Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, اپریل 19, 2017

    مادہ و توانائی

    پیش گوئی یہ تھی کہ توانائی اور مادّہ ایک دوسرے کے برابر اور قابل مبادلہ ہیں یعنی کہ E = mc^2۔جب طبیعیات دان جوہر کی کمیت کی مزید درست پیمائش کرنے کے قابل ہو گئے (اور ان کے مرکزوں کی بھی) اور اس کے ساتھ بتدریج ان کا فہم مرکزے کو آپس میں ملا کر رکھنے والی قوتوں کے ساتھ بڑھنے لگی تو یہ واضح ہو گیا کہ جب بھاری مرکزے دو ہلکے عناصر میں ٹوٹتے ہیں تب جو توانائی آزاد ہوتی ہے وہ بعینہ اجزاء کے کمیت میں ہونے والی کمی کے برابر ہوتی ہے۔ جب مرکزہ A ٹوٹ کر B اور C میں بٹتا ہے تو B اور C کی کمیت ملا کر A کی کمیت سے اتنی ہی کم ہوتی ہے جتنی کہ انشقاق کے عمل سے E = mc^2 کے کلیے سے نکلنے والی توانائی کی مقدار کو ضرورت ہوتی ہے۔ 1920ء کے عشرے میں تو اس کے بعد 1930ء کے عشرے میں طبیعیات دان ایک نئے کوانٹم اور اضافیت کے نظریئے سے لیس ہو گئے تھے جس سے انہوں نے مرکزے کی دنیا کو آئن سٹائن کے نظریئے کے ضمن میں سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ 

    یہی برابری کا اصول جس میں توانائی کے حصول اور کمیت کا زیاں ایک جیسا ہوتا ہے پائیدار وادی کے دوسری طرف بھی لاگو ہوتا ہے۔ لیکن بلاشبہ اس صورت میں یہ دو ہلکے اجزاء کا اک بھاری مرکزے میں جمع ہونا ہے جس میں کمیت میں کمی ہوتی ہے اور اتنی ہی توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہیلیئم-4 کا مرکزہ دو پروٹون اور دو نیوٹران پر مشتمل ہوتا ہے۔ طبیعیات دان جوہروں اور مرکزوں کی پیمائش کو کاربن-12 کے جوہر کی کمیت کی صورت میں کرتے ہیں جس میں چھ پروٹون اور چھ نیوٹران ہوتے ہیں (مزید چھ الیکٹران مرکزے کے باہری بادل میں موجود ہوتے ہیں )اس کمیت کو 12 جوہری کمیت کی اکائیوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس پیمانے پر پروٹون کی کمیت 1.007275 اور نیوٹران کی کمیت 1.008664 ہوتی ہے۔ دو پروٹون اور دو نیوٹران لیں تو آپ کو کل کمیت 4.031878 کی ملنی چاہئے۔ تاہم ایک الفا ذرّے، ہیلیئم کے مرکزے کی جوہری کمیت 4.00140 ہوتی ہے۔ 0.03 جوہری کمیت سے تھوڑا سا زیادہ 'کم' ہے اور حرارتی توانائی کی صورت میں ہر اس مرتبہ ظاہر ہوتا ہے جب چار جز ترکیبی ذرّات ایک ساتھ مل کر ہیلیئم کا مرکزہ بناتے ہیں۔ جس کمیت سے آپ نے شروع کیا تھا اس کی کل کمیت کا تقریباً 0.75 فیصد توانائی میں بدل گیا ہے اور کیونکہ اس کمیت کو روشنی کی رفتار کے جزرالمربع سے ضرب کھانا ہے اور روشنی کی رفتار3x10^10 سینٹی میٹر فی سیکنڈ ہے تو یہ مقدار اس وقت بہت زیادہ بن جاتی ہے جب آپ کسی ستارے کے اندر ہیلیئم کے مرکزے کو بناتے ہیں۔ 

    1920ء کے عشرے کے اواخر میں اور 1930ء کی دہائی کے شروع میں ایڈنگٹن اور اس کے رفقائے کاروں کے پاس وہ مفصل نظریہ نہیں تھا جس سے معلوم کر سکیں کہ کس طرح سے صرف چار ہائیڈروجن کے مرکزے ایک ہیلیئم کے مرکزے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ تاہم وہ اتنا ضرور جانتے تھے کہ اس عمل کے دوران کمیت میں کمی ہو گی اور وہ توانائی میں بدل جائے گی اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ سورج ہر سیکنڈ میں کتنی روشنی خارج کر رہا ہے۔ آئن سٹائن کی مساوات کا استعمال کر کے یہ حساب لگانا آسان تھا کہ سورج کی موجودہ تابانی کو مادّے کی چالیس لاکھ ٹن مقدار کو ہر سیکنڈ میں تبدیل کر کے قائم رکھی جا سکتی ہے۔ یہ وہ مادّے کی مقدار ہے جو ہیلیئم (الفا ذرّات) میں بدلتی ہے۔ سننے میں یہ بہت لگتا ہے تاہم یہ سورج کی کل کمیت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ہم سالم اعداد میں بات کریں تو سورج کی کمیت 2x10^33 گرام یا 2x10^27 گرام ہے۔ ہر سیکنڈ میں 60 کروڑ(6x10^8) ہائیڈروجن کو ہیلیئم میں بدل کر سورج ہر برس اپنے ایندھن میں2x10^16ٹن کی کمی کرتا ہے۔ ایک ہزار برس میں یہ2x10^19 ٹن ہائیڈروجن جبکہ دس لاکھ برسوں میں2x10^22ٹن پھونک دے گا۔ اور اسی شرح سے 10 ارب برس ہائیڈروجن کو جلانے کے بعد بھی وہ صرف2x10^26 ٹن یعنی کہ ستارے کی کل کمیت کا صرف 10 فیصد سے کچھ زائد حصّہ جلائے گا۔ اس ایندھن کا لگ بھگ 7 فیصد یعنی 14x10^24 ٹن سے زیادہ مادّہ اس عمل میں مکمل توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا سالم عدد کی اصطلاح میں بات کریں تو 10 ارب برس تک اس شرح سے ہائیڈروجن کو ہیلیئم میں جلانے کے بعد سورج اس مقام پر پہنچے گا جب اس کی ظاہری صورت واضح طور پر کافی تبدیل ہو جائے گی۔ یہاں فوری طور پر زمین کی عمر اور سورج کی عمر میں ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر زمین چار سے پانچ برس پرانی ہوتی ہے اور سورج کی طرح ستارہ اپنی ہائیڈروجن کو اسی شرح سے دس ارب برس تک جلا سکتا ہے تو ہم بمشکل سورج کی حیات کی اس شکل میں آدھے راستے پر موجود ہیں جس کو ہم جانتے ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: مادہ و توانائی Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top