Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ، 9 جولائی، 2016

    کبیر و صغیر جہاں

    کبیر و صغیر (The large and the small)



    حقیقی زندگی میں چیزیں فرسودہ ہوتی ہیں اور وقت کی ایک سمت ہوتی ہے۔ تاہم نیوٹن اور ان کے بعد کے جانشینوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق قدرت میں وقت کو محسوس کرنے کی کوئی جبلی حس موجود نہیں ہے۔ مثال کے طور پر وہ مساوات جو سورج کے گرد مدار میں زمین کی حرکت کو بیان کرتی ہے وہ بھی وقتی تشاکل ہے۔ یہ آگے کی طرف بعینہ ایسے ہی کام کرتی ہیں جیسے کہ پیچھے کی طرف۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک خلائی جہاز زمین سے کافی اوپر خلاء میں سورج اور دوسرے سیاروں کی سطح سے کافی دور روانہ ہوتا ہے، اور یہ سورج کے گرد سیاروں کا چکر، اور سیاروں کے گرد چاند کے چکر لگانے کی فلم بناتا ہے، اور یہ تمام اجسام اپنے محور کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اگر ایسی کوئی فلم بنی اور اس کو پروجیکٹر پر الٹا چلایا گیا تب بھی یہ مکمل طور پر قدرتی ہی لگے گی۔ سیارے اور چاند تمام کے تمام اپنے مدار میں الٹی سمت چکر لگا رہے ہوں گے، اور اپنے محور کے گرد وہ الٹا گھوم رہے ہوں گے، قوانین طبیعیات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اس پر قدغن لگا سکے۔ اس کو کس طرح وقت کی سمت کے تصور کے ساتھ حتمی طور پر فرض کیا جا سکتا ہے؟ 

    شاید یہ بہتر ہے کہ معمے کی طرف اشارہ گھر سے نزدیک کسی چیز کی طرف دیکھ کر کیا جائے۔ ایک ٹینس کے کھلاڑی کے بارے میں سوچیں، جو کھڑا رہ کر ٹینس کی گیند کو زمین پر متواتر اپنے ریکٹ سے اچھال رہا ہے۔ ایک مرتبہ پھر اگر ہم اس کی فلم بنائیں اور اس کو الٹا چلائیں تو یہ عجیب نہیں لگے گی۔ گیند کا اچھلنا الٹا یا وقتی عدم تشاکلی ہے۔ لیکن اب ایک شخص کا تصوّر کریں جو روشنی کا الاؤ جلا رہا ہے۔ وہ شروعات کسی صاف تہ ہوئے اخبار کے ساتھ کر سکتا ہے، جو مختلف صفحات پر مشتمل مڑی ہوئی ایک دوسرے پر رکھی ہوئی ہو سکتے ہیں۔ اس ڈھیر میں لکڑی کے ٹکڑے بھی شامل کئے جا سکتے ہیں، ایک جلتی ہوئی تیلی کو اس کو دکھانا ہے اور اس نے آگ کو پکڑنا ہے۔ اگر اس منظر نامے کو فلم پر درج کیا جائے اور اس کو الٹا چلایا جائے تو کوئی بھی دیکھنے والا شخص فوراً جان لے گا کہ اس میں کچھ گڑ بڑ ہے۔ حقیقی دنیا میں، ہم کبھی ایسا نہیں دیکھتے کہ آگ کے شعلے ہوا سے دھوئیں اور گیس کو لے کر ان کو راکھ سے ملائیں تاکہ مڑے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے بن جائیں جس کو بعد میں انسان بہت احتیاط کے ساتھ ہموار کرکے ایک دوسرے کے اوپر چڑھا دیں۔ الاؤ سازی کا یہ عمل ناقابل الٹ ہے، یہ وقت میں ایک عدم تشاکل کو ظاہر کرتا ہے۔ تو پھر ایک اچھلتی ٹینس کی گیند اور اس میں کیا فرق ہے؟


