Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات، 9 جون، 2016

    متصادم کائناتیں - حصّہ اوّل




    ایم نظریئے کا اطلاق سنجیدہ علم تکوینیات پر کرنا قبل از وقت ہو سکتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر طبیعیات دانوں نے برین طبیعیات کا اطلاق کائنات کے عمومی افراط پذیر دور کے نظریئے میں نیا موڑ لانے کے طریقے پر کرنے کی کوشش کی ہے۔ تین ممکنہ کونیات نے کچھ توجہ حاصل کی ہے۔ پہلا علم کونیات اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ہم کیوں چار جہتی مکان و زمان میں رہتے ہیں؟ اصولی طور پر، ایم نظریئے کو ایک سے لے کر گیارہ کسی بھی جہت میں بنایا جا سکتا ہے لہٰذا یہ بات عجیب لگتی ہے کہ کیوں چار جہتوں کو الگ کیا گیا ہے۔ رابرٹ برانڈن برگر اور کمرن وافا نے اندازہ لگایا ہے کہ ایسا مخصوص تاروں کی جیومیٹری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 

    اس منظر نامے میں کائنات مکمل تشاکل کے ساتھ شروع ہوئی تھی، جس میں تمام اضافی جہتیں پلانک پیمانے پر مڑی ہوئی تھیں۔ جس چیز نے کائنات کو پھیلنے پر مجبور کیا وہ تاروں کے حلقے تھے جو کس کر دوسری جہتوں پر لپٹے ہوئے تھے۔ ایک دبے ہوئے گچھے کا تصوّر کریں جو مزید پھیل نہیں سکتا کیونکہ یہ تاروں سے کسا ہوا ہے۔ اگر کسی طرح سے تار ٹوٹ جاتے ہیں، تو لچھا اچانک سے آزاد ہو کر پھیلنے لگے گا۔ ان ننھی جہتوں میں، کائنات پھیلنے سے رکی ہوئی ہوگی کیونکہ ہم نے تار اور ضد تار دونوں کو لپیٹا ہوا ہوگا۔ (یوں سمجھ لیں کہ ضد تار، تاروں کی مخالف سمت میں لپٹے ہوئے ہوں گے)۔ اگر تار اور ضد تار آپس میں ٹکرائیں گے، تو وہ فنا ہو کر غائب ہو سکتے ہیں جس طرح سے گرہ کو کھولا جاتا ہے۔ بہت بڑی جہتوں میں کافی جگہ موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے تار اور ضد تار مشکل سے ہی آپس میں ٹکراتے ہیں اور اس طرح سے یہ کبھی نہیں کھلتے۔ بہرصورت برانڈن برگر اور وافا نے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ تین اور اس سے کم مکانی جہتوں میں اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ تار، ضد تاروں سے ٹکڑا جائیں۔ ایک مرتبہ جب یہ تصادم وقوع پذیر ہونے لگتے ہیں تو تار کھلنے لگتے ہیں اور جہتیں باہر کی جانب تیزی سے اچھل کر نکلتی ہیں جس کے نتیجے میں بگ بینگ کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس تصویر کی جو خاص بات ہے وہ یہ کہ تاروں کی مقامیات اس بات کو کافی حد بیان کرتی ہے کہ ہم کیوں اپنے ارد گرد چار جہتی مکان و زمان کو دیکھتے ہیں۔ اضافی جہتی کائناتیں ہونا ممکن ہیں لیکن ان کا نظر آنا کافی بعید از قیاس ہے کیونکہ وہ اب ابھی کس کر تاروں اور ضد تاروں سے بندھی ہوئی ہوں گی۔

    لیکن ایم نظریئے میں دوسرے امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر کائنات ایک دوسرے سے نکل اور پھوٹ رہی ہیں جس کے نتیجے میں نئی کائنات وجود میں آ رہی ہے، تو شاید اس کا الٹ بھی ممکن ہے، کائنات آپس میں متصادم بھی ہو سکتی ہیں جس کے نتیجے میں وہ چنگاری پیدا ہوتی ہوںگی جو نئی کائناتوں کو بناتی ہوںگی۔ اس منظر نامے میں کائنات کے پھوٹنے کے بجائے نئی کائنات کے بگ بینگ کے وقوع پذیر ہونے کی ممکنہ وجہ دو متوازن برین کائناتوں کا آپس کا ٹکراؤ ہے ۔

