Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ, اپریل 29, 2016

    جان وہیلر


    سوائے آئن سٹائن اور بوہر کے کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس نے جان وہیلر کی طرح کوانٹم کے نظرئیے کی نامعقولیت سے لڑ کر کامیابی حاصل کی ہو۔ کیا تمام طبیعیاتی حقیقت صرف ایک سراب ہے؟ کیا متوازی کوانٹم کے جہاں وجود رکھتے ہیں؟ ماضی میں، جب وہ کوانٹم کے ہٹیلے تناقضات پر غور فکر نہیں کر رہا تھا تو وہیلر ان امکانات کا اطلاق جوہری اور ہائیڈروجن بم بنانے میں کر رہا تھا اور وہ بلیک ہول کے تجزیہ میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا تھا۔ جان وہیلر ان نابغہ روزگاروں میں سے آخری دیوہیکل یا مہیب دماغ تھا جیسا کہ اس کے شاگرد رچرڈفائن مین نے ایک دفعہ اس وقت کہا تھا جب وہ کوانٹم کے پاگل پنے کے نتائج سے لڑ رہا تھا ۔ یہ وہیلر ہی تھا جس نے بلیک ہول کی اصطلاح کو ١٩٦٧ء میں نیویارک میں ہونے والی ناسا کی گوڈارڈ انسٹیٹیوٹ فار اسپیس اسٹڈیز کی کانفرنس میں پہلے نابض ستارے کی دریافت کے وقت پیش کی تھی۔

    وہیلر ١٩١١ء میں فلوریڈا میں واقع جیکسن ویل میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک لائبریرین تھا لیکن انجینئرنگ اس کے خون میں شامل تھی۔ اس کے تین چچا کانوں کے انجنیئر تھے اور اکثر اپنے کام میں دھماکہ خیز مواد استعمال کرتے تھے۔ ڈائنامائٹ کے استعمال کا خیال اس کو بہت لبھاتا تھا اور اس کو دھماکے دیکھنے کا کافی شوق تھا۔ (ایک دن وہ ڈائنامائٹ سے بے احتیاطی کے ساتھ تجربہ کر رہا تھا کہ اپنے انگوٹھے کا کچھ حصّہ اور انگلی کا کونہ اڑا بیٹھا۔ اتفاقی طور پر جب آئن سٹائن کالج کا طالبعلم تھا تو ایک ایسا ہی دھماکہ اس کے ہاتھ میں بے احتیاطی کی وجہ سے ہوا جس کے نتیجے میں اس کو کئی ٹانکے لگے۔)

    وہیلر ایک زود بالغ بچہ تھا، علم الاحصاء کا ماہر اور ہر اس نئی کتاب کو چاٹنے والا جو وہ کسی نئے نظریہ یعنی کہ کوانٹم میکانیات کے بارے میں اپنے دوستوں سے سنتا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک نظریہ یورپ میں نیلز بوہر ، ورنر ہائیزن برگ اور ارون شروڈنگر بنا رہے تھے جس نے یکایک جوہر کے راز کو فاش کر دیا تھا۔ اس سے چند برس پہلے ارنسٹ ماک کے مقتدی جوہروں کے وجود کا تمسخر یہ کہہ کر اڑایا کرتے تھے کہ جوہروں کو تجربہ گاہ میں کبھی بھی نہیں دیکھا جا سکے گا اور شاید ان کی حقیقت قصوں سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان کے دعوے کے مطابق جس شئے کو دیکھا نہ جا سکے وہ کیسے وجود رکھ سکتی ہے۔

    عظیم جرمن طبیعیات دان لڈوگ بولٹزمین جس نے حرحرکیات کے قوانین کی بنیاد رکھی تھی اس نے ١٩٠٦ء میں خودکشی کر لی تھی ۔ اس کی موت کی وجوہات میں سے ایک اس کا جوہر کے مفروضے کو بیان کرنے کے دوران زبردست مذاق بنایا جانا تھا۔

    پھر چند یادگار برسوں میں ١٩٢٥ء سے ١٩٢٧ء کے دوران جوہر کے راز افشاء ہونے شروع ہو گئے۔ جدید تاریخ میں (سوائے ١٩٠٥ء میں آئن سٹائن کے کام کے علاوہ) اس عظیم پیمانے کی دریافت اتنی کم عرصے میں نہیں حاصل کی گئی۔ وہیلر بھی اس انقلاب کا حصّہ بننا چاہتا تھا۔ لیکن اس کو اس بات کا احساس تھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ طبیعیات کے میدان میں پیچھے رہ گیا ہے؛ کوئی ایک بھی عالمگیر مرتبہ کا طبیعیات دان یہاں موجود نہیں تھا۔ اپنے پیش رو جے رابرٹ اوپن ہائیمر کی طرح وہیلر نے امریکہ کو چھوڑ کر کوپن ہیگن کا سفر کیا تاکہ خود اس دور کے ماہر نیلز بوہر سے کچھ سیکھ سکے۔ 

