Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, جولائی 13, 2016

    ثقلی موجی سراغ رساں




    اب تک ہم فلکیات کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے تھے وہ ہم نے برقی مقناطیسی اشعاع کی صورت میں حاصل کیا ہے چاہے اس میں خلائے بسیط سے آتی ہوئی ستاروں کی روشنی ہو یا ریڈیائی اشعاع ہویا خرد امواج ہوں۔ اب سائنس دان سائنسی دریافتوں کے لئے پہلی مرتبہ ایک نیا ذریعہ استعمال کرنے جا رہے ہیں یعنی قوّت ثقل کو بذات خود۔ " ہر دفعہ جب ہم آسمان کو ایک نئے طریقے سے دیکھتے ہیں، تو ہمیں ایک نئی کائنات نظر آتی ہے،" کالٹک اور ثقلی موجی منصوبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر گیری سینڈرس کہتے ہیں۔

    یہ آئن سٹائن تھا جس نے سب سے پہلے 1916ء میں پہلی مرتبہ ثقلی موجوں کی موجودگی کا تصوّر پیش کیا تھا۔ ذرا غور کریں کہ اس وقت کیا ہوگا جب سورج یکایک غائب ہو جائے گا۔ بستر پر خم ڈالتی ہوئی گیند کی مثال کو یاد کریں ؟ یا ایک ترپال کے جال کا سوچیں؟ اگر گیند کو اچانک ہٹا لیا جائے تو ترپال کا جال واپس اچھل کر اپنے پرانے مقام پر آئے گا جس سے صدماتی موجیں پیدا ہوں گی جو ترپال کے ساتھ باہر کی جانب لہریں پیدا کریں گی۔ اگر گیند کو سورج سے بدل دیں تو ہم دیکھیں گے کہ ثقلی موجیں ایک مخصوص رفتار یعنی روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ ہر چند یہ کہ آئن سٹائن نے بعد میں اپنی اس مساوات کا بالکل درست حل نکال لیا تھا جس میں ثقلی موجیں بھی موجود تھیں تاہم اسے اپنی زندگی میں اس پیش گوئی کی تصدیق ہوتے دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ ثقلی موجیں حد درجہ کمزور ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ منہدم ہوتے ہوئے ستاروں سے پیدا ہوتی ہوئی صدماتی موجیں بھی اتنی مضبوط نہیں ہوتی کہ دور حاضر کے تجربات ان کو ناپ سکیں۔

    فی الوقت ثقلی موجوں کا سراغ بالواسطہ طور پر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ دو طبیعیات دان، رسل ہلس اور جوزف ٹیلر جونیئر ایک نظریہ پیش کرتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ چکر لگاتے ہوئے ایک دوسرے کا پیچھا کرتے ثنائی نیوٹران ستاروں کا تجزیہ کریں تو ہر ستارہ ثقلی موجوں کی لہروں کا اخراج کر رہا ہوگا بعینہ ایسے جس طرح سے چکر لگاتا ہوا شیرا کرتا ہے کیونکہ ان کے مدار بتدریج انحطاط پذیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے دو نیوٹران ستاروں کی موت کے ناچ کا تجزیہ کیا جس میں وہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے کی طرف خم کھاتے ہوئے آرہے تھے۔ ان کا زیر تفتیش ثنائی ستارہ PSR 1913 +16 تھا جو زمین سے ١٦ ہزار نوری برس کے فاصلے پر موجود تھا ۔ یہ ستارے ایک دوسرے کے گرد ہر 7 گھنٹے 45 منٹ میں ایک چکر پورا کر رہے تھے اور اس عمل کے دوران ثقلی امواج کو خارج کر رہے تھے۔

    آئن سٹائن کے نظریئے کا استعمال کرتے ہوئے انھیں معلوم ہوا کہ دونوں ستاروں کو ہر چکر کے بعد ایک دوسرے کے ایک ملی میٹر قریب آنا چاہئے۔ ہرچند کہ یہ ایک بہت ہی صغیر فاصلہ ہے، ایک برس میں یہ ایک گز تک کا ہو جائے گا کیونکہ 435 ہزار میل کا مدار فاصلے میں آہستہ سے کم ہوگا۔ ان کے اس اوّلین کام نے بتایا کہ مدار بعینہ ایسے ہی انحطاط پذیر ہوگا جیسا کہ آئن سٹائن کے نظریئے نے ثقلی موجوں کی بنیاد پر پیش گوئی کی تھی ۔ ( حقیقت میں آئن سٹائن کی مساوات نے پیش گوئی کی تھی کہ ستارے 24 کروڑ برس میں بالآخر ایک دوسرے میں گر پڑیں گے اور اس کی وجہ ثقلی موجوں کی صورت میں اپنی توانائی کو خلاء میں کھونا ہوگا۔) اپنے اس کام پر انہوں نے 1993ء میں نوبیل انعام جیتا۔

    ہم پیچھے جا کر اس تجربے کی کسوٹی پر بذات خود عمومی اضافیت کی صحت کو بھی ناپ سکتے ہیں۔ جب حساب کو الٹا لگایا جاتا ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عمومی اضافیت کم از کم 99.7 فیصد درست ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ثقلی موجی سراغ رساں Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top