Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    اتوار, جولائی 17, 2016

    آئن سٹائن کے عدسے اور چھلے




    کائنات کو جاننے کا ایک اور طاقتور آلہ ثقلی عدسے اور آئن سٹائن کے چھلے ہیں۔ 1801ء میں برلن کے فلکیات دان جوہان جارج وان سولڈنر اس قابل ہوا کہ سورج کی روشنی کی وجہ سے ستاروں کی روشنی پر پڑنے والے خم کا ناپ سکے۔ (اگرچہ سولڈنر نے سختی کے ساتھ نیوٹنی قوانین کا استعمال کیا تھا لہٰذا اس کے نتائج میں غلطیوں کا اندیشہ دوگنا تھا۔ آئن سٹائن لکھتا ہے، "آدھے سے زیادہ خم تو نیوٹن کے سورج کے ثقلی میدانوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں، جبکہ دوسرے خلاء کی جیومیٹری کی صورت میں سورج کی ہونے والی تبدیلی ['خم'] کی وجہ سے تھے۔")

    1912ء میں عمومی اضافیت کو مکمل کرنے سے پہلے آئن سٹائن نے اس خم کے استعمال کا بطور عدسے کا تصوّر پیش کیا تھا بعینہ جیسے آپ کی عینک کے عدسے روشنی کو آپ کی آنکھ تک پہنچنے سے پہلے موڑ دیتے ہیں۔ 1936ء میں ایک چک انجنیئر روڈی منڈل نے آئن سٹائن کو لکھا اور پوچھا آیا کہ ثقلی عدسے قریبی ستارے کی روشنی کو بڑھا سکتے ہیں۔ جواب ہاں میں تھا تاہم یہ اس کا سراغ لگانا اس وقت کے ٹیکنالوجی کے بس کی بات نہیں تھی۔

    بالخصوص آئن سٹائن کو اس بات کا احساس ہوگا تھا کہ آپ بصری سراب دیکھیں گے ، مثلاً ایک ہی جسم کی دو تصویریں ، یا چھلے کی طرح روشنی کا بگاڑ ۔دور دراز سے آنے والی کہکشاں سے روشنی سورج کے پاس سے گزرتے وقت دائیں اور بائیں جانب سے گزرتے ہوئے دوبارہ مل کر ہماری آنکھوں تک پہنچے گی۔ جب ہم دور دراز کی کہکشاں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں چھلے جیسا نمونہ ملتا ہے ایک اضافیت کے سراب کی وجہ سے بنتا ہے۔ آئن سٹائن نے نتیجہ اخذ کیا کہ " اس مظہر کو براہ راست نہیں دیکھا جا سکتا۔" اصل میں اس نے لکھا کہ "اس کام کی اہمیت بہت کم ہے، تاہم یہ اس غریب لڑکے [منڈل] کو خوش کرے گا۔" چالیس برس بعد ١٩٧٩ء میں اس مظہر کا پہلا جزوی ثبوت انگلینڈ کی جورڈل بینک رصدگاہ کے ڈینس والش کو حاصل ہوا جنہوں نے دہرےکوزار Q0957+561 کو دریافت کیا ۔1988ء میں پہلا آئن سٹائن کا چھلا ایک ریڈیائی منبع MG1131+0456 سے مشاہدہ کیاگیا۔ ١٩٩٧ء میں ہبل خلائی دوربین اور یو کے کی مارلن ریڈیائی دوربینی قطار نے پہلا مکمل آئن سٹائن کا چھلا ایک دور دراز کی کہکشاں 1938+666 میں دیکھتے ہوئے آئن سٹائن کے نظریئے کی ایک مرتبہ پھر تصدیق کردی۔ (چھلا کافی چھوٹا تھا یوں سمجھ لیں کہ دو میل دور سے کسی سکے کو دیکھنا۔) ماہرین فلکیات اس تاریخی واقعہ کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنا جوش و خروش بیان کرتے ہیں: " پہلی نظر میں، یہ مصنوعی لگتا تھا تاہم بعد میں احساس ہوا کہ ہم آئن سٹائن کا ایک مکمل چھلا دیکھ رہے ہیں!" یونیورسٹی آف مانچسٹر کے آئین براؤن کہتے ہیں۔

    آج آئن سٹائن کے چھلے فلکی طبیعیات کے ہتھیاروں میں سے ایک ہیں۔ لگ بھگ چونسٹھ دہرے ، تہرے اور کثیر کوزار (آئن سٹائن کے عدسوں کی وجہ سے بننے والے سراب) بیرونی خلاء میں دیکھے جا چکے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ہر پانچ سو کوزار میں سے ایک ایسا دیکھا گیا۔ یہاں تک کہ غیر مرئی مادّے کی شکل مثلاً تاریک مادّہ کو بھی اس کی وجہ سے روشنی کی موجوں میں پڑنے والے خلل کی چھان بین کرکے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح سے ہمیں کائنات میں تاریک مادّے کی تقسیم کا "نقشہ" حاصل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ آئن سٹائن عدسے کی وجہ سے پڑنے والا خلل کہکشانی جتھوں کو (بجائے چھلے کے ) بڑے قوس کی طرح دکھاتا ہے لہٰذا ان جتھوں میں موجود مرتکز تاریک مادّے کا اندازہ لگانا ممکن ہے۔ 1986ء میں پہلی عظیم الجثہ کہکشانی قوس نیشنل آپٹیکل ایسٹرو نومی آبزر ویٹری ، اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور میدی پیرینیث آبزر ویٹری فرانس کے ماہرین فلکیات نے سب سے ڈرامائی جھرمٹ آبیل 2218 میں دیکھی۔ 

