Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ, اکتوبر 15, 2016

    کائنات سے فرار کا آٹھواں قدم


    آٹھواں قدم: ایک خمیدہ راستے والی مشین بنائیں

    ایک اہم جز جو اس مذکورہ بالا آلے کو بنانے کے لئے لازمی ہوگا وہ اس کی وسیع بین النجمی فاصلوں پر سفر کرنے کی قابلیت ہوگی ۔ ایک ممکنہ طریقہ تو یہ ہے کہ الکیوبائر راستے کا استعمال کیا جائے۔ ایک مشین جس کو میگول الکیوبائر نے 1994ء میں تجویز کیا تھا۔ ایک خمیدہ راستے والی مشین خلاء کی مقامیات کو خلاء میں سوراخ کرکے اضافی خلاء میں چھلانگ لگاتے ہوئے تبدیل نہیں کرے گی۔ یہ صرف آپ کے آگے والی خلاء کو سکیڑ کر آپ کے پیچھے والی خلاء کو پھیلائی گی۔ ذرا ایک قالین کے اوپر چل کر میز پر پہنچنے کا تصوّر کریں۔ قالین پر چلنے کے بجائے آپ میز پر پھندا ڈال کر اس کو آہستہ سے اپنے پاس کھینچ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کے نیچے بچھا ہوا قالین آپ کے سامنے گچھا سے بن جائے گا۔ اس طرح سے آپ کو تو کم حرکت کرنی ہوگی اور آپ کے بجائے آپ کے سامنے موجود خلاء سکڑ جائے گی۔

    یاد کریں کہ خلاء خود سے روشنی کی رفتار سے تیز پھیل سکتی ہے ( کیونکہ کوئی خالص اطلاعات خالی خلاء کے پھیلنے سے منتقل نہیں ہوتی)۔ اسی طرح سے یہ ممکن ہو سکتا ہے خلاء کو سکیڑ کر روشنی کی رفتار سے بھی تیز تر سفر کیا جا سکے۔ اصل میں جب ہم قریبی ستارے کی طرف سفر کریں گے تو ہم بمشکل زمین کو چھوڑیں گے؛ ہم تو صرف اپنے سامنے موجود خلاء کو منہدم کرکے اپنے پیچھے موجود خلاء کو پھیلائیں گے۔ بجائے ہم اپنے قریبی ستارے الفا قنطورس تک سفر کریں ہم اس کو اپنے پاس لے آئیں گے۔

    الکیوبائر نے اس کو آئن سٹائن کی مساوات کے حل سے ثابت کیا - یعنی کہ یہ قوانین طبیعیات کی رو سے ممکن ہے۔ تاہم اس کی ایک قیمت ہوگی۔ آپ کو دونوں مثبت اور منفی توانائیوں کی بڑی مقدار درکار ہوگی تاکہ آپ اپنے خلائی جہاز کی چلنے کی طاقت فراہم کر سکیں۔ (مثبت توانائی آپ کے سامنے موجود خلاء کو سکیڑنے کے لئے جبکہ منفی توانائی آپ کے پیچھے خلاء کو لمبا کرنے کے لئے استعمال ہوگی ۔)کیسمیر اثر کا استعمال کرکے اس منفی توانائی کو پیدا کرنے کے لئے پلیٹوں کو پلانک لمبائی کے فاصلے پر جدا ہونا ہوگا یعنی کہ 10-33 سینٹی میٹر - یہ فاصلہ اتنا چھوٹا ہے کہ عام ذرائع سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح کے نجمی خلائی جہاز بنانے کے لئے آپ کو ایک بڑا کرہ بنانا ہوگا اور اس میں مسافروں کو بٹھانا ہوگا۔ اس بلبلے کے باہر آپ کو منفی توانائی کی پٹی استواء کے ساتھ رکھنی ہوگی۔ بلبلے کے اندر موجود مسافر اپنی جگہ سے کبھی نہیں ہلیں گے تاہم ان کے سامنے موجود خلاء روشنی کی رفتار سے تیزی سے سکڑے گا۔ لہٰذا جب مسافر بلبلے کو چھوڑیں گے تو وہ قریبی ستارے تک پہنچ چکے ہوں گے۔

