Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات, اکتوبر 13, 2016

    آئن سٹائن کے نظریات کے ثبوت - حصّہ دوم


    آئن سٹائن کے عمومی نظریہ کی پہلی مرتبہ اطلاع برلن اکیڈمی آف سائنسز کو 1915ء کے دوسرے نصف حصّے کے دوران دی گئی، اور اس سے اگلے برس مزید تفصیل سے شائع ہوئی۔ آئن سٹائن کے مقالے کی نقول قدرتی طور پرنیدر لینڈ میں موجود اس کے دوستوں کے پاس بھی گئیں اور ان دوستوں میں سے ایک ولیم ڈی سٹر نے آئن سٹائن کے مقالے کی ایک نقل ایڈنگٹن کو بھی ارسال کر دی۔ 1916ء اور 1917ء میں ڈی سٹر نے اپنے تین مقالے بھی رائل ایسٹرونامیکل سوسائٹی کو شائع ہونے کے لئے بھیجے۔ یہ جزوی طور پر آئن سٹائن کے کام پر کئے جانے والے تبصروں پر مبنی تھے جو اس کی اہمیت کو بیان کرتے تھے، تاہم ان تینوں میں سے آخری والے میں ڈی سٹر نے پہلی مرتبہ کائنات کی وہ تشریح پیش کی جس کی بنیاد عمومی اضافیت تھی جس میں پھیلاؤ کی ضرورت تھی۔ اس میں ہر چیز اپنی جگہ پر تھی۔ ایڈنگٹن اس وقت رائل ایسٹرونامیکل سوسائٹی کا معتمد تھا اور ہم جانتے ہیں کہ اس نے مقالے کو کافی احتیاط کے ساتھ پڑھا اور اس کی اطلاع شائع ہونے سے پہلے سوسائٹی کے اجلاسوں میں دی۔ وہ ایک آدمی جس میں آئن سٹائن کے نئے کام کی پوری اہمیت سمجھنے کی ذہانتو قابلیت اور پس منظر تھا وہ بالکل ٹھیک جگہ پر ٹھیک وقت پر خبر حاصل کرنے کے لئے موجود تھا۔ اس سے پہلے کہ آئن سٹائن کا نیا نظریہ ٹھیک ثابت ہو قسمت نے ابھی کہانی میں کافی سارے موڑ لینے تھے۔ 

    روشنی کے خم کو جانچنے کا طریقہ جیسا کہ آئن سٹائن نے بتایا تھا کہ سورج کے قریب ستاروں کو سورج گرہن کے دوران دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ عام طور پر سورج کی چمکدار روشنی کی وجہ سے یہ ناممکن ہوتا ہے کہ آسمان کے اس حصّے میں ستاروں کی روشنی کو دیکھا جا سکے تاہم جب سورج کی روشنی کو عارضی طور پر چاند روک لیتا ہے تو یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ ستاروں کے مقام کی عکس بندی کی جا سکے جو سورج سے کافی دور اسی سمت میں آسمان میں موجود ہوتے ہیں۔ اس طرح کی تصاویر کو آسمان کے اسی حصّے کی تصاویر کے ساتھ چھ ماہ بعد یا پہلے، جب سورج زمین کی دوسری طرف ہو، کی تصاویر سے تقابل کر کے ستاروں کے ظاہری مقام میں ہونے والی روشنی کے خم سے ہوئی کسی بھی تبدیلی دیکھنا ممکن ہے۔ ماہرین فلکیات کو بس سورج گرہن کی ضرورت تھی۔ مثالی طور پر اگر وہ اپنی پسند کا گرہن چن سکتے تو وہ کسی بھی برس 29 مئی کے بارے میں چنتے کیوں کہ اس دوران سورج ایک غیر معمولی روشن ستاروں کے میدان کے سامنے سے ہائیڈیز کی سمت میں گزرتا ہے۔ گرہن زمین کے کچھ حصے سے بہت تواتر کے ساتھ نظر آتے ہیں تاہم 29 مئی کو ہونے والا گرہن (یا برس کا کوئی دوسرا مخصوص دن) ایک ایسی چیز ہے جو بہت ہی شاذونادر وقوع ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایڈنگٹن نے خود سے تبصرہ کیا، 'یہ ضروری ہے کہ سورج کے ہزار ہا برسوں میں ہونے والے تمام گرہنوں کا انتظار کیا جائے تاکہ وہ خوش قسمت تاریخ اتفاق سے مل سکے۔ ' تاہم غیر معمولی طور پر خوش قسمتی سے ایک گرہن 1919ء میں 29 مئی کو ہونا تھا۔ یہ اتنا اچھا موقع تھا کہ اس کو ضائع نہیں کیا جا سکتا تھا بشرطیکہ جنگ وقت پر ختم ہو جاتی تاکہ گرہن کو دیکھنے کے لئے ایک سفر ترتیب دیا جا سکتا، یہ گرہن برازیل سے اور افریقہ کے مغربی ساحل کے جزیرے پرینسیپی سے دیکھا جا سکتا تھا۔ 


