Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 17 اپریل، 2017

    سورج کی عمر

    فلکیات دان سورج کا فاصلہ (فاصلے کی فلکیاتی اکائی) اور نظام شمسی میں موجود اجسام کی حرکت، زمین پر مد وجذر اور اسی طرح کی چیزوں سے اس کی کمیت کو ٹھیک طرح سے معلوم کرنے کے لائق ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر سیکنڈ میں کتنی توانائی نکل رہی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کو ہمارے آسمان پر روشن نظر آنے کے لئے کتنا روشن ہونا چاہئے۔ حقیقت میں جو توانائی خارج ہو رہی ہے وہ لگ بھگ 4x10^33 ergs فی سیکنڈ ہے، فی برس لگ بھگ10^41 ergs ۔جب ہیلم ہولٹز اور تھامسن نے یہ حساب لگایا کہ ہمارے سورج کی طرح کا ستارہ اس وقت کتنی توانائی خارج کرتا ہے جب وہ تھوڑا سے سکڑے گا اس سے انھیں معلوم ہوا کہ منتشر گیس کے بادل کو منہدم ہو کر ستارہ بننے کے عمل میں اتنی توانائی مل جائے گی کہ اس سے پہلے کہ ستارے کا اندرون اتنا ٹھنڈا ہو جائے کہ اس کو مزید منہدم ہونا پڑے وہ 1 یا 10 کروڑ برس تک توانائی خارج کر سکتا ہے۔ کسی حد تک حرفی اور تاریخی اعتبار سے حساب لگانے میں ہیلم ہولٹز کے لئے یہ غیر منصفانہ بات ہے کہ یہ وقت کا پیمانہ آج کیلون-ہیلم ہولٹز پیمانہ وقت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ستارے کی ابتدائی زندگی کے مرحلے میں یہ بلاشبہ ایک اہم بات ہے اور ثقلی حرارتی اثر وہ عمل ہے جو ستاروں کو پہلے کافی گرم کر دیتے ہیں اور اس وجہ سے وہ چمکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تاہم 1920ء کے عشرے تک یہ واضح ہو گیا تھا کہ زمین اور سورج (لہذا دوسرے ستارے کے بارے میں بھی یہی قیاس ہے) کیلون اور ہیلم ہولٹز کے اندازہ لگائی گئی عمر سے کہیں زیادہ پرانے - کروڑوں برس نہیں بلکہ ارب ہا برس کے تھے۔ لہٰذا اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ 4x10^33 ergs فی سیکنڈ خارج ہونے والی توانائی کہاں سے آئی جس نے ان کو آج بھی قائم اور روشن رکھا ہوا ہے؟ 

    کیلون کی زمین کی عمر کا تخمینے کا انحصار زمین کی سطح پر موجود درجہ حرارت کی پیمائش بمقابلہ گہری کانوں کے اندر کے درجہ حرارت کے اوپر تھا۔ اندرون سے حرارت رس رہی ہے، اور اس کا اندازہ لگا کر کہ حرارت کتنی تیزی سے فرار حاصل کر رہی ہے اور وقت میں پیچھے جا کر اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ ہمارے پورے سیارے کو صرف چند کروڑ برس پہلے ہی پگھلا ہوا ہونا چاہئے۔ کیلون اور فلکیات دانوں نے زمین اور کیلون-ہیلم ہولٹز کی سورج کے درمیان عمر کا منوا لینے والا تعلق تلاش کرلیا تھا۔ تاہم انیسویں صدی کے اواخر میں ماہرین ارضیات کے پاس واضح ثبوت تھا کہ زمین لازمی طور پر کروڑوں برس پرانی تھی دوسری صورت میں اتنا وقت نہیں تھا جس سے عظیم ضخامت کی تہ دار چٹانوں جیسی ساخت جیسا کہ الپس ہیں بن سکتی تھیں، جبکہ ارتقائی حیاتیات دان بھی زمین کی لمبی تاریخ کو ترجیح دیتے تھے جس کے دوران ارتقاء اپنے کام کرکے زمین پر آج کے دور کی پیچیدہ حیات کو بنا سکتا۔ کیلون کا زمین کی عمر کا اندازہ غلط تھا اور صدی ختم ہونے کے وقت تک تابکاری کی دریافت کے ساتھ ہی وجہ صاف ظاہر تھی۔ تابکار عناصر قدرتی طور پر پوری دنیا کی عام چٹانوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کی تابکاری کی پوری بنیاد اس پر ہے کہ ان کے مرکزے کم توانائی کی حالت کی طرف دو یا اس سے زائد حصّوں میں ٹوٹ کر حرکت کرتے ہیں جس سے الفا ذرّات وغیرہ خارج ہوتے ہیں۔ تابکار مرکزے میں توانائی میں تبدیلی اس وقت ہوتی ہے جب اس کا انحطاط حرارت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور لگ بھگ زمین کی قشر سے چٹانوں کے ذریعہ آنے والی حرارت کا 90 فیصد حصّہ تابکاری کی وجہ سے ہی ہے۔ لہٰذا کیلون کی زمین کی عمر کو لگ بھگ دس اور سینکڑے سے ضرب ہونا تھا تاکہ اندازہ مزید صحیح ہو سکے تاہم اس کے بعد بھی یہ ایک خام تخمینہ تھا جس سے معلوم ہو سکا کہ سورج اور سیارے کتنے عرصے سے وجود رکھتے ہیں۔

    1920ء کے عشرے کے دوران کئی پیش رفت ایسی ہوئیں جس سے سورج اور ستاروں کے کام کو سمجھنے کی بہتر تفہیم حاصل ہونا شروع ہوئی۔ پہلے ماہرین طیف بینی اس قابل ہوئے کہ ہمیں بتا سکیں کہ سورج لگ بھگ 70 فیصد ہائیڈروجن اور 28 فیصد ہیلیئم سے بنا ہے اور اس میں صرف 2 فیصد دوسرے بھاری عناصر شامل ہیں۔ اس کے بعد آرتھر ایڈنگٹن نے لگ بھگ تن تنہا ہی فلکی طبیعیات کی سائنس کو ایجاد کرکے ثنائی ستاروں کی تحقیق کرکے یہ دریافت کیا کہ ستارے کی روشنی کا تعلق براہ راست اس کی کمیت سے ہوتا ہے۔ اس دریافت کا اعلان 1924ء میں ہوا تھا اور یہ ستارے کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے کے لئے ایک اہم مرحلہ تھا اور 1926ء میں ایڈنگٹن نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ستاروں کی اندرونی ساخت شایع کی جو یہ بتاتی تھی کہ کس طرح سے ستارے کی یہ خاصیت دوسرے خصائص کے ساتھ مل کر بڑی گرم گیس کی گیند کے برتاؤ کو بنیادی قوانین طبیعیات کی رو سے بیان کر سکتے ہیں۔ اسی وقت جوہر کی تلاش اور تابکاری کی تفتیش ردرفورڈ کے شروع کئے گئے کام سے جاری رہی جس نے طبیعیات دانوں کو آئن سٹائن کے خصوصی نظریئے اضافیت کی ایک اور چونکا دینے والی پیش گوئی سے روشناس کروانا شروع کیا (یا کم از کم طبیعیات دان اس سے کم شناسا تھے) جس کی اشاعت ماضی میں 1905ء میں ہوئی تھی۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: سورج کی عمر Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top