    اپنے اصلی مضمون میں الکیوبائر نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ نہ صرف اس کا حل ہمیں ستاروں تک لے جا سکتا ہے بلکہ یہ وقت میں سفر کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔ دو برس بعد طبیعیات دان ایلن ای ایوریٹ نے دکھایا کہ اگر کسی کے پاس ایسے دو نجمی جہاز موجود ہوں تو وقت میں سفر کو ممکنہ طور پر خمیدہ راستوں کے اطلاق سے تواتر میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ پرنسٹن کے طبیعیات دان گوٹ کہتے ہیں، "پس ایسا لگتا ہے جیسے جین روڈنبیری ، اسٹار ٹریک کے خالق، حقیقت میں وقت میں سفر والی تمام اقساط میں سچے تھے!"

    تاہم بعد میں روسی طبیعیات دان سرگئی کراسنیکوف نے اس حل میں موجود ایک تیکنیکی غلطی کو آشکار کیا۔ اس نے دکھایا کہ نجمی جہاز کا اندرون جہاز کے باہری خلاء سے رابطے میں نہیں ہوگا، لہٰذا پیغام سرحد کو پار نہیں کر سکتا – یعنی کہ ایک مرتبہ آپ جہاز کے اندر چلے جائیں گے تو آپ نجمی جہاز کا راستہ تبدیل نہیں کر سکتے۔ سفر کرنے سے پہلے راستے کا تعین کرنا ہوگا۔ یہ مایوس کن بات ہے۔ بالفاظ دیگر آپ صرف ڈائل کو گھما کر قریبی ستارے کی طرف جانے کا حکم نہیں دے سکتے۔ تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا نظریاتی نجمی جہاز ستاروں تک جانے کی ریل گاڑی ہو سکتی ہے، ایک بین النجم نظام جہاں پر نجمی جہاز باقاعدگی سے سفر کریں گے۔ مثال کے طور پر اس ریل کی پٹری اور اس کے اسٹیشنوں کو ستاروں تک سلسلے وار تواتر کو پہلے سے موجود روایتی راکٹو ں کا استعمال کرکے کرتے ہوئے بنایا جائے جن کی رفتار روشنی سے کم ہوگی ۔ اس کے بعد نجمی جہاز ان اسٹیشنوں کے درمیان سریع از نور رفتار سے ایک وقتی جدول کے مطابق مخصوص روانگی اور آمد کے وقت کے حساب سے چلے۔

    گوٹ لکھتے ہیں،" ایک مستقبل کی فوق تہذیب ہو سکتا ہے کہ خمیدہ راستے کی گزر گاہوں کو ستارے کے درمیان ان نجمی جہازوں کے بیڑے کو ڈال دے جیسا کہ وہ ستاروں کے درمیان ثقب کرم کے رابطوں کو قائم کرنا چاہتی ہو۔ خمیدہ راستوں کی گزر گاہوں کا ایک جال ثقب کرم بنانے سے کہیں زیادہ آسان ہو سکتا ہے کیونکہ خمیدہ راستہ دور دراز جوڑتے ہوئے راستوں میں نئے سوراخ بنانے کے بجائے پہلے سے موجود خلاء میں تغیر کرے گا۔"

    تاہم صحیح کہیں تو کیونکہ یہ نجمی جہاز اسی موجودہ کائنات میں سفر کریں گے، تو ان کو کائنات کو چھوڑنے کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ قطع نظر اس بات سے کہ الکیوبائر کا راستہ ایک ایسے آلے کو بنانے کے لئے تو مدد گار ثابت ہو سکتا ہے جو کائنات سے فرار کروا سکے۔ مثال کے طور پر اس طرح کا نجمی جہاز کونیاتی دھاگوں کے تصادم کے لئے تو مدد گار ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ گوٹ نے ذکر کیا تھا۔ جو شاید ایک جدید تہذیب کو واپس اس کے ماضی میں لے جا سکتا ہے جب اس کی کائنات کافی گرم تھی۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کائنات سے فرار کا آٹھواں قدم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top