Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    پیر، 18 جولائی، 2016

    سیارہ زحل



    زحل ایک خیرہ کناں اور افسانوی سیارہ ہے جو رات کو آسمان میں نظر آنے والے سیاروں میں سب سے زیادہ حسین دکھائی دیتا ہے۔ ہم اس سیارے کے بارے میں کافی کچھ جان چکے ہیں اس کے باوجود اس سیارے نے ہم سے اپنے بہت سے راز چھپائے ہوئے ہیں۔ اس کے بارے میں حاصل کردہ معلومات میں سے زیادہ تر نے ہمیں بہت زیادہ ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ ہماری خام خیالی تھی کہ ہم اس کو بہت اچھی طرح جان گئے ہیں مگر ہمیں اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ زحل اپنے انتہاء درجے کے موسموں اور زبردست بجلی کے طوفانوں سے ابل رہا ہے۔ اس کے حلقے چھوٹی لہریں بناتے ہوئی مڑ رہے ہیں ۔ اس کے گرد ٦٠ کے قریب قابل ذکر چاند چکر لگا رہے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک اپنے آپ میں ایک عالم رنگ و بو ہے جو اپنی کہانی سنانے کو بیتاب ہے۔

    زحل سیارہ کھوجیوں کا ہمیشہ سے خواب ہے۔ آج زحل کے چاند ماوراء ارض حیات کی کھوج کے لئے سب سے مقبول جگہ ہیں۔ بہت سارے سائنس دان تو اس بات پر شرط لگانے کو تیار ہیں کہ اگر نظام شمسی میں کہیں کوئی ماوراء ارض جگہ پر زندگی موجود ہو سکتی ہے تو وہ زحل کے چاند ہی ہیں۔ زحل کے سب سے بڑے چاند پر ہمیں کچھ اشارے حیات کی موجودگی کے ملے ہیں ۔ ہم نے وہاں کچھ عجیب چیزیں دیکھی ہیں جو ہو سکتا ہے کہ زندگی کے وہاں پر موجود ہونے کے ثبوت ہوں۔ زحل رات کے آسمان میں ایک نگینے کی طرح دکھائی دیتا ہے جو اپنی خوبصورتی اور حجم سے ہماری نظروں کو خیرہ کرتا ہے۔ اس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں ٧٠٠ زمینیں سما سکتی ہیں۔ مگر اس کے حجم پر نہیں جائیں یہ ہمیں بیوقوف بنا سکتا ہے ۔ زحل سے متعلق ایک سب سے زیادہ دلچسپ بات جو ہے وہ یہ ہے کہ یہ اس مادّے کے مقابلے جو اس میں موجود ہے بہت زیادہ بڑا ہے۔ اس کی کثافت پانی سے بھی زیادہ کم ہے ۔ ایک پرانا لطیفہ ہے کہ اگر کوئی اتنا بڑا باتھ ٹب ہو جس میں اس کو ڈال سکیں تو یہ اس میں ڈوبنے کے بجائے تیرے گا لیکن اس عمل میں اس کے حلقہ رہ جائیں گے۔

    دوسرے سیاروں کے بھی حلقے ہوتے ہیں مگر وہ اتنا وسیع اور پر شکوہ نہیں ہوتے جتنے زحل کے ہوتے ہیں۔ اہم حلقے کے باہر سے اندرونی کنارے کا سفر ٦٦ ہزار میل کا ہے جو زمین کے محیط سے ٢۔٥ گنا زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یہ وسیع گرد اور برف کا مجموعہ بہت ہی پتلہ صرف چند دسیوں فٹ جتنا ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ حصّے تھوڑے سے بڑے ہوتے ہیں مگر زیادہ تر مٹی کے ذرّے سے بڑے نہیں ہوتے۔ ان حلقوں سے کافی دور اس کے ٦٠ چاند جو چٹان اور برف سے بنے ہوئے ہیں وہ اس کے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اس کے چاند حجم میں چھوٹی برف کی گیندوں سے لے کر زندہ ارضیات والے جہاں تک ہیں جہاں مائع پانی اور موسم تک موجود ہیں اور غالب امکان یہ ہے کہ شاید وہاں حیات بھی موجود ہو۔


    سورج کی گرمی سے ایک ارب میل دور فاصلے پر وہاں بہت زیادہ ٹھنڈ ہے ۔ ہم پہلے یہ سمجھتے تھے کہ وہاں ہماری دلچسپی کی زیادہ چیزیں نہیں ہوں گی مگر یہ ہماری خام خیالی تھی ۔سب سے پہلے وہاں پر موجود موسموں نے ہمیں دنگ کر دیا ۔ زحل پر موجود طوفان زمین پر موجود کسی بھی طوفان کی با نسبت بہت زیادہ شدید قسم کے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ زحل پر موجود ہوائیں نظام شمسی میں چلنے والی تیز ہواؤں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہ ہوائیں زحل کے بادلوں کے اوپری طرف زمین پر موجود ہواؤں کے مقابلے میں ١٠ گنا زیادہ سرعت سے دوڑتی رہتی ہیں۔ یہاں پر چلنے والی ہواؤں کی شدّت زمین کے کسی بھی تیز ترین طوفان کے مقابلے میں ٤ گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اور بجلی کی چمک بھی زمین پر موجود چمکنے والی بجلی کی بہ نسبت ١٠ ہزار گنا زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ زحل پر موجود ہر چیز بہت ہی زیادہ بڑی ہوتی ہے۔ وہاں پر موجود موسموں کا نظام زمین سے کافی بڑا ہے۔ زحل کے یہ سفّاک موسم ہمارے لئے بہت ہی حیران کن تھے کیونکہ زمین پر موسم سورج کی گرمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ سورج زمین کو گرماتا ہے جس سے ہوائیں پیدا ہوتی ہیں۔ سورج ہی سمندر میں پانی کو بخارات کی شکل میں اڑاتا ہے جس سے بادل بنتے ہیں اور بعد میں بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ زحل سورج سے اس قدر فاصلے پر ہے کہ وہ اس کی حرارت کو ایسے محسوس نہیں کر سکتا جیسے کہ زمین کرتی ہے۔ لہٰذا اس کے موسموں کو پیدا کرنے والی حرارتی توانائی کہیں اور سے آ رہی ہے۔

    اس پراسرار توانائی کے منبع کو جاننے کے لئے ہمیں ماضی میں ٤۔٥ ارب سال پہلے کے دور میں داخل ہونا پڑے گا، اس دور میں جب یہ حلقوں والا سیارہ تخلیق کے مرحلے میں تھا۔ ہمارے نظام شمسی میں موجود سیارے گھومتے ہوئی برف، گرد و گیس کے بادلوں سے بنے تھے ۔ زمین پر اس قسم کے اجزاء ہم آج بھی دیکھ سکتے ہیں جیسے کہ آئس لینڈ میں موجود آتش فشانی راکھ برفیلے تودوں سے خلط ملط ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ دیو ہیکل زحل جیسے سیارے کو بننے کے لئے اسی قسم کے مادّے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کائنات میں آکسیجن اور ہائیڈروجن کافی مقدار میں موجود ہے جو مل کر پانی بناتی ہے ، اور پانی جم کر برف بن جاتا ہے۔ جس چیز نے نظام شمسی کی تشکیل کی ہے وہ اسی قسم کا مادّہ تھا ۔ وہ گندی برف، پانی کی برف، جس میں تھوڑا بہت چٹانی اور معدنی مادّہ جو یخ بستہ خلاء میں رہ گیا تھا۔


