نام ولیم شیکسپیئر کے ناول "طوفانی" (دی ٹیمپسٹ) میں موجود واحد لڑکی کا کردار ادا کرنے والی مرنڈا پر رکھا گیا ہے۔ اس کے نام کا مطلب " ستائش کے قابل" یورینس کے سب سے حیران کر دینے والے سیارچے کے لئے یہ اسم بامسمّٰی ہے۔ سماوی جسم مرنڈا پراسرار ارضیات کا بھنڈار پیش کر رہا ہے ۔ یہ خالص خوش بختی ہی تھی کہ وائیجر دوم کا ١٩٨٩ء میں لگایا گئے چکر میں یہ یورینس کے تمام مہتابوں کی بنسبت اس سے زیادہ قریب ہو گیا تھا۔ خلائی جہاز کو یورینس سے قریب ہونے کی ضرورت اس لئے تھی کہ اس سے جھولا لے کر اس کو اپنی اگلی منزل نیپچون پر جانا تھا۔ مرنڈا ٹھیک اسی وقت اس کے راستے میں تھا۔

    یورینس کا چھوٹا چاند کافی چیزوں سے نبرد آزما رہا ہے۔ صرف ٤٧٠ کلومیٹر کے نصف قطر کے ساتھ یا زمین کے چاند کے ساتویں حصّے جتنا ہے، باوجود اس کے یہ ماضی میں حیرت انگیز طور پر سرگرم رہا ہے۔ ننھے جہاں نے سیاروی سائنس دانوں کے سماج میں بے کلی وائیجر دوم کے دور سے پھیلائی ہوئی ہے جب اس نے جنوبی حصّے کی تصویر لی تھی۔ کافی اسرار جاننے باقی ہیں کیونکہ آدھے سے بھی کم کے رقبے کو تفصیل سے دیکھا گیا ہے۔ یہ نصف کرۂ تین سلوٹ دار ، لمبوترے علاقوں سے زخمی ہوا ہے جس کو کرونا کہتے ہیں۔ اس قسم کے خدوخال ہمارے نظام شمسی میں اور کہیں نہیں دیکھے گئے ہیں۔ عظیم شیوران میں پڑے متوازی پہاڑیوں کے داغی حصّے موجود ہیں جبکہ دوسرے علاقوں میں برف سطح پر بہی ہوئی ہے جس نے قدیمی شہابی گڑھوں کو گہنا دیا ہے۔ بلند و بالا شگاف تیزی سے گرتے ہوئے کچھ دسیوں میل تک سطح پر لڑھکتے دکھائی دیتے ہیں۔

    آیا کیوں یہ تمام تر سرگرمی اتنے چھوٹے چاند پر ہوئی ہے؟ وائیجر سے لی گئی تصاویر نے نظریات کا سمندر جنم دے دیا ہے جس میں ایک نظرئیے میں ایک تصادم سیارچے کو ختم کرنا ہی چاہتا تھا ۔ یہ بات اب بھی جاری امتیاز کے عمل سے عیاں ہے۔ سائنس دان اس طرح کے واقعہ کے ثبوت سرکش زمین پر اس چھوٹے سے جہاں کے تشدد زدہ چہرے پر تلاش کر رہے ہیں۔ 

