Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    اتوار, مئی 22, 2016

    خلائی جہاز کے روبوٹس کو کس حد تک خودمختاری دی جاسکتی ہے؟

    اختیار


    اسٹینلے کوبرک کی فلم ٢٠٠١ء: اے اسپیس اوڈئیسی میں مشتری کے سفر پر گیا ہوا ڈسکوری خلائی جہاز کا عملہ مردم کشی کی کوشش کرنے والے نفسیاتی کمپیوٹر ہال ٩٠٠٠ کو چکمہ دے دیتا ہے۔ لیکن آرتھر سی کلارک کے اس کمپیوٹر ہال کے پیچھے ایک اہم سوال چھپا ہوا ہے۔ ایک جدید خلائی اڑان مہم میں ہم کتنا اختیار دے سکتے ہیں؟ ہمیں کتنا اختیار دینے کی ضرورت ہے؟

    شٹل خلا نورد ایلون سوال اٹھاتے ہیں، " کیا ہمیں اپنے خلائی جہاز کو اڑانے کے لئے مصنوعی ذہانت کی ضرورت ہوگی؟ میں خلا نوردوں کو بہت ہی ہوشیار سمجھتا ہوں تاہم چھ خلا نوردوں کا عملہ مہم کو قابو کرنے والے سینٹر میں کام کرنے والے چھ درجن لوگوں کے قریب بھی نہیں ہو سکتے جن کے پاس جدول، کمپیوٹر اور تمام تربیت ہے۔ اس میں سے میں کتنا خلائی جہاز پر رکھ سکتا ہوں – اپنے کمپیوٹر ہال کی شکل میں؟ مثال کے طور پر یہ مجھے بتا سکتا ہے 'یہ بات میں نشانات کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا ہوں، تم اپنا ایک جنریٹر بس ب کو کھو دینے والے ہو۔ سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کو وہاں پر بند کر دو، اور، ویسے یہ تمھارے کچھ تجربات اور دورانیہ پر اثر انداز ہونے جا رہا ہے۔' یہ کسی قسم کی ذیلی یا مجازی مہم کو قابو کرنے والی چیز آپ کی مدد کے لئے آپ کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ بالخصوص جب آپ زحل پر ہوں جو زمین سے ایک نوری گھنٹے کی مسافت پر ہے، مہم کو قابو کرنے والے اس قسم کی تفصیلات قابل مدافعت نہیں ہیں۔"

    زمین سے ریڈیائی تاخیر ہی وہ ضرورت نہیں ہے جس کی اختیار کو ضرورت ہے۔ کسی بھی ابتدائی تفتیشی دیوہیکل سیارے کے درجنوں مہتابوں کے ساتھ مہم میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت کافی اہم ہے اور خلا نوردوں کو مدد کی ضرورت ہوگی۔ حساس آلات کو مددگار کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جے پی ایل کی ایشلے ڈویز زمین کا مشاہدہ کرنے والے ایک مصنوعی سیارچے کے نظام پر کام کرتے ہیں جس کا کام زمین پر موجود سرگرم آتش فشانوں کی موجودگی کا سراغ لگانا ہے۔ ڈویز سمجھتی ہیں کہ کافی روبوٹک صورتحال کے لئے اختیار دینا ہی سب سے بہترین طریقہ ہے۔ "یہ اکثر سب سے بہتر طریقہ ہوتا ہے: خلائی جہاز اور خلائی گاڑی کو اختیار دیں تاکہ وہ کسی متحرک واقعہ کو پاتے ہی بروقت کاروائی کر سکیں۔ خلائی جہاز پر خودکار دیکھ بھال کرنے والے نظام کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ خلائی جہاز پر موجود اضافی طیفی اعداد و شمار پر کام کر سکے۔ یہ دلچسپ متحرک طیفی علامات کو دیکھے گا اور اکثر جگہوں پر اگر کسی سریع الزوال واقعہ دیکھے گا تو خلائی جہاز کو مزید اعداد و شمار حاصل کرنے کے لئے کہے گا۔"

    بروقت اطلاعات کو چھاننے کی صلاحیت اور ان آتش فشانوں کو ڈھونڈے کے لئے پروگرام لکھنے کی وجہ سے جو پہلے ہی پھٹ کر مادّے کا اخراج کر چکے ہیں ، وہ کہتے ہیں۔ " یہ زمین کے مدار میں چکر لگا رہا ہے اور اپنے لئے کافی اچھا کام کر رہا ہے۔ ہم نہ صرف آتش فشانوں کو دیکھتے ہیں بلکہ آگ پر ، دوسری حرارتی سرگرمیوں پر، برف کی چادروں کو بننے اور ٹوٹنے کے عمل پر ، اور سیلابوں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ ہم اپنے مستقبل کی ان مہمات پر نظر رکھے ہوئے ہیں جہاں ہم اسی قسم کا سافٹ ویئر دوسرے خلائی جہازوں پر لگا دیں جہاں وہ اعداد و شمار کو حاصل کرکے اس کا تجزیہ کرکے ہمیں بھیجیں۔ اس سے اطلاعات کی ترسیل کا ایک بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ آپ ہمیشہ اطلاعات بھیجی جانے والی اطلاعات سے زیادہ حاصل کرتے ہیں ، لہٰذا یقینی طور پر ایک ایسا الوگرتھم ہونا کافی فائدہ مند ہوگا جو اطلاعات سے مخصوص چیزیں نکال کر یا ایسی چیزیں جن کو ہم بیان نہ کر سکیں نکال کر واپس بھیج سکے۔" خلائی جہاز پر لگا سافٹ ویئر یا تو اس قسم کی اطلاعات کو اپنے ڈیٹا میں نشان زدہ کر دے گا یا پھر آپ کو اس میں سے کچھ بطور نمونہ بھیجے گا۔ ٢ سے ٣ ہفتے تک کا انتظار کرنے سے بہتر ہے کہ محققین اس کو ٩٠ منٹ میں حاصل کر لیں۔ اسی دوران خلائی جہاز کو مزید اطلاعات کو حاصل کرنے پر لگایا جا سکے گا۔


