Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    اتوار, جولائی 17, 2016

    مشتری زمین کا محافظ



    مشتری ایک کونیاتی دیو ہے جو نظام شمسی کے دوسرے سیاروں پر حکمرانی کر رہا ہے۔ اگر سورج نظام شمسی کا بادشاہ ہے تو مشتری اس کا وزیر اعظم ہے۔ مشتری جیسے عظیم سیارے کے حجم کے بارے میں اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے سیارہ زمین جیسے ایک ہزار سیارے اس میں سما سکتے ہیں ۔ اس کے گردابی بادلوں کے نیچے ہمارے نظام شمسی کی ابتداء اور سیارہ ارض کے عہد طفلی و عہد شباب کے ادوار کے راز دفن ہیں ۔ نظام شمسی کا جب سب سے عظیم سیارہ اتنی دور نہایت تیزی سے حرکت میں آتا ہے تو اس کے آ س پاس کی ہر چیز تبدیل ہو جاتی ہے اور شاید اسی سے حیات کی ابتداء ہوتی ہے۔ 



    نظام شمسی میں بالعموم اور کرۂ ارض کے لئے بالخصوص مشتری کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ مشتری کی اہمیت کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر مشتری نہ ہوتا تو جس جگہ جہاں آپ ابھی بیٹھے ہیں ایک دیوہیکل شہابی گڑھا موجود ہوتا۔ اب سائنس دان اس قوی ہیکل سیارے کو خصوصی توجہ دے کر اس کی گتھیاں سلجھا رہے ہیں جس نے ہمارے نظام شمسی کا ماضی ، حال اور مستقبل بنانا ہے۔ مشتری کے بغیر ہم میں سے کوئی یہاں موجود نہیں ہوتا۔


    مشتری کا نام رومی دیوتاؤں کے بادشاہ - آسمانی دیوتا کے نام پر رکھا گیا۔ یہ آسمان پر چار چٹانی سیاروں اور تین جمے ہوئے گیسی دیو کے درمیان نمودار ہوتا ہے۔ ابھی تک یہ ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ مشتری کیونکہ تمام سیاروں سے سب سے زیادہ بڑا ہے لہٰذا اس کو ہم سیاروں کا بادشاہ کہہ سکتے ہیں۔ اس کی سطح پر برپا ہونے والے طوفان اس قدر عظیم ہیں کے ان میں کرۂ ارض جیسے چار سیارے سما جائیں اور یہ طوفان اس کی سطح پر سینکڑوں سال سے یوں ہی جاری و ساری اور غضبناکی ڈھا رہے ہیں۔ اس کے درجنوں مہتاب ہیں اور دیو ہیکل مقناطیسی میدان بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔ اس سے متعلق ہر چیز ہی بہت بڑی ہے۔ یہ کوئی چھوٹی موٹی چیز تو کرتا ہے نہیں ہے۔


    اگر کوئی ہمارے نظام شمسی کو دور خلاء کی بے کراں گہرائیوں سے دیکھے گا تو اس کو سورج ، مشتری اور کچھ روڑے ہی نظر آئیں گے۔ یہ وسیع سیارہ ہمارے نظام شمسی کی بنیاد ، اس کے ارتقاء اور اس کے انجام کی معلومات دبائے بیٹھا ہے۔ مشتری ایک کونیاتی ٹائم کیپسول ہے جس کو شاید کبھی ہم کھول کر دیکھ سکیں۔ رومی دیومالائی کہانیوں میں مشتری دیوتا اپنے ارد گرد بادلوں کا حجاب جمع کر لیتا ہے تاکہ اس کی بدمعاشیاں اس میں چھپ جائیں اور کچھ اسی طرح سے جب ہم سیارے مشتری پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اس کو پاتے ہیں ۔ ہم اس کی سطح نہیں دیکھتے بلکہ صرف بادلوں کے کناروں کو ہی دیکھ پاتے ہیں۔ گیس کے اس کفن کے پیچھے مشتری کے گہرے راز چھپے ہوئے ہیں۔ 


    سب سے بڑا معمہ یہ ہے کہ مشتری کے قلب میں کیا چیز موجود ہے؟ اس کا قلب کس چیز سے بنا ہے؟ یہ ایک ایسی پہیلی ہے جس کا بالکل ٹھیک جواب ہمیں ابھی تک نہیں معلوم ہے۔ مگر ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس کے اندر ایسی کوئی چیز ضرور موجود ہے جو اس سیارے کو طاقت فراہم کر رہی ہے۔ اگر ہم مزید جاننا چاہتے ہیں کہ سیاروں کے اس بادشاہ کے اندر کیا ہور ہا ہے تو ہمیں اس قابل ہونا ہوگا کہ ہم اس کی سطح پر موجود بادلوں کو چیر کر اندر جھانک سکیں۔

    سادے الفاظ میں ماہر طبیعیات تو اس کی ضخیم آ ب و ہوا کے بارے بتاتے ہیں کہ یہ بہت ہی ڈراونی چیزوں سے بنی ہوئی ہے۔ کیونکہ یہ گیسی دیو ہے لہٰذا اس کے ماحول میں جیسے جیسے اندر کی طرف بڑھیں گے ویسے ویسے یہ کثیف سے کثیف تر ہوتا چلا جائے گا اور دباؤ اونچے سے اونچا ہوتا چلا جائے گا۔ بادلوں کی سطح سے اس کے قلب کا فاصلہ ٤٣ ہزار میل کا ہے۔ یہ اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک جمبو جیٹ تین دنوں میں بغیر رکے طے کر سکے ۔ مگر یہاں اس کے قلب کا سفر ایک انتہائی دشوار گزار اور جہنمی سفر ہوگا۔ ہمیں یہ بات اس لئے معلوم ہے کہ ہم نے اس سفر کو کرنے کی کوشش کی تھی۔


    گلیلیو کھوجی مشتری کے مدار میں اس کے بادلوں اور مہتابوں کا جائزہ لینے کے لئے سالوں چکر لگاتا رہا ہے۔ مگر اپنے اس مشن کے آخر میں ایک اور سائنٹفک تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔٧ دسمبر ١٩٩٥ میں ناسا کے گلیلیو خلائی جہاز نے ایک ٧٥٠ پونڈ کا ٹائٹینیم کا بنا ہوا کھوجی مشتری کے کرۂ فضائی میں داخل کیا ۔ اس کھوجی نے مشتری کے بادلوں کو ١٠٦ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چیرنا شروع کیا ۔ دور سے دیکھنے میں مشتری پرسکون اور انتہائی دوستانہ سیارہ لگتا ہے مگر جب ہم اس کا قریب سے جائزہ لیتے ہیں تو پتا لگتا ہے کہ وہاں غضبناک ہوائیں، گرج چمک کے طوفان اور اتنا دباؤ موجود ہے جو کسی بھی آلے کو کچل سکتا ہے۔ مشتری کی کمیت زمین سے ایک ہزار گنا زیادہ ہے جس کا سادہ سا مطلب ہے کہ جب اس کے اندر کوئی بھی چیز داخل ہوگی تو دباؤ اور کثافت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ کھوجی کے سینسر نے پتا لگایا کہ اس کی فضاء میں ٩٠ فیصد ہائیڈروجن موجود ہے جبکہ درجہ حرارت ٣٠٠ ڈگری تک کا ہے۔ وہاں ہوائیں ٤٠٠ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہیں۔ یہ اتنا گرم اور متلاطم تھا کہ سائنس دانوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ صرف ٥٨ منٹوں کے بعد ٩٥ میل کی دوری طے کرتے ہوئے کھوجی تحلیل ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی اس کے راز بھی ہمارے ہاتھ سے نکل گئے۔


