Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات, جون 23, 2016

    بیرونی نظام شمسی کی سیاحت




    ایک مرتبہ ہم دیوہیکل سیاروں کے درمیان موجود ذرائع کا استعمال کرنا سیکھ لیں اور ارضی سیاروں سے بیرونی نظام شمسی جانے کا بنیادی ڈھانچے کا جال بنا لیں تو لوگ سائنس اور کھوج کے علاوہ بھی وہاں جایا کریں گے۔ وہ وہاں تفریح اور وقت گزارنے کی خاطر جایا کریں گے۔ انجنیئر اور آجر ایسی جگہوں پر عارضی ٹھکانے بنائیں گے جو سفر میں آسان اور وسائل سے مالامال ہوں۔ برجیسی نظام میں ایسی جگہیں شاید گینی میڈ اور کیلسٹو میں پائی جاتی ہیں جبکہ زحل پر ٹائٹن کا زرخیز کرۂ فضائی ایک اہم کھلاڑی ہو سکتا ہے۔ ان تینوں امیدوار مہتابوں کے پاس سطحی وسائل موجود ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کے پاس اتنی مضبوط قوّت ثقل بھی موجود ہے جو ان کے شاندار سیاروی نظام میں آنے اور جانے کے لئے مددگار ثابت ہوگی۔

    جے پی ایل کے کیون بائینس مستقبل میں زحل کے نظام کی سیاحت کے بارے میں تصوّر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ کیریبین یا یونانی جزیروں کی طرح کی ہوگی۔" یہ ایک عظیم سیاحتی جگہ ہوگی۔ یہ یونانی جزیروں پر سمندری جہاز سے جانے جیسا ہوگا ۔ یونان کا ہر جزیرہ منفرد ہے۔ زحل کے مہتابوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔" بائینس ایک دن کا سفر ٹائٹن کے ماحول سے یا شاید عارضی بنائی جانے والی قیام گاہوں سے شروع کرنے کا سوچتے ہوئے آئیاپیٹس کی تہ و بالا ہوئی سطح تک ، اور پھر وہاں سے میماس اور تیتھس کے متشدد میدانوں تک اور پھر وہاں سے انسیلیڈس کے چشموں تک کا کہتے ہیں۔"آپ کا خلائی جہاز مختلف مہتابوں کے اڈوں پر اترے گا۔ آپ کو حلقوں میں سے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی [اس کی وجہ مداروی میکانیات ہوگی] چھوٹا جہاز اس میں سے گزرنا چاہے گا لہٰذا آپ کو اپنے راکٹ کو چلا کر اس سے دور رکھنا ہوگا۔"

    بین کلارک ایسے کسی سیارچے کے سفر کو انتہائی تیز رفتاری والے جہاز کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔" طبعی طور پر وہاں جانے کے لئے کافی زیادہ دھکیل کی ضرورت ہوگی۔ وہ تمام کے تمام استوائی میدان میں ہیں ، تاہم آپ کو پہلے وہاں جانا اور پھر وہاں سے آنا ہوگا۔ آپ کیسینی کی طرح ایک سے زیادہ مہتابوں کا چکر لگا سکتے ہیں۔ آپ تیزی سے بھی گزر سکتے ہیں تاہم میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو کھیل کار کی دوڑ دیکھنے کے شوقین ہیں اور یہ سفر کچھ اسی طرح کا ہوگا۔"

    مستقبل کے دیوہیکل سیاروں کے مسافروں کے لئے زحل کے نظام میں جانا اس سے زیادہ عجیب بات نہیں ہوگی جتنی قرون واسطی کے یورپ کے لئے کیریبین جانا ہوتا تھا۔ کچھ مخصوص ٹیکنالوجی جدت کے ساتھ یہ قدرتی طور پر وقوع پذیر ہوگا۔

    بلکہ وہاں پر تو دیکھنے لائق کافی زیادہ چیزیں ہوں گی۔ یورینس نظام کے چھوٹے سیارچوں میں تو نظام شمسی میں سب سے زیادہ ارضیاتی سرگرمی دیکھنے کو ملے گی۔ کوہ پیما گھاٹیوں کی دیواروں پر چڑھنے کی مہم جوئی کریں گی جو یورینس کے نیلمی روشن سے منور ہوں گی۔ ایریل سے یورینس آسمان میں دیکھنے میں 32 مہتابوں کے برابر لگے گا۔ 500 میٹر اونچے آتش فشانی بہاؤ جو نیچے وادی کے میدان پر آوارہ گردی کر رہے ہوں گے جہاں مائع پانی کا برفیلا لاوا کافی پرانے دور میں جم گیا ہوگا وہ مسافروں کے لئے کافی کشش کا سبب ہوگا۔ پڑوسی مرنڈا میں تو مزید اور ڈرامائی پہاڑی چوٹی موجود ہے جو لگ بھگ 20 کلومیٹر گہری ہے۔ کودنے کے جوکھم اٹھانے والے شوقین افراد 12 منٹ کی عمودی ڈھلان کی تہ میں گرنے کا مزہ لیں گے جہاں پر اترتے وقت وہ شاید ہوا کے تھیلوں یا راکٹ کا سہارا لیں گے ۔ نیپچون کا لاڈلا مہتاب ٹرائیٹن لاجوردی برفیلے دیو کا شاندار نظارہ پیش کرے گا۔ 

    مشتری یا زحل کے نظام میں موجود بڑے مہتابوں کے برعکس جو استواء کے گرد بڑے پر وقار طریقے سے غیر متغیر نظارے کے ساتھ چکر لگا رہے ہوتے ہیں، ٹرائیٹن کا مدار ایک اوپر نیچے ناہموار سطح پر چلتی ہوئی گاڑی کی طرح ہے۔ اس کا جھکا ہوا راستہ اس کو شمالی قطب کے اوپر لے جانے کے بعد اس کو جھپٹ کر استواء کے نیچے جنوبی قطب کی طرف اور پھر واپس دوبارہ لے جاتا ہے۔ ٹرائیٹن یہ شاندار آسمانی نظارہ ہر چھ دن کے بعد دوبارہ دہراتا ہے۔ ٹرائیٹن کے چڑھتے دن کے ساتھ نیپچون کا نظارہ ڈرامائی طور پر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس تفریح آسمانی نظاروں کے نیچے سب سے اجنبی خلائی زمین موجود ہے جو انسانی آنکھ نے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ بے ترتیب کینٹالوپ کی طرح نسیں دار زمین دمکتے ہوئے برفیلے میدان جن کے چہرے پر شہابی تصادموں اور آتش فشانی دہانوں اور برفیلے لاوے نے نقش و نگار بنائے ہوئے ہیں۔ اس سے دور گلابی نائٹروجن کی برف ہے جہاں ٹرائیٹن کے منفرد 8 کلومیٹر اوپر تک جانے والے چشمے موجود ہیں۔ افق کے پاس مسافر دھند کی ایک پرت کو دیکھیں گے تاہم بلاشبہ آسمان گہرے جامنی یا کالے رنگ کا اوپر پس منظر کے ماحول میں نظر آئے گا۔


    خاکہ 10.14 مستقبل میں زحل کے نظام کے سفر آج کے تفریحی پانی کے جہاز کے یونانی جزیروں کے سفر کی طرح ہوں گے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: بیرونی نظام شمسی کی سیاحت Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top