Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات, مئی 26, 2016

    اسٹرنگ نظرئیے کی تاریخ پر ایک نظر - حصّہ دوم



    وینزیانو نمونہ جتنا بھی شاندار ہو اس میں بھی کچھ مسائل جڑے ہوئے ہیں ۔ سب سے پہلے تو یہ کہ طبیعیات دانوں کو اس بات کا احساس ہے کہ یہ صرف حتمی ایس قالب کی جانب پہلا قدم ہے اور یہ پوری تصویر کو بیان نہیں کرتا۔ بونجی سکیتا میگول ویراسورو اور کیجی کیکاوا نے یونیورسٹی آف وسکنسن میں اس بات کا احساس کر لیا تھا کہ ایس قالب کو ایک غیر محدود سلسلہ کی شرائط کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور وینزیانو نمونہ صرف اس سلسلہ کا سب سے پہلی اور اہم شرط ہے۔ (عام زبان میں بات کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ سلسلے میں سے ہر ایک شرط اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کتنے طریقوں سے ذرّات کو ایک دوسرے سے ٹکرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کچھ اصول وضع کیے جس کے ذریعہ کوئی بھی اضافی شرائط کو قریب قریب بنا سکتا ہے۔ میں نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لئے فیصلہ کیا کہ میں اس پروگرام کو مکمل کرنے کے لئے جت جاؤں گا اور وینزیانو نمونے میں تمام ممکنہ تصحیحات سر انجام دوں گا۔ اپنے رفیق ایل پی یو کے ساتھ میں نے نمونے میں لامحدود شرائط کی تصحیح کا حساب لگایا۔)

    بالآخر یونیورسٹی آف شکاگو کے یویچیرو نامبو اور نہو ن یونیورسٹی کے ٹیسٹسو گوٹو نے اہم خصوصیت ایک مرتعش تار کو شناخت کر لیا جس نے نمونے کو کام کے قابل بنا دیا ۔ (ان خطوط پر کام لیونارڈ سسکنڈ اور ہولگر نیلسن نے بھی کیا تھا ۔) جب ایک تار دوسرے تار سے ٹکراتا ہے تو یہ ایک ایس قالب کی تخلیق کرتا ہے جس کی وضاحت وینزیانو نمونہ کرتا ہے۔ اس تصویر میں ہر ذرّہ کچھ بھی نہیں ہے سوائے ارتعاش یا تار کی سر کے ۔ (میں اس تصوّر کو بعد میں تفصیل سے بیان کروں گا۔)

    اس سمت میں ہونے والی پیش رفت کافی تیز تھی۔ ١٩٧١ء جان شیوارز، آندرے نیویو اور پیری ریمنڈ نے اسٹرنگ نمونے کو اس طرح سے عمومی کیا کہ اس میں ایک نئی چیز شامل کی جس کو گھماؤ کہتے ہیں، اور اس چیز نے ہی اس کو ذرّاتی تعاملات کے لئے موزوں امید وار بنا دیا۔ جیسا کہ ہم آگے دیکھیں گے کہ تمام ذیلی جوہری ذرّات گھومتے ہوئے چھوٹے لٹو کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ ہر ذیلی جوہری ذرّہ کا گھماؤ کوانٹم کی اکائی میں یا تو مکمل عدد ہوتا ہے جیسا کہ ٠، ١ ، ٢ یا پھر اس کا نصف جیسا کہ 1/2, یا 3/2 وغیرہ ۔ نیویو شیوارز ریمنڈ اسٹرنگ اس گھومنے کے اس نمونے کو انتہائی درستگی سے بیان کرتا ہے۔)

    میں بہرحال اس وقت بھی غیر مطمئن تھا۔ دوہری گمگ کا نمونہ جیسا کہ اس وقت یہ یہی کہلاتا تھا، ایک طرح سے پرانے کلیوں اور اصولوں کا مجموعہ تھا۔ پچھلے ١٥٠ برس سے تمام طبیعیات میدان پر انحصار کر رہی تھی، جب پہلی بار اس کو برطانوی طبیعیات دان مائیکل فیراڈے نے متعارف کروایا تھا۔ ذرا مقناطیسی میدانی خط کے بارے میں سوچیں جو ایک مقناطیسی بار نے بنایا ہو۔ مکڑی کے جالے کی طرح، قوّت کے خط تمام خلاء میں نفوذ پذیر ہو تے ہیں۔ خلاء کے ہر نقطے پر آپ مضبوطی اور مقناطیسی خط قوّت کی سمت کی پیمائش کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سے میدان ایک ریاضیاتی جسم ہے جو خلاء میں ہر نقطے پر ایک الگ مقدار کو فرض کرتا ہے۔ لہٰذا میدان کائنات میں موجود کسی بھی نقطے کی مقناطیسی، برقی یا نیوکلیائی طاقت کی پیمائش کرتا ہے۔ اس وجہ سے برق، مقناطیسیت ، نیوکلیائی قوّت اور قوّت ثقل کی بنیادی تشریح میدان پر منحصر ہوتی ہے۔ اسٹرنگ کیوں مختلف ہیں؟ جو چیز درکار تھی وہ ایک "اسٹرنگ کا میدانی نظریہ" تھی جو تمام نظرئیے کا خلاصہ ایک اکلوتی مساوات میں ڈھال سکے۔ 