    ہم مشتری کے قلب میں تو نہیں پہنچ سکتے مگر امریکی شہر سان فرانسسکو سے باہر نیشنل اگنیشن فیسلٹی میں سائنس دان مشتری کے قلب میں پائے جانے والے ماحول کو بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ دنیا میں کئی ایسی جگہیں ہیں جہاں ہم زمین یا دوسرے چٹانی سیاروں کے قلب کا ماحول بنا سکتے ہیں مگر یہ وہ واحد جگہ ہے جہاں مشتری کے قلب کا ماحول بنایا جاسکتا ہے۔یہاں پر موجود ٹیم نے مشتری کی سطح پر سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر یعنی ہائیڈروجن لے کر اس کو جما یا اور اس کے بعد اس کی کثافت میں بھی اضافہ کیا ۔ پھر انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی لیزر گن اس پر داغی ۔لیزر کی کافی شعاعیں افزوں گر خانے سے گزرتی ہوئی ایک ہزار کھرب گنا زیادہ طاقتور ہونے کے بعد مکمل مطابقت پزیر ہوتے ہوئے ایک نقطہ پر مرتکز ہوگئیں۔ ایک سیکنڈ کے بیس اربویں حصّے میں لیزر گن نے مرتکز ہائیڈروجن پر ایک ہزار گنا زیادہ توانائی ڈالی ۔ یہ توانائی کی اتنی مقدار تھی جتنی توانائی پورا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کسی ایک لمحے میں استعمال کرتا ہے۔ اس تجربے میں معلوم ہوا کہ اتنے زبردست دباؤ پر ، جو زمین کے دباؤ سے ایک ارب گنا زیادہ دباؤ تھا ، کیمیاء مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ اتنے بلند دباؤ پر کیمیائی بند مسخ نہیں ہوئے بلکہ ان میں موجود ایٹموں نے اپنے برتاؤ کو تبدیل کر دیا تھا ۔ 

    مشتری کے قلب میں موجود مادّہ بنیادی طور پر اس طرح سے بالکل الگ برتاؤ کرتا ہے جیسا کہ ہم زمین پر مادّے کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ مشتری کے قلب میں ٹوٹتے ہوئے ایٹم ہائیڈروجن گیس کو مائع ہائیڈروجن میں تبدیل کر دیتے ہیں جو ایک دھاتی مائع کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔ لازمی طور پر وہاں بہت ہی کثیف بناوٹ ہوگی اور شاید مشتری کے قلب میں یہ دیکھنے میں پارے کی ضخیم گیند سی لگے گی۔ اس زبردست دباؤ پر مائع ہائیڈروجن توانائی کو حرارت کی شکل میں خارج کرتی ہے جس سے اس دھاتی کرۂ کے کناروں پر درجہ حرارت گیارہ ہزار ڈگری تک جا پہنچتا ہے۔ مشتری کے قلب کی گہرائی میں اس ضخیم دھاتی ہائیڈروجن کے اندر کیا ہے یہ اب بھی ایک سربستہ راز ہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس تمام گیس اور تمام دھاتی مائع کے اندر کوئی چھوٹا سا چٹانی سیارہ موجود ہو۔ ہو سکتا ہے کہ وہاں زبردست دبی ہوئی برف کی گیند موجود ہو۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہاں کوئی ٹھوس چیز ضرور ہوگی۔


    مشتری کے اندر زبردست دباؤ کی وجہ سے ہائیڈروجن کو دھاتی ہائیڈروجن بنانے کا جو عمل جاری ہے وہ سیارے کو توانائی فراہم کر رہا ہے اور اسی عمل نے نظام شمسی کو اس کے ابتدائی دور میں ڈھالنے کے لئے طاقت فراہم کی ہے۔ سورج کو چھوڑ کر مشتری نظام شمسی میں سب سے زیادہ اثرو رسوخ والا جسم ہے۔ مگر یہ عفریت سکڑ رہا ہے۔ کیا مشتری اپنی طاقت کھو رہا ہے؟ زمین سے ہزار گنا زیادہ کمیت کا حامل مشتری نظام شمسی میں موجود سارے سیاروں کو اپنے اندر دو دفعہ سمانے کے بعد بھی کافی خالی رہے گا۔ مگر یہ عفریت اب چھوٹا ہو رہا ہے۔ قوّت ثقل تمام گیس اور مائع کو آپس میں قریب کر رہی ہے جس سے اس کا قلب اور گرما رہا ہے۔ یہ حرارت مشتری کی اوپری سطح پر پہنچ کر خلاء میں فرار ہور ہی ہے۔ سیارہ ٹھنڈا ہوتے ہوئے سکڑ رہا ہے اس بات کا مطلب ہے کہ مشتری اپنے بننے کے بعد سے ایک تہائی چھوٹا ہو چکا ہے۔ سیارے کے ٹھنڈا ہونے کے ساتھ ہی اس کے سکڑنے کا عمل بھی سست رفتار ہو گیا ہے یوں سمجھ لیں کہ جب یہ سیارہ نوزائیدہ تھا اس وقت سال میں ایک انچ سکڑ رہا تھا مگر اب یہ سال میں ایک انچ کے کچھ حصّے تک ہی سکڑ رہا ہے۔ سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ اپنی اس رفتار سے سکڑنے کا عمل ایک ہزار ارب سال تک جاری رکھ سکتا ہے مگر اس کے بعد بھی یہ نظام شمسی کا سب سے بڑا اور طاقتور سیارہ ہی رہے گا۔

    مشتری کے سکڑنے کا عمل اس قدر دھیما ہے کہ وہ ہمیں محسوس نہیں ہوتا مگر ہم اس کی سطح سے نکلتی ہوئی حرارت سے اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس حرارت کی بدولت ہی مشتری کے شاندار موسم موجود ہیں جس میں ہمیں بادلوں کے خوبصورت جتھے نظر آتے ہیں۔ زمین پر سورج کی حرارت موسموں کی رت جگاتی ہے ۔ سورج موجود نا ہو تو ہمارے موسم بھی نہیں ہوں گے۔ مگر سورج کی غیر موجودگی میں مشتری پر اس کے موسموں پر کچھ اثر نہیں پڑے گا اور وہ چلتے رہیں گے۔ مشتری کے موسموں کو سورج نہیں چلاتا۔ بلکہ اس کو مشتری کے قلب سے آتی ہوئی حرارت رواں دواں رکھتی ہے۔ حرارت ابلتے ہوئے گیسوں کے ملغوبے سے نکلتی ہوئی ، اس میں موجود طیران پذیر کیمیائی مادّے کو گھماتی ہوئی مشتری کے شاندار گردابی بادلوں کو بناتی ہے۔

    یہ دیوہیکل سیارہ مستقل گھومتا رہتا ہے۔ بیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے محور پر گھومتے ہوئے مشتری نظام شمسی میں موجود کسی بھی دوسرے سیارے سے زیادہ تیز رفتاری سے گھومتا ہے۔ مشتری اپنے محور کے گرد ہر نو گھنٹے میں ایک چکر مکمل کرتا ہے جبکہ ہم اس کے مقابلے میں ایک چکر چوبیس گھنٹے میں پورا کرتے ہیں۔ اس کی محوری گردش کے نتیجے میں بڑے زبردست گرم بادل اندرونی حصّے سے نکلتے ہوئے اس کے خوبصورت بادلوں کو بناتے ہیں۔ حرارت اور حرکت کا باہم ملاپ ایک عفریت کو جنم دیتا ہے۔ مشتری کا سرخ دھبہ ایک جسیم چکر دار ہوا کا طوفان زمین کے حجم سے بھی بڑا ہے اور اس میں ہوائیں نہایت ہی پائیداری سے ٢٥٠ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پچھلے تین سو سال سے چل رہی ہیں ۔ ذرا تصوّر کریں کہ ایک طوفان جو تین سو سال سے موجود ہے۔ زمین پر گرد بار کے طوفان اس وقت دم توڑ دیتے ہیں جب وہ زمین سے ٹکراتے ہیں۔ مگر مشتری میں کوئی زمین کوئی ٹھوس سطح موجود نہیں ہے جو اس طوفان کو روک سکے ۔مشتری پر وافر مقدار میں حرارت موجود ہے جو اس طوفان کو ہمہ وقت ملتی رہتی ہے اور پھر مشتری کی زبردست محوری گردش اس کی کفالت کے لئے بھی موجود ہے۔ مشتری تو عظیم سرخ دھبے میں آگ کو بڑھاوا دے رہا ہے۔