    وسیع انتشاری علاقے جس کو کرونا کا نشان کہتے ہیں وہ مرنڈا کی ایک غیر معمولی خاصیت بن گیا ہے۔ ٣٠٠ کلومیٹر پر پھیلا ہوا یہ علاقہ مرتکز پہاڑیوں اور نالیوں پر مشتمل ہے۔ تصادم سے نبرد آزما نظریات کہتے ہیں کہ کرونا کافی ضخیم، کاربن سے لبریز قدیمی قلب کا حصّہ تھا جس کو سطح پر آنے پر زبردست تصادم نے مجبور کیا تھا اور اس سے پہلے کہ مادّہ واپس قلب میں جاتا اس کو جما دیا تھا۔ بہرحال احتیاط سے کی گئی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ علاقے شاید شگافوں پر باہر سے قوّت لگنے سے اوپر اٹھنے کی وجہ سے بنے ہیں شاید اس وقت جب چاند کی برف ٹھنڈی ہو کر پھیلی۔ ہرچند کچھ پہاڑیاں شگافوں کی کارستانیاں لگتی ہیں لیکن دوسری آتش فشانی بہاؤ کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہیں۔ ان بہاؤ میں شاید پانی اور کچھ دوسرے مادّوں سے بنی ہوئی چیزیں بہی ہیں جنہوں نے ضد انجماد کے طور پر کام کیا شاید مائع میتھین یا امونیا ۔ کرونا شاید مرنڈا کے قلب سے نکلتی ہوئی حرارت سے ابھرتے ہوئے مادّے کی پھواروں کے اوپر بنے ہیں۔ اس منظر نامے میں جب مادّہ پھیلا اور اس نے سطح سے ٹکر کھائی تو اس نے برفانی آتش فشانوں کا سلسلہ یا کم از کم برفانی سیلاب کو شروع کیا۔ کافی جگہ پر ریخوں سے سیلابی ذخیروں کا رساؤ اس جانب اشارہ کر رہا ہے۔ متوازی پہاڑیاں اصل میں موٹا برفیلے لاوا بھی ہو سکتی ہیں جو جھریوں سے نکلا ہوگا۔ کچھ جگہیں اس جانب بھی اشارہ کر رہی ہیں کہ مرتکز پہاڑیاں مرکز سے ہجرت کرکے آئی ہوں گی جنہوں نے کناروں پر شہابی گڑھوں والے علاقے کو ڈھک لیا ہوگا۔ کرونا پر شہابی علاقے تاریک مزید قدیم علاقوں سے زیادہ ترو تازہ نظر آتے ہیں اور چند تو ایسے ہیں جو اور کم عمر ہیں۔ کرونا کے اندر ہی پہاڑیاں شیوران کی ترتیب میں ایک دوسرے کو قطع کر رہی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ ڈرامائی انورنیس کرونا کے مرکز میں موجود ہے۔ یہاں پر ایک روشن پہاڑیوں کا سلسلہ ١٠٠ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جس کے ارد گرد ہموار پہاڑیاں بھی موجود ہیں۔ سب سے عام شگاف اس کو کاٹ رہا ہے۔ ان میں سے ایک ویرونا روپس شہابی گڑھے میں دور تک7 کلومیٹر تک نکلا جا رہا ہے جس میں قریباً عمودی ١٤ کلومیٹر کے قریب ڈھلان بھی ہے جو نظام شمسی میں سب سے شاندار پہاڑی چوٹیوں میں سے ایک ہے۔ 


    خاکہ 8.7 ایک روشن شیوران انورنیس کرونا کو قطع کر رہا ہے۔ ایلسی نوری کرونا کا کنارہ دائیں طرف اوپر کی جانب دکھائی دے رہا ہے۔


    مرنڈا کے تاریک مختتم حصّے میں غائب ہوتی ہوئی عظیم ڈھلوانی دیوار کے پیچھے کچھ حصّے اس کے متوازی طور پر ڈھلتے ہوئے لگتے ہیں۔ پہاڑی کے اوپر کے بڑے حصّے غیر محفوظ طور پر حاشیہ دار ہیں جیسے کہ کسی بھی لمحے گہری کھائی میں گر جائیں گے۔ شاید عظیم الجثہ برف کے طوفانی نشیب مستقبل کے کھوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں سورج کی روشنی سے تھوڑا پرے جہاں پر وائیجر جھانک نہیں سکا۔

    ایک بات تو واضح ہے: اس چھوٹے چاند پر کافی زیادہ حرکت اور تھرتھراہٹ موجود ہے اور کوئی تو چیز ان تمام تر سرگرمیوں کے پیچھے ہے۔ مدوجزر کی حرارت - وہی طاقت جو انسیلیڈس کے چشموں اور آئی او کے آتش فشانوں کے پیچھے سرگرم ہے شاید اس اندرونی حرارت کی ذمہ دار ہو سکتی ہے جس نے مرنڈا کی سطح کو گڈ مڈ کر دیا ہے۔ ماضی میں مرنڈا ثقلی طور پر یورینس اور اپنے پڑوسی چاند امبریل کے ساتھ متعامل تھا۔ امبریل اور چھوٹا چاند 3 اور 1 کی نسبت گمگ میں الجھے ہوئے تھے(یعنی ہر مرتبہ جب مرنڈا یورینس کے تین چکر مکمل کرتا تو امبریل کا یورینس کے گرد ایک چکر مکمل ہوتا تھا)۔