    خاکہ 1.2 جس طرح سے ہم جوہروں کو گیس میں ایک دوسرے سے ٹکراتے اور اچھلتے تصور کر سکتے ہیں، جو نیوٹن کے قوانین حرکت کا اتباع کرتے ہیں، اس میں کوئی وقت کی سمت نظر نہیں آتی۔ تصویر دونوں طرح سے ہی معقول دکھائی دیتی ہے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم کس سمت سے دیکھ رہے ہیں۔ 

    اچھلتی گیند کے منظر نامے میں ایک اہم چیز یہ ہے کہ ہمیں بڑھتی ہوئی ناکارگی کے ناگزیر اثر کو دیکھنے کے لئے کافی زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ اگر ہم کافی زیادہ انتظار کرتے، تو ٹینس کی گیند سے خراب ہونے سے کہیں پہلے بالآخر ٹینس کا کھلاڑی بوڑھا ہو کر مر جاتا (بلکہ میں نے تو اس مثال میں ٹینس کے کھلاڑی کی حیاتیاتی کھانے اور پینے کی احتیاج کو بھی مد نظر نہیں رکھا )۔ سورج کے گرد مدار میں چکر لگانے والے سیاروں کی مثال بھی حقیقت میں ناقابل الٹ نہیں ہے۔ بہت لمبے عرصے بعد (ارب ہا برس بعد) سیاروں کے مدار مدوجزر کے اثر سے تبدیل ہو جائیں گے۔ مثال کے طور پر زمین کی محوری گردش آہستہ ہو جائے گی جبکہ چاند اپنے مرکزی سیارے سے مزید دور چلا جائے گا۔ کوئی بھی طبیعیات دان جو انتہائی نازک و درست ناپنے والے آلے سے لیس ہو وہ بہت ہی چھوٹی فلم کے ذریعہ بھی ان اثرات کا سراغ لگا سکتا ہے اور وقت کی سمت کا نتیجہ نکال سکتا ہے۔ یہ سمت ہمیشہ جہاں کبیر میں موجود رہتی ہے۔

    تاہم جہاں صغیر کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اسکول میں ہم پڑھتے تھے کہ ہماری روزمرہ کی چیزوں کو بنانے والے جوہر اصل میں سخت گیندوں کی طرح ہیں، جو اچھلتی ہوئی ایک دوسرے کو دھکا دیتی ہوئی انتہائی درستگی کے ساتھ نیوٹن کے قوانین کا اتباع کرتی ہیں۔ نہ تو قوانین میکانیات میں اور نہ ہی برقی مقناطیسیت میں کوئی خلقی وقت کی سمت موجود ہے۔ طبیعیات دان اس مظہر قدرت کے بارے میں سوچنے کے لئے یہ تصور کرتے ہیں کہ ایک ڈبے میں گیس بھری ہوئی ہے اور ان حالات کے تحت جوہر واضح طور پر ایک دوسرے پر اچھلتی گیندوں کی طرح کا برتاؤ کرتے ہیں۔ جب دو ایسے کرے جو مختلف سمت میں حرکت کر رہے ہوں اور آپس میں مل کر ایک دوسرے سے ٹکرائیں، تو وہ ایک نئی سمت میں اچھلنے لگتے ہیں، نئی رفتار کے ساتھ از روئے قوانین نیوٹن؛ اور اگر وقت کی سمت الٹ ڈی جائے تو الٹ کر ہونے والے ٹکراؤ بھی نیوٹن کے قوانین ہی کا اتباع کریں گے ۔ یہ کچھ دلچسپ پہیلیوں کو جنم دیتا ہے۔