    ہم زمین پر طوفانوں کو بنتے ہوئے اور ختم ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ مشتری کیونکہ بہت زیادہ بڑا ہے اور بہت تیزی سے اپنے محور پر گھوم رہا ہے لہٰذا یہ طوفانوں کو زندہ رہنے کے مستقل توانائی فراہم کر رہا ہے ۔نظام شمسی میں موجود دوسرے سیاروں کے ٹھنڈے اور مرنے کے بعد بھی مشتری حرارت کو پیدا کرتا رہے گا جو اس کے طوفانوں کی غذا بنتی رہے گی اور یہ سب اس کے جہازی حجم کے مرہون منّت ہی ممکن ہوگا۔ مشتری کے اس عظیم حجم کا راز نوزائیدہ نظام شمسی میں مقید ہے۔



    چار ارب پچاس کروڑ سال پہلے گرد اور گیس سے بنی ہوئی اس قرص میں جو سورج کے بننے کے بعد بچ گئی تھی پہلا سیارہ بنا۔ مشتری نے پہلے ہی بننا شروع کر دیا تھا اور ابتداء میں ہی جلدی جلدی پانی کو ہضم کرنا شروع کر دیا تھا ، پانی کو ہضم کرنے کے بعد قریبی پھر منجمد دم دار تاروں کی باری آئی اس کے بعد پھر شہابیوں کی باری آئی اور اسی طرح سے اس نے اپنی نشو نماء جاری رکھی۔ جس طرح جانوروں کے ایک ساتھ پیدا ہوئے کئی بچوں میں سے صرف وہ زندہ رہ پاتے ہیں جو زیادہ خوراک ہضم کرتے ہیں بعینہ ایسے ہی مشتری کے ساتھ ہوا ۔ مشتری نے صحیح وقت پر اور صحیح جگہ پر بننا شروع کر دیا تھا۔ مشتری کے بننے کی جگہ اس منجمد لکیر کے اندر تھی جو سورج سے ٣٢۔٥ کروڑ دور تھی جہاں پانی کے بخارات برف میں تبدیل ہو گئے تھے۔ سورج سے قریب چٹانی سیارے اتنے بڑے حجم کے نہیں ہو سکتے تھے۔ سیارے کا حجم زمین سے ذرا سا بڑا ہوا اور وہ سیارہ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ 

    بہرحال کافی دور برف ایک طرح سے گوند کی طرح کام کرنے لگی جو چٹانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تھام کر رکھتی ہے۔ لہٰذا وہاں ضخیم برفیلے چٹانی سیارے بن سکتے تھے جو اتنے بڑے ہوتے کہ ہائیڈروجن گیس کو کھینچ کر گیسی دیو کی شکل اختیار کر لیتے۔ سورج سے قریب گیس بہت زیادہ گرم اور توانائی سے بھرپور ہوتی ہے جس سے یہ کسی چیز سے چپک نہیں سکتی۔ دور دراز کے علاقے میں گیس ٹھنڈی اور سست ہو جاتی ہے۔ لہٰذا جب قوّت ثقل گیس کو مشتری کے قلب کی طرف کھینچتی ہے تو یہ اس سے جڑتی جاتی ہے جس سے مشتری غبارے کی طرح پھول جاتا ہے۔ جتنا مشتری بڑا ہوتا گیا اتنی ہی اس کی قوّت ثقل بڑھتی رہی اور ساتھ ساتھ اس کی مادّے کو ہضم کرنے کی صلاحیت بھی بڑھتی رہی۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کافی خوش قسمت تھا جو پہلے پیدا ہو گیا تھا اور جس کو کافی زیادہ خوراک بھی مل گئی تھی۔ یہ ہر چیز کو ہضم کرتے ہوئی دور حاضر کے حجم جتنا ہو گیا۔



    مگر ٤۔٥ ارب سال پہلے مشتری نظام شمسی میں غلط جگہ پر تھا۔ وہ گھومتا ہوا سورج کی جانب ایک شعلہ فشاں موت کی جانب رواں دواں تھا۔ ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ اور سب سے زیادہ اثرو رسوخ رکھنے والا مشتری ہمارے نظام شمسی میں منفرد تو ہو سکتا ہے مگر ہماری کہکشاں میں نہیں۔ اکتوبر ١٩٩٥ میں سائنس دانوں نے ماوراء شمس پہلا سیارہ دریافت کیا جو زمین سے ٥١ نوری سال کی دوری پر تھا جس کا نام ٥١ پگاسی ب تھا ۔ یہ ایک گیسی دیو تھا جو ہر لحاظ سے مشتری کے ہم مثل ہی تھا سوائے ایک بات کے جو اسے مشتری سے ممتاز کرتی تھی۔ پہلا ماوراء شمس سیارہ جو سورج کی طرح کسی سیارے کے گرد چکر لگا رہا تھا ایک بہت ہی حیرت انگیز دریافت تھی۔ اس کا نام سائنس دانوں نے" تپتا ہوا مشتری" رکھا کیونکہ اس کا حجم لگ بھگ مشتری کے جتنا تھا لیکن یہ اپنے ستارے سے انتہائی ہی زیادہ نزدیک تھا ۔ اپنے ستارے سے قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جتنا عطارد سورج سے قریب ہے یہ اس سے بھی زیادہ اپنے ستارے کے قریب تھا۔ 



    اس پہلی دریافت سے لے کر اب تک ماہرین فلکیات اب تک ایسے سینکڑوں گیسی دیو سیارے ماوراء شمس دریافت کر چکے ہیں۔ ان میں سے کئی سیارے اپنے مورث ستارے سے نہایت قریب رہ کر مدار میں چکر لگا رہے ہیں۔ سیارہ واسپ -٣٣ ب ، ہم سے ٣٧٨ نوری سال کی دوری پر موجود ہے جو اپنے مورث ستارے سے اس قدر نزدیک چکر لگا رہا ہے کہ اس کی سطح پر درجہ حرارت سوختہ کر دینے والا ٥٨٠٠ ڈگری ہے۔ یہ کائنات میں اب تک کے دریافت شدہ سیاروں میں سب سے زیادہ گرم ہے۔ اس بات کا اب ہم اندازہ کر چکے ہیں کہ ایسے سیارے اپنے مورث ستارے کے اتنے قریب نہیں پیدا ہو سکتے ۔ کیونکہ وہ جگہ اس قدر گرم ہوتی ہے کہ گرم گیسیں ٹھنڈی ہو کر اتنا بڑا سیارہ نہیں بنا سکتیں۔ لہٰذا یہ تپتے ہوئی مشتری اپنے مورث ستارے سے نہایت دور پیدا ہوئے ہوں گے ۔ مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ اپنے ستارے سے اتنا نزدیک کر کیا رہے ہیں۔ اس بات کی توضیح صرف یہ ہو سکتی ہے کہ یہ سیارے بنے تو اپنے ستارے سے دور ہوں مگر پھر کسی طرح سے یہ اس کے قریب آ گئے ہوں اور یہ ہی بات ہمارے سامنے سوالات کا پنڈور ا باکس کھول دیتی ہے۔