    ٤۔٥ ارب سال پہلے گندے برفیلے ذرّات جو ہائیڈروجن اور ہیلیئم سے ڈھکے ہوئے تھے ان کے وسیع بادلوں نے اپنی جاذبی قوّت کے زیر اثر منہدم ہونا شروع کیا جس کے مرکز میں ایک نیا ستارہ یعنی کہ ہمارا سورج پیدا ہوا۔ پیدا ہوئے نئے ستارے کی گرمی نے اس کے قریب موجود برف کو پگھلا کر گیسوں کو پرے کر دیا جس سے اس نئے بنتے ہوئے نظام کے اندرونی حصّے میں صرف چٹانی مادّہ ہی باقی رہ گیا۔ لیکن سورج سے کافی دور بیرونی نظام شمسی میں برفیلا مادّہ اور گیس اپنی پرانی حالت کو قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئی تھی ۔اندرونی بادل کے چٹانی مادّے اور بیرونی برفیلے مادّے کے درمیان ایک سرحد کی لکیر سی بن گئی تھی۔ سورج کے ایک دفعہ جلنے کی دیر تھی اس کے بعد اندرونی نظام شمسی میں سلیکٹ مادّے جس سے زمین بنی ہے بچ گئے۔ لیکن سورج سے دور جہاں ٹھنڈ تھی اور جس چیز نے وہ سرحد ی لکیر پار کر لی تھی اس نے وہاں منجمد ہی رہنا تھا ۔ لہٰذا سورج کے جلنے کے بعد بھی وہاں بہت زیادہ مقدار میں برف باقی رہی ۔

    سیارے کو اپنے آپ کو بنانے کے لئے شروع میں ٹھوس قلب بنانے کی ضرورت تھی لیکن ایک بار جب وہ ٹھوس قلب حد فاصل تک جا پہنچی تو پھر اس نے خود سے ہائیڈروجن اور ہیلیئم کو بین السیاروی بادلوں میں کھینچنا شروع کر دیا۔ اس وقت زحل کا عظیم ٹھوس قلب زمین کے قلب سے ١٠ سے ٢٠ گنا زیادہ بڑا تھا۔ جس نے زبردست جاذبی قوّت پیدا کردی تھی اور اس کے نتیجے میں قوّت ثقل نے مادّے کو بغیر کسی وقفے کے کھینچنا شروع کر دیا تھا۔ یہ گیسی گیند جتنی بڑی ہوتی گئی اتنا ہی زیادہ اس نے زیادہ گیس کو کھینچنا شروع کر دیا۔ زحل کی زبردست ثقلی قوّت نے اپنے نو آموز ماحول پر زبردست اثر ڈالتے ہوئے اس کو دبانا اور بھیچنا شروع کیا ۔ اور ہر گیس کی طرح جس پر جب دباؤ پڑتا ہے اس گیس نے بھی گرم ہونا شروع کر دیا۔ آج بھی زحل کے زبردست دباؤ سے پیدا ہوئی حرارت اس کے قلب میں ٢١ ہزار ڈگری تک کا درجہ حرارت پیدا کرتی ہے جو سورج کی سطح سے دو گنا زیادہ ہے۔ یہ حرارت اس کے قلب سے نکلتی ہوئی سطح پر آتی ہے جہاں یہ اس کی محور پر واضح جتھے بناتی ہوئی موسموں کی رت جگاتی ہے۔


    کیونکہ زحل ایک بہت ہی جسیم سیارہ ہے لہٰذا اس کی اپنے محور پر گردشی رفتار بہت تیز ہے۔ وہ اپنے محور پر ایک چکر ١٠ گھنٹے میں پورا کر لیتا ہے ۔ لہٰذا اس کے اندرون سے آتے ہوئے موسم ان جتھوں میں جا کر مل جاتے ہیں ۔ زحل کے شمالی قطب میں یہ جتھے کچھ ایسا نظارہ پیش کرتے ہیں جو پہلی نظر میں دیکھنے پر یقین نہیں آتا۔ یہاں پر موجود اک عظیم گرداب ہے۔ ہوا کا ایک گھومتا ہوا خطہ جس کی شکل بے عیب مسدس جیسی ہے۔ وہاں پر موجود دباؤ کی لہریں، کثافت اور درجہ حرارت مل کر ایک دوسرے سے تعامل کرنا شروع کر دیتی ہیں اور یہ موجیں اصل میں دخل اندازی کرتے ہوئے ایک بڑی موج بن جاتی ہے جو پورے سیارے پر دندناتی پھرتی ہے۔ یہ دیو ہیکل موج ایک لمبے عرصے تک رہنے والی موج بن جاتی ہے کیونکہ سطح کے نیچے کوئی چٹانی سطح موجود نہیں ہے جو اس ہوا میں کوئی خلل ڈال سکے جس سے یہ بنی ہے۔ اس سے یہاں پر بہت خوبصورت عام مسدس کی شکل بن جاتی ہے۔ یہ زحل کی سب سے شاندار چیزوں میں سے ایک ہے۔

    زحل کے عجیب موسموں کے راز وہاں پر بھیجے جانے والے روبوٹ نے افشاء کیا ہے۔ جس نے وہاں پر موجو گرد اور بجلی کے گرج چمک کے طوفانوں کی تصاویر لے کر جو بھیجی ہیں جس کو دیکھ کر سائنس دان انگشت بدنداں رہ گئے ہیں۔ مگر اس سے بھی زیادہ محو حیرت بات جو پتا لگی ہے وہ اس کے حلقوں کا متحرک ہونا ہے۔ ذرا زحل کو اس کے حلقوں کے بغیر چشم تصوّر میں لائیں ۔ اپنے حلقوں کے بغیر زحل خلاء کی تاریکی میں ایک مدھم سا کرۂ نظر آئے گا۔ اپنا حلقوں سمیت یہ ایک دیو مالائی سیارہ لگتا ہے۔ جو کوئی بھی زحل کو دیکھتا ہے وہ بغیر کسی شک کے اس کے حلقوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا ۔ اس کے ان حلقوں نے سائنسی کہانیوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے بلکہ یہ تو ہر دیکھنے والے کو متاثر کرتا ہے۔ یہ آسمان پر نظر آنے والا بے عیب نگینہ ہے۔ اس سے زیادہ حسین سیارہ ہمارے نظام شمسی میں کوئی اور نہیں ہے۔ اس کے حلقے اس کے گرد بہت ہی بے عیب انداز میں نظر آتے ہیں۔ یہ کسی شاندار بیضوی ریس ٹریک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ چھوٹی دوربین سے دیکھنے میں یہ حلقے نہایت خاموش اور پرسکون لگتے ہیں۔ مگر قریب سے دیکھنے پر تصویر کا رخ بالکل ہی بدل جاتا ہے۔


    ہمیں اس کو قریب سے جاننے کا موقع کیسینی خلائی کھوجی کی وجہ سے ہی مل سکا تھا۔ اس نے وہاں رہ کر دس سال تک تصاویر زمین کو ارسال کیں۔ برف کے ذرّے اپنی جگہ بنانے کے چکر میں ایک دوسرے کو دھکا دیتے رہتے ہیں۔ یہ ان حلقوں کے اندر ہزار ہا میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں ۔ یہ برف کے ذرّات گھر کے حجم سے لے کر برف کے چھوٹے ذرّے کے حجم تک ہو سکتے ہیں۔ تا وقت یہ کہ کیسینی وہاں نہیں گیا ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ حلقے اتنے پیچیدہ ہوں گے۔ زحل کی جاذبی قوّت اور اس کے وہاں موجود تمام چاندوں کی کشش ان حلقوں پر دوسرے چاندوں پر اور سیارے پر اپنا اپنا اثر ڈالتی ہے ۔یہ تمام چیزیں ایک دوسرے کو ایک نظام میں اکٹھا کرتی ہیں اور بیک وقت یہ انتہائی نازک بھی ہیں اور سخت بھی اور اس سیارے کی یہ ہی خاصیت اس کو نظام شمسی میں شاندار مقام دلاتی ہے۔ اس کے حلقوں کے اطراف میں چھوٹے چاند جب گزرتے ہیں تو حلقوں میں موجود ذرّات ،جوابی اقدام کے طور پر محو رقص ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی چاند ان کے پاس سے گزرتا ہے تو حلقوں کے کچھ حصّے باقی حصّوں کی با نسبت اوپر ہو جاتے ہیں۔ اس کے چاند آپس میں اپنا مدار بھی بدل لیتے ہیں۔ لہٰذا ہم یہ بات آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ حلقوں میں کافی متحرک چیزیں چلتی رہتی ہیں۔ 