    1917ء میں خاکہ بننا شروع ہو گیا تھا۔ شاہی فلکیات دان سر فرینک ڈائیسن دو سفر ترتیب دینے کے لئے پرجوش تھے تاکہ 1919ء میں ہونے والے گرہن کو دیکھا جا سکے اور ناگہانی صورتحال سے نبٹنے کے منصوبے کو بنانا شروع کر دیا گیا تھا ۔ دریں اثناء برطانیہ میں جبری بھرتی شروع ہو گئی جس میں تمام طاقتور آدمی بھرتی ہونے کے لائق تھے۔ ایڈنگٹن چونتیس برس کا طاقتور تھا وہ سرگرم خانفین اور باضمیر مخالف تھا۔ یہ 1917ء میں ہونے والی ایک مشکل بات تھی، اور یہ مزید پیچیدہ اس وقت ہو گئی جب سائنسی سماج نے جان لیا کہ ایڈنگٹن صفحہ اول کا سائنس دان ہے۔ طبیعیاتی سماج اس وقت بھی ہینری موسلے کے غم میں نڈھال تھا جو ممتاز ایکس رے کا ماہرِ قَلمیات تھا اور 1915ء میں گالی پولی میں ہونے والی لڑائی میں جاں بحق ہو گیا تھا، اس واقعے نے حکومت کی بہترین سائنس دانوں کو مرنے کے لئے محاذ پر بھیجنے کے فیصلے پر سوال اٹھا دیئے۔ ممتاز سائنس دانوں کی ایک جماعت نے وزارت داخلہ پر دباؤ ڈالا ایڈنگٹن کواس بنیاد پر استثنا دے دی جائے کہ برطانیہ کے طویل مدتی مفاد اس کو مناسب کام دے کر بہتر طور پر حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ وزارت داخلہ کو بالآخر ماننا پڑا اور انہوں نے ایڈنگٹن کو لکھا اور ایک خط بھیجا کہ وہ اس پر دستخط کر کے واپس کرے۔ تاہم ایڈنگٹن نے اس خط میں ایک حاشیہ لگا دیا کہ اگر اس کو بیان کردہ بنیاد پر نہیں روکا گیا تو تو وہ ضمیر کی بنیاد پر التواء کا دعوا کر سکے گا۔ یہ ایک دیانت داری اور با اصول فیصلہ تھا جس کی وجہ سے وزارت داخلہ مسئلے میں پڑ گیا اور وہ سائنس دان جنہوں نے ایڈنگٹن کی خاطر درخواست کی تھی وہ تھوڑا پریشان ہو گئے تھے۔ مروجہ قانون کے مطابق باضمیر مخالف کو زراعت یا صنعت میں کسی بھی ہم موافق کام پر نہیں بھیجا جا سکتا تھا؛ ایڈنگٹن بالکل تیار تھا کہ اپنے خانفین دوستوں کو جا کر مل جائے۔ مزید بحث کے سلسلے میں ڈائیسن بطور شاہی ماہر فلکیات کے شامل ہوا جس میں ایڈنگٹن کا خط التواء میں اس شرط کے ساتھ ڈال دیا کہ اگر جنگ مئی 1919ء تک ختم ہو گئی تو وہ اس سفر کی قیادت کرے گا تاکہ آئن سٹائن کے نظریے کی روشنی کو خم دینے کی پیشن گوئی کی جانچ کر سکے !
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: آئن سٹائن کے نظریات کے ثبوت - حصّہ دوم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top