    کائنات میں اگر کہیں ایسا ہو سکتا ہے تو کیا یہ ہمارے نظام شمسی میں بھی ہو سکتا تھا ۔ لہٰذا حب مشتری کو ہم اگلی بار اس کی موجودہ جگہ پر دیکھیں تو یاد رکھیں کہ جہاں یہ آج موجود ہے ضروری نہیں کہ یہ ہمیشہ سے اسی جگہ پر موجود رہا ہو۔ یہ نظام شمسی میں گھوم پھر سکتا تھا اور اس نے اپنا سفر اس جگہ پر آ کر ختم کیا جہاں یہ آج نظر آتا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ دیو ہیکل سیارے اپنی موجودہ جگہ پر کیسے آیا؟ اور ہجرت کرتے ہوئے مشتری کا دوسرے سیاروں پر کیا اثر ہوا؟ ٢٠١١ میں ماہر فلکیات والش اور ان کی ٹیم نے نظام شمسی بننے کا عمل کو ایک تجربے میں دہرانے کی کوشش کی ۔جس میں انہوں نے مشتری کو متلون بنا یا اور اس تجربے سے حاصل کردہ نتائج نے نظام شمسی کی ایک بہت ہی بڑی پہیلی کو بوجھ لیا۔ اپنے اس نمونے میں انہوں نے دیکھا کہ زہرہ بالکل اسی جگہ پر موجود ہے جہاں اس کو ہونا چاہئے تھا اسی طرح زمین بھی اسی جگہ پر پائی گئی جہاں وہ اب موجود ہے مگر مریخ جس جگہ موجود ہے وہاں کوئی زہرہ یا زمین جیسی کمیت کا سیارہ ہی ہو سکتا تھا۔ اس تجربے میں انھوں نے مختلف چیزوں کی قیمتیں تبدیل کی ، اپنے اس نمونے کو تبدیل بھی کیا مگر اس کے نتیجے میں انھیں ایک بڑا مریخ ہی حاصل ہوا۔ ان تمام نظام شمسی کی نقلوں میں ان کو اس قرص میں جس سے نظام شمسی نے جنم لیا مریخ کی جگہ پر مریخ سے ١٠ گنا زیادہ کمیت کا سیارہ ہی ملا۔ 

    کسی چیز نے نظام شمسی میں چلتے پھرتے ہوئے مریخ کا مادّہ ہضم کر لیا تھا۔ اور وہ چیز کوئی اور نہیں مشتری ہی تھا۔٤۔٥ ارب سال پہلے مشتری سورج سے ٣٢۔٥ کروڑ میل کی دوری پر پیدا ہوا جو لگ بھگ اس کے موجود فاصلے کا ایک تہائی کے قریب فاصلہ تھا۔ چکر لگاتے ہوئے سیارے سورج سے بچ جانے والی گرد سے ٹکرا رہے تھے جس سے ان تصادموں نے سیاروں کی چکر لگانے کی رفتار کو آہستہ کر دیا تھا نتیجتاً انہوں نے اپنا زور حرکت کھونا شروع کر دیا تھا اور اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سورج کی قوّت ثقل نے ان کو قریب کرنا شروع کر دیا تھا ۔مشتری گھومتا ہوا نظام شمسی کے اندر کی طرف آ رہا تھا اور اپنے اس سفر کے دوران اس نے وہ مادّہ ہضم کرنا شروع کر دیا جس سے مریخ کو اپنی کمیت بڑھانی تھی۔

    اس تجربے سے حاصل کردہ نتائج نے مریخ کے ایک بہت ہی عظیم مسئلہ کا حل فراہم کر دیا تھا وہ لمحہ تجربے میں مشغول سائنس دانوں کے لئے واقعی نعرہ مسرت لگانے کا تھا۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ کائنات میں سیاروں کی جگہ تبدیل کرنے کا عمل موجود ہو ۔ ہم جانتے ہیں کہ سیارے ہجرت کرتے ہیں۔ لہٰذا اب ہم دو مفروضوں کو ایک ساتھ رکھتے ہیں شاید اس سے ہمارا مسئلہ حل ہو جائے۔ جب مشتری نظام شمسی کے اندرونی حصّے کی طرف حرکت کرتا ہوا آ رہا تھا تو اس کے نتیجے میں اس نے اپنے راستے میں موجود چٹانی مادّے کو تہہ تیغ کرنا شروع کیا اور آگے بڑھتا چلا گیا ۔ اپنے اس سفر میں مشتری کو راستے میں کافی مقدار مادّے کی ہضم کرنے کو بھی ملی ۔مشتری نے اپنے راستے میں آتے ہوئے ٨٠ فیصد مادّے کو دور دھکیل دیا۔ ایک طرح سے مشتری نے اپنے راستے میں آتے ہوئے مادّے کو ایسے ہٹایا جس طرح سے برفانی بل برف کو ہٹاتا ہے۔ گیس اور گرد کے غبار نے دبتے ہوئے سورج کے گرد اندرونی قرص بنا دی تھی ۔ مشتری جیسے چکر کاٹ رہا تھا اس کے نتیجے میں اس کو قرص کے مخالف دھکا مل رہا تھا جس سے ایک گومڑ سا بن گیا۔ گومڑ نے قرص کی طرف دوڑ لگا دی اور ساتھ میں مشتری کو بھی کھینچ لیا ۔ 

    مشتری نے ہار نہیں مانی اور اپنی رفتار کو بڑھا دیا اور خود کو سورج سے پرے کرنے کے لئے زور آزمائی شروع کردی۔ مگر مشتری کے پیچھے موجود گرد نے نظام شمسی کے اندر آنے کے لئے دباؤ برقرار رکھا۔ اس ساری ہڑبونگ میں ایک ایسا کونیاتی تعطل پیدا ہو گیا تھا جس میں سیارے اندرونی اور بیرونی قرص میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ پھر نظام شمسی میں کچھ غیر معمولی واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں دیو ہیکل سیارے نے اپنی سمت تبدیل کر لی۔ اس تجربے میں سائنس دانوں نے دیکھا کہ مشتری اندر کی طرف آیا پھر اس نے موڑ کاٹتے ہوئے باہر کی جانب جانا شروع کر دیا۔ بادبانی کشتی کی طرح اس نے ایک طرف آنا شروع کرتے ہوئے اپنی سمت تبدیل کی اور دوسری جانب نکل گیا۔ لیکن مشتری کوئی کشتی نہیں تھا یہ ایک دیو ہیکل سیارہ تھا یہ اپنا راستہ ایسے ہی نہیں بدل سکتا تھا راستہ بدلنے کے کچھ نتائج تو بھگتنے ہی تھے ۔

    زحل نظام شمسی کا دوسرا بڑا سیارہ ہے مشتری کی طرح زحل بھی اندر کی جانب آ رہا تھا جس سے اس کا فاصلہ مشتری سے قریب ہو رہا تھا۔ حیرت انگیز طور پر ان دونوں کے درمیان ایک عمدہ کھیل وجود میں آگیا تھا۔ ان کے مادّے کو ہضم کرنے کی وجہ سے قرص میں جگہ خالی ہو گئی تھی۔ مشتری اور زحل کے پیچھے کم مادّے کے بچ جانے کی وجہ سے سیاروں کو روکنے کی کوئی چیز وہاں رہ نہیں گئی تھی جس کی وجہ سے گومڑ نکلی ہوئی قرص نے مشتری کو اٹھا کر واپس دور پھینک دیا جس سے زحل کو ایک دھکہ سا لگا۔ مشتری کو اندر کی جانب آنے سے روکنے والا زحل ہی تھا ۔ زحل بالکل صحیح وقت پر اور بالکل صحیح جگہ پر پیدا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ مشتری کے قریب آیا تاکہ مشتری کو اندر آنے سے روک کر اس کا راستہ بدل دے۔ زحل نے مشتری کو ایک درد ناک انجام سے بچا لیا تھا۔ اس ادھم پیل نے ایک الوداعی تحفہ زمین کی صورت میں اپنے پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ 


    جب مشتری واپس جا رہا تھا تو اس نے اپنے پیچھے وہ مادّہ چھوڑ دیا تھا جو اس نے آتے ہوئے تہہ تیغ کیا تھا۔ اسی ملبے سے زمین کی تخلیق ہوئی تھی۔ مگر مریخ کے بعد نظام شمسی میں موجود ملبے کو مشتری کی زبردست قوّت ثقل نے کھینچ لیا تھا جس سے وہ آپس میں جڑ نہیں سکتا تھا اس ہی وجہ سے وہاں روڑے سیارچوں کی پٹی کی صورت میں بکھر گئے تھے ۔ مشتری کی قوّت ثقل اس قدر منہ زور تھی کہ اس نے ایک طرح سے فیصلہ صادر کر دیا تھا کہ نظام شمسی میں کون سی چیز کہاں ہوگی۔ چٹانی سیارے، ہمارا سیارہ اور مریخ کے بعد سیارچوں کی پٹی یہ سب مشتری کے اس طلسماتی سفر کے طفیل میں وجود میں آئے۔ جب نظام شمسی کی کوئی بڑی چیز اتنی تیز اور اتنی دور تک حرکت کرے تو وہ اپنے گردو پیش کی ہر چیز کو بدل دیتی ہے۔ اپنے بننے کے ٥٠ لاکھ سال بعد سورج سے ٤٨ کروڑ ٣٠ لاکھ کی دوری پر مشتری اپنے موجودہ مدار میں آگیا۔ اس کی اندرونی اور بیرونی حرکت اب سورج کی ثقلی قوّت کے توازن میں آ گئی تھی ۔ لیکن اس وقت بھی نظام شمسی کی وہ شکل نہیں تھی جس کو ہم دور حاضر میں دیکھتے ہیں۔ 

