Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, اپریل 20, 2016

    ایریل ،مرانڈا اور ٹرائیٹن – یورینس اور نیپچون کے چاند




    خاکہ 8.1 ایریل کی کوریگن اور پکسی کھائیوں کے سنگم پر ڈھلوان دیواروں والی کھڑی پہاڑیاں یورینس کا ایک ڈرامائی نظارہ پیش کرتی ہیں۔ ایریل کے دہانوں کے فرش کی ساخت قدیمی برفیلے آتش فشانوں کی سرگرمی کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ 


    ١٧٨١ء میں سر ولیم ہرشل نے دیوہیکل برفیلے سیارے یورینس کو موسم بہار میں دریافت کیا۔ صرف ٦ برسوں کے دوران اس نے اس کے دو چاندوں ٹائٹینیا اور اوبرائن کو بھی ڈھونڈ لیا تھا۔ ١٨٥١ء میں جوہان گیل نے نیپچون[1] کو دیکھا اور اس کے صرف ١٧ دن بعد ہی ولیم لیزل نے اس کا سب سے بڑا مصاحب ٹرائیٹن ڈھونڈ نکالا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے بیرونی نظام شمسی میں مہتابوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ درحقیقت ایسا ہی تھا۔ بیرونی نظام شمسی نے انسانی تحقیق ، کھوج اور کھلواڑ کرنے کی مہم جوئی کے لئے کئی ہدف رکھے ہوئے تھے۔

    یورینس کے اب تک کے دریافت کردہ ٢٧ مہتاب جبکہ نیپچون کے سردست ١٤ مصاحب موجود ہیں۔ مشتری کے ٦٧ اور زحل کے ٦٢ مہتابوں کے ساتھ بیرونی نظام شمسی میں موجود معلوم مہتابوں کی تعداد ١٧٠ ہو گئی ہے اور ہو سکتا ہے کہ اب بھی وہاں کافی سارے بالخصوص یورینس اور نیپچون[2] کے پاس چھپ کر بیٹھے ہوں۔ زحل نے ہمیں اپنے حلقوں کی اہمیت مہتابوں کے حوالے سے ہمیں جتلا دی ہے۔ برفیلے دیو کے بھی حلقے اور قوس موجود ہیں جہاں بلاشبہ ان دیکھے مہتاب موجود ہو سکتے ہیں۔ برفیلے دیوہیکل سیاروں کے چاند اور حلقوں کا درجہ بیاض (کسی سیارے یا فلکی اجسام پر پڑنے والی ضیائی کرنوں کی اس امر کے ساتھ پیمایش کہ کتنی کرنیں خارج ہوئیں اور کتنی پہنچیں) کافی کم ہے جیسا کہ وہ کوئلے کی گرد میں نہائے ہوئے ہوں، لہٰذا ان کا سراغ لگانا کافی مشکل ہے۔

    ١٩٨٦ء کے موسم گرما کے آخر میں وائیجر دوم یورینس کے نظام کے پاس پہنچا۔ خلائی جہاز پرانا اور تھکا ہوا تھا، اور اپنے چھوڑے جانے کے ایک دہائی کے عرصے سے لے کر اس وقت تک خلاء میں موجود شعاعوں سے نبرد آزما رہا تھا۔ جب خلائی جہاز وہاں قریب پہنچنا شروع ہوا تو یورینس کے منکسرالمزاج چاند نمودار ہونا شروع ہوئے ۔ یورینس کے گلیلائی یا ٹائٹن کی طرح دیوہیکل چاند موجود نہیں تھے۔ لیکن محققین نے زحل اور مشتری میں سبق حاصل کر لیا تھا۔ زحل کے درمیانے حجم کے چاند ارضیاتی حشر سامانیوں سے لبریز تھے اور یورینس کے نئے دریافت ہونے والی مہتاب بھی اسی قسم کی وعید لے کر آرہے تھے۔

    "درمیانی حجم کے سیارچے بہت اچھی طرح سے نہیں سمجھے گئے تھے اور یورینس کے تمام سیارچے ہی اسی جماعت میں درجہ بند تھے۔ ہم زحل کے تمام درمیانی درجے کے سیارچوں کے پاس پہنچے جہاں برفانی آتش فشانی پانی کا چھڑکاؤ کرتے نظر آئے اور انسیلیڈس تو ارضیاتی سرگرمی کے لئے کافی چھوٹا تھا بلکہ اس کو اس حد تک سرگرم ہونے کا تو کوئی حق ہی نہیں تھا۔ واضح طور پر ہم اس جماعت کے سیارچوں کو نہیں جانتے تھے۔ آپ انسیلیڈس کی سرگرمی اور بغیر سرگرمی کے میماس کو تو بیان کر سکتے ہیں لیکن ضروری نہیں ہے کہ وہ ہمارے اندازے کے مطابق ہی نکلیں" جان ہوپکنز آ پلائیڈفزکس لیبارٹری کی سیاروی سائنس دان ایلزبتھ ٹرٹل کہتی ہیں۔