    اس (خیالی تجربے ) کی مدد سے حر حرکیات کے دوسرے قانون کو سمجھانے کے لئے ایک معیاری طریقہ یہ ہے کہ اس کو دو حصوں میں بانٹ لیا جائے۔ فرض کریں کہ ایک حصّے میں گیس بھری ہوئی ہے جبکہ دوسرا خالی ہے (یہ صرف 'خیالی' تجربہ ہے؛ ہمیں اصل میں اس تجربے کو کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس کے آخر میں کیا ہوگا۔ جب رکاوٹ کو دور کیا جائے گا، تو گیس جس آدھے حصّے میں بھری ہوگی وہاں سے نکل کر پورے ڈبے میں بھر جائے گی۔ نظام کم منظم ہو جائے گا، اس کا درجہ حرارت گر جائے گا اور ناکارگی بڑھ جائے گی۔ ایک مرتبہ جب گیس اس حالت میں ہو جائے گی تو وہ خود سے اپنے آپ کو دوبارہ سے ایسے منظم نہیں کر سکے گی جس میں وہ ایک حصّے میں واپس چلی جائے اور ہم رکاوٹ کو دوبارہ لگا کر اصل صورتحال کو واپس لے آئیں۔ اس میں کم ہوتی ناکارگی ملوث ہوگی۔ پیمانہ کبیر پر ہمیں معلوم ہے کہ رکاوٹ کو ہاتھ میں لئے ڈبے کے اوپر کھڑا رہنا اور اس بات کا انتظار کرنا کہ کوئی ایسا موقع ملے گا جب تمام گیس ایک حصّے میں جمع ہوگی فضول ہے۔

    خاکہ 1.3 تاہم ہم جب ایک ڈبے میں موجود گیس کے بہت بڑی تعداد میں جوہروں کا برتاؤ دیکھتے ہیں، تو وقت کی عدم تشاکل کو دیکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ جب ڈبے میں سے رکاوٹ کو دور کیا جائے گا، تو گیس نکل کر پورے ڈبے میں پھیل جائے گی۔ ہم آسانی کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ کون سی صورتحال پہلے کی ہے اور کون سی بعد کی، اس کے لئے ہمیں خاکہ پر سرخی یا تیر کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس بات کی توضیح یہ ہے کہ نیوٹن کے قوانین جوہروں کے درمیان ہونے والے تصادموں کی پوری کہانی کو بیان نہیں کرتے۔ 

    تاہم اب چیزوں کو خرد پیمانے پر دیکھیں۔ آدھے ڈبے سے گیس کے جوہر نکلتے ہوئے جس راستے کو اختیار کرتے ہیں - خط پرواز - وہ نیوٹن کے قانون کا اتباع کرتے ہیں، اور اس راستے میں ہونے والے تمام جوہروں کے تصادم اصولی طور پر قابل الٹ ہیں۔ ہم ایک جادو کی چھڑی کا تصور کر سکتے ہیں، جب گیس ڈبے میں یکسانیت کے ساتھ بھر جائے گی اور ہر انفرادی جوہر کی حرکت کو الٹ دیا جائے گا۔ بلاشبہ ان تمام کے خط پرواز سے سراغ لگایا جائے گا جہاں سے وہ آئے تھے، اور ان سب کو واپس آدھے ڈبے میں ڈال دیا جائے گا؟ کیسے ہو سکتا ہے کہ پیمانہ صغیر کے قابل الٹ واقعات کے بے عیب مجموعے اس بات پر متفق ہوں کہ پیمانہ کبیر پر بھی قابل الٹ واقعات کا ظہور ہو جائے؟