    لیکن اس پائیدار مدار کے ساتھ ہی مشتری نے موت کا وہ کھیل شروع کر دیا تھا جس میں نونہال زمین کا وجود خطرے میں آگیا تھا۔4.5 ارب سال پہلے مشتری اندرونی چٹانی سیاروں اور بیرونی برفیلے سیاروں کے درمیان مدار میں چکر لگا رہا تھا۔ اس تفوق اور برتری والی جگہ سے گیسی دیو ہیکل سیارہ ہمارے نظام سیارگان کو قابو میں کر کے ان کے لئے تباہی و بربادی کے ہرکارے چھوڑ سکتا تھا۔ نظام شمسی کی ابتداء میں جب زمین کے گرد کافی سارا ملبہ موجود تھا اور نظام شمسی کے اندرونی حصّے میں زمین پر سیارچوں کی زبردست شرح سے بمباری ہو رہی تھی تو یہ وقت نظام شمسی کی تاریخ میں انتہائی پر تشدد تھا۔ ہم جس وقت کی بات کر رہے ہیں اس وقت تک سیاروں کو ماضی بعید کی بمباری جھیل کر بنے ہوئے کروڑوں سال بیت چکے تھے۔ وہ تصادم نہایت ہی بڑے پیمانے پر ہوئے تھے جس سے پگھلی ہوئی چٹانوں کے جوہڑ ان شگافوں میں بن گئے تھے جو ان تصادموں کے نتیجے میں وجود میں آئے تھے۔ ان میں سے کچھ گڑھے تو دسیوں ہزار سال تک چمک سکتے تھے اور کچھ حالت میں تو سینکڑوں ہزار سال تک چمک سکتے تھا۔ اگر کوئی اس وقت زمین پر موجود ہوتا تو وہ دیکھ سکتا کہ بہت بڑی گرد کی گیندیں مستقل زمین کی فضاء میں پھینکی جا رہی ہیں۔ آسمان دھندلا ، گردو غبار سے بھرا نظر آتا۔ زمین پہاڑ کی طرح نظر آتی جس پر شہابی گڑھے جا بجا پڑے ہوتے اور جس پر چٹانی ٹکڑے بکھرے ہوئے ہوں دکھائی دیتی۔ یہ ایک نہایت بیہودہ جگہ کا منظر پیش کرتی۔



    آج تو یہ داغ بھر گئے ہیں ۔ برف کے تودے حرکت کرتے ہوئے بڑھتے ہیں۔ آتش فشاں پھٹتے ہیں ۔ ہوا اور پانی ہمارے سیارے کی مٹی کو دھو دیتی ہے۔ مگر ان تمام باتوں کے ثبوت اب بھی موجود ہیں صرف دیکھنے والے کی نظر چاہئے۔ ذرا نظر اٹھا کر چاند کو تو دیکھیں۔ ہر رات ہم چاند کو آسمان میں طلوع ہوتا ہوا دیکھتے ہیں جس پر جا بجا شہابی گڑھے نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے ۔ جب نظام شمسی کو بنے ہوئے ایک ارب سال ہو چکے تھے اس وقت یہاں پر افراتفری کا دور دورہ تھا۔

    ٢٠١١ میں ناسا کی سپٹزر خلائی دوربین نے اسی قسم کی بمباری ایک اور ستارے پر تلاش کی ہے۔ ماہرین فلکیات نے ایک وسیع گیس اور گرد کی قرص کو ایک نوجوان ستارے کے گرد گھومتے ہوئے دیکھا ۔اس ستارا کا نام ای ٹی اے کوروی تھا ۔یہ اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ برفیلے دم دار ستارے اور سیارچے جھنڈ کی شکل میں اس نظام شمسی کے اندرونی حصّے کی جانب جا رہے ہیں۔ چار ارب سال پہلے یہ چیز ہمارے نظام شمسی میں بھی دوہرائی جاچکی ہے۔ مادّے کی بھرمار ، سیارچے اور دم دار تارے باہری نظام شمسی سے اندرونی حصّے کی جانب آرہے تھے ۔ زیادہ تر امکان یہ ہی ہے کہ اس نظام میں موجود دور دراز پر جگہ پر مشتری اور زحل جیسے سیاروں کی کارستانیوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا تھا ۔

    نظام شمسی کے ابتدائی دور میں یہ دونوں سیارے یعنی مشتری اور زحل جب سورج کے گرد چکر لگاتے تو آپس میں ایک دوسرے پر ثقلی اثر ڈالتے جس سے ایک بہت ہی پیچیدہ سا رقص شروع ہو گیا تھا ۔ مشتری سورج کے گرد تین چکر لگاتا تو زحل اس دوران دو چکر پورے کرتا تھا۔ جب ان دونوں نے باہر کی جانب ہجرت کی تو وہ دونوں ایک گمگ میں جکڑ گئے۔ اس وقت وہ ایک دوسرے سے کافی قریب ہوں گے اور ماضی میں کسی وقت جب وہ اپنی جگہیں بدل رہے تھے ان کی ثقلی قوّت نے مل کر آ س پاس کے مادّے پر تھوڑا بہتر اثر ڈالا ہوگا۔ آپس میں مل کر انہوں نے دو دوسرے گیسی سیاروں یورینس اور نیپچون کو نظام شمسی میں اور دور پھینک دیا۔ اور اس دوران نیپچون اور یورینس نے آپس میں مدار بدل لئے تھے ۔ نیپچون نے جمی ہوئے گرد اور گیس کو نظام شمسی کے باہری حصّے میں پھیلا دیا جس سے برفیلا ملبہ اور دور بکھر گیا۔ اندرونی نظام شمسی میں یہ ملبہ سیارچوں کی پٹی سے جا ٹکرایا جس سے ارب ہا دم دار ستارے اور سیارچے جتھوں کی شکل میں زمین ، چاند اور دوسرے اندرونی سیاروں کے مداروں کی جانب روانہ ہو گئے تھے۔

    اگر یہ سلسلہ مستقل جاری رہتا تو زمین پر حیات کا ارتقاء شروع نہ ہو سکتا تھا۔ اس دور کے چند کروڑ سال بعد ہی زمین پر حیات کے ارتقاء کی شروعات کا ہونا ممکن ہو سکا تھا ۔ مگر اس تباہی میں تخلیق کے بیچ موجود تھے کیونکہ برفیلے دم دار ستاروں نے بہت ہی قیمتی چیزیں زمین کے سپرد کی تھیں۔ مشتری اکثر نظام شمسی کے باہری نظام میں موجود کچھ اجسام جس میں زیادہ تر پانی سے بھرے ہوتے تھے ان میں خلل ڈالنے کا موجب بن جاتا تھا جس سے وہ زمین کی جانب دوڑ لگا دیتے تھے ۔ دور حاضر میں اس طرح کا کوئی بھی حادثہ ہمارے لئے مصیبت بن جائے گا ۔ اگر ہم زمین پر موجود پانی کا جائزہ لیں تو ایسا لگے گا کہ تقریباً تمام پانی ہی ان تصادموں کے نتیجے میں اس برف سے آیا جو دم دار تاروں میں موجود تھی جن کو مشتری نے زمین کی طرف بھیجا ۔ 

