Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    پیر, مئی 23, 2016

    ایم نظریہ :مادر اسٹرنگس

    ساتواں باب 


    ایم نظریہ :مادر اسٹرنگس 




    اگر کوئی کائنات کو وحدت کے نقطۂ نظر سے دیکھ سکے تو اس کے لئے تمام تخلیق ایک منفرد سچائی اور ضرورت کی شکل میں ابھر آئے گی۔

    - جے ڈی ایلمبرٹ 



    میں محسوس کرتا ہوں کہ ہم اسٹرنگ کے نظرئیے کے کافی قریب ہیں، میں تصوّر کرتا ہوں کہ – کسی بھی دن کسی بھی عظیم رجائیت کے لمحے میں –نظرئیے کی حتمی شکل آسمان سے نازل ہو کر کسی کی بھی گود میں گر جائے گی۔ لیکن حقیقت سے قریب تر ہو کر دیکھوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ ہم ایک کافی گہرے نظرئیے کے تشکیل کے عمل میں لگے ہوئے ہیں جو ہمارے پاس اس سے پہلے یا اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہوئے کبھی بھی نہیں تھا، جب میں کافی بوڑھا ہو جاؤں گا تو شاید میں کوئی قابل ذکر خیال اس بارے میں پیش کر سکوں، نوجوان طبیعیات دانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اصل میں ہم نے حتمی نظریہ تلاش کر لیا تھا یا نہیں۔

    - ایڈورڈ ویٹن 



    ایچ جی ویلز کا ١٨٩٧ء کا کلاسک ناول، غیر مرئی آدمی ، ایک عجیب کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ ایک سرد خنک دن میں، ایک اجنبی تاریکی میں سے عجیب لباس پہنے نکلتا ہے۔ اس کا چہرہ مکمل طور پر ڈھکا ہوا ہوتا ہے، وہ گہرے نیلے رنگ کا چشمہ لگایا ہوا ہوتا ہے اور اس کے پورے چہرے پر سفید پٹیاں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔

    شروع میں دیہاتی اس پر رحم کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ شاید وہ کسی خوفناک حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ لیکن گاؤں میں کچھ عجیب و غریب واقعات رونما ہونے لگتے ہیں۔ ایک دن اس کی مالکن جب اپنے خالی کمرے میں داخل ہوتی ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ کپڑے کمرے میں خود سے حرکت کر رہے ہیں جس کو دیکھ کر اس کی چیخ نکل جاتی ہے۔ ٹوپیاں کمرے میں چکر کھا رہی تھیں ، چادریں ایک دوسرے پر چڑھی جا رہی تھیں، کرسیاں حرکت کر رہی تھیں، اور فرنیچر پاگل ہو گیا تھا ، وہ خوف سے بیان کرتی ہے۔

    جلد ہی تمام گاؤں میں کچھ غیر معمولی واقعات کی افواہوں کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے۔ بالآخر دیہاتیوں کا ایک گروہ جمع ہوتا ہے اور اس اجنبی سے ان عجیب و غریب واقعات کا ذکر کرتا ہے۔ وہ حیرت سے اس وقت گنگ ہو جاتے ہیں جب وہ آہستگی کے ساتھ اپنی پٹیاں اتارتا ہے۔ مجمع دہشت زدہ ہو جاتا ہے۔ پٹی کے بغیر اجنبی کا چہرہ مکمل طور پر غائب ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر لوگ چیختے اور چلاتے ہیں اور اس وقت افراتفری پھیل جاتی ہے۔ دیہاتی غیر مرئی آدمی کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کو آسانی کے ساتھ شکست دے دیتا ہے۔

    کچھ چھوٹے جرائم کرنے کے بعد، غیر مرئی آدمی اپنے ایک پرانے شناسا سے ملتا ہے اور اپنی غیر معمولی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس کا اصل نام گریفن ہوتا ہے جو یونیورسٹی کا طالبعلم ہوتا ہے۔ اگرچہ تعلیم کی شروعات وہ طب کی تعلیم سے کرتا ہے تاہم اتفاق سے اس کا سامنا ایک ایسے انقلابی طرز عمل سے ہوتا ہے جو انسانی جسم کی منعطف اور منعکس کرنے کے خواص کو بدل سکتا ہے۔ اس کا راز ایک چوتھی جہت تھی۔ وہ خوشی کی حالت میں ڈاکٹر کیمپ کے پاس پہنچتا ہے اور اس سے کہتا ہے، "میں نے ایک عمومی اصول دریافت کر لیا ہے۔۔۔ ایک ایسا کلیہ، ایک ایسی جیومیٹریکل ترکیب جس میں چوتھی جہت ملوث ہے۔" 