    الیکٹران پر ہونے والے پچھلے تجربات نے ثابت کیا تھا کہ وہ ذرّات اور موج کی طرح سے برتاؤ کرتے ہیں۔ یہ عجیب دھرا پن جو ذرّات اور موجوں کے درمیان موجود تھا حتمی طور پر کوانٹم طبیعیات دانوں نے تلاش کر لیا تھا۔ جوہر کے گرد ناچتے ہوئے الیکٹران ذرّات جیسے ہونے چاہئے تھے لیکن ان کے ساتھ ایک پراسرار موج بھی تھی۔١٩٢٥ء میں آسٹریا کے طبیعیات دان ارون شروڈنگر نے ایک مساوات کو پیش کیا (شہرہ آفاق شروڈنگر کی مساوات) جو انتہائی صحت کے ساتھ الیکٹران کے ساتھ موجود موج کی حرکت کو بیان کرتی تھی۔ اس موج کو یونانی حرف پی ایس آئی سے نمایاں کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں جوہر کے برتاؤ کے بارے میں انتہائی درستگی کے ساتھ پیش گوئی کی جا سکتی تھی اور اسی نے طبیعیات کے میدان میں انقلاب کے لئے چنگاری لگا دی۔ یکایک صرف پہلے ہی اصول کی مدد سے کوئی بھی جوہر کے اندر دیکھ کر یہ حساب لگا سکتا ہے کہ الیکٹران اپنے مدار میں کیسے ناچ رہے ہیں جس کے نتیجے میں وہ تغیر پیدا کرتے ہوئے جوہروں کو سالمات میں آپس میں باندھتے ہیں۔

    بطور کوانٹم طبیعیات دان پال ڈیراک اکثر شیخی بگھارتے ہوئے کہتا تھا کہ جلد ہی طبیعیات تمام کیمیا کو کم کرکے صرف انجینئرنگ تک محدود کر دے گی۔ اس نے دعویٰ کیا ، "وہ طبیعیاتی قوانین جو طبیعیات کے بڑے حصّے کے ریاضی نظرئیے کے لئے ضروری ہیں اور پوری کیمیا جانی جا چکی ہے، مشکل صرف ان قوانین کے اطلاق کا ان مساوات پر ہے جو بہت زیادہ طور پر قابل حل ہونے کے لئے پیچیدہ ہیں۔" جتنا زیادہ پی ایس آئی فعل شاندار ہے اتنا ہی وہ اب بھی پراسرار ہی ہے کہ اصل میں آیا یہ کس چیز کو پیش کرتا ہے۔

    بالآخر ١٩٢٨ء میں طبیعیات دان میکس بورن نے ایک مفروضہ پیش کیا کہ موجی تفاعل الیکٹران کے کسی بھی نقطے پر موجود ہونے کے امکان کو پیش کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر آپ کو کبھی نہیں پتا لگ سکے گا کہ الیکٹران کس جگہ پر ہے؛ آپ بس اتنا کر سکتے ہیں کہ اس کے موجی تفاعل کا حساب لگا سکتے ہیں جو آپ کو اس کے کسی جگہ پر موجود ہونے کا امکان بتا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر جوہری طبیعیات کو الیکٹران کے ادھر یا ادھر ہونے کے موجی امکان تک کم کیا جا سکتا ہے اور اگر ایک الیکٹران بیک وقت دو جگہوں پر ہو سکتا ہے تو ہم کس طرح سے اس بات کا تعین کریں گے کہ اصل میں الیکٹران آخر میں ہے کہاں؟

    بوہر اور ہائیزن برگ نے بالآخر کوانٹم کے پکانے کی کتاب میں نسخے کو مکمل کر لیا جو خوبصورتی کے ساتھ جوہری تجربات میں شاندار صحت کے ساتھ کام کرتا ہے۔ موجی تفاعل صرف آپ کو الیکٹران کے یہاں یا وہاں ہونے کے امکان کو بیان کرتا ہے۔ اگر موجی تفاعل کسی نقطے پر بڑا ہو جائے، تو اس کا مطلب ہوگا کہ الیکٹران کے وہاں ہونے کا امکان کافی زیادہ ہے۔ (اگر وہ چھوٹا ہے تو اس بات کا امکان کم ہے کہ الیکٹران وہاں ہوگا۔)