    گیسی دیو سیاروں نے حیات کا بیچ خود سے بو دیا تھا۔ سائنس دانوں کو غالب گمان یہ ہے کہ کیمیائی حیات کی بنیادی اینٹیں دم دار ستاروں کی سواری کرتے ہوئے زمین تک پہنچیں۔ مشتری کے بغیر زندگی کی شروعات نہیں ہو سکتی تھی نہ اس کا وجود قائم رہ سکتا تھا۔ بڑی بمباری آج سے ٣۔٨ ارب سال پہلے ختم ہو گئی تھی مگر اس کے دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ ہر روز ناسا کا نیر ارتھ پروگرام آسمان کی تلاش کرتا ہے تاکہ زمین کو دھمکاتے سیارچوں اور دم دار ستاروں کو ڈھونڈھ سکے۔ ابھی تک اس نے ١٠ ہزار کے قریب اجسام ڈھونڈے ہیں جن سے زمین کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی ایک ہی زمین پر مکمل تباہی مچانے کے قابل ہے ۔ناسا نے ایک ایسے سیارچے کی نشاندہی کی ہے ۔صرف تین میل پر پھیلا ہوا یہ چھوٹا سا سیارچہ اتنی صلاحیت کا حامل ہے کہ زمین سے حیات کا نام و نشان تک مٹا دے۔ خوش قسمتی سے مشتری ہمارے اور اس کے راستے میں موجود ہے۔ 


    مشتری کئی طرح سے نظام شمسی کے اندرونی سیاروں کے لئے ایک محافظ کا کردار ادا کرتا ہے ۔ اپنے علاقے میں موجود دم دار ستاروں کو چرتے ہوئے یا انہیں نظام شمسی سے باہر پھینکتے ہوئے مشتری ایک طرح سے زمین کی حفاظت کرتا ہے۔ ایک طرح سے کوئی بھی جسم جو نظام شمسی میں حرکت کرتا ہے وہ رولر ڈربی کی طرح حرکت کرتا ہے۔ ہر جسم سورج کے گرد ایک ہی سمت میں گردش کرتا رہتا ہے۔ مگر ان اجسام کی قوّت ثقل بھی ہوتی ہے جو آپس میں ایک دوسرے سے تعامل بھی کرتی ہیں۔ اس بات کو ہم ایک مثال سے سمجھتے ہیں ۔ فرض کریں ہمارے پاس دو اسکیٹس ہیں جن میں ایک کا رنگ سفید اور دوسرے کا رنگ کالا ہے ۔سفیدا سکیٹس کو سمجھیں کہ وہ ایک برفیلا دم دار تارا ہے جو نظام شمسی کے بیرونی حصّے سے بھاگتا ہوا آ رہا ہے۔ جبکہ کالاا سکیٹس گیسی دیو ہے۔ دم دار تارا اپنی سمت کو بدلتے ہوئے سیاروں کو پار کرتا ہوا مشتری کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ مشتری دم دار ستاروں سے تیز حرکت کرتا ہے اور جب وہ اس کے چنگل میں پھنس جاتا ہے تو دیو ہیکل سیارے کی قوّت ثقل اس کو پکڑ لیتی ہے اور غلیل کی طرح سے اس کو پھینک دیتی ہے۔ دم دار تارا مشتری کی حرکت کا کچھ حصّہ چرا کر اسراع حاصل کر کے اپنی سمت تبدیل کر لیتا ہے۔ اگر تھوڑی سی زیادہ سمتی رفتار اسے مل جائے تو مشتری اس کو نظام شمسی سے بھی باہر پھینک سکتا ہے۔ مشتری اسے پھینک کر ایک محافظ کی طرح اپنی جگہ پر موجود رہتا ہے۔ 


    ہر سال زمین سے ٢٠٠ گنا زیادہ دم دار ستارے اور سیارچے مشتری سے ٹکراتے ہیں ۔ کسی چیز کو وہاں خدائی فوجدار بن کر کھڑا ہونا چاہئے تھا تاکہ وہ وہاں پر رہ کر ملبے کو صاف کر سکے اور یہ کردار صرف مشتری ہی ادا کرتا ہے۔ اگر مشتری نہیں ہوتا تو اس جگہ جہاں آپ بیٹھے ہیں وہاں ایک زبردست شہابی گڑھا موجود ہوتا۔ مشتری کے بغیر یہ بات تو طے ہے کہ ہم یہاں یہ بات کرنے کے لئے موجود نہیں ہوتے۔ ہماری زندگی مشتری پر منحصر ہے۔ مشتری کے اس زبردست کردار کی بدولت جو اس نے زمین پر حیات کی ارتقاء کے لئے ادا کیا جب ہم ماوراء شمس سیاروں کو دیکھتے ہیں تاکہ کائنات میں کہیں اور حیات کا سراغ لگا سکیں تو ہمیں صرف ان سیاروں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے جہاں حیات نے اپنا مسکن بنایا ہوا ہوگا بلکہ ہمیں مشتری یا اس جیسے سیاروں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے وہاں پر موجود زندگی کو محفوظ کر کے رکھا ہوگا بعینہ جیسے مشتری نے ہمارے نظام شمسی میں زمین کو محفوظ بنایا۔ ہمارے نظام شمسی کی کامیابی کے پیچھے مشتری کا ہاتھ ہے۔ نا صرف اس نے زمین پر حیات کو پروان چڑھانا ممکن بنایا بلکہ اس کی حفاظت بھی کی۔ 

    مشتری خود سے ماوراء ارض حیات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ مشتری کا اثر و رسوخ اپنے پڑوسیوں پر کروڑوں میل دور تک پھیلا ہوا ہے، جس میں اس کے کم از کم ٦٧ چاند بھی شامل ہیں ۔ جس میں عطارد سے بڑے گینا میڈ سے لے کر ایک میل کی چٹان جتنے چاند بھی شامل ہیں۔ اس کے اندرونی چاند زیادہ تر چٹانی ہیں جبکہ بیرونی چاند زیادہ تر برف سے بنے ہیں لہٰذا ایک طرح سے یہ ایک پدا سا نظام شمسی ہے ۔ مشتری ایک طرح سے کونیاتی پتلی تماشے والا ہے جو اپنے چاندوں کو انضباط اور قابو کر کے رکھتا ہے جس سے ہو سکتا ہے کہ اس کے کسی چاند پر زندگی اپنا مسکن بنا سکے۔


    پہلی مارچ ٢٠٠٧ کو ناسا کا خلائی کھوجی نیو ہورائزن مشتری کے چاند آئی او کے پاس سے گزرا جو لگ بھگ ہمارے چاند جتنا ہی ہے ۔ آئی او ہمارے نظام شمسی میں موجود دلچسپ جگہوں میں سے ایک جگہ ہے۔ اس لئے نہیں کہ یہ دکھنے میں پیزا کی شکل کا ہے بلکہ اس لئے کہ یہاں پر آتش فشاں موجود ہیں۔ درحقیقت یہ آتش فشاں ایک طرح سے پچھلے ٢٠ سال سے مسلسل پھٹ رہے ہیں اس وقت سے جب سے ہم نے خلائی کھوجی کے ذریعہ اس کو پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ یہ چھوٹا سا چاند نظام شمسی میں موجود سب سے زیادہ آتش فشانی جسم ہے جہاں کم از کم ٤٠٠ سے زیادہ عامل آتش فشاں موجود ہیں۔ یہ سب مل کر زمین پر موجود آتش فشانوں کے مقابلے میں ١٠٠ گنا زیادہ حرارت اگل رہے ہیں۔ آئی او کا مدار مشتری کے گرد ذرا لمبوترا سا ہے ۔ کبھی وہ مشتری کے قریب ہوتا ہے کبھی دور جس کی وجہ سے ثقلی میدان بدلتے رہتے ہیں جو آئی او کے چاند کے قلب کو آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں جس سے رگڑ پیدا ہوتی ہے اور اس رگڑ سے پید ا ہونے والی حرارت چاند کے اندرونی حصّے کو پگھلا دیتی ہے اور وہ پگھلی ہوئی چیز اس کی سطح سے آتش فشانوں کے ذریعہ اوپر نکل آتی ہے۔