    آئن سٹائن کے عدسے کو کائنات میں موجود ماچو کی مقدار( جو عام مادّے مثلاً مردہ ستارے، بھورے بونے ستارے اور گرد کے بادل پر مشتمل ہیں) کو ناپنے کے لئے بھی بطور الگ طریقے کے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ 1986ء میں پرنسٹن کے بوہدان پیکزنسکی کو احساس ہوا کہ اگر ماچو کسی ستارے کے سامنے سے گزرے گا تو وہ اس کی روشنی میں اضافہ کرتے ہوئے اس کی دوسری تصویر بنا دے گا۔ 

    1990ء کی ابتدائی دہائی میں مختلف سائنس دانوں کی ٹیموں (مثلاً فرانس کی ایروس، امریکی آسٹریلیوی ماچو اور پولینڈ امریکی اوگل ) میں ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں اس طریقہ کا اطلاق کیا اور پانچ سو سے زائد خرد عدسے والے واقعات کو پایا (یہ امید سے کہیں زیادہ بڑھ کر تھا کیونکہ اس میں سے کچھ مادّہ تو کم کمیت والے ستاروں پر مشتمل تھا اور وہ اصل ماچو نہیں تھے۔ )یہی طریقہ دوسرے ستاروں کے گرد ماورائے شمسی سیاروں کو ڈھونڈنے کے لئے استعمال ہو سکتا ہے۔ کیونکہ سیارے کم تاہم قابل سراغ ثقلی اثر اپنے مرکزی ستارے پر ڈالتے ہیں، آئن سٹائن کا عدسہ اصولی طور پر ان کا سراغ لگانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کو استعمال کرکے پہلے ہی کافی ماورائے شمسی سیاروں کے امیدواروں کا سراغ لگایا جا چکا ہے۔ ان میں سے کچھ تو ملکی وے کہکشاں کے قلب میں ہی واقع ہیں۔

    یہاں تک کہ ہبل کا مستقل اور کونیاتی مستقل کو بھی آئن سٹائن کے عدسے کے ذریعہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ہبل کا مستقل لطیف مشاہدہ کرکے ناپا جا سکتا ہے۔ کوزار وقت کے ساتھ روشن اور مدھم ہوتے ہیں کوئی بھی یہ امید کر سکتا ہے کہ دہرا کوزار جو ایک ہی جسم کی دو تصویریں ہوتی ہیں ایک ہی شرح سے جھولتا رہے گا۔ درحقیقت ان جڑواں کوزاروں کو ہم آہنگی کے ساتھ جھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مادّہ کی معلوم تقسیم کے ساتھ فلکیات دان وقت میں تاخیر کو اس کے زمین تک کے پہنچنے کے کل وقت سے تقسیم کرکے نکال لیتے ہیں ۔ دہرے کوزار کے روشن ہونے کے وقت میں تاخیر کو ناپ کر کوئی بھی اس کا زمین سے فاصلہ ناپ سکتا ہے۔ اس کی سرخ منتقلی کا معلوم کرنے کے بعد کوئی بھی ہبل کا مستقل معلوم کر سکتا ہے۔ (اس طریقہ کا اطلاق کوزار Q0957+561 پر کیا گیا جو زمین سے لگ بھگ ١٤ ارب نوری برس دور ہے۔ تب سے ہبل کے مستقل کو دوسرے 7 کوزاروں کی جانچ کرنے کے بعد معلوم کیا گیا ہے۔ غلطی کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ اعداد و شمار معلوم نتائج کے مطابق ہیں۔ اصل دلچسپی کی بات یہ ہے کہ یہ طریقہ ستاروں کی روشنی پر انحصار نہیں کرتا جیسا کہ قیقاؤسی اور جماعت Ia کے سپرنووا اس طرح سے ان سے ایک آزادانہ طور پر نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے۔)

    کونیاتی مستقل جو ہماری کائنات کے مستقبل کا راز اپنے سینے میں دفن کئے ہوئے ہے اس طریقہ کی مدد سے ناپا جا سکتا ہے۔ اس سے لگائے گئے حساب کافی خام ہیں تاہم یہ دوسرے طریقوں سے میل کھاتا ہے۔ کیونکہ کائنات کی تمام مقدار آج سے ارب ہا برس پہلے کم تھی لہٰذا آئن سٹائن کے چھلوں کو بناتے ہوئے کوزار کو ڈھونڈنے کا امکان ماضی میں کافی زیادہ ہے۔ اس طرح سے دہرے کوزار کی تعداد کو کائنات کے ارتقاء کے مختلف وقتوں میں ناپ کر کوئی بھی کائنات کی کل مقدار کو ناپ سکتا ہے اور اس طرح سے کونیاتی مستقل کو بھی جو کائنات کے پھیلاؤ کا سراغ لگانے میں مدد کرتا ہے۔ 1998ء میں ہارورڈ اسمتھ سونین سینٹر فار ایسٹروفزکس کے خلاء نوردوں نے پہلی مرتبہ کونیاتی مستقبل کا خام اندازہ لگایا اور نتیجہ نکالا کہ شایدکائنات کا کل مادّہ/ توانائی 62 فیصد سے زیادہ نہیں ہے (ڈبلیو میپ سے حاصل کردہ نتائج 73 فیصد بتاتے ہیں)۔ 
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: آئن سٹائن کے عدسے اور چھلے Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top