    سائنس دانوں کو یقین ہے کہ زحل کے کچھ برفیلے چاند ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر اس کے حلقوں میں اپنا مادّہ بھجتے رہتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ حلقوں کی ساخت مستقل ارتقاء پذیر رہتی ہے۔ کیسینی کی مدد سے سائنس دان زحل کی تخلیق کے مرحلوں کو جان سکتے ہیں اور اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو وہ اس کی تخلیق کے عمل کو دوسرے ماورائے نظام ہائے شمس میں موجود دوسرے زحل کی طرح کے سیاروں کو بھی جان پائیں گے کیونکہ پوری کائنات میں سیاروں کی تخلیق کے یکساں قوانین نافذ العمل ہوں گے ۔ ہمارے نظام شمسی میں موجود سارے سیارے آج سے ٤۔٥ ارب سال پہلے ایک چپٹی گرد و گیس کی قرص سے وجود میں آئے تھے۔ ماہرین فلکیات نے اس سے ملتی جلتی قرص دوسرے دور دراز کے نوجوان ستاروں کے گرد بنتی ہوئی دیکھی ہیں ۔ ہم اپنی بہترین اور سب سے زیادہ طاقتور دوربین کا استعمال کرتے ہوئے بھی وہاں پر سیاروں کی تشکیل کے عمل کو نہیں دیکھ سکتے۔ وہ ہم سے بہت فاصلے پر واقع ہیں۔ مگر زحل کے حلقے تو بالکل ہماری دوربین کے سامنے ہیں۔ ایک اصلی اور کھرا پدا نظام شمسی اپنی تشکیل کے مرحلے میں موجود ہے ۔ اس کے حلقوں کو دیکھ کر ہم سیاروں کی تشکیل کے اس مرحلے کو دیکھ سکتے ہیں جب وہ بننے شروع ہوئے تھے۔ یہ اس طرح کی بات ہے جیسے ہم کسی سیارے کے بننے کے عمل کی شروعات ہوتے ہوئے دیکھیں اور پھر اس کو وہیں روک دیں۔ 

    کیسینی نے ہمیں بتایا کہ حلقے کے اندر فورا ہی کچھ ساختیں خود سے ہی مختلف شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ان کو چھیڑنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے وہ خود سے بن جاتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ چھوٹے سے چاند جو اس عمل کے دوران بنتے ہوئی نظر آئے ہیں ہمیں یہ بتا سکیں کہ زمین پر حیات کی شروعات کیسے ہوئی؟ یہاں پر ایسا لگتا ہے کہ اچانک سے کوئی چیز وقوع پذیر ہو جاتی ہے۔ اور اس بات کی نقل کرتے ہوئے ماہرین فلکیات سیاروی قرص کو چشم تصوّر سے دیکھ رہے ہیں جو کائنات میں دوسرے ستاروں کے گرد موجود ہے۔ کیسینی نے متجسس دھکہ دینے والی جیسی ساختیں زحل کے چوڑے حلقے میں دیکھی ہیں۔ ذرّات چاندوں سے ٹکراتے ہوئے ان کو اٹکل سمت میں تبدیل ہوتے مداروں میں بھیج دیتے ہیں کبھی وہ زحل کے قریب چلے جاتے ہیں کبھی اس سے دور ۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی ہی طاقت سورج کے گرد زمین کی تخلیق کے دوران اثر انداز ہو جس نے ان کو قریبی یا دور کے مداروں میں دھکیل دیا ہو۔

    زحل کے حلقے ہمیں یہ بات بھی بتاتے ہیں کہ کیوں سیاروں نے اپنی نشوونما روک دی تھی ۔ ایک اخروٹ کی شکل کا چاند جس کا نام پین ہے زحل کے درمیان کے حلقے کے قریب موجود ہے ۔اس کے ارد گرد بہت زیادہ برف کی موجودگی برف کو ہضم کرکے اس کو بڑا ہونے میں مدد کر سکتی تھی با ایں ہمہ یہ صرف ٢٠ میل جتنا ہی ہے ۔ اگر کوئی چاند حلقوں کی قرص میں گڑھا ہوا ہے تو ہم اس کو حلقوں کا کوئی چھپا ہوا ذرّہ ہی سمجھیں گے تا وقت یہ کہ وہ بڑا ہو کر کوئی چاند نہ بن جائے۔ اصل میں چاند اپنے ارد گرد حلقوں میں جگہ بناتے ہیں لہٰذا پین نے ایک سیاہ جگہ بنا لی ہے۔ ڈیف نس نے کیلر گیپ بنا دیا ہے۔ مادّے کو اندر کھینچنے کے بجائے پین مادّے کو دور کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ جب چاند مدار میں چکر کاٹتا ہے تو پین کی قوّت ثقل اپنے قریبی ہلکی حرکت کرتے ہوا مادّے کے ذرّات کو اور چوڑے مداروں میں دھکیل دیتی ہے۔ اس وقت جب یہ چھوٹا سا چاند حرکت کرتا ہوا ان ذرّات کی طرف آتا ہے تو پین کے مدار کے اندر موجود تیزی سے حرکت کرتا ہوا مادّہ زحل کی جانب پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ انفصالی اور نشوونما دونوں شاید اس بات کو ہمیں سمجھا سکیں کہ کیوں ستاروں کے گرد ایک پیٹو سیارے کے بجائے ایک سے زیادہ سیارے موجود ہوتے ہیں۔


    کیسینی کی تمام دریافتوں سے سب سے زیادہ حیران کن دریافت ایک چھوٹا برفیلا چاند ہے جو حیات کا مسکن بھی ہو سکتا ہے۔ ماضی میں ہم سب سے زیادہ اپنے چاند کو ہی دیکھ سکے ہیں ۔ جس میں موجود ان گنت گڑھے اپنی بربادی کی داستان سنا رہے ہیں۔ ہمارا چاند مردہ ہے۔ وہاں پر نہ تو کوئی ارضیاتی حل چل ہے نہ ہی کسی قسم کے موسم پائے جاتے ہیں جو اس کے ان بد نماء داغوں کو دھو سکے ۔ مگر دوسرے سیاروں کے چاندوں کے بارے میں کیا خیال ہے جیسے کہ زحل؟ کیا وہ بھی مردہ ہیں؟ زحل کے چاندوں کے بارے میں ہمارا پہلا مفروضہ تھا کہ وہ ٹھنڈے، مردہ اور حیات سے محروم ابتدائی نظام شمسی کی باقیات ہوں گے۔ تا وقت یہ کہ ہم نے ایسے خلائی جہاز نہیں بنا لئے جوان چاندوں تک کا سفر کر سکیں ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ہمارا نظام شمسی کس قدر متحرک اور متنوع ہے ۔ صرف انسیلیڈس کو لے لیجئے جو صرف ٣٠٠ میل پر پھیلا ہوا چاند ہے۔ آج سے ایک دہائی پہلے کوئی اسے زیادہ توجہ دینے کو تیار نہیں تھا۔ مگر آج کل یہ ارضیاتی طور متحرک دنیا کا چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ یہ زحل کے دور دراز حلقے جس کو حلقہ "E"کا نام دیا ہوا ہے اس کے اندر چکر کاٹتا ہے۔ اس حلقے نے سائنس دانوں کو چکرا کر رکھا ہوا تھا کہ کس طرح سے اتنا چوڑا اور اتنا منتشر حلقہ بنا ہوا ہے۔ کیسینی کی ٹیم نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ وہ انسیلیڈس کے قریب سے اپنے خلائی جہاز کو گزاریں گے تاکہ اس راز پر سے پردہ اٹھا سکیں۔ ان کے دماغ میں جو سوال چل رہے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ کیا انسیلیڈس کا ان حلقوں کو آپس میں جوڑے رکھنے میں کوئی کردار ہے؟ کیا انسیلیڈس اور اس حلقے "E" میں کوئی تعلق ہے ؟ اب یہ بات ہمیں معلوم ہو چکی ہے کہ ان حلقوں کو بنانے میں انسیلیڈس کا ہی ہاتھ ہے۔

