Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 24 اپریل، 2017

    کیا آگ اگلتے ڈریگن کبھی وجود رکھ سکتے ہیں؟

    کیا ڈریگن (اڑن چھپکلی) ممکنہ طور پر وجود رکھ سکتا(سکتی) ہے ؟
    رچرڈ مولر، یو سی برکلے کے طبیعیات کے معلم، مصنف "حال - وقت کی طبیعیات" (2016)


    یہ جواب 2مارچ 2016 کو لکھا گیا۔ 

    قدیم انسانوں نے اڑن چھپکلی (ڈریگن)کی ہڈیوں کو پا لیا تھا، دیوہیکل رینگنے والے ڈھانچے، جو کھلی جگہ میں پڑے تھے، تاہم وہ کسی بھی چھپکلی یا سانپ یا پھر جل تھلیوں کی ہڈیوں جیسے نہیں تھے جن کو وہ جانتے تھے۔ ان کی نافچہ کی ہڈیاں بہت ہی مختلف تھیں ؛ وہ کافی زیادہ پرندوں سے مشابہ تھیں۔ واضح نتیجہ: یعنی کہ یہ دیوہیکل رینگنے والے اڑ سکتے تھے ! مزید براں، ان کی ہڈیاں پتھر سے بنی ہوئی تھیں۔ آگ کے لئے نا ممکن الدخیل! دو جمع دو کر کے، انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ جانور لازمی طور پر آگ کا منبع ہوں گے جو آسمان سے آئی تھی، جس سے جنگلات میں آگ لگ گئی تھی۔ وہ آگ کے شعلے اگلتے ہوں گے۔ یہ بات سمجھ میں آتی تھی۔ اور اڑن چھپکلی کی کہانی اس ابتدائی سائنسی منطق کی کوشش کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ 

    اصل میں، ڈائنو سارس کی ایک بنیادی خاصیت ان کے نافچہ کی ہڈی کی ساخت کا پرندوں جیسا ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عصری سائنس دان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ صرف پرندے ہی ڈائنو سارس کے زندہ جاوید نسل ہیں۔ مزید براں یہ ہے ابتدائی رکاز کھلے میں پائے گئے۔ جب ڈارون جنوبی امریکہ میں آیا، تو اس کو دیوہیکل سلاتھ کی رکازی ہڈیوں کو ڈھونڈھنے کے لئے کہیں کھدائی نہیں کرنی پڑی۔ کٹاؤ نے اس طرح کی ہڈیوں کو باہر نکال دیا، اور کم آبادی والے علاقے میں، یہ ہڈیاں اس وقت تک رہیں جب تک قبل از تاریخ انسانوں نے اس کو حاصل نہیں کر لیا۔ اور قبل از انسان جانوروں کی ہڈیوں کی ساخت کو اوسط جدید انسان، بجز جدید قصائیوں، سے کہیں زیادہ بہتر سمجھتا تھا؛ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیمی لوگ خود قصائی تھے۔ 

    اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اڑن چھپکلیوں کی کہانیاں اتنی ہی مقبول تھیں جتنی کہ ڈائنو سارس کے رکازات پھیلے ہوئے تھے۔ قدیمی انسان اس طرح کی چیزوں کی اور کیا تشریح کرتے ؟

    تاہم نافچہ کی ہڈی اڑنے کے لئے ناکافی تھیں۔ آگ کا اگلنا غلط تھا۔ پتھروں سے بنی ہڈیوں کی توضیح غلط تھی؛ یہ بتاتا ہے کہ وہ قدیم، رکازی تھے، عصر حاضر کے نہیں۔ لہذا، افسوس، کسی اڑن چھپکلی کا وجود نہیں ہے۔ 

    مزید براں، ہم جانتے ہیں کہ بڑے جانوروں کے پروں میں اڑنے کے لئے درکار کافی طاقت نہیں ہو سکتی، کم از کم اگر وہ پٹھوں سے مل کر بنے ہوں جیسا کہ ہمیں معلوم ہے۔ آپ کے پاس جو سب سے بڑا ہے وہ شاہ رخ (،امریکا کا بڑا گِدھ جس کی سر اور گردن ننگی ہوتی ہے) اور یہ پرندہ یقینی طور پر پھسلتا ہے ؛ یہ ہموار میدان سے اڑان نہیں بھر سکتا۔ یہ طبیعیات کے اس حساب کا نتیجہ ہے کہ کس قدر ہوا کو آپ نیچے اپنا وزن سہارنے کے لئے دھکیل سکتے ہیں ؛ جب آپ بڑے ہوتے ہیں، تو وزن بڑھوتری کے مکعب سے بڑھتا ہے، جبکہ پٹھوں کی طاقت ( اس کا انحصار قطع عمودی پر ہوتا ہے ) صرف مربع کے حساب سے بڑھتی ہے۔ لہٰذا جب آپ کو کوئی چیز ایک میٹر سے زائد کی حاصل ہوتی ہے، تو جانوروں کے پٹھوں کی طاقت ناکافی ہوتی ہے۔ ایک ایسا ہی الٹی دلیل اس حقیقت کے بارے میں دی جاتی ہے کہ چیونٹی اور دوسرے کیڑے ناقابل تصور مضبوط لگتے ہیں۔ تاہم چیونٹی کو بڑا کریں، تو وہ اپنا وزن ہی نہیں اٹھا سکتی۔ 

    ان دلائل کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کسی چیز کو اڑن چھپکلی کا نام نہیں دے سکتے، چاہئے وہ کوموڈو اڑن چھپکلی ہو، نیل کا مگرمچھ، یا بھنبھیری۔ تاہم قصوں والی اڑن چھپکلی (ڈریگن)کا نہ تو کبھی وجود تھا اور نہ کبھی ہو گا۔ 
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کیا آگ اگلتے ڈریگن کبھی وجود رکھ سکتے ہیں؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top