Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ، 21 اکتوبر، 2016

    انسان کے سوچنے کی قیمت - حصّہ اوّل



    ان کے آپس کے کئی اختلافات کے باوجود تمام انسانی انواع میں کئی مشترک واضح خصوصیات ہیں۔ خاص طور پر انسانوں کا دماغ دوسرے جانداروں کے مقابلے میں غیر معمولی بڑا ہے۔ وہ ممالئے جن کا وزن ساٹھ کلوگرام کا ہوتا ہے ان کے دماغ کا اوسط حجم 200 مکعب سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ 25 لاکھ برس پہلے قدیم ترین خواتین و مرد کا دماغ لگ بھگ 600 مکعب سینٹی میٹر تھا۔ جدید سیپئین کا اوسط دماغ12,00-14,00 مکعب سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ نیندرتھل کا دماغ اس سے بھی بڑا تھا۔ 

    ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ارتقاء نے بڑے دماغ کا چناؤ بس ایسے ہی کر لیا ہو گا۔ ہم اپنی اعلیٰ ذکاوت کے اتنے گرویدہ ہیں کہ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ جب دماغی طاقت کی بات آتی ہے تو زیادہ ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تاہم اگر یہ بات ہوتی تو بلی کے خاندان ایسی بلیاں پیدا کر سکتے جو حساب کر سکتیں۔ ایسا کیوں ہے کہ جانداروں کی تمام سلطنت میں واحد انسان ہے جو اس طرح کی ضخیم سوچنے کی مشینوں کے ساتھ آیا ہے۔ 

    حقیقت تو یہ ہے کہ ایک بڑا دماغ جسم کو زیادہ نچوڑتا ہے۔ اس کو اٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے خاص طور پر جب ضخیم کھوپڑی کے اندر ملفوف ہو۔ اس کو تو ایندھن فراہم کرنا بھی مشکل ہے۔ ہومو سیپئین میں دماغ کل جسم کے وزن کا 2-3 فیصد ہوتا ہے تاہم جب جسم آرام کر رہا ہوتا ہے تو یہ جسم کی 25 فیصد توانائی استعمال کرتا ہے۔ موازنے کے طور پر دوسرے بوزنوں کا دماغ سکون کے وقت صرف 8 فیصد توانائی درکار کرتا ہے۔ قدیمی انسانوں نے اپنے بڑے دماغ کے لئے دو طرح سے قیمت چکائی ۔ سب سے پہلے، انہوں نے خوراک کی تلاش میں زیادہ وقت صرف کیا۔ ثانیاً، ان کے پٹھے لاغر ہو گئے۔ جس طرح سے حکومت دفاع سے تعلیم کی طرف سرمایہ منتقل کرتی ہے، انسان توانائی کو پٹھوں سے اعصاب کی طرف موڑتے ہیں۔ یہ بمشکل سابقہ نتیجہ ہے کہ سوانا میں جینے کے لئے یہ ایک اچھی حکمت عملی تھی۔ ایک چمپانزی کسی ہومو سیپئین سے دلیل میں نہیں جیت سکتا تاہم بوزنہ انسان کی ایسی دھجیاں بکھیر سکتا ہے جیسے وہ کپڑے کی گڑیا ہو۔ 

    آج ہمارا بڑا دماغ اچھا نفع دے رہا ہے کیونکہ ہم گاڑیاں اور بندوقیں بنا سکتے ہیں جو ہمیں چمپانزی سے سے تیز بھاگنے اور ان سے ہا تھا پائی کرنے کے بجائے مناسب فاصلے پر رہتے ہوئے گولی مارنے کے قابل بناتی ہیں۔ تاہم گاڑیاں اور بندوقیں حالیہ مظہر ہیں۔ 20 لاکھ برسوں سے زائد عرصے میں انسانی اعصابی نظام بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے تاہم چند چاقو اور نوک دار چھڑیوں کو چھوڑ کر انسانوں کے لئے اس کو دکھانے کے لئے بہت ہی تھوڑا ہے۔ 