    آئی او کی سطح پر موجود آتش فشاں بہت ہی مسحور کر دینے والے ہیں۔ یہ بہت زیادہ مقدار میں اس کی سطح سے اوپر سلفر ڈائی آکسائڈ اگلتے ہیں ۔ جو بعد میں سورج کی بالائی بنفشی شعاعوں کے ذریعہ سلفر کے برق پاروں اور آکسیجن کے برق پاروں میں ٹوٹ جاتے ہیں اور پھر مشتری کے مقناطیسی میدانوں کے ساتھ عمل پذیر ہوتے ہیں ۔ مشتری کے مقناطیسی میدان کیمیائی اجزاء اور بار دار ذرّے آئی او سے دور اس کے پڑوسی چاند یوروپا پر لے جاتے ہیں جو ہمیں اس دور دراز کے منجمد چاند پر ماوراء ارض حیات پانے کی زبردست امید دلاتے ہیں ۔جب سائنس دانوں نے خلائی جہاز سے یوروپا کا نزدیکی سے جائزہ لیا تو انھیں اس کی سطح شگافوں اور کھائیوں سے بھری ہوئی نظر آئی جو دیکھنے میں زمین پر موجود برفیلے تودوں جیسی تھی۔ اور اچانک ہی سائنس دانوں پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ وہاں کیا چل رہا ہے۔ سائنس دان جانتے ہیں کہ یوروپا کی سطح پر موجود برف میں پڑے خم اور شگاف اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ شاید وہاں سطح کے نیچے زمین کے گہرے سے گہرے سمندر سے بھی گہرا ایک سمندر موجود ہوگا ۔ 



    ایک چھوٹے سے برفیلے چاند پر زمین سے بھی گہرا سمندر موجود ہے۔ مشتری کی زبردست قوّت ثقل یوروپا کے قلب کو کھینچتی اور دھکیلتی ہے جس سے رگڑ کی قوّت حرارت پیدا کرتی ہے جو یوروپا کو اندر سے پگھلا دیتی ہے ۔ مشتری سورج سے اس قدر دور ہے کہ قدرتی طور پر ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ وہاں موجود ہر چیز منجمد ہی ہوگی۔ یہ بات کہ قوّت ثقل کسی چیز کو اتنا گرم کر دے جس سے مائع پانی بن سکے بہت ہی زیادہ اہم ہے۔ سطح کے نیچے مائع پانی ہونے کے ابھی تک تمام اشارے بالواسطہ ہیں جس میں سطح کی ساخت اور دوسری چیزیں شامل ہیں۔ مگر ابھی حال ہی میں سائنس دانوں کو ایک براہ راست ثبوت یوروپا کے سطح کے نیچے پانی کے موجود ہونے کا ملا ہے جو ایک چشمے کی صورت میں ہے۔ چاند کے جنوبی قطب میں موجود ایک چشمے سے پانی کی پھوار نکلتے ہوئے نظر آئی۔ نومبر ٢٠١٣ میں ہبل خلائی دوربین سے حاصل کردہ تصاویر کا جائزہ لے کر سائنس دانوں نے دو جناتی حجم کے چشموں کو پانی کو یوروپا کے جنوبی قطب سے اس کی فضاء میں ١٢٤ میل دور تک پھینکتے ہوئے دیکھا۔ یہ اب تک کا حاصل کردہ سب سے اچھا ثبوت ہے جو مائع پانی کی موجودگی کو یوروپا کی منجمد قشر کے نیچے پائے جانے کا اشارہ کرتا ہے۔

    یوروپا پر مائع پانی کے براہ راست ثبوت ملنا سائنس دانوں کے لئے بہت ہی ہیجان انگیز ہے۔ حیاتیات کی کھوج کے لئے مائع پانی کی تلاش بہت ضروری ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جہاں پانی موجود ہوتا ہے وہیں حیات موجود ہوتی ہے ہمیں اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ پانی کے بغیر حیات کا موجود ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ زندگی کے ارتقاء کے لئے پانی اور دوسرے کیمیائی اجزاء کا ہونا ضروری ہے۔ مشتری کے مقنائی کرے کیمیائی اجزاء کو آتش فشانی چاند آئی او سے لے کر یوروپا تک پہنچاتے ہیں۔ سائنس دانوں کے خیال میں مقنائی کرے سلفر ، کاربن اور دوسرے معدنیات کو یہاں منتقل کرتے ہیں اور اس کی تابکاری منجمد پانی کے سالموں کو یوروپا کی سطح پر ہائیڈروجن اور آکسیجن میں توڑ دیتی ہے۔ حیاتیات کے نقطہ نظر سے یہ بات بہت اہم ہے کہ اس کی سطح پر کافی دلچسپ چیزیں بن رہی ہیں اور اگر یہ چیزیں کسی طرح اس کے سمندر تک جا پہنچیں تو وہاں پر موجود جانداروں کے انتہائی کام آئیں گی۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یوروپا کے چشمے ایک اہم دریافت ہو سکتے ہیں۔ ان چشموں کو دیکھ کر جو سب سے سنسنی خیز پہلو سامنے آتا ہے وہ یہ کہ جب سطح کے نیچے موجود مائع پانی کے سمندر کو سطح سے باہر آنے کا راستہ چشموں کے ذریعہ مل جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سطح پر موجود اجزاء کو سطح کے نیچے جانے کا بھی کوئی نا کوئی راستہ ضرور ملتا ہوگا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس سمندر میں نامیات سے بھرپور خوراک موجود ہو۔

    پانی حیات کی بنیادی ضرورت ہے۔ پانی کے علاوہ حیات کو غذا اور توانائی کی بھی حاجت ہوتی ہے۔ زمین پر یہ تمام چیزیں سورج ہمیں مہیا کرتا ہے۔ اس کی روشنی زمین پر پہنچ کر حرارت پہنچاتی ہے۔ یوروپا کے سطح کے نیچے موجود سمندر میں کسی بھی زندہ جسم کے لئے وہاں گھپ اندھیرا ہوگا ۔لیکن اس کی زندگی سورج کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ جب ہم زمین پر موجود سمندروں کی تہ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں وہاں کچھ ایسی جگہیں نظر آتی ہیں جہاں پر سوراخ موجود ہیں۔ قشر میں شگاف بھی پڑے ہوئے ملتے ہیں جہاں سے گیسیں اور ہر قسم کے مضر رساں کیمیائی اجزاء نکل رہے ہوتے ہیں اس کے باوجود وہاں پر بھی حیات موجود ہے۔ ایک سمندر جہاں حیات کی نمو کے لئے درکار مختلف اقسام کے نامیاتی مادّوں کی فراہمی سیارے کی سطح سے ہمہ وقت جاری ہو اور اس کے نتیجے میں وہاں پر موجود پانی کو او ر جو حیات سطح کے نیچے اور سمندر کی سطح کے درمیان موجود ہو آکسیجن کی کافی مقدار مل جائے ایسی مثال زمین پر بالکل ہمارے سامنے موجود ہے جہاں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح سے ماحولیاتی نظام اپنی ساخت ڈھال لیتا ہے۔

    حیات خود کو اس حالت میں ڈھال لیتی ہے جس میں وہ خود کو پاتی ہے۔ یوروپا کے سطح کے نیچے موجود کیفیت زمین پر سمندروں کے تہ میں پائی جانے والی حالت سے بہت زیادہ ملتی ہے۔ اور اگر ہم زمین پر موجود سمندروں میں ویسے ماحول میں زندگی پا سکتے ہیں تو قرین قیاس یہ ہے کہ شاید ہم یوروپا پر بھی زندگی پانے میں کامیاب ہو جائیں گے اگر واقعی ایسا ہوا تو وہاں پر موجود زندگی زمین کے سمندروں میں پائی جانے والی زندگی کی ہی طرح ہوگی۔ اگر یوروپا کی سطح کے نیچے حیات موجود ہوئی تو وہ زمین پر پائی جانے والی کسی بھی حیاتیاتی جاندار سے زیادہ طویل عمر کی ہوگی۔ یہ غیر مہربان دنیا نظام شمسی میں موجود وہ آخری جگہ بن سکتی ہے جہاں زندگی پناہ حاصل کر سکتی ہے کیونکہ آج سے ٥ ارب سال بعد سورج کی موت تو لکھی ہوئی ہے۔


