Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, اکتوبر 29, 2016

    دنیا کی سب سے بڑی مکڑیوں کے رازوں کو جانئے

    ٹارنٹو کی مکڑیوں کے بارے میں جانئے سب کچھ

    مکڑی سے ڈرنے والوں کے لئے تو وہ ایک خوفناک چیز ہو سکتی ہیں، تاہم ایک مرتبہ آپ اس کے خوفناک لبادے سے آگے دیکھیں تو ٹارنٹو کی مکڑی (tarantulas) ایک حیرت انگیز مخلوق ہیں۔ پوری دنیا میں منطقہ حارہ کے جنگلات سے لے کر خشک صحراؤں تک کچھ 900 انواع کے ساتھ پھیلی ہوئی ان کے خود کو ماحول سے ہم آہنگ کرنے کی قابلیت ایک ایسا کارنامہ ہے جو احترام کا مستحق ہے۔ 

    اتنی بڑی مکڑی کے لئے جال بننا قابل عمل نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود وہ اپنے گھروں میں ریشم کا استعمال کرتی ہیں۔ کئی ٹارنٹو کی مکڑیاں بلوں کو کھود کر ریشم سے دیواروں کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ ریشم کا استعمال داخلی جگہ سے کچھ دور پہلے ٹریپ وائر (زمین پر حفاظت کے لیے بچھایا ہوا تار جو پاوں پڑنے پر چوکنا کر دیتا ہے) کی صورت میں کرتی ہیں ، جس کا مقصد نہ صرف شکار کا اندازہ لگانا ہوتا ہے بلکہ ممکنہ شریک زندگی کے حاصل کرنے میں بھی مدد کرتا ہے ۔ کچھ مکڑیاں درختوں میں، ریشم سے بنی سرنگوں یا چھال میں موجود ریخوں میں بھی رہتی ہیں، جبکہ دیگر نوع کا کوئی مستقل گھر نہیں ہوتا اور اور وہ خانہ بدوش طرز زندگی کو ترجیح دیتی ہیں۔ عام طور پر دن کے دوران آرام کرتی ٹارنٹو کی مکڑی شکار پر حملہ کرنے کے لئے تاریکی کو ڈھال بنا کر اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ عام طور پر ان کا شکار کیڑے، مثال کے طور پر گرگٹ ہوتے ہیں، تاہم کچھ بڑی انواع چھوٹے گوشت خوروں، چھپکلیوں یہاں تک کہ پرندوں کے چوزوں تک کو شکار کر لیتی ہیں۔ ایک بار جب وہ ٹوٹ پڑتی ہیں تو 2.5 سینٹی میٹر (ایک انچ) تک کے طویل دانتوں کے جوڑے پہلے زہر کی مہلک خوراک دیتے ہیں اس کے بعد اپنے کھانے کو سیال (مائع) کی صورت میں توڑنے کے لئے ہضم کرنے کا رس ڈالتی ہیں ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ زہر کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ شہد کی مکھی کے ڈنگ سے بھی کمزور ہے لہٰذا اگرچہ تکلیف دہ تو ہوتا ہے تاہم انسانوں کو کاٹنے سے کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا۔ یہ سیارے کی سب سے بڑی مکڑیاں تو ہو سکتی ہیں، تاہم ان کے بھی دشمن ہوتے ہیں جنہیں ان کا لذید گوشت رات کے کھانے میں چاہئے ہوتا ہے۔ نتیجتاً، ٹارنٹو کی مکڑیوں نے حفاظت کے لئے کچھ بہت ہی ذہانت سے لبریز حکمت عملی تیار کر لی ہے تاکہ شکاری کو اپنے دانتوں کا استعمال کرکے پہلے ہی سے روک دے ۔ پہلی فرصت میں، مکڑی اپنے پچھلی ٹانگوں پر کھڑی ہو جاتی ہے تاکہ اپنے آپ کو بڑا دکھا سکے اور اپنے دانتوں سے خبردار کرتی ہے۔ اگر یہ حربہ کام نہیں کرتا، تو نئے جہاں کے نوع نے ایک اور ترکیب اپنی آستینوں میں چھپائی ہوئی ہے - اپنے پیٹ میں لگے ہوئے کھردرے بالوں سے حملہ اور کو چبھوتی ہے۔ پیٹ کے اوپر ٹانگوں کی تیز حرکت کے ساتھ وہ خار دار خرد بالوں کا بادل چھوڑتی ہے جو حملہ اور کی آنکھوں اور جلد کو تکلیف دیتے ہیں۔ 

    یہاں تک کہ اگر وہ کسی حملے کے دوران زخمی بھی ہو جائیں، تو ساری چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔ تمام جوڑ پایوں (مفصل پایاں[آرتھرو پوڈا]قبیل کا کوئی رکن جو بے ریڑھ جانوروں کا ہم نسل، حلقہ دار جسم اور جوڑ دار اعضا رکھتا ہے) کی طرح، نمو کے لئے ٹارنٹو کی مکڑی کو اپنی بیرونی کینچلی اتارنی ہوتی ہے۔ کینچلی اتارنے کی اس عمل کو 'پر جھاڑنا' (مولٹنگ) کہا جاتا ہے - عام طور پر سال میں ایک مرتبہ۔ پرانے بالوں کی قطاروں والے اسلحے اور مخصوص اعضاء کو بدلنے کے علاوہ، دو سے تین ماہ کے دوران پورے اعضاء دوبارہ سے بن سکتے ہیں۔



    عجیب لیکن سچ - مہلک دشمن 


    ٹارنٹو کی مکڑی کا دشمن کون عیار ناقابل شکست جانور ہے؟ 


    الف۔ عقاب 

    ب ۔بندر 

    ج سانپ 



    جواب: 


    ان دیوہیکل مکڑیوں خوف زدہ کرنے کے لئے کچھ زیادہ شکاری موجود نہیں ہیں، تاہم سر فہرست ٹارنٹو کے عقاب ہیں - جو اصل میں کوئی پرندہ تو نہیں ہے تاہم یہ کاسہ لیس زنبور (واسپ - بھڑ) ہے۔ وہ مکڑی کے بل میں داخل ہوتے ہیں، ان کو مفلوج کرتے ہیں اور ان کے پیٹ کو سینے سے پہلے ان پر انڈے دیتے ہیں۔ جب انڈے سہ جاتے ہیں تو لاروا ٹارنٹو کی مکڑیوں کو زندہ کھا لیتے ہیں! 


    کیا آپ جانتے ہیں؟

    اب تک دریافت ہونے والی ٹارنٹو کی سب سے بڑی مکڑی کی ٹانگوں کا گھیر 28 سینٹی میٹر (11 انچ) تھا - یہ کھانے کی پلیٹ کو ڈھانپنے کے لئے کافی تھی۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: دنیا کی سب سے بڑی مکڑیوں کے رازوں کو جانئے Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top