Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 6 جون، 2016

    جھلی کی دنیا




    ایک نئی خاصیت جو ایم نظریہ کی ہے کہ نہ صرف یہ تاروں کو بلکہ مختلف جہتوں کی جھلیوں کا بھی پورا چڑیا گھر متعارف کرواتا ہے۔ اس تصویر میں، نقاط والے ذرّات "صفر جھلی " کہلاتے ہیں کیونکہ یہ لامحدود طور پر چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کی کوئی جہت ہی نہیں ہوتی۔ ایک تار صرف "ایک برین " ہوتا ہے کیونکہ یہ صرف ایک ہی جہتی جسم ہوتا ہے جس کو اس کی لمبائی بیان کرتی ہے۔ جھلی ایک "دو برین" ہوتی ہے جیسے کہ باسکٹ بال کی سطح جس کو اس کی لمبائی اور چوڑائی سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ (باسکٹ بال تین جہتوں میں تیر سکتی ہے، لیکن اس کی سطح دو جہتی ہوتی ہے۔) ہماری کائنات ایک قسم کی "سہ برین" ہو سکتی ہے ۔ ایک سہ جہتی جسم جس کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی ہوتی ہے۔ (جیسا کہ کوئی بھی ذی فہم دیکھ سکتا ہے کہ اگر مکان کی پی جہتیں ہوں، جس میں پی بطور عدد صحیح کے ہے، تو ہماری کائنات ایک پی برین کائنات ہوگی۔ ایک جدول جو ان تمام پی برین کو ظاہر کرتا ہے "برین اسکین" کہلاتا ہے۔)



    ایسے کافی طریقے موجود ہیں جس میں ہم جھلی کو لے کر اس کو تار میں منہدم کر سکتے ہیں۔ بجائے گیارہویں جہت کو موڑیں ہم گیارہویں جہت کی جھلی کے خط استوا کو کاٹ بھی سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک دائروی پٹی بن جائے گی۔ اگر ہم اس پٹی کی موٹائی کو کم کر دیں تب پٹی ایک دس جہتی تار بن جائے گی۔ پیٹر ہوراوا اور ادوار ویٹن نے اس بات کو دکھایا کہ ہم دگر جفتی طریقے سے تار کو حاصل کر سکتے ہیں۔



    اصل میں یہ بات دکھائی جا سکتی ہے کہ پانچ ایسے طریقے ہیں جس میں گیارہویں جہت کے ایم نظریئے کو دس جہت میں لایا جا سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں پانچ سپر اسٹرنگ نظریئے حاصل ہوتے ہیں۔ ایم نظریہ ہمیں اس پراسرار چیز کا تیز، بدیہی جواب دیتا ہے کہ آیا کیوں پانچ مختلف اسٹرنگ کے نظریات موجود ہیں۔ فرض کریں کہ آپ ایک بڑے پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہیں اور نیچے سطح کی طرف دیکھتے ہیں۔ تیسری جہت کے تفوق والی جگہ سے ہم میدان کے مختلف حصّے ایک مربوط تصویر کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ بعینہ گیارہویں جہت کے تفوق والی جگہ سے جب دسویں جہت کی طرف دیکھیں گے، تو ہمیں پانچ اسٹرنگ نظریات کے عجیب پوش گیارہویں جہت کے مختلف حصّوں سے زیادہ کچھ اور نہیں لگیں گے۔





    ثنویت 

    ہرچند کہ پال ٹاؤن سینڈ نے اس وقت زیادہ تر ان سوالات کا جواب نہیں دیا تھا جو میں نے پوچھے تھے، لیکن جس بات نے مجھے اس کے درست ہونے پر راضی کیا وہ ایک دوسری تشاکل کی قوّت تھی۔ طبیعیات کی دنیا میں جاننے والی سب سے بڑی تشاکل نہ صرف ایم نظریئے میں موجود ہے بلکہ اس نے ایک اور ترکیب اپنی آستینوں میں چھپائی ہوئی ہے، یعنی کہ ثنویت جو ایم نظریئے کو ایک ایسی غیر معمولی صلاحیت فراہم کرتی ہے جس سے وہ تمام پانچ نظریوں کو ایک نظریئے میں سمو دیتی ہے۔