    ٢٠٠٥ء میں کیسینی نے انسیلیڈس کی سطح پر جنوبی قطب پر سینکڑوں چشموں کو شگافوں سے خلاء میں میلوں دور برف اچھالتے دیکھا۔ انسیلیڈس برف کے ذرّات خلاء میں بہت ہی زبردست رفتار سے پھینک رہا تھا ۔ مدار میں چکر لگاتے ہوئے ان برفیلی پھواروں نے ہی ایک وسیع ٹمٹماتا ہوا ہالہ نور سا سیارے کے گرد بنا دیا ہے جس کو ہم پراسرار حلقے "E" کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ برفیلی پھواریں زحل کے مقناطیسی میدانوں سے بھی تعامل کرتے ہیں جس سے پلازما کے بار دار ذرّات کے بادل بن جاتے ہیں ۔ یہ ذرّات زحل کے مقناطیسی میدان کے ساتھ دوڑتے ہیں اور زحل کے قطبین کی فضاء سے جا ٹکراتے ہیں جس سے زبردست بالائے بنفشی قطبی روشنیاں نکلتی ہیں۔


    چشموں نے تو "E" حلقے کی پہیلی کو سلجھا دیا مگر یہ چشمے سورج سے دور ایک ارب میل کے فاصلے پر موجود منجمد چاند پر خود سے کیسے بنتے ہیں ؟ زمین پر چشمے عامل آتش فشانوں والی جگہوں پر بنتے ہیں جہاں پانی گرم چٹانوں سے تعامل کرتا ہے ۔ انسیلیڈس سورج سے اتنا دور اور چھوٹا ہے کہ اس کو بہت زیادہ ٹھنڈا اور غیر متحرک ہونا چاہئے۔ مگر زحل کی زبردست قوّت ثقل کی بدولت یہ ٹھنڈا اور بے حرکت نہیں ہے۔ انسیلیڈس پر حرارت موجود ہونے کا سبب اس کا بیضوی مدار ہے ۔ کبھی یہ زحل سے قریب تو کبھی یہ زحل سے دور ہوتا ہے ۔ اور اس وجہ سے اس پر پڑنے والی زحل کی ثقلی قوّت میں تفاوت رہتا ہے جس سے اس کے قلب میں کھینچا تانی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور اس وجہ سے اس کا قلب گرما جاتا ہے اور اسی سبب سے ہم کو اس کی سطح پر آج یہ ہلچل نظر آتی ہے۔ زحل کا ثقلی کھنچاؤ پانی کی برف سے دور انسیلیڈس کے چٹانی قلب میں پہنچ جاتا ہے۔ ثقلی قوّت میں اضافہ اور کمی اس کے ٹھنڈے چٹانی قلب کی مالش کرتا ہے جس سے رگڑ پیدا کرتا ہے جو گرمی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے اور اس چاند میں ارضیاتی حیات عود آتی ہے ۔ حرارت قلب کے قریب موجود برف کو پگھلا دیتی ہے جس سے سطح کے نیچے انسیلیڈس کے جنوبی قطب پر ایک وسیع جھیل سی بن جاتی ہے ۔ یہ پانی سطح پر موجود برف کے بڑے شگافوں سے نکلتا ہے ۔ 

    زمین پر تو جہاں پانی ہوتا ہے وہاں پر زندگی بھی موجود ہوتی ہے۔ سائنس دان اس سوچ میں غلطاں ہیں کہ کیا انسیلیڈس کے پانی میں حیات اپنی سادہ شکل میں موجود ہوگی؟ ایک دفعہ جب کیسینی نے ان چشموں کا پردہ فاش کر ہی دیا تو سائنس دانوں کو اندازہ تھا کہ انہوں نے ایک نہایت حیران کر دینے والی چیز دریافت کر لی تھی ۔ انہوں نے کیسینی کے مشن کا مقصد ہی تبدیل کر دیا تھا ۔ انہوں نے اس کی خط پرواز کو بدل دیا تھا ۔ انہوں نے کیسینی خلائی جہاز کو ان شگافوں کے بہت قریب ان کا جائزہ لینے کے لئے بھیج دیا تھا جہاں سے پانی نکل رہا تھا۔ سائنس دانوں نے اپنا دامن اس امید سے باندھ لیا تھا جس میں انھیں وہاں پانی میں موجود نمکیات اور نامیاتی مرکبات جیسے کہ امونیا ملنے کی آس تھی جو زمین پر موجود حیات کی بنیادی اینٹیں ہیں۔ حیرت انگیز طور پر کیسینی پر لگے ہوئے سینسر ز کو کثیر تعداد میں یہ سب کچھ مل گیا۔ نہایت حیران کن بات یہ تھی کہ سکونت پذیری کی تمام اہم شرائط جس میں توانائی کا منبع، مائع پانی ، حیاتی نائٹروجن اور امونیا کے سوتے، نامیاتی مادّے یہ سب خلاء میں مل رہے ہیں۔ یہ سب وہاں پر موجود حیات کی موجودگی کے ممکنہ نشان ہیں۔ وہاں پر کوئی حیات جس نے کبھی پر پرزے نکالے ہوں موجود ہو سکتی ہے۔

    ابھی تو ہمیں اس بات کا مکمل یقین نہیں ہے کہ وہاں کوئی حیات موجود ہے یا نہیں کیونکہ ہم نے ابھی تک وہاں اس کا براہ راست مشاہدہ نہیں کیا لیکن وہاں پر ماحول کی وہ تمام شرائط نظر آ رہی ہیں جو آج سے لگ بھگ ٣ ارب سال پہلے زمین پر موجو د تھیں جب یہاں حیات ابھر رہی تھی ۔انسیلیڈس پر حیات پنپنے کے سنسنی خیز احساس نے مستقبل میں وہاں پر نئے مشن کو بھیجنے کی بحث کو بڑے زور و شور سے شروع کر دیا ہے۔ دوسرے مشن بھی اپنی جگہ موجود ہیں جب کہ بجٹ محدود ہے۔


    زحل کا سب سے بڑا چاند ٹائٹن بھی عجیب ور غریب زندگی کا مسکن ہو سکتا ہے۔ زحل کے گرد چکر لگاتے ہوئی ٦٠ سے زائد چاند، اس کے ایک چاند کے سامنے انتہائی کوتاہ قامت نظر آتے ہیں ۔ٹائٹن بہت بڑا ہے یہ سیارہ عطارد سے بھی بڑا ہے۔ ایک کثیف نارنگی کہر اس کی سطح کو ہماری دوربین سے چھپا کر رکھتی ہے۔ اور جب کیسینی نے پہلی مرتبہ ٹائٹن کے اس نارنگی جبے کے نیچے سے ہمیں وہ عجیب جہاں دکھایا جس سے زیادہ عجیب جگہ ہم تصوّر نہیں کر سکتے تھے۔ ٹائٹن بہت ہی زبردست جگہ ہے ۔ زحل کے گرد موجود تمام جگہوں میں ٹائٹن سب سے ہیجان انگیز جگہ ہے۔ ٹائٹن پر پہاڑ اور ریگستان ، دریا اور جھیلیں موجود ہیں۔ نظام شمسی میں صرف زمین ہی ارضیاتی تنوع میں ٹائٹن سے مقابلہ کر سکتی ہے۔ مگر یہاں کی طلسمی دنیا میں چٹانوں کی جگہ پر پانی کی ٹھوس برف نے لے رکھی ہے جس کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے ٣٠٠ ڈگری نیچے ہے۔ اور پانی کے بجائے وہاں دریاؤں میں میتھین بہتی ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مائع میتھین برستی ہے یعنی سیال قدرتی گیس۔ یہ مائع گیس دریاؤں اور جھیلوں کو بھر دیتی ہے اسی وجہ سے ٹائٹن ایک ناقابل بیان جگہ بن گئی ہے۔ یہ نظام شمسی میں موجود وہ دوسری جگہ ہے جہاں ہمیں معلوم ہے کہ سطح پر کوئی مائع چیز موجود ہے۔ اور زمین ہی کی طرح ٹائٹن پر نائٹروجن سے بنی کثیف فضاء موجود ہے۔ مگر ٹائٹن کی ہوا آکسیجن جس میں ہم سانس لیتے ہیں اس کے بجائے کاربن کے سالمات سے لبریز ہے۔ اسی وجہ سے وہ بے کیف نارنگی رنگ کا نظر آتا ہے۔ اس کی فضا میتھین، ایتھین ، پروپین، اور اسیٹیلین کا ملغوبہ سا ہے۔ یہاں پر پائے جانے والے نامیاتی مرکبات کی فہرست سینکڑوں کی تعداد میں جا پہنچتی ہے۔