    دوسرا نظریہ پرنسٹن کے پال اسٹین ہارڈت، یونیورسٹی آف پینسلوانیا کے برٹ اورٹ اور کیمبرج یونیورسٹی کے نیل ٹروک نے پیش کیا، جس میں انہوں نے "بڑی آگ کی کائنات یا آتشی کائنات " کو تخلیق کیا تاکہ ایم جھلی کے نئے خواص تصویر میں ڈال دیئے جائیں، جس میں کچھ اضافی جہتیں بڑی ہو کر لامتناہی بھی ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے شروعات دو چپٹی، یکساں اور متوازی تین برین سے کی جو توانائی کی پست ترین شکل کو پیش کر رہی تھیں۔ اصل میں وہ خالی، سرد کائناتوں کے ساتھ شروع ہوئیں لیکن قوّت ثقل کے انہوں کھینچ کر ایک کر دیا۔ بالآخر وہ ایک دوسرے سے متصادم ہو گئیں اور وسیع حرکی توانائی ہماری کائنات کو بنانے والے مادّے اور اشعاع کی صورت میں تبدیل ہو گئیں۔ کچھ لوگ اس کو "عظیم دھماکے" کے بجائے "عظیم پھیلاؤ " کہتے ہیں کیونکہ اس میں دو برین متصادم ہو رہے ہیں ۔

    تصادم کی قوّت نے دونوں کائناتوں کو دور دھکیل دیا۔ جب یہ دو جھلیاں ایک دوسرے سے الگ ہو گئیں تو یہ تیزی سے ٹھنڈی ہونے لگیں، جس کے نتیجے آج نظر آنے والی کائنات وجود میں آئی۔ کائنات کا پھیلنا اور ٹھنڈا ہونا دسیوں کھرب تک چلے گا تاآنکہ کائنات کا درجہ حرارت مطلق صفر تک جا پہنچے اور اس کی کثافت خلاء میں ایک الیکٹران فی پدم(1015) مکعب نوری برس کی ہو ۔ اصل میں کائنات خالی جامد ہو جائے گی۔ لیکن قوّت ثقل ان دونوں جھلیوں کو کھنچنا جاری رکھے گی یہاں تک کہ دسیوں کھرب سال بعد یہ دونوں پھر سے متصادم ہوں گی اور یہ چکر پھر سے دہرایا جائے گا۔

    (یہ نیا نظریہ اس قابل ہے کہ افراط کے اچھے نتائج کو حاصل کر سکے(چپٹا پن ، یکسانیت وغیرہ)۔ یہ اس مسئلے کو بھی حل کر دیتا ہے کہ کائنات اس قدر چپٹی کیوں ہے – کیونکہ وہ دونوں برین ہی چپٹے تھے جس سے اس کی شروعات ہوئی ہے۔ یہ نمونہ افق کے مسئلہ کو بھی کماحقہ بیان کرتا ہے - یعنی آیا کیوں کائنات ہر سمت دیکھنے میں یکساں نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جھلیاں کافی عرصے پہلے توازن میں آ گئیں تھیں۔ لہٰذا افراط افق کے مسئلے کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ کائنات یکدم پھول گئی ، یہ حل افق کا مسئلہ مخالف طرح سے حل کرتا ہے یعنی کہ کائنات توازن میں آہستگی کے ساتھ پہنچی۔

    (اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کائنات سے باہر دوسری جھلیاں تیر رہی ہیں جو ہماری کائنات سے مستقبل میں ٹکڑا سکتی ہیں، اور یوں ایک اور "عظیم پھیلاؤ" جنم لے گا۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ہماری کائنات اسراع پذیر ہے، ایک اور تصادم ہونے کا کافی امکان موجود ہے۔ اسٹین ہارڈت مزید اضافہ کرتا ہے، "کائنات کے پھیلاؤ میں ہونے والا اسراع ہو سکتا ہے کہ ایک اور تصادم کی جانب اشارہ ہو۔ یہ کوئی خوشگوار خیال نہیں ہے۔")
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: متصادم کائناتیں - حصّہ اوّل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top