    تاہم صد افسوس کہ بجائے اس عظیم دریافت کا استعمال انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کرتا وہ اسے ذاتی فوائد اور مالی منفعت کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اس کام میں وہ اپنے دوست کو شریک کرتا ہے۔ اس کے دعوے کے مطابق وہ دونوں مل کر دنیا کو لوٹ سکتے ہیں۔ لیکن اس کا دوست خوف زدہ ہو جاتا ہے اور گریفن کی موجودگی کی اطلاع پولیس کو دے دیتا ہے۔ نتیجتاً ایک آخری معرکہ میں غیر مرئی آدمی جان لیوا حد تک زخمی ہو جاتا ہے۔

    جیسا کہ ہر بہترین سائنسی ناول کے ساتھ ہوتا ہے اس ناول میں بھی ایچ جی ویلز کے دوسرے ناولوں کی طرح سائنس کا تڑکا لگا ہوا تھا۔ جو کوئی چوتھی مکانی جہت کو انضباط کرنے کے قابل ہوگا ( یا آج جس کو ہم پانچویں جہت کے نام سے جانتے ہیں) اصل میں وہ غیر مرئی بن جائے گا اور اس کے پاس وہ طاقت آ جائے گی جسے ہم دیوتاؤں اور جنات سے منسوب کرتے ہیں۔ ایک لمحے کے لئے فرض کریں کہ دیومالائی ہستیوں کی دوڑ میز کے اوپری حصّے کو دو جہتوں میں آباد کر دیتی ہے، جیسا کہ ایڈون ایبٹ کے ١٨٨٤ء کے ناول "چپٹی زمین" میں ہوا تھا۔ وہ اپنی جہاں میں اس بات سے بے خبر مگن تھے کہ ان کے گرد ایک تیسری جہت میں پوری کائنات موجود ہے۔ 

    لیکن اگر چپٹی زمین کے سائنس دان کسی تجربے میں ان کو میز سے ایک انچ اوپر اٹھا دیتے تو وہ غیر مرئی ہو جاتے کیونکہ روشنی ان کے نیچے سے اس طرح سے گزر جاتی جیسا کہ ان کا وجود ہی نہیں ہے۔ چپٹی زمین سے اوپر اٹھ کر وہ میز کی سطح پر کئی چیزوں کو دیکھ سکتے تھے۔ اضافی خلاء میں معلق رہنے کا زبردست فائدہ ہوتا ہے ، جو کوئی بھی اضافی خلاء سے نیچے دیکھے گا اس کے پاس دیوتاؤں والی قوّت ہوگی۔

    نہ صرف روشنی اس کے نیچے سے گزر سکے گی جس کے نتیجے میں وہ غیر مرئی ہو جائے گا، وہ چیزوں میں سے بھی گزر سکے گا۔ بالفاظ دیگر وہ اپنی مرضی سے غائب ہو کر دیواروں میں سے گزر سکے گا۔ صرف تیسری جہت میں چھلانگ لگا کر وہ چپٹی زمین کی کائنات میں سے غائب ہو جائے گا۔ اگر وہ دوبارہ سے لٹو کے اوپر چھلانگ لگائے گا تو وہ یکایک باطن سے ظاہر ہو جائے گا۔ لہٰذا وہ دنیا کی کسی بھی جیل سے فرار ہو سکتا ہے۔ چپٹی زمین میں موجود کوئی بھی جیل ایک ایسا دائرہ ہوگی جو اس کے ارد گرد کھینچا ہوا ہوگا، لہٰذا اس کے لئے چھلانگ مار کر تیسری جہت میں جانا بہت ہی آسان ہوگا۔ مافوق الفطرت ہستیوں سے اپنا راز چھپانا ناممکن ہوگا۔ تجوری میں رکھا ہوا سونا تیسری جہت کے تفوق والی جگہ سے بآسانی سے دیکھا جا سکے گا۔ کیونکہ تجوری صرف ایک کھلی ہوئی چوکور ساخت ہوگی۔ اس چوکور کے اندر پہنچنا اور اس کو توڑے بغیر سونا چرانا صرف بچوں کا کھیل ہوگا۔ جراحت جلد کو کاٹے بغیر ممکن ہو سکے گی۔

    اسی طرح سے ایچ جی ویلز چاہتا تھا کہ چوتھی جہت کی دنیا کا تصوّر دنیا کو دے، ہم چپٹی دنیا کے باسی ہیں، اس بات سے بے خبر کے وجود کے اضافی میدان ہمارے اوپر معلق ہیں۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہماری دنیا صرف اسی پر مشتمل ہے جو ہم دیکھتے ہیں۔ اس بات سے بے خبر کے ہماری ناک کے نیچے پوری کی پوری کائناتیں موجود ہو سکتی ہیں۔ ہرچند ممکن ہے کہ ایک اور کائنات ہمارے سے صرف ایک انچ کے فاصلے پر ہمارے اوپر معلق ہو کر چوتھی جہت میں تیر رہی ہو مگر وہ ہمیں غیر مرئی دکھائی دے گی۔