    ٹائٹن کی اس پیچیدہ کیمیائی آب و ہوا نے سائنس دانوں کو ششدر کر دیا ہے۔ لیکن یہاں کچھ ایسی باتیں بھی موجود ہیں جو ان کی پریشانی کا سبب بھی ہیں خاص طور پر وہ وہاں موجود فضاء میں میتھین کے بارے میں بہت زیادہ پر تجسس ہیں کیونکہ یہ وہ گیس ہے جو سورج کی روشنی کے ساتھ بہت تیزی سے تعامل کرتے ہوئے زوال پذیر ہو جاتی ہے ۔ سورج سے ارب ہا میل دور ٹائٹن کی کثیف فضاء کو تو بہت عرصہ پہلے ہی غائب ہو جانا چاہئے تھا۔ وہاں ضرور میتھین کا کوئی منبع موجود ہوگا جو زوال پذیر میتھین کو پھر سے نارنگی فضاء میں بھر دیتا ہوگا۔ کیسینی کے ٹائٹن کے سفر سے پہلے سائنس دانوں کا اندازہ تھا کہ ٹائٹن کی سطح زبردست شہابی گڑھوں سے بھری ہوئی ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ شگافوں میں بنی مائع میتھین سے بھری جھیلیں اسے فضاء میں عمل تبخیر کے نتیجے میں اڑا رہی ہوں گی جس سے اس کی فضاء میں زوال پذیر میتھین کی جگہ نئی میتھین لے رہی ہوگی۔



    اس نظریے کی جانچ کے لئے کیسینی نے ایک کھوجی جس کا نام ہائی گنز تھا وہ اس کی فضاء میں چھوڑا ۔ ہائی گنز لینڈر نے اس کھوجی کو ٹائٹن کے خط استواء کے اوپر سے چھوڑا کھوجی نے پیراشوٹ کے ذریعہ سے ٹائٹن کے بادلوں کو چیرتے ہوئے اس کی سطح کے قریب جانا شروع کیا اور اس دوران اس نے تصاویر لینی بھی جاری رکھیں یہاں تک کہ یہ کھوجی ٹائٹن کی سطح پر اتر گیا۔ سطح پر اترنے کے بعد بھی اس نے تصاویر کشی کا عمل جاری رکھا ۔ جب ہائی گنز سے حاصل ہونے والی ان تصاویر کا پہلی دفعہ جائزہ لیا گیا تو ٹائٹن کی سطح پر کسی قسم کے شہابی گڑھے نظر نہیں آئے۔ ایسا لگتا تھا کسی بہتی ہوئی چیز نے وہاں کی سطح کو شکل و صورت دے دی تھی مگر کھوجی کے اترنے کی جگہ پر اور اس جگہ سے جہاں تک وہ دیکھ سکتا تھا وہاں تک وہ مائع چیز بہت ہی پہلے غائب ہو چکی تھی۔ ہائی گنز ایک ایسی جگہ پر اترا جو زمین پر موجود جگہوں ہی جیسی ہے ۔ وہاں اندھیری بنجر زمین نظر آ رہی تھی جس پر کنکر اور گول پتھر نظر پڑے ہوئے دکھائی دے رہے تھے ۔یہ پتھر ہموار اور گولائی میں ڈھلے ہوئے تھے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دریا کے راستے میں پڑے ہوئے ہوں۔ ہائی گنز کے اترنے کی جگہ پر ایسے پتھر وافر مقدار میں پڑے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں کافی ساری ریت جیسی چیز بھی دکھائی دے رہی تھی ۔ جس ریگستان میں کھوجی اترا تھا وہ بہت ہی بڑا تھا ۔ یہ ریگستان ٹائٹن کی پوری خط استواء پر پھیلا ہوا ہے جہاں ٣٠٠ فٹ اونچے ریت کے ٹیلے موجود ہیں جو وہاں پر چلنے والی ہواؤں نے بنائے ہیں۔ یہ ٹیلے بالکل زمین پر موجود ٹیلوں جیسے ہی دکھائی دے رہے تھے ۔

    اگر وسیع شہابی گڑھوں میں بنی ہوئی جھیلیں خط استواء پر موجود نہیں ہیں تو پھر وہ ٹائٹن کے قطبین پر ضرور موجود ہوں گی۔ کیسینی نے اپنے اڑنے کے جدول میں مزید اضافہ کرلیا تھا تاکہ وہاں پر مائع میتھین کے موجود ہونے کا کوئی سراغ لگایا جا سکے۔ کیسینی خلائی جہاز میں موجود آلات میں سے ایک آلہ اصل میں ایک ریڈار بھی تھا۔ اس نے ریڈار کی لہریں ٹائٹن کی سطح پر پھینکیں جن کو اس کی سطح سے ٹکرا کر واپس آنا تھا۔ اس آلے کے ساتھ دو سال کی تلاش کے دوران سائنس دانوں نے آخر کر کچھ اشارتی ثبوت حاصل کر ہی لئے۔ سائنس دان اس بات کے ہی انتظار میں تھے۔ ایک چیز انہوں نے اس کے شمالی قطب کے قریب ڈھونڈھ لی تھی ٹائٹن کی سطح پر کچھ ایسے حصّے بھی تھے جو ریڈار کی لہروں کو واپس منعکس نہیں کر رہے تھے اور یہ بات کسی مائع کے موجود ہونے کی جانب اشارہ کر رہی تھی۔

    مائع ریڈار سے نکلنے والی توانائی کو جذب کر لیتا ہے ور اس کو واپس منعکس نہیں کرتا۔ بعد کی مزید تلاش نے اس بات کو اور راسخ کر دیا۔ جب کیسینی نے ٹائٹن کے شمالی قطب کی تصویر لی تو اس نے آخر کار وہاں پر موجود میتھین کی جھیلیں اور سمندر دیکھ ہی لئے جس کی سائنس دان تلاش میں تھے۔ ناصرف وہ ان شہابی گڑھوں میں موجود تھی جس کا سائنس دان سوچ رہے تھے بلکہ وہ ان بڑے طاسوں میں بھی جھیلوں کی صورت میں تھے۔ یہ طاس زمین پر موجود طاسوں جیسے ہی تھے۔ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں موجود مونو کاؤنٹی میں ایک ایسی طاس میں جھیل موجود ہے جو ٹیکٹونک حرکت کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔ یہ ارضیاتی خاصیت اس بات کی طرف عندیہ دے رہی تھیں کہ یہ چاند ارضیاتی طور پر زندہ ہے۔ 


