Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    اتوار, جون 19, 2016

    پہلا نزول - حصّہ سوم


    تابکاری کے حوالے سے کم خطرناک چاند یوروپا ہے، آئی او جہانوں کے بادشاہ کے مرکز سے 421,700 کلومیٹر کے فاصلے پر گردش کرتا ہے، جبکہ یوروپا مشتری کے گرد 676,800 کلومیٹر کے فاصلے سے چکر لگاتا ہے جو لگ بھگ چاند کے زمین کے فاصلے سے دگنا ہے۔ پھر بھی یہ چھوٹا چاند برجیسی مقناطیسی کرۂ کے اندر ہی آتا ہے۔ تابکاری کی سطح 530 آر آئی ایم روزانہ کی ہے جو انسان کو مار دینے والی 40 آر آئی ایم سے کہیں زیادہ ہے۔ جے پی ایل کے رابرٹ پاپالارڈو بیان کرتے ہیں:

    زیادہ تر مقناطیسی کرۂ (یوروپا) سے ٹکراتا ہے۔ اس کے کافی اثرات ہوتے ہیں۔ یہ کیمیائی عمل بھی کرتا ہے؛ یہ تکسید بناتا ہے، اور یہ [توڑ کر] سطح کو اگلتا بھی ہے۔ یوروپا کی سطح کافی نوخیز ہے کہ یہاں پر رطوبت زیادہ ٹوٹ پھوٹ خارج نہیں ہوتی۔ حقیقت میں یہی ایک وہ دلیل ہے جو یوروپا کی ارضیات کے نوجوان ہونے کی لئے دی جاتی ہے۔ " یہ کافی زیادہ عمر کی نہیں ہو سکتی، کیونکہ اگر سطح پرانی ہوگی، تو تمام ارضیاتی خدوخال کو ختم ہو جانا چاہئے تھا۔" آپ کو زیادہ ٹوٹ پھوٹ اور تابکاری سے ہونے والی تباہی پیچھے والے نصف حصّے میں ملتی، پھر اس کے بعد یہ عجیب خط سامنے والے نصف کرۂ کے گرد آتا ہے جہاں پر آپ کو استوا کے گرد ایک پٹی ملتی ہے۔

    مسافروں کے لئے اس کی کیا اہمیت ہوگی؟ کم تابکاری والے علاقے بلند ارض بلد والے ہوں گے جو پیچھے نصف حصّے کو نظر انداز کر رہے ہوں۔

    کھوج کے لئے یوروپا میں اس کا زیر زمین سمندر بھی ایک ترغیب دینے کی جگہ ہے۔ کچھ 96 کلومیٹر کے قریب نمکین کھائی منجمد پرت کے نیچے موجود ہے اور سائنس دان جاننا چاہتے ہیں کہ اس کے نیچے کیا ہے۔ حرارتی یا سوراخ کرنے والے آلات کے ساتھ کھوجیوں کو انٹارکٹکا کی جھیل ووستوک اور دوسری جگہوں کو جانچا گیا ہے، تاہم برف سے نکلتے ہوئے ریڈیائی رابطہ قائم رکھنا ایک مشکل کام ہے بالخصوص اگر برف 20 کلومیٹر موٹی ہو۔ تاہم بالآخر جیت ٹیکنالوجی کی ہی ہوگی اور ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان وہاں جا سکیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ یوروپا کی پرت کہیں سے کم موٹی ہو اور پتلے کنویں جیسے سوراخ کے ذریعہ آب دوز جیسی کوئی چیز وہاں ڈالی جا سکے۔ ہو سکتا ہے کہ انسان بھی دباؤ والے لباس پہن کر اجنبی ماحول میں اپنے آپ کو ڈھال لیں۔

    مہم جو اور محققین کو اسی طرح کی صورتحال زحل کے چاند انسیلیڈس پر بھی ملے گی جہاں زیر سطح سمندر جنوبی قطب کی طرف لگتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انجنیئروں کو پہلے دباؤ والا گنبد کھڑا کرنا پڑے تاکہ کسی بھی واقعہ میں ابلتے ہوئے پانی کو خلاء میں فرار ہونے سے روکا جا سکے۔ اس کے بعد انہیں ایک برف کی پرت میں سے سرنگ سی بنانا ہوگی۔ جب وقت مناسب ہو، تو وہ اپنی آب دوز کو اس میں اتار کر انتہائی تربیت یافتہ عملے کو اجنبی سمندر کے گہرائی میں اتار سکیں۔

