Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 27 جون، 2016

    منتظر دیوہیکل جہاں




    زحل کے حلقوں کی تصویر کو دیکھتے ہوئے کیسینی کی کیرولن پورکو تبصرے کرتی ہیں، " کبھی میں مایوس ہو جاتی ہوں تو میں اس طرح کی تصویر کو دیکھ کر سوچتی ہوں ،'یا اللہ، میں صرف وہاں جانا چاہتی ہوں!'" خلائی کھوج اطلاعات کو وہاں سے بھیجنے سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔ یہ تحریک دینے والی ہے۔ یہ بھڑکانے والی ہے۔ برفیلے مہتابوں کے ماہر ٹل مین ڈینک اپنے کام میں ایک عمیق مقصد دیکھتے ہیں۔ "میرے مطابق، نظام شمسی کی کھوج ایک ثقافتی کامیابی ہے، اور کوئی بھی کوشش جو "خشک علم کی تلاش" کے لئے کی جا رہی ہوگی اس کو عام آدمی نہ صرف سراہے گا بلکہ ہمارے کام کی گہرائی کو بھی سمجھے گا۔"

    کافی لوگ ٹلمین ڈینک کے خیال سے متفق ہیں۔ نئی دنیاؤں کی کھوج کے بارے میں کچھ اہم چیزیں ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے اور لوگوں کی انتہائی قابلیت کو جانچنے کے لئے نظر آتی ہیں ۔ ہزار ہا لوگوں کی قربانی کے بعد بنی نوع انسان دیوہیکل سیاروں میں بطور انسانی نمائندے کے جا سکی ہے۔ بہت سارے لوگوں کے خیال میں خلائی کھوج انسانی عمل کا سب سے مثبت پہلو ہے۔ وہ لوگ جن کے سر نیزے کی انیوں پر موجود ہیں ، وہ لوگ جنہوں نے دیوہیکل سیاروں سے آنکھ سے آنکھ ملانے کی ہمت کی وہ پوری دنیا میں منصوبے بنا رہے ہیں خواب دیکھ رہے ہیں اور سخت محنت کر رہے ہیں۔ بیرونی دیوہیکل سیاروں کی سلطنت میں جانا ایک لمبا سفر ہے تاہم ایک دن حیاتیاتی سائنس ، راکٹ کو دھکیلنے کی ٹیکنالوجی، ہماری سیاروی ارضیات کے علم میں جدت اور لمبے عرصے تک برفیلے جہاں کے ماحول میں ٹھکانہ بنانے کی ٹیکنالوجی کے ساتھ بنی نوع انسان کی آمد بالآخر بیرونی جہاں میں ہو جائے گی۔ ایک نیا جہاں ہمارا منتظر ہے۔


    اعداد کی قدیمی کتاب میں ، ایک جگہ لکھا ہے، " اور وہاں ہم نے دیوہیکلوں کو دیکھا، اناک کے بیٹے، جو دیوہیکلوں کے پاس سے آئے تھے اور ہم ان کی نظر اور اپنی نظر میں بھی ٹڈے جیسا ہو گئے تھے ۔" [1]


    جب ہم دیوہیکل جہانوں کے سامنے کھڑے ہوں تو ہمیں حلیم و بردبار ہونا چاہئے۔ زبردست طاقت، شاہانہ خوبصورتی، دہلا دینے والے طوفان، غضبناک تابکاری، نفیس قطبی روشنیاں اور مہتابوں کے وسیع نظام کے ساتھ بیرونی دیوہیکل سیارے ان تمام چیزوں کو چھوٹا کر دیتے ہیں جو ہم ارضیاتی سلطنت میں دیکھتے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں ان سے ہی آگے بڑھنے کی تحریک کھوجنے کی جستجو اپنے ٹیکنالوجی کو بہتر کرنے کی ترغیب اپنا اثر نئے جہانوں میں بطور نوع ڈالنے کا جذبہ ملتا ہے ۔ نتیجتاً ان دیوہیکل سیاروں سے تحریک پانے والی ٹیکنالوجی زمین پر ہمارا معیار زندگی بڑھاتی ہے اور میتھین، ہائیڈروجن اور برف کے بیابان ہماری ثقافت، ہمارے معاشرے، ہمارے فن اور ہمارے طرز فکر کو بتاتے ہیں۔ یہ ہماری حیات کو ثمر آور کرتے ہیں اور یہ ایسا کرنا مزید گہرائی کے ساتھ جاری رکھیں گے - جب ہم ان کے دیس میں رہنے کی مہم جوئی کریں گے۔








    [1] اعداد 13:33 بادشاہ جمیز کی مقدس انجیل۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: منتظر دیوہیکل جہاں Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top