    مثال کے طور پر اگر ہم کسی شخص کا موجی تفاعل کو "دیکھ" سکتے ہوں تو وہ اس شخص جیسے ہی لگے گا۔ بہرحال یہ موجود تفاعل انتہائی نرمی کے ساتھ خلاء میں جذب ہو رہا ہوگا، یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بات کا تھوڑا امکان موجود ہے کہ وہ شخص چاند پر بھی پایا جا سکتا ہے۔ (اصل میں انسان کا موجی تفاعل پوری کائنات میں پھیلا ہوا ہے ۔) اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ درخت کا موجی تفاعل آپ کو اس بات کے امکان کا بتا سکتا ہے کہ آیا وہ کھڑا ہے یہ گر گیا ہے لیکن وہ قطعیت کے ساتھ یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ کس حالت میں ہے۔ لیکن عقل عامہ ہمیں بتاتی ہے کہ اجسام قطعی حالت میں ہوتے ہیں۔ جب آپ درخت کو دیکھتے ہیں ، تو وہ قطعیت کے ساتھ آپ کے سامنے ہوتا ہے - یا تو وہ کھڑا ہوتا ہے یا گرا ہوا ہوتا ہے لیکن بیک وقت دونوں حالتوں میں نہیں ہوتا۔

    موجی امکان اور وجود کے بارے میں ہماری عقل عامہ میں ہونے والی اس اختلاف کو حل کرنے کے لئے بوہر اور ہائیزن برگ نے اس بات کو فرض کیا کہ کسی بھی شاہد کے مشاہدے کے بعد موجی تفاعل جادوئی طریقے سے منہدم ہو جاتا ہے ، اور الیکٹران ایک قطعی حالت میں آ جاتے ہیں – یعنی کہ درخت کو دیکھنے کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اصل میں وہ کھڑا ہے۔ بالفاظ دیگر ، مشاہدے کا عمل الیکٹران کی حتمی حالت کا تعین کرتا ہے۔ وجود کے لئے مشاہدہ بہت اہم ہے۔ الیکٹران کو دیکھنے کے بعد اس کا موجی تفاعل منہدم ہو جاتا ہے ، اس طرح سے الیکٹران قطعیت کی حالت میں آ جاتے ہیں اور اس کے بعد موجی تفاعل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

    لہٰذا بوہر کے کوپن ہیگن کے مکتبہ فکر کا خلاصہ ہم اپنے الفاظ میں کچھ یوں بیان کر سکتے ہیں:

    الف۔ تمام توانائی مجرد بنڈلوں میں ہوتی ہے جس کو کوانٹا کہتے ہیں (مثال کے طور پر روشنی کے کوانٹم ، فوٹون ہوتے ہیں۔ کمزور قوّت کے کوانٹا ڈبلیو اور زی بوسون کہلاتے ہیں، مضبوط قوّت کے کوانٹم گلوآن کہلاتے ہیں ، اور قوّت ثقل کے کوانٹم گریویٹون کہلاتے ہیں جن کو ابھی تجربہ گاہ میں دیکھا جانا باقی ہے۔)

    ب۔ مادّہ نقطے جیسے ذرّات کے ذریعہ پیش ہوتا ہے، لیکن اس ذرّات کو حاصل کرنے کا امکان موجی تفاعل سے ملتا ہے۔ موج ایک موجی مساوات کا اتباع کرتی ہے (جیسا کہ شروڈنگر کی موجی مساوات)۔

    ج۔ مشاہدے سے پہلے جسم تمام ممکنہ حالتوں میں بیک وقت موجود ہوتا ہے، اس بات کے تعین کے لئے کہ جسم کس حالت میں ہے ہمیں مشاہدہ کرنا ہوتا ہے جو موجی تفاعل کو منہدم کر دیتا ہے اور جسم ایک قطعی حالت میں آ جاتا ہے۔ مشاہدے کا عمل موجی تفاعل کو تباہ کر دیتا ہے اور جسم ایک قطعی حقیقت کو فرض کر لیتا ہے۔ موجی تفاعل نے اپنا کام پورا کر دیا ہوتا ہے یعنی کہ وہ ہمیں کسی جسم کو اس مخصوص حالت میں پانے کے لئے درست امکان فراہم کرتا ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: جان وہیلر Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top