Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ, جون 17, 2016

    پہلا نزول - حصّہ اوّل



    خاکہ 10.2 لیوائس اور کلارک اکتوبر ١٨٠٥ء میں زیریں کولمبیا میں مقامی امریکی قبیلے چنوکن سے ملے۔ (ایک صدی بعد بننے والی تصویر میں مصوّر چارلس ایم رسل کا تخیل۔)لیوائس اور کلارک کی کورپس آف ڈسکوری نے کھال کی تجارت اور بالآخر یورپی آبادکاری کے لئے راہ ہموار کی۔


    دیوہیکل سیارے کے پاس جانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک چھوٹے پیچیدہ نظام شمسی کی طرف جانا۔ کافی مہتاب مختلف مداروں میں ، کچھ ایک دوسرے کی مخالفت میں اور کچھ سیارے کی استوائی سطح اور حلقوں کے علاوہ دوسری سطح پر چکر کاٹ رہے ہیں اور یہ مل کر کسی بھی سفر کرنے والے کے لئے ٹھیک ٹھاک پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔ تاہم پروازی انجنیئروں نے مشتری کے مدار میں گلیلیو اور حال ہی میں زحل کے مدار میں بھیجا جانے والا کیسینی کے ساتھ اب کافی اڑانوں کی مشق کر لی ہے۔ کیسینی کی کیرولن پورکو زور دیتی ہیں کہ، " کیسینی کی مہم کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ہم نے کیسینی کے ساتھ کافی قریبی اڑانیں بھری ہیں - جیسے سوئی میں دھاگہ ڈالتے ہیں، اس طرح اس بات کا یقین کرلیا کہ رفتار بالکل مناسب ہے - اس طرح کا کام ہم نے ایک سو برس سے زائد عرصے پر پھیلی ہوئی پوری خلائی تاریخ میں نہیں کیا تھا ۔"

    اپنے اس تمام تجربے کے ساتھ پورکو کہتی ہیں کہ مدار میں جانا یا بہت سے سیارچوں کی سطح پر اترنا تو معمول کی بات ہوگی۔ تاہم لوگوں کے ساتھ خلائی جہاز کو بہت زیادہ سامان لے کر جانا ہوگا تاکہ عملے کے افراد کو صحت مند اور زندہ رکھ سکیں۔ زیادہ تر صورتوں میں سیارچے اتنے چھوٹے اور کم ضخامت کے ہیں کہ نزول و اڑان کے لئے درکار توانائی یہاں تک کہ کسی ضخیم خلائی جہاز کے لئے بھی کی مقدار کافی کم ہوگی ۔ مثال کے طور پر انسیلیڈس پر کھوجیوں کو بھاری تابکاری سے بچنے لے لئے محفوظ حفاظت گاہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ درحقیقت ان کو بمشکل اس بات کی پریشانی ہوگی کہ انسیلیڈس سے اوپر کیسے اٹھ سکیں۔ اصل مسئلہ سیارے کے مدار سے باہر آنا ہے، یہی تمام دیوہیکل سیاروں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

    بیرونی سیاروں کی کھوج میں ایک ترکیب تو یہ ہو سکتی ہے کہ چھوٹے مہتابوں پر چوکی بنا لی جائے۔ ان چھوٹے جہانوں کا فائدہ یہ ہے کہ یہ دیوہیکل سیاروں اور ان کے مہتابوں دونوں سے قریب ہوتے ہیں جبکہ آنے جانے کے لئے ان کی قوّت ثقل بھی کم ہوتی ہے۔ خاص طور پر مشتری کے لئے چھوٹے چاند الآرا، ہمالیہ اور لیڈا کے مدار مہلک تابکاری پٹی کے باہر ہیں تاہم یہ سیارے اور اس کے دوسرے مہتابوں سے اس قدر نزدیک ہیں کہ یہاں سے اہم گلیلائی مہتابوں پر بھیجے ہوئے دور سے چلانے والے روبوٹوں کا استعمال کر سکتےہیں ۔ لیڈا سب سے قریب اور چھوٹا ہے۔

