Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    اتوار، 1 مئی، 2016

    جنگل میں درخت



    طبیعیات دان اکثر فلسفیوں کو ناپسندیدگی سے دیکھتے ہیں۔ اور رومی سیسرو کا قول اکثر دہراتے ہیں جس نے ایک دفعہ کہا تھا ، "کوئی بھی چیز اتنی بیہودہ نہیں ہوتی کیونکہ اس کو فلسفی نے نہیں کہا ہوتا۔" ریاضی دان اسٹینس لاء الام جو نامعقول تصوّرات کو پر وقار نام دینے پر شاکی تھا، اس نے ایک مرتبہ کہا تھا ، "پاگل پن وہ قابلیت ہے جو مختلف قسم کی بے وقوفیوں سے خود کو الگ کرتی ہے۔" آئن سٹائن نے خود ایک مرتبہ فلسفے کے بارے میں لکھا تھا ، " ایسا نہیں ہے جیسے تمام فلسفہ شہد سے لکھا ہو؟ جب کوئی اس پر دھیان دیتا ہے تو یہ بہت حیرت انگیز دکھتا ہے لیکن جب وہ دوبارہ نگاہ اٹھا کر دیکھتا ہے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ صرف چورا ہی بچتا ہے۔"



    طبیعیات دان ایک غیر مستند کہانی کو بھی بیان کرتے ہیں جو غالباً ایک یونیورسٹی کے صدر نے اس وقت بیان کی تھی جب اس نے یونیورسٹی کے طبیعیات، ریاضی اور فلسفے کے شعبوں کا بجٹ دیکھا اور اس کو دیکھ کر بپھر گیا۔ غالباً اس نے پوچھا تھا ، "تم طبیعیات دان کیوں ہمیشہ مہنگے آلات مانگتے ہو؟ دیکھو ریاضی کے شعبے نے سوائے کاغذ، قلم اور کچرے دان کے کچھ نہیں مانگا، جبکہ فلسفے کا شعبہ تو اس سے بھی اچھا نکلا۔ اس نے تو کچرے کا ڈبہ بھی نہیں مانگا۔"



    بہرصورت فلسفی شاید ہنسنے والوں میں سب سے آخر میں ہوں گے۔ کوانٹم کا نظریہ غیر مکمل ہے اور متزلزل فلسفیانہ بنیاد پر کھڑا ہے۔ یہ کوانٹم کا جھگڑا ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم فلسفی جیسا کہ بشپ برکلے کے کام کا دوبارہ جائزہ لیں۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اشیاء صرف اس لئے وجود رکھتی ہیں کیونکہ انسان ان کا مشاہدہ کرنے کے لئے موجود ہیں، یہ ایک ایسا فلسفہ ہے جس کو ہمہ انانیت یا فلسفہ تصوريت کہتے ہیں۔ اگر درخت جنگل میں گر جائے لیکن وہاں اس کو دیکھنے والا کوئی نہ ہو تو اصل میں وہ گرا نہیں ہوگا، ان کا دعویٰ ہے۔ اب ہمارے پاس جنگل میں درخت کے گرنے کی کوانٹم کی تعبیر نو آ گئی ہے۔ اس سے پہلے کہ مشاہدہ کیا جائے، آپ کو نہیں معلوم ہوگا کہ آیا وہ گرا ہوا ہے یا نہیں۔ اصل میں درخت تمام ممکنہ حالتوں میں بیک وقت موجود ہوگا۔ وہ جلا ہوا ، گرا ہوا، لکڑی کی صورت میں ، برادے کی شکل میں علیٰ ہذا القیاس ہو سکتا ہے۔ ایک مرتبہ جب مشاہدہ ہو گیا تو پھر درخت یکایک ایک قطعی حالت میں آ جائے گا اور اس مثال میں ہم دیکھیں گے کہ وہ گرا ہوا ہے۔



    کوانٹم نظریئے اور حقیقت کی فلسفیانہ مشکل کا موازنہ کرتے ہوئے فائن مین نے ایک دفعہ کہا تھا، "ایک وقت تھا جب اخبار میں خبر چھپی تھی کہ صرف بارہ آدمی ایسے ہیں جو اضافیت کو سمجھتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کوئی وقت آیا ہوگا۔۔۔ دوسری طرف، میں یہ بات یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی کوانٹم میکانیات کو نہیں سمجھ سکا ہے۔" اس نے لکھا کہ " کوانٹم میکانیات قدرت کو عقل عامہ کے نقطے نظر سے لغو بیان کرتی ہے۔ لیکن یہ تجربات سے مکمل ہم آہنگ بھی ہے۔ لہٰذا میں امید کرتا ہوں کہ آپ قدرت کو ایسے تسلیم کر لیں جیسے کہ وہ ہے – یعنی لغو۔" یہ چیز کافی عملی طبیعیات دانوں کو بے چین کر دیتی ہے، جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو تمام جہاں ریت کی دیوار پر بنا ہوا ہے۔ اسٹیون وائن برگ لکھتا ہے، "میں کچھ بے کلی کے ساتھ تسلیم کرتا ہوں کہ نظریاتی فریم ورک میں اپنی پوری زندگی کام کرتے ہوئے میں نے کسی کو بھی اسے پوری طرح سے سمجھتے ہوئے نہیں دیکھا۔"





    روایتی سائنس میں، شاہد کوشش کرتا ہے کہ دنیا سے اپنے آپ کو جس حد تک ممکن ہو دور رکھ سکے۔ ( جیسا کہ ایک مسخرے نے کہا تھا، " آپ سائنس دان کو ہمیشہ قحبہ خانے میں پائیں گے کیونکہ وہی صرف سامعین کی جانچ کر رہا ہوتا ہے۔" لیکن اب پہلی مرتبہ اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ شاہد کو مشاہدے سے الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔ جیسا کہ میکس پلانک نے ایک مرتبہ کہا تھا، " سائنس قدرت کا حتمی اسرار نہیں حل کر سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آخر ی جانچ میں ہم اس اسرار کا حصّہ ہوں گے جس کو ہم حل کر نے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔"
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: جنگل میں درخت Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top