Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 3 اپریل، 2017

    راس الغول (ستارہ) - الگول


    Algol
    (الگول)
    فلکیات کے جدید علم سے پہلے کامل اور غیر مبدل آسمانوں میں اچانک واقع ہونے والی کسی تبدیلی سے اس دور کے لوگ فگر مند ہو جایا کرتے تھے۔ حتٰی کہ جب کچھ ستاروں کی روشنی میں وقت کے ساتھ ساتھ تھوڑا بہت فرق پڑتا تھا تو وہ اسے بھی خطرے کی گھنٹی سمجھتے تھے۔

    دراصل اس طرح کی جسامت اور چمک تبدیل کرنے والے ستارے بہت سے ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف چند ایک ہی ایسے ہیں کہ جنہیں ان کی کافی چمک اور خاصی تغیر پذیری کی بدولت کسی دوربین کے بغیر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی نامعلوم وجہ سے زمانہ قدیم کے لوگوں نے ان چند ستاروں پر بھی کبھی تبصرہ نہیں کیا۔

    ان میں مشہور ترین مثال ایک ستارے Beta Persei کی ہے جو مجمع النجوم Perseus میں ہے۔ یہ ستارہ جب اپنی چمکدار ترین حالت میں ہوتا ہے تو اپنے مجمع النجوم میں یہ دوسرا چمکدار ترین ستارہ ہوتا ہے (بیٹا ہونانی حروف تہجی کا دوسرا حرف ہے، اس بنا پر ستارے کے اس فلکیاتی نام کے معنی مجمع النجوم Perseus" میں دوسرا" ستارہ ہے۔ اس مجمع النجوم کے دیگر ستاروں کے نام بھی اسی طرز پر رکھے گئے ہیں)-

    اس ستارے کی چمک میں کمی بیشی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی ۔ اسی وجہ سے سترہویں صدی عسوی کے پہلے نصف تک اس کی روشنی میں کمی ، زیادتی کم از کم یورپ کی حد تک کسی نے محسوس نہ کی۔ چناںچہ 1660ء میں پہلی مرتبہ ایک یورپی نے اس ستارے کی چمک میں اتار چڑھاؤ کو محسوس کیا۔ تاہم عربی زبان میں پہلے ہی سے اس ستارے کے لیے ایک بامعنی نام الگول (Algol) مخصوص تھا۔ (جس زمانے میں مغرب جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، اس دوران عربوں نے عموماً تمام علوم اور خصوصاً فلکیات کے علم میں تحقیق و ترقی کے نئے باب رقم کیے)۔ الگول کا لفظ عربی کے’’ال‘‘(The) "غول‘‘ (Demon) کا مجموعہ ہے چنانچہ آج کل عام طور پر اس ستارے کو راس الغول (Demon Star) بھی کہا جاتا ہے۔ اس ستارے کی روشنی کے اچانک بڑھنے گھٹنے سے خوف کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اسی خوف کی ایک جھلک اس کے نام میں بھی بخوبی عیاں ہے۔ درحقیقت ”غول“کا لفظ ہماری زبان میں آ کر ’’غول" بن گیا اور اب الغول دراصل ”غول بیابانی‘‘ کے معنوں میں آتا ہے-

    الگلول حقیقت میں ایسا ستارہ نہیں ہے کہ جس کی روشنی واقعتاً گھٹتی یا بڑھتی ہے بلکہ یہ اصل میں دوستاروں کا ایک جوڑا ہے جو اسے اپنے مداروں میں گردش کرتے ہوئے اچانک ایک دوسرے کے پیچھے آ کر چھپ جاتے ہیں اور یوں ان کی مجموعی روشنی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ جب بھی کم روشنی والا ستارہ زیادہ روشنی والے ستارے کو چند دنوں تک چھپاتا ہے تو اس کوگہن لگ جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہم تک پہچنے والی ان کی روشنی کم ہو جاتی ہے اور ہمیں یوں لگتا ہے جیسے اس ستارے کی روشنی گھٹ رہی ہے۔

    مجع النجوم قیطس (Cetus) میں ایک اور قابل ذکر ستارہ Omicron ceti ہے(Omicron مستعمل یونانی حروف کا پندرہواں حرف ہے)۔ اس ستارے کی روشنی واقعتاً گھٹتی بڑھتی ہے۔ اس کی چمک میں بے قاعدہ وقفوں کا تغیر آتا ہے اور یہ تغیر بعض اوقات تقریباً دوسال کی طوالت تک کا بھی ہوتا ہے کبھی یہ قطبی ستارے جتنا روشن ہوتا ہے اور کبھی اتنا مدہم ہو جاتا ہے کہ نظر تک نہیں آتا۔

    اسے واضح طور پر پہلی بار جرمنی کے ایک ماہر فلکیات David Fabricius نے 1596ء میں دیکھا تھا۔تب سے ماہرینِ فلکیات ان ستاروں کے نام رکھنے میں خا صے محتاط ہو گئے ہیں اور اب وہ آسمانوں میں وقوع پذیر ہونے والے اس طرح کے عجیب وغریب واقعات سے زیادہ پریشان نہیں ہوتے۔Fabricius نے اس ستارے کا نام Mira رکھا۔ یہ لاطینی زبان کے لفظ "mirus" (حیرت انگیز) سے ماخوذ ہے۔ چنانچہ اگر دیکھا جائے تو الگول معنوی لحاظ سے "Demon star" ہے جب کہ مائرا جو اس سے بہت زیادہ تغیر ظاہرکرتا ہے، معنوی لحاظ سے "محض عجوبہ‘‘ ہے۔ یوں بظاہریہ بات قرین انصاف معلوم نہیں ہوتی۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: راس الغول (ستارہ) - الگول Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top