    تو پھر کس چیز نے ان 20 لاکھ برسوں میں ضخیم انسانی دماغ کے ارتقاء کو آگے بڑھایا؟ سچ کہوں تو، ہم نہیں جانتے۔ 

    ایک اور واحد انسانی خصلت یہ ہے کہ ہم دو ٹانگوں پر کھڑا ہو کر چلتے ہیں۔ کھڑے ہونا، سوانا کے کھیل یا دشمنوں کی تلاش کے لئے آسان ہے، اور حرکت دینے کے لئے غیر ضروری طور پر بازو بھی دوسرے مقاصد کے لئے آزاد ہوتے ہیں جیسا کہ پتھروں کو پھینکنا اور اشارے دینا۔ جتنا زیادہ کام یہ ہاتھ کر سکتے اتنا ہی زیادہ کامیاب اس کا مالک ہوتا، لہٰذا بڑھتے ہوئے اعصاب کے ارتکاز اور ہتھیلیوں اور انگلیوں کے پٹھوں پر ارتقائی دباؤ تھا۔ نتیجتاً انسان اپنے ہاتھوں سے بہت ہی پیچیدہ کام خاص طور پر زیادہ پیچیدہ اوزار بنا کر استعمال کر سکتے تھے۔ اولین اوزار کے بنانے کا ثبوت لگ بھگ 25 لاکھ برس پہلے کا ہے، اور اوزاروں کا بنانا اور ان کا استعمال ہی وہ معیار ہے جس سے ماہرین آثار قدیمہ قدیمی انسانوں کی شناخت کرتے ہیں۔ 

    اس کے باوجود کھڑے ہو کر چلنے کے اپنے نقصانات بھی ہیں۔ ہمارے قدیم اجداد کے ڈھانچوں کو بننے میں کئی لاکھ برس لگے تاکہ ایسی مخلوق کو سہارا دے سکیں جو چاروں پاؤں پر چلتی تھی اور جس کا نسبتاً چھوٹا سر تھا۔ سیدھے کھڑے ہونا کافی مشکل کام تھا، بطور خاص ڈھانچے کو ایک اضافی بڑی کھوپڑی کو اٹھانا تھا۔ بنی نوع انسان نے اپنی اس رعب دار نگاہ اور محنتی ہاتھوں کے لئے کمر درد اور اکڑی گردن کی مصیبت اٹھائی۔ 

    خواتین نے اضافی مصیبت سہی۔ کھڑے ہو کر چلنے کے لئے تنگ کولہوں کی ضرورت تھی، پیدائشی نالی کو بھینچنا تھا - اور یہ تب کرنا تھا جب بچے کا سر بڑے سے بڑا ہو رہا تھا۔ بچے کی پیدائش میں موت انسانی عورتوں کے لئے ایک اہم خطرہ بن گیا تھا۔ وہ عورتیں جنھوں نے پہلے بچے پیدا کئے جب شیر خوار کا دماغ اور سر نسبتاً چھوٹا اور لچک دار تھا، بہتر سفر کیا اور زیادہ بچے پیدا کرنے کے لئے جئیں۔ نتیجتاً قدرتی چناؤ نے جلدی پیدائش کا ساتھ دیا۔ اور یقیناً دوسرے جانداروں کے برعکس انسان قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں جب ان کے کئی اہم اعضاء بننے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ ایک گھوڑے کا بچہ پیدا ہونے کے بعد جلد ہی چلنے لگتا ہے، بلی کے بچے اپنی خوراک کی تلاش کرنے کے لئے اپنی ماں کو اس وقت چھوڑ دیتے ہیں جب وہ چند ہفتوں کے ہوتے ہیں۔ انسانی بچے بے بس ہوتے ہیں، رزق، حفاظت اور تعلیم کے لئے کافی برسوں تک اپنے بڑوں پر انحصار کرتے ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: انسان کے سوچنے کی قیمت - حصّہ اوّل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top