    مشتری کسی بھی دوسرے سیارے کی با نسبت ہمارے نظام شمسی میں اپنا گہرا اثر رکھتا ہے ۔ سب سے بڑا سیارہ اپنی زبردست کشش کے ساتھ نظام شمسی میں موجود ہے جس نے ہمارا ماضی بنایا اور جو ہمارا مستقبل بھی بنائے گا۔ مگر اس سیارے کا مستقبل خود ڈاماڈول ہے۔ مشتری کے مقدر کا فیصلہ سورج کے مقدر پر منحصر ہے ۔ آج سے ٤ سات ٥ ارب سال کے بعد سورج پھیل کر سرخ دیو بن جائے گا اور اپنے اس عمل میں وہ شاید زمین کو بھی نگل جائے گا۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق سورج کی باہری پرت ممکنہ طور پر پھیل کر مریخ سے بھی آگے نکل جائے گی۔ ممکنہ طور پر زمین سورج سے ڈھک جائی گی اور اس عمل میں شاید پھیلتا ہوا سورج اس کو مکمل طور پر ہضم کر لے اور جب یہ واقعہ رونما ہوگا تو زمین کے لئے اس وقت تک کھیل ختم ہو چکا ہوگا۔

    آج سے ٥ ارب سال بعد اندرونی چٹانی سیارے جل چکے ہوں گے ۔کیا مشتری کی بھی باری آسکتی ہے یا نہیں یہ ایک بہت ہی اہم سوال ہے۔ کسی ایسی چیز کے نقطۂ نظر سے جو مشتری کے مدار میں چکر لگا رہی ہو اس وقت سورج ایک غضبناک آگ کا گولہ نظر آئے گا لیکن اس کے باوجود غالب امکان یہی ہے کہ شاید مشتری ایک محفوظ جگہ پر موجود ہو ۔ ہو سکتا ہے کہ اس دوران اسے اپنی تھوڑے بہت کرۂ فضائی سے ہاتھ دھونا پڑے لیکن کیونکہ وہ ایک بڑا سیارہ ہے اس لئے اس کے پاس بہت زیادہ مادّہ پھر بھی باقی رہے گا ۔یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ اس وقت زمین تو رہنے کا قابل نہیں بچی ہوگی ۔ مگر یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نظام شمسی کا وہ حصّہ جس کو ہم ابھی دور دراز اور منجمد سمجھتے ہیں وہ اس وقت بہت زیادہ متحرک اور ہلچل والی جگہ بن جائے گا۔ نظام شمسی کا وہ حصّہ کافی گرم ہوگا لہٰذا وہاں پر موجود چاندوں بھی حرارت کے مزے لوٹیں گے ۔

    مشتری کے برف کے چاند بھی ہیں ۔فی الوقت تو وہ منجمد پانی ہیں مگر سورج کی حرارت کے مسلسل لاکھوں یا کروڑوں سال مزہ لوٹنے کے بعد وہ مائع سیال میں تبدیل ہو جائیں گے۔ اور اس وقت یوروپا ایک پانی کی عظیم بوند بن جائے گا۔ ایک ایسا سمندر جو مشتری کے گرد چکر کاٹ رہا ہوگا۔ یہ سوچنے میں ہی ایک شاندار خیال ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یوروپا حیات کے لئے سورج کے مرنے کے بعد وہ آخری جگہ ہوگی جہاں زندگی کو جائے پناہ مل سکے۔ جس طرح سے سورج نے ارتقاء حاصل کیا ہے ویسے ہی مشتری کے چاندوں نے بھی اپنی ارتقائی منزلیں طے کی ہیں کیا ایسا ممکن ہے کہ اس کے چاند نظام شمسی میں موجود وہ اہم جگہیں بن جائیں جہاں ہم سفر کر سکیں یا شاید جہاں حیات ایک مرتبہ دوبارہ شروع ہو سکے ۔

    ہمارے مرتے ہوئے نظام شمسی میں مشتری کے چاند ہمیں محفوظ دنیا کی پیشکش کر سکتے ہیں۔ لیکن سورج کے ساتھ مشتری کا وہ دور بھی محدود ہوگا ۔ سورج کے سرخ دیو میں بدلنے کے بعد وہ بہت تیزی کے ساتھ منہدم ہوگا اور اپنی زندگی سسکتے ہوئے گزارے گا۔ وہ ایک سفید بونا ستارہ بن جائے گا۔ اس وقت موجود حیات کی کوئی بھی شکل جو مشتری کی سطح پر موجود ہوگی وہ وہاں سے سورج کو نہیں دیکھ سکے گی اور سورج اپنے آخری وقتوں میں اس عمل سے گزرتے ہوئے نیوکلیائی کچرا بن کر خلاء میں کھو جائے گا۔ مشتری اور اس کے چاند ایک مرتبہ پھر سے ابدی تاریکی میں کھو جائیں گے۔ سورج کے سفید بونے بننے کے عمل میں مشتری کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ہمارے نظام شمسی اور سورج کا ارتقاء اس کا مدار کچھ زیادہ نہیں تبدیل کریں گے۔ اور یہ اسی طرح ارب ہا سال تک سفید بونے ستارے کے گرد چکر لگاتا رہے گا ۔ مشتری زندہ رہے گا اور اس کے ساتھ ساتھ حیات کے باقی رہنے کی موہوم سی امید بھی باقی رہے گی۔ 

    کوئی حیات یوروپا پر موجود برف کے نیچے سمندر کے اندر کہیں موجود ہوئی تو یہ ممکن ہے کہ وہ سورج کے سفید بونے بننے کے بعد بھی اس وقت زندہ رہ سکے کیونکہ سورج کے سفید بونے بننے کے بعد بھی اس کو مشتری کی مد و جزر کی قوّت سے حرارت ملتی رہے گی ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یوروپا پہلے ہی برف کا پانی سے بھرا خول ہے جس کو اب بھی سورج کی توانائی کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر وہاں زندگی موجود ہوگی تو اس کو اس بات کا کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ سورج زندہ ہے یا مر گیا ہے۔ وہ حقیقت میں سورج سے بھی زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتی ہوگی۔ آج سے ٥ ارب سال بعد مشتری نظام شمسی میں مرکزی کردار نبھائے گا۔ مشتری کے پاس کسی بھی دوسرے سیارے کی با نسبت اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار سب سے زیادہ ہے کہ ہمارا نظام شمسی کس طرح سے کام کرے . یہ کسی فلم کے ہدایت کار کی طرح سے نظام شمسی کی ہدایت کاری کرتا ہے ۔

    جوں جوں ہم اس سیارے کے رازوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں ویسے ویسے ہم مشتری کی اہمیت کو اپنے نظام شمسی کی کامیابی میں جان رہے ہیں۔ ہم اس سیارے کی بات کر رہے ہیں جس نے پورے نظام شمسی میں اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے جس کی قوّت ثقل اس بات کا تعین کرتی ہے کہ نظام شمسی کی ساخت کیسے ڈھالی جائے. اس سیارے کی بات کی جا رہی ہے جس نے ہمارے نظام شمسی کو صاف کیا ہے۔ لہٰذا ہم دیکھ رہے ہیں کہ نظام شمسی کا ماضی اور مستقبل دونوں ہی مشتری سے وابستہ ہے۔ مشتری نظام شمسی کے اوّلین دنوں سے موجود ہے اور یہ آخر تک موجود رہے گا ۔ تخلیق کار، محافظ ، پروان چڑھانے اور بچانے والے مشتری نے موجودہ دور کے نظام شمسی کو ڈھالا ہے اور اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ زمین پر اور شاید اس سے بھی دور جگہوں پر حیات کی نمو کی شروعات ہو سکے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    1 comments:

    Item Reviewed: مشتری زمین کا محافظ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top