    اس بات کو سمجھنے کے لئے ایک اور دوسرا راستہ بھی موجود ہے۔ انیسویں صدی میں، فرانسیسی طبیعیات دان ہنری پون کیئر نے دکھایا کہ اس طرح کی مثالی گیس جو ایک ڈبے میں بند ہو، اس دیوار سے جہاں سے جوہر بغیر توانائی کو ضائع کئے ٹکراتے ہیں، لازمی طور پر ہر ممکنہ حالت سے گزرنا ہوگا جو بقائے توانائی کے قانون سے ہم آہنگ ہوگی یعنی کہ حر حرکیات کا پہلا قانون۔ڈبے میں جوہروں کی ہر ترتیب کو جلد یا بدیر وقوع پذیر ہونا ہوگا۔ اگر ہم کافی وقت تک انتظار کریں، تو ڈبے کے اندر اٹکل پچو حرکت کرنے والے جوہر بالآخر ایک جگہ جمع ہو جائیں گے، یا شاید کسی بھی دوسری منظور حالت میں جا سکتے ہیں۔ اگر ہم اس کو دوسرے طریقے سے رکھیں، تو اگر ہم کافی انتظار کریں گے تو پورا نظام لازمی طور پر دوبارہ اس نقطہ پر آ جائے گا جہاں سے اس نے شروع کیا تھا۔

    'کافی ہے'، بہرحال یہاں استعمال ہونے والی ایک اہم اصطلاح ہے۔ ایک گیس کا چھوٹا ڈبہ شاید کچھ 10^22 جوہر (یعنی 1 کے بعد 22 صفر) رکھتا ہے، اور وہ وقت جس میں وہ واپس اپنی پرانی حالت میں پہنچ جائیں شاید وہ کائنات کی عمر سے کئی گنا زیادہ ہوگا۔ جیسا کہ آج کل اس کو پون کیئر وقتی چکر کے نام سے جانا جاتا ہے اس میں عام طور پر اتنے صفر موجود ہوتے ہیں جن کی تعداد ان ستاروں سے کہیں زیادہ ہے جو آج کائنات میں موجود تمام معلوم کہکشاؤں میں ہے، یہ عدد اس قدر بڑا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ آپ گنتی سیکنڈ میں کر رہے ہیں یا منٹ میں یا پھر برسوں میں۔ اس کو ایک دوسری طرح سے دیکھیں تو یہ بڑے عدد کسی بھی مخصوص حالت کے اتفاق سے کسی بھی سیکنڈ یا گھنٹے یا برس میں وقوع پذیر ہونے کے لئے عجیب ہوں گے کہ آپ اتفاق سے ڈبے میں موجود گیس کو دیکھیں۔

    اس سے ہمیں ایک معیاری 'جواب' اس معمے کا ملتا ہے کہ کس طرح سے ایک جہاں پیمانے صغیر پر قابل الٹ ہوتا ہے وہ پیمانہ کبیر پر ناقابل الٹ ہو جاتا ہے۔ قابل الٹ ہونا بقول روایتوں کے لئے ایک دھوکہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی ناکارگی ایک شماریاتی قانون ہے، اس طرح سے کہ ناکارگی میں کمی اس قدر مخصوص طور پر ممنوع نہیں ہے جتنا کہ اس کا بعید از قیاس ہونا۔ اس تشریح کی رو سے اگر ہم نیم گرم کافی کے گرم کو طویل عرصے تک دیکھیں تو یہ حقیقت میں اچانک سے ایک برف کا ٹکڑا پیدا کر دے گی جبکہ آس پاس کا مائع گرم ہو جائے گا۔ اس طرح کے کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے کے لئے درکار وقت اس قدر زیادہ ہے کہ وہ کائنات کی عمر سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، لہٰذا عملی طور پر ہم اس امکان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بطور قدرت کے مطلق قانون کے بجائے بڑھتی ہوئی ناکارگی کے اس اصول کی تشریح کو حال میں للکارا گیا ہے۔ لیکن اس للکار سے بہت پہلے، امکانی تشریح ہمیں ایک کائنات کے موجودہ معلوم ماخذ کے بارے میں ایک عجیب نظریئے اور وقت کی سمت کے پاس لے گئی تھی - ایک نظریہ جو اتنا شاندار ہے کہ اس کے تجسس کو بیان کرتا ہے، اگرچہ، اس کو اب زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کبیر و صغیر جہاں Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top