Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 24 اپریل، 2017

    شریان کبیر - اورطہ

    Aorta
    اورطہ
    لاطینی زبان میں”پیٹ“ کے لیے "venter" کا لفظ ہے۔ پیٹ، چونکہ جسم میں ایک خالی جگہ اس لیے دوسری خالی جگہوں پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہونے لگا۔ یوں چھوٹی سی خالی جگہ کے لئے venticles کا لفظ ہوگا جو انگریزی میں تبدیل ہو کر ventricle (بطن بمعنی پیٹ) رہ گیا۔

    انسانی جسم میں اہم ترین وینٹریکل وہ دو بڑے خانے یا جوف ہیں جو دل کو اندرونی طور پر دو جوفوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک جوف دایاں وینٹریکل یا دایاں بطن اور دوسرا بایاں وینٹریکل یا بایاں بطن کہا جاتا ہےان میں سے ہر ایک بطن کے اوپر ایک چھوٹا خانہ بھی ہوتا ہے جن میں پیچھے سے آنے والا جیو وینٹریکل کی جانب جانے والا خون داخل ہوتا ہے۔ یہ ایک لحاظ سے وینٹریکل کا پیش دالان ہے پیش دالانوں کے لیے اب چونکہ لاطینی میں atrium کا لفظ ہے۔ چنانچہ اس چھوٹے خانے کوسائنس کی زبان میں ایٹریم کا نام دیا گیا ہے۔ ایک دایاں ایٹریم ہے اور ایک بایاں۔ ان خانوں میں جس جگہ سے خون داخل ہوتا وہ مقام ایک چھوٹے سے کان کی طرح اوپر کو اُبھرا ہوا ہے۔ اب کان کے لئے لاطینی میں "auricule" کا لفظ ہے چنانچہ پورے ایٹریم پر اسی لفظ کا اطلاق ہونے لگا۔ اس لحاظ سے ان دو چھوٹے خانوں کو عام طور پر دایاں اریکل (Right auricle) اور بایاں اریکل (Left auricle) بھی کہا جاتا ہے۔ کان کے لیے عربی میں اذن کا لفظ ہے۔ چنانچہ اردو میں ان دونوں خانوں کو دایاں اذن اور بایاں اذن کہا جانے لگا ۔

    جب یہ دونوں سکڑتے ہیں تو خون دباؤ کے ساتھ نیچے موجود دونوں بطنوں میں داخل ہو جاتا پھر جب بطنوں کے سکڑنے کی باری آتی ہے تو دل میں موجود سارا خون دباؤ کے تحت اس سے نکل کر بڑی شریانوں میں چلا جاتا ہے۔ جب بطن سکڑتے ہیں تو ان میں موجود خون میں سے ذرا سا بھی واپس اذن میں نہیں جا سکتا۔ خون کی واپسی کے اس راستے کومسدود کرنے کے لیے ہراذن اور بطن کے درمیان ایک walve (والو) ہوتا ہے۔ جوخون کوصرف ایک ہی سمت میں بہنے کی اجازت دیتا ہے۔ یعنی اذن سے بطن کی جانب تو خون جا سکتا ہے لیکن بطن سے اذن کی جانب بالکل نہیں جا سکتا۔ والواصل میں لاطینی زبان کے "valve"(تہ ہوجانے والا دروازہ) سے آیا ہے۔

    دائیں اذن اور بطن کے درمیان پایا جانے والا والو مثلث کی شکل کے دو نقابوں (Flaps) پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب یہ والو بند ہوتا ہے تو ایک کلاہ (دوشاخی مخروطی ٹوپی یا تاج) کی مانند نظر آتا ہے۔ اسی لیے اس کو mitral valve یعنی کلاہی والو یا bicuspid valve کہا جاتا ہے موخرالذکر اصطلاح لاطینی زبان کے "-bi"(دو) اور "cuspis" (مضاف الیہ "cuspidis"= نوک) کا مجموعہ ہے یعنی یہ والو دو نوکوں والا ہے دائیں اذن اور دائیں بطن کے درمیان پایا جانے والا والو تین نقابوں پر مشتمل ہوتا ہے اسے tricuspid valve کہتے ہیں یعنی اس کی تین نوکیں ہوتی ہیں (لاطینی سابقہ tri- کے معنی ہیں "تین")

    جب بایاں بطن سکڑتا ہے تو خون جسم کی سب سے بڑی شریانaorta میں دھکیلا جاتا ہے۔ یہ شریان پہلے سیدھی اوپر کو اٹھتی ہے پھر حلقہ بناتے ہوئے نیچے دھڑکی جانب چل پڑتی ہے۔ دل سے نکل کر یہ شریان جب اوپر کو اٹھتی ہے اورپھرگھوم کر نیچے کوآجاتی ہے تو اس طرح چھتری کے دستے کی طرح کا ایک نصف حلقہ سا بنتا ہے اورایسے معلوم ہوتا ہے جیسے دل کو اس دستے نے اٹھا رکھا ہے یا وہ اپنی جگہ پر اسی کی وجہ سے قائم ہے چنانچہ aorta کا لفظ یونانی زبان کے "aeirein" سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی "اٹھانا" ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: شریان کبیر - اورطہ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top