    اگر ہم ٹائٹن کے سب سے بڑے سمندر کراکن مئیر کے کنارے پر بیٹھیں تو ہمیں کافی شناسا خشکی کے مناظر دکھائی دیں گے۔ ماہرین اس وقت کافی دور سے اس کی پرسکون سطح دیکھ رہے تھے ۔ ماہرین سمجھتے تھے کہ وہاں پر ہوائیں موجود نہیں ہیں اس لئے وہاں پرسکون میتھین اور ایتھین کی جھیلیں موجود ہیں۔ دور سے انھیں ٹیلے اور پہاڑیاں بھی نظر آئیں ۔ یہ تمام چیزیں ٹائٹن پر ٹیکٹونک عمل کے نتیجے میں ہی وجود میں آئی ہیں ۔ کم از کم اسی طرح جیسے زمین پر پہاڑ بنے ہیں ویسے ہی عمل میں وہاں پر پہاڑ بنے ہیں۔ بس ٹائٹن پر ٹھنڈ بہت زیادہ ہے۔ آتش فشاں لاوے کی جگہ پانی اگلتے ہیں۔ پہاڑ اور طاس ٹھوس برف کے بننے ہوئے ہیں۔

    شروع میں سائنس دان سمجھتے تھے کہ یہاں پر موجود جھیلیں ٹائٹن کے کہر کی ذمے دار ہیں ۔ مگر جب کیسینی نے ان جھیلوں کی دوبارہ پیمائش کی تو جھیلوں کی سطح میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا جھیلوں کی سطح اتنی ہی تھی جتنی پہلے ناپی گئی تھی ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جھیلوں میں تو تبخیری عمل بند ہی تھا۔ سائنس دان پریشان ہو گئے۔ یا تو جھیلیں وہاں کے کرۂ فضائی کو میتھین نہیں مہیا کر رہیں تھیں یا پھر کوئی اور چیز ان کو دوبارہ سے بھر دیتی تھی۔

    سیاروی ماہر ارضیات جینی ریڈ یبا کو اس بات کا یقین ہے کہ میتھین کے اس راز کا جواب چٹانوں کی تشکیل جن کو توفا (یہ ایک مسام دار چھونے کا پتھر ہوتا ہے جو چشموں سے نکلتا ہے)کہتے ہیں میں چھپا ہوا ہے۔ ان کو ایسے ہی پتھر مونو جھیل میں بھی ملے ہیں جہاں صاف چشمے کا پانی زمین سے نکل کر معدنیات سے بھرپور جھیل کے پانی میں پہنچتا ہے اور پھر دونوں قسم کے پانی وہاں آکر تعامل کرتے ہیں۔ یہ بہت ہی زبردست دریافت تھی ہو سکتا ہے کہ یہ کھوج وہاں پر موجود میتھین کے گم شدہ سراغ کو ڈھونڈنے میں مدد دے۔ توفا کی چٹان دو مختلف قسم کے کیمیائی خاصیت رکھنے والے سیال کی وجہ سے بنتی ہیں۔ یہاں پر پانی جھیل کے نچلی سطح سے نکلتا ہے جو جھیل کے پانی جس کی کیمیائی خصوصیات اس سے کافی الگ ہوتی ہیں سے تعامل کرتا ہے اس عمل میں وہ تمام کیمیائی اجزاء حل ہونے کے بعد ایک دوسرے سے مل کر اس قسم کا پتھر بناتے ہیں۔ ریڈار سے حاصل کردہ تصاویر نے اس بات سے پردہ اٹھایا کہ وہاں پر چٹانی بناوٹ کے پتھر جھیل کے کنارے پر موجود ہیں جو مونو جھیل کے توفا کے پتھروں جیسے ہی ہیں۔ لہٰذا جب جھیل کی سطح کے نیچے میتھین کے چشمے سے نکلتی ہوئی میتھین اوپری جھیل میں شامل میتھین سے تعامل کرتی ہوگی تو اس کے نتیجے میں چٹان میں مسام سے بن جاتے ہوں گے۔ وہاں پر یہ نامیاتی چٹانی جھیل کے کنارے پر ملی ہیں۔ اور اب یہ بات نہایت وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ جھیل کے تلے میں میتھین کے بلبلے بھی نکلتے ہیں ۔ 

    اگر جینی کا تجزیہ صحیح ہے تو ٹائٹن کی جھیلیں بخارات بن کر اڑتی ہوئی اس کی فضاء کو میتھین سے بھرتی ہوں گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ سطح کے نیچے موجود میتھین کے چشموں سے ہمہ وقت نکلتی ہوئی میتھین سے بھی بھرتی جاتی رہی ہوں گی۔ ٹائٹن مردہ جہاں نہیں ہے ۔ وہ اپنی ارضیاتی اور پیچیدہ کیمیائی عمل کے ساتھ زندہ ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ یہ کچھ اور بہت بڑی چیز کے ساتھ بھی زندہ ہو۔ 

    سائنس دانوں کا خیال تھا کہ زحل سورج سے اس قدر فاصلے پر اور بہت زیادہ ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے کوئی زیادہ دلچسپی کا سامان نہیں رکھتا ہوگا۔ لیکن یہ ان کی خام خیالی تھی۔ یہ سیارہ تو اپنے عامل موسموں ، گرج چمک اور قطبی روشنیوں کے ساتھ ہمیں گنگ کر رہا ہے۔ اس کے حلقے مسلسل ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں۔ اور اس کے چاند برف کی منجمد گیندیں نہیں ہیں جیسا کہ سائنس دان امید لگا کر بیٹھے تھے۔ اس کے مہتابوں کی بناوٹ عامل ارضیاتی عمل، گرم پانی کے چشموں اور مائع میتھین کے نتیجے میں ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے ۔ 

    اب سائنس دان زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن کے اوپر شاید ماوراء ارض زندگی کے موجود ہونے کا بین ثبوت حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ عام طور سے سائنس دان حیات کی تلاش بہتے ہوئے پانی میں کرتے ہیں مشہور کہاوت ہے کہ پانی کے پیچھے چلو۔ اگرچہ یہ کافی اچھی حکمت عملی ہوتی ہے لیکن ہم صرف یہ سوچیں کہ اسی جگہ پر زندگی موجود ہوگی جہاں بہتا ہوا پانی ہوگا تو اس سے ہم اپنے آپ کو محدود کر دیں گے ۔ حیات کو ڈھونڈنے کے مواقع اس وقت کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں جب ہم بجائے صرف پانی کے تمام مائع چیزوں کے پیچھے چلیں۔ سیاروی ماہر حیاتیات کرس مکائی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ٹائٹن پر حیات کا ارتقاء مائع پانی کے بجائے مائع میتھین میں ہو سکتا ہے۔ چونکہ ٹائٹن بہت ہی زیادہ سرد جگہ ہے لہٰذا سادی حیات کو بھی وہاں پر الگ طرح کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنی ہوگی۔ ٹائٹن جیسے ماحول میں جو حجم میں جتنا بڑا ہوگا اتنا ہی اس کے لئے بہتر ہوگا۔


    جب ہم دوسرے جہانوں کو حیات کھوجنے کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں تو ہم وہاں پر بیکٹیریا کی تلاش کرتے ہیں۔ اس دوران ہم اس مفروضے کو مان لیتے ہیں کہ جرثومے بہت ہی چھوٹے ہوں گے۔ مگر کیا ہم خود سے کبھی یہ سوال کیا ہے کہ بیکٹیریا اتنے چھوٹے کیوں ہوتے ہیں؟ اس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ وہ پانی میں رہتے ہیں۔ زمین پر بیکٹیریا کو پھلنے پھولنے کے لئے بہت زیادہ بڑا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پانی لگ بھگ ہر چیز کو حل کر دیتا ہے۔ لہٰذا یہ آسانی سے ایک ایسا نامیاتی مرکبات سے بھرپور ماحول مہیا کر دیتا ہے جہاں چھوٹی اور سادہ حیات کامیابی سے اپنی زندگی گزار سکتی ہیں۔ ٹائٹن پر موجود مائع میتھین اور ایتھین کی شکل میں ہے جو پانی سے بہت ہی مختلف ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہاں پر موجود حیات چھوٹی یا خرد بینی ہو۔ بلکہ حقیقت میں تو وہاں پر موجود حیات کو بہت ہی زیادہ جسیم ہونا چاہئے۔


