Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, جولائی 23, 2016

    گیارہویں جہت کی پیمائش




    تاریک مادّے اور بلیک ہولز کی تلاش کے ساتھ طبیعیات دانوں کے لئے جو سب سے حیرت انگیز تلاش ہے وہ مکان و زمان کی بلند جہتوں کی ہے۔ بولڈر میں واقع یونیورسٹی آف کولوراڈو میں قریبی کائنات کے وجود کی تصدیق کی ایک جرات مند کوشش کی جاچکی ہے۔ وہاں پر سائنس دانوں نے نیوٹن کے مشہور قانون معکوس مربع میں ہونے والے انحراف کو ناپنے کی کوشش کی ہے۔

    نیوٹن کے قوّت ثقل کے قانون کے مطابق دو اجسام کے درمیان قوّت کشش ان کو الگ کرنے کے فاصلے کے مربع سے کم ہوگی۔ اگر آپ سورج کا زمین سے فاصلہ دوگنا کر دیں تو قوّت ثقل چار گنا کم ہو جائے گی۔ اس کا استعمال کرتے ہوئے خلاء کی جہتوں کو ناپا جا سکتا ہے۔

    اب تک نیوٹن کی قوّت ثقل کا قانون کہکشاؤں کے بڑے جھرمٹوں کے فلکیاتی فاصلوں پر بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے۔ تاہم کسی نے اسے صغیر پیمانے پر اس لئے مناسب طور سے نہیں جانچا کیونکہ ایسا کرنا جوئے شیر لانے کے برابر تھا۔ کیونکہ قوّت ثقل اتنی کمزور طاقت ہے کہ چھوٹا سا خلل بھی تجربہ کو خراب کر سکتا ہے۔ یہاں تک کے قریبی گزرتی ہوئی گاڑیوں سے ہونے والی ارتعاش بھی اس قدر ہوگی کہ وہ دو چھوٹے اجسام کے درمیان قوّت ثقل کو زائل کر دے گی۔

    کولوراڈو میں طبیعیات دانوں نے ایک انتہائی نازک آلہ بنایا ہے جس کو بلند تعدد ارتعاش مضراب کا نام دیا گیا ہے یہ اس قابل ہے کہ قوّت ثقل کو ایک ملی میٹر کے دسویں حصّے تک ناپ سکے ۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس کو اتنے چھوٹے پیمانے پر کیا جا سکتا ہے۔ ایک سرکنڈے کو ایک حاضر فی چکر کے تعدد ارتعاش پر مرتعش کیا جاتا ہے جو غوطہ لگانے والے تختے کی طرح لگتا ہے۔ طبیعیات دان پھر اس ارتعاش کو دیکھتے ہیں جو خالی جگہ سے ہوتے ہوئے دوسرے سرکنڈے کی طرف ارسال ہوتے ہیں ۔ آلہ اس قدر حساس ہے کہ یہ دوسرے سرکنڈے میں ہونے والی حرکت کا اتنا سراغ لگا سکتا ہے جو ایک ریت کے ذرّے سے پیدا ہونے والی قوّت کا ایک اربواں حصّہ کا ہو۔ اگر نیوٹن کے قوّت ثقل کے قانون میں ذرا سا بھی انحراف ہوتا تو دوسرے سرکنڈے میں ہونے والا ہلکا سا انحراف بھی درج ہو جانا چاہئے تھا۔ بہرحال فاصلے کو ایک میٹر کے دس کروڑ اسی لاکھ حصّے تک کم کرنے کے باوجود بھی طبیعیات دانوں نے اس طرح کا کوئی انحراف نہیں درج کیا۔ "اب تک نیوٹن تو میدان میں جما ہوا ہے ،" اٹلی کی یونیورسٹی آف ٹرینٹو کے سی ڈی ہوئیل کہتے ہیں جنہوں نے نیچر جریدے کے لئے اس تجربہ کا تجزیہ کیا تھا۔

    یہ نتیجہ منفی نکلا، تاہم اس نے طبیعیات دانوں کی اشتہاء کو بڑھایا ہے جو اب نیوٹن کے قانون کو خرد بینی سطح پر لے کر جانچنا چاہتے ہیں۔

    ایک اور تجربہ پرڈیو یونیورسٹی میں کرنے کا منصوبہ ہے۔ طبیعیات دان نیوٹن کی قوّت ثقل کے قانون میں انحراف ملی میٹر سطح کے بجائے جوہری پیمانے پر ناپنا چاہتے ہیں۔ ان کا منصوبہ نینو ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے نکل ٥٨ اور نکل ٦٤ کے درمیان فرق کو ناپنا ہے۔ یہ دونوں ہم جا ایک جیسی برقی اور کیمیائی خصوصیات رکھتے ہیں تاہم ایک ہم جا کا دوسرے کے مقابلے میں ٦ نیوٹران زیادہ ہوتے ہیں۔ اصولی طور پر ان دونوں ہم جاؤں میں فرق صرف ان کے وزن کا ہے۔

    یہ سائنس دان کیسمیر آلہ بنانے کا سوچ رہے ہیں جو دو معتدل پلیٹوں کے جوڑوں پر مشتمل ہوگی جن کو ان دونوں ہم جاؤں سے بنایا گیا ہوگا۔ عام طور پر جب یہ پلیٹ ایک ساتھ رکھی جاتی ہیں تو بار نہ ہونے کی وجہ سے کچھ وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ تاہم اگر ان کو ایک دوسرے کے بہت ہی قریب کیا جائے تو کسیمیر اثر وقوع پذیر ہوگا اور دونوں پلیٹیں ہلکا سا ایک دوسرے پر کشش ڈالیں گی یہ ایک ایسا اثر ہوگا جس کو تجربہ گاہ میں ناپا جا سکتا ہے۔ تاہم کیونکہ ہر متوازی پلیٹس کا جوڑا مختلف نکل کے ہم جاؤں سے مل کر بنتا ہے لہٰذا یہ تھوڑا سا مختلف طریقے سے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوں گی جس کا انحصار ان کی قوّت ثقل پر ہوگا۔

    کسیمیر اثر کو افزودہ کرنے کے لئے پلیٹوں کو ایک دوسرے کے انتہائی قریب کرنا ہوگا ۔ (اثر کو فاصلے کی مربع کی قوّت نما چار کی طاقت کی نسبت سے ہونا چاہئے، لہٰذا اثر کو اس وقت تیزی سے بڑھنا چاہئے جب یہ پلیٹ ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہوں گی۔ پر ڈیو کے طبیعیات دان نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے تاکہ پلیٹوں کو جوہری پیمانے کے فاصلے پر الگ کر سکیں۔ اس کام کے لئے وہ اختراعی خرد برقی میکانکی مروڑی جھولا استعمال کریں گے تاکہ پلیٹوں کے درمیان ہلکے جھولوں کو ناپ سکیں۔ نکل 58 اور نکل 64 کے درمیان کوئی بھی فرق قوّت ثقل کی وجہ سے ہی ہوگا۔ اس طرح سے وہ امید کرتے ہیں کہ نیوٹن کے قانون حرکت میں ہونے والے انحراف کو جوہری پیمانے پر ناپ سکیں گے۔ اگر انہوں نے نیوٹن کے مشہور زمانہ قانون معکوس مربع میں ہونے والے انحراف کو اس اختراعی آلے کی بدولت ناپ لیا تو یہ ایک طرح سے بلند جہتوں والی کائنات کی موجودگی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے جو ہماری کائنات سے جوہروں کے پیمانے پر الگ ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: گیارہویں جہت کی پیمائش Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top