    زحل کے نظام کے مہتابوں کے جہان حیرت کو دیکھتے ہوئے محققین یورینس کے بارے میں قیاس لگانے سے گریزاں تھے۔ غیر متوقع دریافتیں جاری رہیں اور مزید قبول عام اصولوں کو چھوڑنا پڑا، ٹرٹل کہتی ہیں۔" جب آپ یورینس نظام میں پہنچے تو [درمیانے حجم] کے سب سے چھوٹے مہتاب مرانڈا کو دیکھا جس کی سطح مکمل طور پر تشدد زدہ تھی۔" ایریل میں بھی واضح طور پر حالیہ ارضیاتی سرگرمی کے ثبوت موجود تھے جبکہ بڑے مہتاب زیادہ خاموش اور قدیم معلوم ہوتے تھے۔ "یہاں پر ملنے والی وہ چیزیں نہیں تھیں جن کا ہم نے اندازہ لگایا تھا۔"

    جیسا کہ گیسی دیوہیکل سیاروں کے ساتھ تھا بعینہ ویسے ہی شاید یورینس حلقوں کے نظام یا تہہ دار ٹکیہ میں ایک سلسلے میں بنا تھا اور اس لمبے عرصے والے سلسلے میں وہ سیارہ بننے کی جانب گامزن ہوا تھا۔ بہرحال اندازہ لگایا گیا ہے کہ سیارہ بننے کے ابتدائی دور میں ہی الٹ گیا تھا اور جیسا کہ ہم نے چوتھے باب میں دیکھا تھا کہ یورینس کا جھکاؤ ٩٨ درجے کا ہے۔ 

    فرانس کے شہر نائس میں واقع آبزر وا ٹووائر ڈی لا کوٹڈ آ زر میں ہونے والی کمپیوٹر نقول سے معلوم ہوتا ہے کہ کافی بڑے تصادموں نے یورینس کو اس کے حالیہ جھکاؤ پر آنے پر مجبور کیا ہے جو کسی بھی سیارے کو لگنے والی سب سے خطرناک ٹکریں ہوں گی۔ آج نظر آنے والی مہتابوں کو دھول کے گھومتے ہوئے بادل سے بننے کے لئے ایک سے زیادہ درستگی اور موزونیت کے ساتھ تصادم درکار تھے۔ جب سیارہ اپنی ابتدائی جگہ سے ہلا ہوگا تو اس کے گرد موجود گرد کی قرص نے گھومنا جاری رکھا ہوگا جس سے استوائی سطح پر قرص کی صورت بن گئی ہوگی۔ اس قرص نے بالآخر ان کامیاب مہتابوں کی پیدائش کی ہوگی جن کو ہم آج دیکھتے ہیں۔

    ان میں سے پانچ درمیانے حجم کے چاند مرانڈا کے ٣٠٠ کلومیٹر سے لے کر ٹائٹینیا کے ١٥٠٠ کلومیٹر تک کے مہتاب ہیں۔ تمام مہتاب چٹانوں اور میتھین، امونیا اور پانی کی برف سے بنے ہیں۔ گلیلائی مہتابوں کے برعکس یہاں پر موجود مہتابوں کی ضخامت اپنے سیارے سے دور جاتے ہوئے بڑھ جاتی ہے۔ وہ زحل کے درمیانے حجم کے برفیلے مہتابوں سے زیادہ ضخیم ہیں جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ان میں برف سے زیادہ چٹانیں موجود ہیں۔ مرانڈا کو بہت کم کمیت کے ساتھ اِستثنیٰ حاصل ہے۔

    ہرچند کہ پانی کی برف یورینس کے پانچوں مہتابوں کو ڈھکے ہوئے ہے، تاہم یہ کسی قسم کے تاریک مادّے کے ساتھ بھی ملی ہوئی ہے۔ نظریات یورینس کے محور سے تصادم کے وقت سیارے کے الٹنے کی وجہ سے نکلنے والی کاربن مونوآکسائڈ اور نائٹروجن سے لے کر سطح پر موجود شمسی اشعاع سے تاریک ہونے والی میتھین کا سبب بتاتے ہیں۔ کسی بھی صورت کے درست ہونے کی وجہ سے یورینس کے تمام مہتاب بڑے سے لے کر چھوٹے تک سب کے سب اپنے حلقے کے نظام کی طرح کوئلے جیسے تاریک ہیں۔






    [1] ۔ گیل کی دریافت کی بنیاد اس ریاضیاتی اندازے پر قائم ہے جو مشہور فرانسیسی ریاضی دان اربین لی وئیریر نے واضح کی تھی۔ 


    [2] ۔ اس کتاب کو لکھتے وقت تک کیسینی خلائی جہاز مسلسل زحل کے مہتاب باقاعدہ بنیادوں پر دریافت کر رہا ہے، بالخصوص جو حلقوں کے درمیان پیوست ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ایریل ،مرانڈا اور ٹرائیٹن – یورینس اور نیپچون کے چاند Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top