    مکائی کے خیال میں ٹائٹن پر یک خلوی حیات جو جھیلوں کے کناروں پرہتی ہو وہ کاغذ کی شیٹ جتنی ہوگی۔ ان کی بڑی بالائی سطح، غذا کو نامیاتی مرکبات کی حامل مائع میتھین سے کھنگال کر زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔ ان کے خیال کے مطابق اگر ٹائٹن پر کسی بھی قسم کی حیات موجود ہوگی جو وہاں موجود میتھین انحصار کرکے زندہ رہ رہی ہوگی تو اس کو دیکھنے کے لئے ہمیں کسی خردبین کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جب کیسینی نے ہائے گنز کھوجی کو ٹائٹن کے بادلوں کے اوپر چھوڑا تھا تو اس وقت مکائی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کے پاس سطح پر موجود حیات کے بارے میں اپنے نظریے کو پکاّ کرنے کا موقع ہے۔ ان کی پسندیدہ میتھین میں پرورش پانے والی حیات کو زندہ رہنے کے لئے کھانا بھی چاہئے ہوگا۔ ان کو امید تھی کہ ہو سکتا ہے کہ ہائے گنز پر لگے حساس سینسر ز سطح پر چلنے والی کسی ضیافت کا ثبوت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ وہ اس وقت کے بارے میں بتاتے ہیں جب ہائے گنز ٹائٹن کی طرف گامزن تھا اور وہ ہوٹل کے کمرے میں بیٹھ کر ایک مقالہ لکھ رہے تھے جس میں انھوں نے کچھ سوالات اٹھائے تھے مثلاً اگر ٹائٹن پر حیات موجود ہوئی تو وہ کیا کھاتی ہوگی؟ وہ کیسی نظر آتی ہوگی؟ کس طرح سے یہ کھوجی ٹائٹن کی فضاء سے اس کو تلاش کرے گا؟ جس دن ہائے گنز وہاں پر اترا اس دن انہوں نے اپنا یہ مضمون ایک رسالے کے پاس جمع کروا دیا ۔ اس مضمون میں انہوں نے اس بات کا اندازہ لگایا تھا کہ اگر ٹائٹن پر حیات موجود ہوئی تو وہ ہائیڈروجن کھاتی ہوگی اور کھوجی اس بات کو ہائیڈروجن کی قلت سے ناپ سکے گا۔ لہٰذا ان کے خیال میں وہاں پر موجود ہائیڈروجن کی سطح کو ناپنا چاہئے۔ 

    ہائے گنز کے پیراشوٹ اس کی فضاء کو چیرتے ہوئے جب نیچے جا رہے تھے اس وقت وہاں پر موجود گیسوں کا نمونہ حاصل کیا گیا۔ فضاء کی اوپری اور درمیانی تہہ میں کافی ساری ہائیڈروجن موجود تھی مگر ٹائٹن کی سطح پر اس کی مقدار نے حیرت زدہ کر دیا۔ سطح کے قریب ہوا میں ہائیڈروجن کی مقدار کم ہوتی ہوئی نظر آئی ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی چیز اس کو استعمال کر رہی تھی۔ مکائی بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ خبر سنی کہ وہاں سطح پر ہائیڈروجن میں کمی پائی گئی ہے تو ان کا دل زور زور سے دھڑکنا شروع ہو گیا تھا کیونکہ ہائیڈروجن کی عسرت کی وجہ ان کے مطابق علم الحیات کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا تھا۔ یہ بہت ہی ہیجان انگیز دریافت تھی کیونکہ اس بات کی پیشن گوئی پہلے سے کی جاچکی تھی اور اب یہ بات سچ بھی ثابت ہو گئی تھی ان تمام حوصلہ افزا باتوں کے باوجود سائنس دانوں کو اس بات کا انتظار کرنا تھا کہ وہ ہائیڈروجن کو براہ راست ناپ کر دوسرے ذرائع سے بھی حاصل کردہ نتائج کی تصدیق کر لیں۔

    اگر مستقبل کے مشن نے وہاں پر میتھین پر انحصار کرنے والی زندگی کا پتا دیا تو یہ سائنس کی دنیا میں ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی دریافت ہوگی۔ یہاں پر موجود ہونے والی حیات کا درجہ حرارت نہایت کم ہوگا اور یہ زمین پر موجود حیات سے بالکل علیحدہ طریقے سے پروان چڑھی ہوگی۔ فرض کریں کہ اگر ہم مریخ پر حیات کو پاتے تو اس بات کا امکان ہمیشہ سے تھا کہ ہم اس کی خلائی مخلوق سے چٹانیں، برف اور کچھ دوسری چیزیں ادل بدل کر سکتے تھے۔ لیکن زحل اور اس کے گردو پیش میں پائی جانے والی مخلوق سے اس بات کا امکان ناممکنات میں سے ہی ہے۔ اگر کوئی حیات کی دوسری قسم نظام شمسی میں پائی گئی خاص طور پر کسی ایسی جگہ جو ٹائٹن کے جیسی ہے تو وہ ہم سے انتہائی اجنبی ، بہت زیادہ سرد اور حد سے زیادہ مختلف ہوگی۔ یہ بات ہمیں ایک اذیت ناک سچائی سے روشناس کرتی ہے۔

    روبوٹک مشن نے ترسا دینے والی ماوراء ارض سادہ حیات کے بارے میں کچھ اشارے انسیلیڈس اور ٹائٹن پر دیئے ہیں مگر زحل کی سلطنت میں ایک ہی ایسی جگہ ہے جو دیو ہیکل بیکٹیریا کے موجود ہونے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے لیکن کیا وہ ایسی جگہ ہے جس کو انسان ایک دن اپنا دوسرا گھر کہہ سکیں ؟ زحل سورج سے ایک ارب میل کے فاصلے سے بھی زیادہ دور ہے ۔ یہاں سے اس کی سطح سے منعکس ہونے والی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں ایک گھنٹے سے بھی زیادہ کا وقت لگتا ہے۔ اس کے باوجود مستقبل میں انسانی تہذیب ایک دن گیسی دیو ہیکل سیاروں کے گرد موجود چاندوں کو اپنا ٹھکانہ بنا سکتی ہے۔ یہ اتنا آسان نہیں ہوگا اس کے باوجود زحل پر ایسی چیزیں موجود ہیں جن کے لئے تکالیف کو سہا جا سکتا ہے۔ یہاں پر ایک جادوئی ایندھن جس کو ہم ہیلیئم - ٣ کہتے ہیں موجود ہے جو ہماری بڑھتی ہوئی توانائی کی ضرورتوں کو لاکھوں سال تک پورا کر سکتا ہے۔ کچھ مستقبلی لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ زحل پر جانا معاشی فائدہ مند سودا ہے۔ نا صرف زحل کے چاندوں سے معدنیات کی کان کنی کی جا سکتی ہے بلکہ وہاں پر موجود ہیلیئم - ٣ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہیلیئم - ٣ بہت ہی کمیاب مادّہ ہے جس کو ہم گداختی انجن میں استعمال کر سکتے ہیں جو شاید ہمیں لا محدود توانائی مہیا کر سکتا ہے۔

    آنے والی صدیوں میں ہو سکتا ہے کہ ہیلیئم - ٣ تیل کے ایندھن کی جگہ لے لے۔ ایک نیوٹران اور دو پروٹون کے ساتھ ، ہیلیئم - ٣ ایک ایسا منفرد عنصر ہے جو توانائی کو پیدا کرنے والے گداختی عمل میں استعمال ہونے کے لئے نہایت ہی مناسب ہے۔ یہ وہی عمل ہے جو کسی ستارے کے قلب میں چلتا ہے۔ جب دو مرکزے آپس میں ٹکرا کر زبردست دباؤ پر پستے ہیں تو ان کا انضمام ہو جاتا ہے جس سے ایک نیا بھاری عنصر اور توانائی کی ایک بوچھاڑ وجود میں آتی ہے ۔ سب سے اچھی بات جو ہے وہ یہ کہ ہیلیئم - ٣ اس قسم کے عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تابکاری کو نہیں چھوڑتا ۔ صرف مسئلہ یہ ہے کہ ہیلیئم - ٣ کرۂ ارض پر وافر مقدار میں پایا نہیں جاتا۔ ہم کچھ مقدار تو اس کی اپنے چاند سے بھی حاصل کر سکتے ہیں لیکن زیادہ تر اس کے خزانے گیسی دیو ہیکل سیاروں کی فضاؤں میں پائے جاتے ہیں۔ گیسی دیو ہیکل سیاروں کو نظام شمسی کا خلیج فارس بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ سورج سے باہر نایاب ہیلیئم - ٣ کے بھنڈار وہیں پر موجود ہیں۔ گیسی دیو ایک طرح سے نا ختم ہونے والی ہیلیئم -٣ کی رصد فراہم کرتے ہیں ۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس کو حاصل کیسے کیا جائے ؟