    سیارہ –چاند ٹائٹن ایک انتہائی منفرد ماحول اترنے کے منفرد چیلنج کے ساتھ موجود ہے۔ اس کی کثیف اور وسیع کرۂ فضائی کی وجہ سے داخل ہونے کے بعد سطح پر اترنے میں 3گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ مریخ میں ہمارے جانے پہچانے خلائی روبوٹ مثلاً اپرچو نٹی اور کیوریوسٹی نے اترنے میں صرف 7 منٹ کا وقت لیا تھا۔ ٹائٹن پر اترنا کافی آسان ہے۔ جب ہائیگنز کھوجی نے پیراشوٹ کو کھولا تھا، تو وہ بہت ہلکا ہو کر اچھلا تھا ۔ یہاں تک کہ اگر اس کا آخری پیراشوٹ بھی دھوکہ دیتا تو بھی شاید وہ اپنے آپ کو اتنا آہستہ کر لیتا کہ بچ جاتا اس کی سادی وجہ کثیف ہوا اور کم قوّت ثقل ہے۔ 


    خاکہ 10.9دوسرے جہاں میں لاوا کی سرنگوں والے غار تابکاری سے بچاؤ کے لئے پناہ گاہیں مہیا کر سکتے ہیں۔ بائیں سے دائیں: زمین، چاند، مریخ اور آئی او کا امیرانی لاوا کے میدان جن کو غار بنانے والے پاہو ہو کی طرح سمجھا جاتا ہے۔

    نظام شمسی کے درمیانی حجم کے مہتابوں پر اترنے میں کم توانائی درکار ہوگی۔ اس حجم کے تمام مہتابوں کی کمیت کم اور قوّت ثقل ہلکی ہے۔ ایندھن کے نقطہ نظر سے وہ دوسری جگہوں کے مقابلے میں آسان ہدف ہوں گے۔ تاہم ان کے عجیب کم کشش ثقل ماحول کی وجہ سے ہم نہیں جانتے کہ ان کی سطح پر کس قسم کی صورتحال ہوگی۔ انسیلیڈس کے اچھے معیار کی تصاویر میں چشموں کے گرد روئیں دار سطح دکھائی دیتی ہے جہاں پر باریک برف اترنے میں مسئلہ کر سکتی ہے۔

    یہاں تک کہ ضخیم کیلسٹو پر بھی کچھ ڈھلانوں پر سفوف جیسی چیزیں ملتی ہیں جو اترنے کے وقت میں مشکلات پیدا کرے گی (اس مشکل کو چاند پر اترنے والے پائلٹ سے معلوم کریں)۔ مہین مٹی کافی تعداد میں کافی چھوٹے مہتابوں پر جمع ہو گئی ہوگی۔ دوسری طرف کیسینی نے آئیاپیٹس، فیبی، ڈائی اونی اور دوسرے درمیانی حجم کے مہتابوں کی ڈھلانوں پر گول پتھر بھی دیکھے ہیں۔ یورینس کی ایریل کی گھاٹی کی دیواروں پر بھی تودوں کے گرنے کے نشانات کے ثبوت وادی کے فرش پر بہنے والے مادّہ کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ ناہموار میدانی دھول ہو سکتی ہے جس سے اترتے وقت تو بچنا ہی بہتر ہے۔ ٹائیٹینا اور مرنڈا کے اوپر شہابی گڑھوں کے خستہ کنارے اور شگاف مزید چٹانی سطح کا پتا دیتے ہیں (باوجود اس حقیقت کہ یہ چٹانیں منجمد پانی سے بنی ہیں)۔

    کچھ سیارچوں کے خاصے علاقہ دوسروں کی نسبت سے زیادہ بند ہیں۔ کیسینی نے زحل کے درمیانی حجم کے کافی مہتابوں پر ایک نمونے کو دریافت کیا ہے - ایک کھونٹے کی طرح کی شکل کے مادّوں کے علاقے استواء کے گرد موجود ہیں جو درجہ حرارت کو اپنی ارد گرد کے مقابلے میں زیادہ دیر سے تبدیل کرتے ہیں۔ سائنس دان سمجھتے ہیں کہ زحل کے چاندوں پر پیک مین حرارتی شکل کی وجہ بلند توانائی کے حامل الیکٹران کی بمباری ہے جو چاند کے نصف کرہ کے کم طول بلد والے اس حصّے پر برستے ہیں جو زحل کی طرف اپنا رخ کرکے اس کا چکر کاٹتا ہے۔ الیکٹران کا جھمگٹ سفوف نما سطح کو سخت جڑی ہوئی برف میں بدل دیتا ہے۔ نتیجتاً تبدیل شدہ سطح سورج کی روشنی سے تیزی سے گرم یا رات میں باقی سطح کی نسبت جلدی ٹھنڈی نہیں ہوتی۔ میماس اور تیتھس دونوں میں ایک جیسے نمونے پائے گئے ہیں جو بلند توانائی کے الیکٹران کی برفیلے چاند کی سطح کو ڈرامائی انداز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کو بیان کرتے ہیں۔ کون سی زمین اترنے کے لئے سب سے بہترین ہوگی اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ انسانی پیمانے پر ہمارے پاس ابھی اتنی تفصیلات موجود نہیں ہیں کہ یہ بتا سکیں کہ درمیانی حجم کے مہتابوں پر اترنے کے کیا خطرات موجود ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: پہلا نزول - حصّہ سوم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top