Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    بدھ, اکتوبر 19, 2016

    انسان مریخ پر رہ کر کیسا محسوس کرے گا؟

    مریخ پر رہنا کیسا لگے گا؟

    جواب: ایلن ہال

    مرحبا!!!! مریخ پر خوش آمدید۔ ۔ ۔ ۔ اپنے قیام کا لطف اٹھائیں!!!!

    اگر بہت زیادہ رجائیت پسند بھی بنوں تب بھی مجھے آپ کے توقعات کے بتوں کو توڑتے ہوئے یہ کہنا پڑے گا کہ مریخ پر رہنا کسی بھی انسان کے لئے ایک جیل میں رہنے کی طرح ثابت ہو گا۔ میرے اس جملے کو کہنے کی بیشمار وجوہات ہیں، جن میں سے چند ایک آپ کے گوش گزار کرتا ہوں۔

    آپ کبھی بھی اپنے زندگی کو سہارا دینے والے نظام کو چھوڑ تو کیا اس سے دور بھی نہیں جا سکیں گے۔ 

    آپ کو وہ خوراک کھانی پڑے گی جس کا چناؤ اس وجہ سے کیا گیا ہو گا کہ وہ سوکھی ہوئی حالت میں برسوں تک اپنی غذائیت کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اس کا ذائقہ بھی لگ بھگ ایک ہی جیسا ہو گا۔ 

    آپ کے پاس دوبارہ برسوں یا دہائیوں تک تازے گوشت اور سبزیوں کو کھانے کا کوئی موقع نہیں ہو گا کیونکہ بستی کے لئے خوراک کو اگانے کی جگہ رہنے والے مکانات سے کہیں زیادہ ہو گی۔ یہاں تک کہ پرت دار آبی زراعت کو استعمال کرنے کے لئے بھی آپ کو اگر رہنے کے مکانات کے 100 گنا نہیں تو کم از کم 20 گنا زیادہ جگہ درکار ہو گی۔ 

    آپ کی نجی زندگی بہت ہی کم ہو گی اور آپ صرف اسپنج کے ساتھ ہی نہا سکیں گے۔ 

    آپ کا جسم ثقل کی غیر موجودگی کی وجہ سے عجیب طرح سے ہو جائے گا۔ 

    آپ کسی دوسری مخلوق، پودے یا جاندار کو کبھی جنگل میں نہیں دیکھ سکیں گے۔ سب سے زیادہ امکان تجربہ گاہ میں تحقیق کے لئے چوہوں کو دیکھنے کا ہے (اصل تجربہ گاہ کے چوہے۔ ۔ ۔ اصلی آباد کاروں سے دور)۔ 

    آپ کی مکمل حیات کے خرچے کا حساب لگایا جائے گا یعنی جس میں سے آپ کیا خرچ کر سکتے ہیں۔ آپ کے پاس پسند کرنے کی چند چیزیں ہوں گی بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اصل میں آپ کے پاس چیزوں کے چناؤ کا کوئی بھی اختیار نہیں ہو گا، ہر چیز کی سختی سے نگرانی ہو گی۔ غیر منظور شدہ حمل گرا دیا جائے گا۔ بستی میں تمام تبدیلیوں کے لئے ایک مرکزی منصوبے کی منظوری کی ضرورت ہو گی۔ 

    ہر 3 دنوں میں آپ اتنی تابکاری کو جھیلیں گے جتنی کہ زمین پر پورے ایک برس میں جھیلتے ہیں۔ سرطان آباد کاروں میں عام ہو گا۔ اگرچہ خودکشیاں موت کا سب سے بڑا سبب ہوں گی۔ 

    بہت ہی کم اور عام بیماریوں کے علاج کے لئے آپ کے پاس طب کی بنیادی سہولتیں اور بیماریوں کی تشخیص کے لئے انتہائی کم مہارت ہوگی ۔ غیر معمولی سرطان یا کوئی شدید حیات کو لاحق بیماری میں زندہ رہنے کا امکان زمین پر کافی ہو گا تاہم یہی چیز مریخ پر موت کا پروانہ بن جائے گی۔ وسائل کے محدود ہونے کی وجہ سے زندہ رہنے کے لئے کسی کو حیات کو سہارا دینے کے نظام پر رکھنے کی بھی ایک حد ہو گی۔ 

    زیادہ سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کو موت کی سزا دی جائے گی کیونکہ لوگوں کو قیدی بنا کر سزا دینا قابل عمل نہیں ہو گا کیونکہ جیل میں قیدی وسائل پر بوجھ ہوں گے۔ 

    آباد کار جو مر جائیں گے ان کے جسم کو سکھایا جائے گا تاکہ ان کے جسم کا پانی بستی کو استعمال کرنے کے لئے مل سکے۔ 

    مریخ پر پیغام کے آنے اور جانے میں لگنے والے تاخیر وقت(کم سے کم 4 سے 24 منٹ کے درمیان) کی وجہ سے آپ زمین پر موجود اپنے کسی بھی دوست یا خاندان سے کبھی بھی براہ راست بات چیت کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ 

    آپ کو اپنی ساری آزادی کی قربانی دینی ہو گی کیونکہ سرگرمیوں پر آپ کا کوئی اختیار نہیں ہو گا اور آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ کو کیا کام تفویض کیا گیا ہے۔ 

    آپ کو ایک چھوٹے سے کمرے میں رہنا ہو گا کیونکہ کسی بھی چیز کو تعمیر کرنے کے لئے کافی لاگت آئے گی۔ 

    آپ کبھی بھی تازی ہوا میں سانس نہیں لے سکیں گے، آپ کو صرف باسی بغیر حیات آور ہوا کیمیائی طور پر حاصل کی گئی ہوا میں سانس لینا ہوگا ۔ وہاں پر جو بھی پیدا ہو گا اسے معلوم ہی نہیں ہو گا کہ کھلی فضا میں سانس لینے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ 

    آپ کی صرف چند ذاتی چیزیں ہوں گی۔ 

    اگر آپ نے وہاں رہنے کا فیصلہ کر لیا تو سمجھ لیجئے کہ یہ دوزخ کا ایک باب ہے اور آپ اس سے نکل نہیں سکیں گے کیونکہ آپ پہلے ہی اس میں پھنس چکے ہوں گے۔ 

    آپ کبھی بھی ساحل پر چہل قدمی، سردی کی پہلی برف باری اور بہار کی آخری بارش، جنگل کی سیر، اپنے دوستوں کے ساتھ باربی کیو اور گرمیوں کی شام میں غروب آفتاب کے منظر سے تمام تر خوش بو کے ساتھ لطف اندوز نہیں ہو سکیں گے جو آپ کو اس بات کی یاد دلائے گی کہ زمین کس قدر خاص ہے۔ 

    مجھے یقین ہے کہ یہ صرف جھلکیاں ہی ہیں۔ ۔ ۔ میں نے زیادہ بری باتوں کا ذکر گول کر دیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو فلم کا صرف ٹریلر ہے امید ہے کہ آپ مکمل فلم دیکھنا پسند نہیں فرمائیں گے!!!!
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: انسان مریخ پر رہ کر کیسا محسوس کرے گا؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top