    "آپ تصوّر کر سکتے ہیں کہ کس طرح سے یہ آئی او کے پاس سے گزرتے ہوئے کام کرے گا،" ڈویز کہتی ہیں:

    جب آپ آئی او کی طرف آرہے ہوں گے، تو سافٹ ویئر ان جگہوں کوتلاش کرے گا جہاں دلچسپ واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہوں گے۔ اگر آپ کے پاس کوئی کافی لچک دار آپریشنل منصوبہ موجود ہے تو آپ جب آئی او سے قریب ہوں گے تو مخصوص علاقوں کو ہدف بنا سکیں گے۔ اگر آپ نے کوئی بہت زیادہ روشن چیز دیکھی تو آپ اپنے آلات کا رخ اس کی طرف موڑ سکتے ہیں یا پہلے سے طے کردہ منصوبے کو مختلف مشاہدات کے سلسلے سے بدل سکتے ہیں تاکہ آپ مختلف اوقات میں مختلف چیزوں کو دیکھ سکیں اور فضول اطلاعات کو حاصل کرنے کی خفت سے بچ جائیں۔ اصل میں آئی او پر اصل مسئلہ ہی یہی تھا، کیونکہ جب آپ آرہے ہیں تو آپ حقیقت میں کافی روشن اخراج کو دیکھتے ہیں اور آپ قریبی اعداد و شمار حاصل کرنے چاہتے ہیں، آپ کو آئی او پر دوسری ہر جگہ سے ملنے والی اطلاعات کی قربانی دینا ہوتی تھی – جس کی وجہ سے وہاں بہت ہی کم معلومات مل سکیں۔ اگر آپ آئی او کے پس منظر میں دیکھتے تو آپ کو ان جگہوں کو چھوڑنا پڑتا جہاں بڑے اخراج ہو رہے تھے۔ یہی طریقہ ہے جس سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ان خود مختار نظاموں کے استعمال سے ہم مہم سے ملنے والی زیادہ اطلاعات کو حاصل کر سکتے ہیں۔


    لائق عملے کے ساتھ مل کر جہاز پر موجود خود مختار نظام حاصل کردہ معلومات اور بیرونی دنیا کے سفر کے دوران انسانوں کی حفاظت کو بہتر بنا دے گا۔ ان دور دراز کے جہانوں کی بنیاد اس جگہ سے بالکل ہی علیحدہ ہے جہاں ہمارے خلا نورد پہلے جا چکے ہیں۔ خلائی جہاز کی نوعیت ، پروازوں کی منصوبہ بندی اور چالیں جو ہمیں دیوہیکل جہانوں میں لے کر جائیں گی ان کو بلاشبہ بہتر نتائج کو حاصل کرنے کے لئے بدلنا ہوگا۔

    کیونکہ ہماری دیوہیکل سیاروں کی مہم چاند اور کاغذوں میں موجود مریخ پر بھیجے جانے والی مہمات سے الگ ہوگی لہٰذا ہماری تہذیب بھی الگ ہوگی۔ ہم ایک ایسی تہذیب جس کا انحصار رکازی ایندھن پر ہے ، اس سے بدل کر ایک ایسی تہذیب بننے جا رہے ہیں جو زیادہ کارگر اور صاف ایندھن کو بتدریج حیاتیاتی ایندھن، ارضی حرارت، پن بجلی اور شمسی توانائی سے بدل رہی ہے۔ اگر ذمے داری سے کام کیا گیا تو تمام ذرائع قابل تجدید ہیں۔ اور عمل گداخت ہمارے دروازے پر کھڑا دستک دے رہا ہے۔ بیرونی نظام شمسی میں رہنے کی بحث کے دوران کچھ لوگ قصّوں میں موجود چیزوں کو بھی سامنے رکھتے ہیں۔ تاہم دوسروں کا خیال ہے یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ کمیاب ارضی سیاروں کے ساتھ، قابل استعمال توانائی کے ذرائع مثلاً ہیلیئم ٣ اور دوسرے غیر معلوم ذرائع کے ساتھ بیرونی نظام شمسی شاید انسانیت کے مستقبل کے ذرائع میں ایک اہم کردار ادا کرے۔ تاہم مریخ کے آگے کی دنیا دوسرے طریقے سے بھی نشان راہ بنی ہوئی ہیں۔ انسان کھوجنے کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں، تاکہ اپنے دائرہ اثر کو بڑھا کر ، تجسس کی اشتہاء کو انسانیت اور کرہ ارض کی بھلائی کے لئے استعمال کر سکے اور دوسری دنیاؤں میں یا ان جہانوں کے ارد گرد گھوم سکے۔ روزمرہ کے نٹ بولٹ ، ثمر نان اور بانس سے آگے وہاں ہمارے انتظار میں کون سی چیزیں موجود ہیں؟
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: خلائی جہاز کے روبوٹس کو کس حد تک خودمختاری دی جاسکتی ہے؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top