    آج مرنڈا دوسرے مہتابوں کے ساتھ گمک میں نہیں ہے اور کافی پرسکون زندگی گزار رہا ہے اور خاموشی کے ساتھ سبز برفیلے دیو کے گرد چکر کاٹنے میں مصروف ہے۔ لیکن اس نے اپنی ماضی کے انوکھے مدار کے بارے میں ہمارے لئے نشانات جھکے ہوئے حالیہ مدار میں چھوڑ دیئے ہیں اس کا مدار دوسرے تمام مہتابوں کی نسبت سطح سے جھکا ہوا ہے جبکہ دوسرے تمام مہتاب سیارے کی استوائی سطح پر ہی چکر کاٹ رہے ہیں ۔ مرنڈا چار درجے پر نیچا اور اوپر جاتا ہے۔ شاید اس کی اندرونی حرارت کافی عرصے پہلے ہی ختم ہو گئی تھی اس نے یورینس کے نظام میں ہجرت کے دور کی صرف اپنی ایک پرچھائی ہی چھوڑی ہے جس دوران اس نے اپنی سطح اور قلب پر تشدد کرنے والی ثقلی جنگ کا سامنا کیا تھا ۔

    اپنے دوسرے بہن بھائی مہتابوں کی طرح مرنڈا میں بھی شہابی گڑھے تھے لیکن کافی جگہوں پر ان کو ٹیکٹونک یا برفیلی آتش فشانوں کی حرکت نے غائب کر دیا تھا۔ ایک جگہ پر ایلسی نور ی کرونا کے اندر ہی ایک برفیلے آتش فشاں کا منبع نظر آتا ہے۔ مرنڈا کے ختم ہونے کے کنارے پر سائے سے نظر آنے والا ایک اٹھا ہوا شہتیر ہے جس کو کسی بہاؤ نے توڑ ڈالا ہے ، یہ بہاؤ کافی حد تک ارضیاتی لاوے کی کوئی قسم لگتا ہے۔

    دوسری زمین کی بناوٹ بجائے کسی ایک واقع میں بننے کے ہمیں مرنڈا کے توسیعی دور میں ہونے والی اتھل پتھل کے بارے میں بتاتی ہے۔ شگافوں نے دونوں کرونا اور شہابی میدانوں کوسطح کے نیچے موجود تبدیلی کو نظرانداز کرتے ہوئے کاٹا ہوا ہے۔ ان میں سے کئی تو متوازی جوڑے ہیں، جو نیچے پھیلتی ہوئی برف کا نشان ہیں۔


    خاکہ 8.8 ویرونا روپس (اوپر مرکز کی چوٹی پر ختم ہوتی ہوئی) نظام شمسی کے قدرتی عجائب میں سے ایک ہے، یہ آس پاس کے شہابی میدان سے لگ بھگ ١٠ کلومیٹر بلند ہے۔


    مرنڈا مفسرین کے آگے استقامت کا مسئلہ رکھتا ہے۔ تین اہم کرونا علاقوں میں سے ایلسی نوری اور آرڈین کرونا کو تصادم کے نظرئیے سے بہتر طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ لیکن تیسرا والا انورنیس اپنے روشن شیوران کی وجہ سے پیچیدہ ہے اور اس کی عمومی ساخت برفیلے آتش فشاں سے بنی ہوئی ساخت کی طرف زیادہ اشارہ کرتی ہے۔ ریخیں اور شگاف کچھ جگہوں پر تو یکساں طور پر پھیلے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جگہوں پر حیرت انگیز طور پر الگ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مرنڈا کا ماخذ اتنا ہی پیچیدہ ہے جتنا کہ اس کی دور حاضر کی ارضیات ہے۔ اس چاند کا نام کس قدر مناسب طور پر شیکسپیئر کے اس کردار کے اوپر رکھا ہوا ہے جو کہتا ہے ، "اے نئی بہادر دنیا!"[1]






    [1] طوفانی ، ایکٹ 1 کا آخر ، منظر نامہ نمبر 5۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: مرنڈا (یورینس کا چاند) Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top