    برق اور مقناطیسیت کی مثال کو لیں جو میکسویل کی مساوات کے تابع ہے۔ بہت پہلے یہ بات جان لی گئی تھی کہ اگر آپ صرف برقی میدان کو مقناطیسی میدان سے بدل لیں، تو مساوات لگ بھگ ایک جیسی ہی رہے گی ۔ یہ تشاکل اس صورت میں بنایا جا سکتا ہے جب آپ میکسویل کی مساوات میں یک قطبیوں ( مقناطیسیت کے ایک قطب) کو شامل کر لیں۔ تبدیل شدہ میکسویل کی مساوات ہوبہو ویسی ہی رہے گی اگر ہم برقی میدان کو مقناطیسی میدان سے بدل دیں اور برقی بار ای کو مقناطیسی بار کے مخالف بار جی سے تبدیل کر دیں۔ اس کا مطلب ہوا کہ بجلی (اگر برقی بار پست ہے ) ہوبہو مقناطیسیت کے برابر ہے (اگر مقناطیسی بار بلند ہو)۔ یہ ہم قدری ثنویت کہلاتی ہے۔



    ماضی میں یہ ثنویت سائنسی تجسس کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھی جاتی تھی۔ ایک تفریح طبع کا کرتب، کیونکہ کسی نے کبھی بھی بلکہ اب تک یک قطبی نہیں دیکھے تھے۔ بہرحال طبیعیات دانوں کو یہ معلوم تھا کہ میکسویل کی مساوات میں ایک خفیہ تشاکل موجود ہے جس کو بظاہر قدرت کہیں استعمال نہیں کرتی (کم از کم ہمارے کائنات کے علاقے میں تو ایسا ہی ہے )۔



    اسی طرح پانچوں اسٹرنگ نظریات ایک دوسرے کے متبادل ہیں۔ قسم اوّل اور دگر جفتی SO(32) اسٹرنگ نظریئے کو دیکھیں۔ عام حالت میں یہ دونوں نظریئے ایک دوسرے جیسے بالکل نہیں لگتے۔ قسم اوّل کی بنیاد بند اور کھلے تاروں پر بنیاد رکھتی ہیں جو پانچ مختلف طریقوں سے تعامل کر سکتے ہیں جس میں اسٹرنگ ٹوٹتے اور جڑ تے ہیں۔ دوسری طرف SO(32) اسٹرنگ کی بنیاد مکمل طور پر بند تاروں پر ہوتی ہے جن کے ساتھ تعامل کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے جو خلیہ کی طرح خطیت سے گزرتے ہیں۔ قسم اوّل کا اسٹرنگ صرف دس جہتی خلاء میں ہی بیان کیا جا سکتا ہے، جبکہ SO(32) اسٹرنگ کو ایک تھرتھراہٹ کے جوڑے سے بیان کیا جا سکتا ہے اور اس کو چھبیس جہتی مکان سے بیان کیا جا سکتا ہے۔





    عام طور پر دو ایسے نظریات نہیں ملتے جو آپس میں ایک دوسرے سے اس قدر جدا ہوں۔ بہرحال جیسا کہ برقی مقناطیسیت میں ہوتا ہے کہ نظریات طاقتور ثنویت رکھتے ہیں یعنی کہ اگر آپ تعاملات کی طاقت کو بڑھنے دیں گے، قسم اوّل اسٹرنگ تبدیل ہو کر SO(32) دگر جفتی اسٹرنگ میں ایسے بدل جائیں گے جیسے کہ کوئی جادو ہوا ہو ۔ (یہ نتیجہ اتنا غیر متوقع ہے کہ جب میں نے پہلی مرتبہ نتائج کو دیکھا تھا، تو میں اپنا سر حیرانگی سے ہلا رہا تھا۔ طبیعیات میں، ہم ایسا بہت ہی کم دیکھتے ہیں کہ دو نظریات جو آپس میں ایک دوسرے سے ہر طرح سے مختلف ہوتے ہیں لیکن ریاضیاتی طور پر ان کو ایک دوسرے کے برابر ثابت کیا جا سکتا ہے۔)
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: جھلی کی دنیا Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top