Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ، 11 جون، 2016

    چھوٹے بلیک ہولز




    کیونکہ اسٹرنگ کا نظریئے پوری کائنات کا نظریہ ہے لہٰذا اس کی براہ راست جانچ کے لئے تجربہ گاہ میں ایک کائنات بنانی پڑے گی (نواں باب دیکھیں)۔ عام طور پر ہم قوّت ثقل کے کوانٹم اثرات کو ہم پلانک توانائی پر دیکھنے کی امید کرتے ہیں جو ہمارے موجودہ ذرّاتی اسراع گروں کی طاقت سے بھی ایک پدم گنا زیادہ ہے اور یہ بات اسٹرنگ نظریئے کی براہ راست جانچ کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ لیکن اگر حقیقت میں کوئی متوازی کائنات ہم سے ایک ملی میٹر فاصلے پر وجود رکھتی ہے، تو وہ توانائی جس پر کوانٹم اثرات اور وحدت وقوع پذیر ہوگی وہ کافی کم ہوگی جو اگلی نسل کے ذرّاتی اسراع گروں کی پہنچ میں ہوگی جیسا کہ لارج ہیڈرون کولائیڈر ۔ اس بات نے بلیک ہول کی طبیعیات میں ایک دلچسپی لینے کے لئے ایک طوفان بپا کر دیا ہے، سب سے زیادہ ہیجان انگیز "چھوٹا بلیک ہول "ہے۔ چھوٹا بلیک ہول ایسے برتاؤ کرے گا جیسے کہ ایک ذیلی جوہری ذرّہ کرتا ہے ، یہ ایک ایسی تجربہ گاہ ہیں جس میں ہم اسٹرنگ نظریئے کی کچھ پیش گوئیوں کی جانچ کر سکتے ہیں۔ طبیعیات دان ان کو ایل ایچ سی کے ذریعہ ممکنہ طور پر بنانے کے لئے کافی پرجوش ہیں۔ (چھوٹے بلیک ہول ، الیکٹران کے مقابلے میں اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر کسی چیز کو نگل نہیں سکتے۔ کائناتی اشعاع جو عام طور پر زمین سے ٹکراتی ہیں ان کی توانائی ان چھوٹے بلیک ہولز سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جن کا کوئی خطرناک اثر زمین پر نہیں ہوتا۔) 



    جتنا انقلابی خیال یہ لگتا ہے اصل میں ایسا نہیں ہے ، ایک ایسے بلیک ہول کا خیال جس نے ذیلی جوہری ذرّے کا سوانگ بھرا ہوا ہے کافی پرانا ہے اور اس کو پہلی مرتبہ آئن سٹائن نے ١٩٣٥ء میں متعارف کروایا تھا۔ آئن سٹائن کے مطابق ایک ایسا وحدتی میدانی نظریہ ضرور موجود ہونا چاہئے جس میں ذیلی جوہری ذرّات سے بنا ہوا مادّہ مکان و زمان کی ساخت میں کسی طرح سے خلل ڈالے۔ اس کے مطابق ذیلی ذرّات جیسا کہ الیکٹران اصل میں تو خم زدہ مکان میں پیچ یا ثقب کرم تھے جو دور سے ذرّات جیسے دکھائی دیتے تھے۔ آئن سٹائن نے ناتھن روزن کے ساتھ مل کر اس خیال کو پیش کیا کہ ہو سکتا ہے کہ اصل میں الیکٹران چھوٹے بلیک ہولز ہیں جنہوں نے بھیس بدلا ہوا ہے۔ اس طرح سے اس نے مادّے کو اپنی اس وحدتی میدانی نظریئے میں سمونے کی کوشش کی جو ذیلی ذرّات کو کم کرکے خالص جیومیٹری میں بدل سکتی ہے۔



    چھوٹے بلیک ہولز کو دوبارہ سے اسٹیفن ہاکنگ نے متعارف کروایا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ بلیک ہول اس وقت بنتے ہیں جب مادّے کو بھینچ کر شیوارز چائلڈ نصف قطر میں کر دیا جائے۔ کیونکہ کمیت اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں ، لہٰذا بلیک ہول توانائی کو بھینچ کر بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ لوگوں کی اس بات میں کافی دلچسپی قائم ہے کہ آیا ایل ایچ سی اس دھول سے چھوٹے بلیک ہول کو تخلیق کر پائے گی یا نہیں، جو دو پروٹونوں کے ١٤٠ کھرب وولٹ الیکٹران کی توانائی سے ٹکرانے کے بعد پیدا ہوگا۔ یہ بلیک ہول کافی ننھے ہوں گے اور ان کی عمر صرف 10-23 سیکنڈ ز کی ہوگی۔ لیکن ایل ایچ سی کے تخلیق کردہ ذیلی جوہری ذرّات کے راستے میں یہ واضح طور پر نظر آئیں گے۔ 



    طبیعیات دانوں کو اس بات کی بھی امید ہے کہ خلائے بعید سے آنے والی کونیاتی اشعاع میں بھی چھوٹے بلیک ہول موجود ہو سکتے ہیں۔ پیری اوگر کازمک رے آبزرویٹری ، ارجنٹینا اس قدر حساس ہے کہ یہ سائنس کی دنیا میں کچھ اب تک کی درج کی جانے والی سب سے بڑی کائناتی اشعاع کی بوچھاڑ کو درج کر سکتی ہے۔ امید یہ ہے کہ چھوٹے بلیک ہول قدرتی طور پر کائناتی اشعاع میں مل جائیں، یہ اس وقت ایک مخصوص پھوار پیدا کرتے ہیں جب زمین کی بالائی فضا سے ٹکراتے ہیں۔ ایک حساب تو اس بات کو ظاہر کرتا ہے اوگر کازمک رے سراغ رساں شاید اس قابل ہو کہ ایک سال میں ان دس کونیاتی اشعاع کی بو چھاڑوں کو درج کر سکے جو چھوٹے بلیک ہولز کو جنم دیتی ہوں۔ 





    چھوٹے بلیک ہول کا سراغ ہو سکتا ہے کہ اسی عشرے میں مل جائے چاہئے ایل ایچ سی ، سوئٹزر لینڈ میں ہو یا اوگر کازمک رے ڈٹیکٹر ، ارجنٹینا میں، یہ متوازی کائناتوں کے وجود کا کافی اچھا ثبوت ہوگا۔ ہرچند یہ حتمی طور پر اسٹرنگ نظریئے کو ثابت نہیں کرے گا لیکن یہ تمام طبیعیات دنیا کو اس بات پر ضرور راضی کر لے گا کہ اسٹرنگ نظریہ تمام تجرباتی نتائج سے ہم آہنگ ہے اور صحیح سمت کی طرف جا رہا ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    1 comments:

    Item Reviewed: چھوٹے بلیک ہولز Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top