    زحل پر پینڈورا، پرومیتھیس، جانس، اور ایپیمتھیس اہم مہتابوں پر تحقیق کرنے کے لئے قریبی ٹھکانہ مہیا کریں گے اور ساتھ ساتھ حلقوں کے نظام اور اس کی پیچیدگی پر ہونے والی تحقیق میں بھی مدد گار ثابت ہوں گے۔ یورینس کا چھوٹا چاند اس قسم کا کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا کیونکہ درمیانی حجم کے یورینس کے سیارچے (مرانڈا، ایریل، امبریل، ٹائٹینیا اور اوبرائن ) کی قوّت ثقل کافی کم ہے۔ نیپچون پر کچھ چھوٹے مہتاب شاید اچھا ہدف ہوں کیونکہ ٹرائیٹن اترنے کے لئے ایک مشکل جگہ ہے۔ ٹرائیٹن الٹی طرف یعنی کہ مہتابوں کے قدرتی گھومنے کے رخ سے الٹا گھوم رہا ہے۔ اس وجہ سے ٹرائیٹن پر اترنے کی رفتار کافی تیز ہے۔ اس کی قوّت ثقل بھی اچھی خاصی ہے۔ چاند کی مداری حرکت اصل میں کسی بھی اڑنے والے خلائی جہاز کو غلط سمت میں بھیج سکتی ہے، لہٰذا اڑنے والے خلائی جہاز کو سیدھے مدار میں چکر لگانے والے مہتابوں کے مقابلے میں کافی زیادہ توانائی درکار ہوگی۔ ان اہداف میں پروٹیس ، لاریزہ ، گالاٹیا اور ڈیسپینا شامل ہیں۔ ایک کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر نیریڈ کا انوکھا مدار شاید اس کو دور سے قابو کرنے والے روبوٹوں کے لئے عملی طور پر کارآمد نہیں بناتا۔

    خاکہ 10.3 مریخ پر قائم صنعت دیوہیکل سیاروں کے درمیان بنیادی ڈھانچہ بنانے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ قطبین پر موجود طیران پذیر کافی صنعتی فوائد رکھتے ہیں۔ 


    ویٹون کالج کے جیفری کولنز اس ٹیم کا حصّہ ہیں جو حال ہی میں مشتری کے سب سے بڑے مہتاب گینی میڈ کا سب سے مفصل ارضیاتی نقشہ بنا رہی ہے۔ "[نقشہ بناتے ہوئے] بنیادی چیزوں میں سے ایک مستقبل پر اترنے کی جگہوں کو بھی ذہن میں رکھنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں پر دلچسپ جگہیں ہوں گی۔ میں ذاتی طور پر کسی چیز پر اترنے میں پیسے خرچ کرنے سے پہلے اس کی سطح کا کافی تفصیلی معائنہ کروں گا۔ ہمارے پاس تو پورے کرۂ کا نقشہ بھی نہیں ہے۔ نقشے میں کافی بڑی جگہیں ایسی ہیں جہاں ہمیں جل پریوں اور ڈریگن کو بنانا پڑا ہے۔ وہاں پر حقیقت میں کچھ غیر مبہم چیزیں چھوڑنی پڑی ہیں۔"

    یوروپا کو گینی میڈ کے مقابلے میں زیادہ تفصیل سے نقشہ بند کیا گیا ہے۔ کیلسٹو کی سطح کے نقشے کے لئے کم تفصیل میں تصویر کشی کی گئی ہے ان کے درمیان اور آئی او کی کچھ اچھی معیار کی نقشہ کشی کی گئی ہے۔ زحل کے مہتابوں میں سب سے بہترین نقشہ انسیلیڈس کا بنایا گیا ہے۔ کیسینی نے 22 جدولی اڑانیں اس چشمے والے سیارچے کی طرف بھری ہیں۔ تھوڑی تفصیل والے تو آئیاپیٹس ، ڈائیاونی، ریا، میماس اور تیتھس کے نقشے بھی دستیاب ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: پہلا نزول - حصّہ اوّل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top