Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    اتوار، 23 اکتوبر، 2016

    کھانا پکانے کی دوڑ



    ترقی پر چڑھنے کا ایک اہم قدم آگ کا گھریلو استعمال تھا۔ کچھ انسانی انواع 800,000 برس پہلے تک آگ کا استعمال شاذونادر کر لیتی تھیں۔ تقریباً 300,000 سال پہلے ہومو ایرکٹس، نیندرتھل اور ہومو سیپئین کے جد امجد آگ کا روزانہ استعمال کرتے تھے۔ انسانوں کے پاس اب قابل اعتماد روشنی اور حرارت کا ذریعہ اور آوارہ شیروں کے خلاف مہلک ہتھیار موجود تھا۔ اس کے بعد کم عرصے میں ہی انسان نے اپنے پڑوس کو جان بوجھ کر آگ لگانی شروع کر دی۔ ایک احتیاط سے لگائی ہوئی بنجر گنجان جھاڑیوں میں آگ شکار سے لبریز ابتدائی چراہ گاہوں کو ناقابل گزر بنا دیتی ہے ۔ مزید براں ایک مرتبہ جب آگ بجھ جاتی تو پتھر کے دور کے مہم کار آگ لگی باقیات میں چل سکتے تھے اور سینکے ہوئے جانور، گری، اورآلو پیاز کو حاصل کر سکتے تھے۔ 

    تاہم آگ جو سب سے زیادہ بہتر کام کرتی تھی وہ اس کا کھانے کو پکانا تھا۔ وہ خوراک جو انسان اپنی قدرتی شکل میں ہضم نہیں کر سکتے تھے - جیسا کہ گندم، چاول، آلو - ہماری خوراک کی جنس بن گئے یہ پکنے کی وجہ سے ہوا۔ آگ نے نہ صرف خوراک کی کیمیا کو بدل دیا بلکہ اس نے اس کی حیاتیات کو بھی بدل دیا۔ پکانے سے خوراک میں موجود بکثرت جراثیم اور طفیلئے مر جاتے تھے۔ انسانوں کو بھی ان کے پرانے پسندیدہ پھل، گریاں، کیڑے اور مردار چبانے اور ہضم کرنے کے لئے آسانی ہوتی بشرطیکہ وہ پکے ہوئے ہوتے۔ جبکہ چمپانزی ایک دن میں پانچ گھنٹے خام خوراک کو چبانے کے لئے استعمال کرتے ہیں، لوگوں کے لئے ایک گھنٹہ کھانا پکانے کے لئے کافی ہوتا تھا۔ 

    پکانے کی ابتداء نے انسانوں کو مزید اقسام کی غذا کو کھانے کے قابل بنایا، کھانے کے لئے کم وقت دینا پڑا، اور چھوٹے دانتوں اور چھوٹی آنتوں سے یہ کام کیا جانے لگا۔ بعض اہل علم سمجھتے ہیں کہ پکانے کے آغاز کا ، انسانی آنت کی نالی کے مختصر ہونے اور انسانی دماغ کی بڑھوتری میں براہ راست ربط ہے۔ کیونکہ بڑی آنت اور بڑا دماغ دونوں کافی توانائی استعمال کرتے ہیں لہٰذا دونوں کو رکھنا مشکل کام تھا۔ آنتوں کو مختصر کر کے ان کی توانائی کے استعمال کو کم کر کے پکانے نے نادانستہ طور پر نیندرتھل اور سیپئین کے بڑے دماغ کی طرف کا راستہ کھول دیا تھا۔ 

    آگ نے پہلی اہم خلیج انسان اور دوسرے جانداروں کے درمیان کھولی دی تھی۔ تمام جانداروں کی طاقت کا انحصار ان کے جسموں پر ہوتا ہے: ان کے پٹھوں کی طاقت، ان کے دانتوں کا حجم، ان کے پروں کی چوڑائی۔ اگرچہ وہ ہواؤں اور رو کی طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں تاہم وہ ان قدرتی قوتوں کو قابو کرنے کے قابل نہیں ہوتے، اور ہمیشہ سے ان کی طبیعی حدود رہی ہیں۔ مثال کے طور پر چیلیں زمین سے اٹھتے ہوئے حرارتی ستونوں کی شناخت تو کر سکتی ہیں، اور اپنے دیوہیکل پروں کو پھیلا کر گرم ہوا کو اپنے آپ کو اوپر اٹھانے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے باوجود چیلیں ستونوں کے مقام کو اپنی مرضی سے نہیں بنا سکتیں، اور ان کی زیادہ سے زیادہ اڑنے کی حد سختی کے ساتھ ان کے پروں کے پھیلاؤ کے نسبت ہوتی ہے۔ 

    جب انسانوں نے آگ کو گھریلو بنا لیا تو ان کے پاس ایک فرمانبردار اور امکانی طور پر لامحدود قوت قابو میں آ گئی۔ چیلوں کے برعکس انسان چناؤ کر سکتے ہیں کہ کب اور کہاں آگ کو لگانا ہے، اور وہ آگ کا استعمال کئی طرح کے کاموں کے لئے بھی کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات آگ کی طاقت صورت، ساخت اور انسانی جسم کی طاقت سے محدود نہیں ہے۔ ایک اکلوتی عورت ماچس کی تیلی کے ساتھ چند گھنٹوں میں پورے جنگل کو جلا سکتی ہے۔ آگ کا گھریلو استعمال آنے والی چیزوں کا نقیب تھا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کھانا پکانے کی دوڑ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top