Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 2 مئی، 2016

    کیا یہ ممکن ہے کہ ہم سورج کے درجہ حرارت کی پیمائش کی جاسکے؟




    جواب: سورج ایک گرم گیسی کی بڑی گیند ہے جس نے اپنے آپ کو ہائیڈروجن کے مرکزے کو ہیلیئم کے مرکزے میں گداخت کرتے ہوئے تھاما ہوا ہے یہ عمل گداخت اس کے مرکزی علاقہ میں ہوتا ہے۔ اس تعامل کو وقوع پذیر ہونے کے لئے قلب میں درجہ حرارت کو ایک کروڑ ڈگری سیلسیس ہونا لازمی ہے۔ ہم اپنی نظری سمجھ بوجھ کو جو سورج کے کام کرنے کے طریقے سے متعلق ہے ، استعمال کرکے اصل مرکزی درجہ حرارت کو نکال سکتے ہیں۔ فی الوقت یہ عدد ایک کروڑ ستاون لاکھ دس ہزار ڈگری کیلون ہے (سفر کیلون برابر ہے منفی ٢٧٣ سیلسیس کے)۔

    سورج کی وہ روشنی جو ہم تک پہنچتی ہے وہ سورج کے قلب کی گہرائی میں بنتی ہے – یہ سورج میں ہی بھٹکتی رہتی ہے اور بتدریج آگے بڑھتے ہوئے اپنا راستہ تلاش کرتی ہے۔ سورج کی سطح کو اس کے مرکز سے اوسط فاصلے کو جہاں سے روشنی فرار ہوتی ہے کہتے ہیں (یاد رکھیں کہ زمین کے برعکس سورج کی کوئی ٹھوس سطح نہیں ہے، لہٰذا ہمیں کسی طرح تو سطح کو بیان کرنا ہوگا!) یہ معلوم ہوا کہ سطح سے آتی ہوئی روشنی جس کو ہم دیکھتے ہیں اس کا طیف سیاہ جوف کی طرح ہوتا ہے۔ سیاہ جوف طبیعیات کی وہ اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ روشنی کا وہ حصّہ ہر طول موج پر جو خارج ہوتا ہے وہ صرف سطح کے درجہ حرارت کا تفاعل ہوتا ہے۔ یہ بات ہمارے کام کی ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ ہم سورج کا طیف ناپ سکتے ہیں اور پھر اس کو سیاہ جوف کی مدد سے درجہ حرارت نکال سکتے ہیں۔ سورج کے طیف کی تصویر کے لئے یہاں دیکھیں ۔


    شمسی طیف سے ہم سورج کی سطح کا درجہ حرارت جو ٥٨٨٠ کیلون یا ٥٦٠٥ سیلسیس ہے معلوم کر سکتے ہیں ۔



    کرسٹین کہکشاؤں کی حرکیات اور وہ ہمیں تاریک مادّے کے بارے میں کیا سکھا سکتی ہیں پر تحقیق کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی کی سند اگست ٢٠٠٥ء میں کارنیل یونیورسٹی سے حاصل کی اور وہ رٹگرز یونیورسٹی میں ٢٠٠٥ء سے ٢٠٠٨ء تک جانسکی مابعد ڈاکٹر فیلو رہی ہیں، اور اب وہ رائل ملٹری کالج آف کینیڈا اور کوئنز ز یونیورسٹی میں شعبے کی رکن ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کیا یہ ممکن ہے کہ ہم سورج کے درجہ حرارت کی پیمائش کی جاسکے؟ Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top