    ١٩٧٤ء میں اس مسئلے سے نمٹنے کا میں نے فیصلہ کیا۔ اپنے رفیق اوساکا یونیورسٹی کے کیجی کیکاوا کے ساتھ میں نے کامیابی کے ساتھ اسٹرنگ کا میدانی نظریہ حاصل کرلیا۔ ایک ایسی مساوات ہےجو بمشکل صرف ڈیڑھ انچ لمبی تھی، ہم اسٹرنگ نظرئیے میں موجود تمام چیزوں کا خلاصہ پیش کر سکتے تھے۔ ایک مرتبہ جب اسٹرنگ کا میدانی نظریہ حاصل کر لیا گیا تو اس کے بعد مجھے طبیعیات کی دنیا کی اکثریت کو اس کی طاقت اور خوبصورتی کا معترف کروانا تھا۔ میں نے ایک نظری طبیعیات پر ہونے والی کانفرنس میں حاضری دی جو اس برس گرمیوں کے موسم میں ایسپین سینٹر ان کولوراڈو میں منعقد ہوئی جہاں میں نے ایک سیمینارمیں چھوٹے لیکن چنے ہوئے طبیعیات دان کے گروہ کو وضاحت دی۔ میں اس وقت کافی گھبرایا ہوا تھا ، سامعین میں دو نوبیل انعام یافتہ مررے جیلمین اور رچرڈ فائن مین موجود تھے جو چبھتے ہوئے گھسنے والے سوالات کو پوچھنے کے لئے مشہور تھے ان کے نشتر نما سوالات اکثر مقرر کو بدحواس کر دیتے تھے۔ (ایک مرتبہ جب ا سٹیون وائن برگ تقریر کر رہا تھا، اس نے بلیک بورڈ پر ایک مثلث بنایا اور اس کو حرف "ڈبلیو" سے نشان زدہ کر دیا۔ جو بعد میں اس کے کام کے اعتراف کے طور پر وائن برگ مثلث کہلایا۔ فائن مین نے اس وقت سوال کیا کہ بلیک بورڈ پر موجود ڈبلیو کا کیا مطلب ہے۔ وائن برگ نے جیسے ہی جواب دینا شروع کیا، فائن مین چیخ پڑا غلط! جس نے سامعین کو دو حصّوں میں توڑ دیا۔ فائن مین سامعین کو خوش کر سکتا تھا، لیکن وائن برگ وہ آخری آدمی تھا جو ہنسا تھا۔ یہ مثلث وائن برگ کے نظرئیے کا ایک اہم حصّہ تھا جس نے برقی مقناطیسیت اور کمزور تعاملات کو ایک کر دیا تھا اور جس نے بالآخر اس کو نوبیل انعام جتوایا تھا۔)

    میں نے اپنی بات میں اس بات پر زور رکھا کہ اسٹرنگ میدانی نظریہ سادہ اور سب سے جامع طریقہ اسٹرنگ نظریہ کا ہو سکتا ہے، جو بالعموم بے ربط کلیوں کا مجموعہ ہے۔ اسٹرنگ کے میدانی نظرئیے کے ساتھ، تمام نظریئے کو ایک اکلوتی مساوات کے ساتھ جو لمبائی میں صرف ڈیڑھ انچ ہے ، بیان کر سکتا ہے۔ وینزیانو نمونے کی تمام خصوصیات، تمام لامحدود مضطرب کر دینے والی قربتوں کی شرائط ، اور تمام گھومتے ہوئے اسٹرنگ کی خصوصیات کو صرف ایک مساوات سے حاصل کیا جا سکتا تھا جو خوش قسمتی کے پیالے میں سما سکتی ہے۔ میں نے اسٹرنگ نظرئیے کے تشاکل پر زور دیا جس نے اس کو خوبصورتی اور طاقت عطا کی ہے۔ جب اسٹرنگ کو مکان و زمان میں حرکت ملتی ہے، تو وہ دو جہتی سطح جیسی ہو جاتی ہے جو ایک رسی سے مشابہ ہوتی ہے۔ نظریہ اس وقت ویسا ہی رہتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم اس دو جہتی سطح کو بیان کرنے کے لئے کون سے محدد استعمال کرتے ہیں۔ میں اس لمحے کو کبھی نہیں بھلا سکتا جب فائن مین میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا، "ہو سکتا ہے کہ میں اسٹرنگ کے نظرئیے سے مکمل متفق نہ ہوں، لیکن تم نے جو تقریر کی ہے وہ ان تمام تقاریر میں سب سے خوبصورت ہے جو میں نے اب تک سنیں ہیں۔"
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: اسٹرنگ نظرئیے کی تاریخ پر ایک نظر - حصّہ دوم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top