    ہیلیئم - ٣ کی سب سے زیادہ مقدار تو مشتری میں پائی جاتی ہے۔ مگر سیارے کی اپنی زبردست ثقلی قوّت اور خطرناک تابکاری پٹی اس کو کان کنی کے لئے ایک شجر ممنوعہ بنا دیتی ہے۔ نیپچون اور یورینس تو بہت زیادہ دور ہیں لہٰذا ابھی تو وہاں کا سوچنا بھی فضول ہے۔ بڑے گیسی دیو ہیکل سیاروں میں صرف ایک زحل ہی ایسا بچتا ہے جس کی دوسرے سیارے کے مقابلے میں نسبتاً کم قوّت ثقل ہے اور تابکاری بھی مشتری کے مقابلے میں کہیں زیادہ کم ہے۔ اگر ہماری مستقبل کی معیشت کا دارومدار ہیلیئم - ٣ پر چلنے والے گداختی عمل پر ہوگا تو اس کے لئے زحل ہے سب سے بہترین جگہ ہوگی۔

    مستقبلیوں نے تو پروں والے ڈرون کے سپنے اپنی آنکھوں میں سجا لئے ہیں جو زحل کی فضاء میں اوپری سطح پر اڑتے ہوئے گیسوں کو جمع کرتے پھر رہے ہوں گے۔ اس شاندار ایندھن کو بنایا کہاں جائے گا؟ ممکنہ طور پر ایندھن بنانے کی سب سے بہترین جگہ ٹائٹن ہی ہوگی۔ جہاں ثقلی قوّت ہمارے چاند جتنی ہلکی ہوگی اور زمین جیسا کثیف کرۂ فضائی بھی موجود ہوگا ۔ ٹائٹن انسانوں کی بستی بسانے کے لئے بہت ہی مناسب جگہ ہے۔ ٹائٹن پر بڑے گنبد سے بنائے جا سکتے ہیں۔ ان گنبدوں کو زیادہ دباؤ جھیلنے کی ضرورت نہیں ہوگی لہٰذا ان کو بہت زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان کو پتلی پھولنے والی جھلیوں سے بنایا جاسکے گا۔ وہاں پر موجود شہر گنبد نما ہوں گے جیسا کہ کسی سائنسی فلموں یا کہانیوں میں بیان کئیے جاتے ہیں۔ اس طرح کے شہر کہیں اور بنانے ممکن نہیں ہیں مثلاً جیسے کہ ہمارا چاند ۔ٹائٹن کی سطح کے اوپر چلنا مریخ یا چاند کی سطح پر چلنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ ٹائٹن پر موجود دباؤ انسانوں کے لئے مناسب ہے۔ یہ زمین سے ١۔٥ گنا زیادہ ہے ۔ وہاں پر زندہ رہنے کے لئے آکسیجن اور نہایت گرم کپڑوں کی ضرورت ہوگی۔ مگر وہاں پر ٹھنڈ اتنی محسوس نہیں ہوگی جتنا کہ آپ سوچ رہے ہیں کیونکہ وہاں پر ہوا موجود نہیں ہے اور فضاء بہت ہی پرسکون ہے۔ انٹارکٹکا میں پہنے جانے والے کپڑے وہاں پر پہننے کے قابل ہوں گے۔



    ان تمام باتوں کے پیش نظر ہم اس بات کا تصوّر کر سکتے ہیں کہ ٹائٹن کی سطح پر خلائی جہاز سے اترنے والے ایک ماسک پہنے ہوئے ہوں گے یہ ماسک ویسا ہوگا جیسا کہ ا سکوبا ڈائیونگ میں آکسیجن کا ہوتا ہے۔ اس ماسک کو پہن کر وہ ٹائٹن کی سطح پر چل رہے ہوں گے ۔ ٹائٹن کی کم ثقلی قوّت اور کثیف ماحول ہمیں ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ بھی رکھ سکتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ وہاں آپ کو پر لگ جائیں گے ۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ وہاں پر موجود کوئی بھی شخص اپنے آپ کو ایسا محسوس کر سکتا ہے جیسے کہ وہ چاند پر موجود ہو لیکن ٹائٹن کے کثیف ماحول کے ساتھ وہاں پر موجود کوئی بھی شخص اس کی سطح سے اٹھ کر تھوڑا سے ضرور اڑ سکتا ہے۔

    جب ہیلیئم - ٣ کی تجارت کی راہداری کھل جائے گی اور زمین ایک گداختی معیشت بن جائے گی اس وقت راکٹ کی ایک نئی قسم بین السیارہ سفر عوام الناس کے لئے شروع کر دے گی اور انسانوں کو مریخ اور مشتری تک برسوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں لے جائے گی ۔ ہیلیئم - ٣ خود سے زحل کے سفر کو ممکن بنا دے گی۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ آنے والی کچھ صدیوں میں جب خلائی سفر آسان ہوگا تو خلائی ہوٹل مریخ اور چاند کے گرد گھومتے ہوئے موجود ہوں گے۔ اور یہ سب کسی اور کے لئے نہیں بلکہ زحل پر جانے والوں کے لئے ہوں گے۔ سائنس دان امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ایک دن مستقبل میں ایسا ضرور آئے گا جب خلائی سیاحت باقاعدہ ایک صنعت کی شکل اختیار کر لے گی اور لوگ انسیلیڈس جیسی جگہوں پر گھومنے جا سکیں گے۔ ہو سکتا ہے وہاں پر موجود جگہوں کے نام کچھ ایسے ہوں - انسیلیڈس بین السیارہ چشمہ پارک ۔ 

    یہ گھومنے کے لئے ایک قابل دید جگہ ہوگی۔ انسیلیڈس پر کھڑے ہو کر وہاں کا نظارہ کرنا ایک خوشگوار منظر ہوگا۔ چشمے سے نکلتی ہوئی برف واپس جمتی ہوئی نیچے آ رہی ہوگی جس سے سطح بے عیب سفید رنگ کی دکھائی دینے لگے گی۔ یہ جگہ نظام شمسی میں موجود ا سکینگ کے لئے سب سے بہترین جگہ ہوگی۔ ہم زحل کے اس قدر قریب سفر کر سکیں گے کہ اس کے حلقے ہمیں بالکل سامنے نظر آئیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ان حلقوں کے درمیان چکر لگاتے ہوئے چاند بھی دیکھ سکیں جو حلقوں میں موجود ذرّات کو کھینچتے، دھکیلتے اور توڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ہم وہاں کئی دفعہ جا سکیں گے اور ہر دفعہ ہم ایک اجنبی اور ہیجان انگیز دنیا پائیں گے۔

    ہماری دوربینوں سے ٹھنڈے مردہ نگینے کی طرح نظر آنے سے لے کر ایک جادوئی جھٹکا لگانے والی دنیا تک ، اور اپنے مہتابوں کے زندہ ہو جانے سے لے کر ان کو حیات کی پرورش کرنے والا بنانے تک زحل مستقبل میں جلد ہی کسی دن ہماری کائنات کو بدل سکتا ہے ۔یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کائنات میں کبھی بھی کوئی چیز ایک جیسی نہیں رہتی۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: سیارہ زحل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top