    مافوق الفطرت ہستیاں عام طور پر فوق انسانی قوّت رکھتی ہیں جن کو ہم عام طور پر جنات یا روحوں سے نسبت دیتے ہیں۔ ایک اور دوسری سائنسی کہانی میں ایچ جی ویلز اس بات پر غور و فکر کرتا ہے کہ آیا مافوق الفطرت ہستیاں اضافی جہتوں کو آباد کر سکتی ہیں۔ وہ نہایت اہم سوال اٹھاتا ہے جو عصر حاضر کے عظیم اندازوں اور تحقیق کا موضوع ہے۔ یعنی کہ کیا اضافی جہتوں میں نئے قوانین طبیعیات موجود ہو سکتے ہیں؟ اس کے ١٨٩٥ء کے ناول میں "حیرت انگیز سیر" میں ایک پادری کی بندوق حادثاتی طور پر ایک فرشتے کو زخمی کر دیتی جو اتفاق سے ہماری جہت کو پار کر رہا ہوتا ہے۔ کسی نامعلوم کونیاتی وجہ سے ہماری اور متوازی کائنات آپس میں ٹکرا جاتی ہیں اور نتیجتاً وہ فرشتہ ہماری کائنات میں گر جاتا ہے۔ کہانی میں ویلز لکھتا ہے، "کیا تین جہتوں میں لاتعداد کائناتیں ہماری کائنات کے ساتھ پہلو بہ پہلو موجود ہو سکتی ہیں۔" پادری زخمی فرشتے سے سوال کرتا ہے۔ اس کو حیرت کا جھٹکا اس وقت لگتا ہے جب اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری طبیعیاتی قوانین فرشتے کی دنیا میں نہیں چلتے۔ مثال کے طور پر اس کی کائنات میں کوئی میدان نہیں ہوتا اس کے بجائے ہر چیز سلنڈر نما ہوتی ہے ، لہٰذا خلاء اپنے آپ میں خم زدہ ہوتی ہے۔ ( آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت سے بیس برس پہلے ویلز کائنات کو خم زدہ سطح پر واقع ہونے کا سوچ رہا تھا۔ جیسا کہ پادری نے سوچا تھا، 'ان کی جیومیٹری اس لئے مختلف ہوتی ہے کیونکہ خلاء میں خود سے خم موجود ہوتا ہے لہٰذا ان کے تمام میدان سلنڈر نما ہوتے ہیں، اور ان کا قانون ثقل ، قانون معکوس مربع کے تابع نہیں ہوتا اور ہمارے یہاں کے تین بنیادی رنگوں کے بجائے وہاں چار اور بیس بنیادی رنگ ہوتے ہیں۔" ویلز کی اس کہانی کے ایک صدی سے بھی زائد عرصے کے بعد ، طبیعیات دان اس بات کا ادراک کر رہے ہیں کہ نئے قوانین طبیعیات بشمول مختلف ذیلی جوہری ذرّات ، جوہر اور کیمیائی تعاملات ممکنہ طور پر متوازی جہانوں میں موجود ہو سکتے ہیں۔ (جیسا کہ ہم نویں باب میں دیکھیں گے، اب کافی سارے تجربات کیے جا رہے ہیں تاکہ متوازی کائناتوں کے وجود کا سراغ لگایا جا سکے جو ہماری کائنات کے اوپر معلق ہیں۔)

    اضافی خلاء کے تصوّر نے فنکاروں، موسیقاروں، صوفیوں، علمائے دین اور فلسفیوں کو خاص طور پر بیسویں صدی کے آغاز پر کافی متحیر کیا ہوا تھا۔ مورخ لنڈا ڈیلریمپل ہینڈرسن، پابلو پکاسو کی چوتھی جہت میں دلچسپی نے ہی مکعبی مصورّی کی تخلیق کی۔ (اس نے تصویر میں جو عورت کی آنکھیں بنائی تھیں وہ ہماری طرف براہ راست دیکھ رہی تھیں ، اگرچہ اس کی ناکیں چہرے کے اطراف میں تھیں، جس کے نتیجے میں ہم عورت کو مکمل طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں دیکھنے والی ایک مافوق الفطرت ہستی ہمیں مکمل دیکھ سکتی ہوگی، بیک وقت اوپر ، نیچے اور آگے پیچھے سے۔) اس کی شہرہ آفاق تصویر "کریسٹس ہائپرکیوبس" میں سلواڈور ڈالی نے حضرت عیسا کی صلیب پر ایک ایسی ہی پیچیدہ چوتھی جہت اضافی مکعب میں دکھائی ہے۔ اس تصویر میں جس کا عنوان "استقلال شعور " ہے، ڈالی نے کوشش کی ہے کہ وقت کو پگھلی ہوئی گھڑی کے ساتھ ایک چوتھی جہت کے طور پر بیان کر سکے۔ مارسل ڈچمپ کی تصویر سیڑھی سے اترتے ہوئے برہنہ (نمبر دو ) میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک برہنہ شخص رکے ہوئے وقت میں سیڑھیوں سے اترتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے، یہ بھی ایک اس کوشش کا حصّہ ہے جس میں دو جہتی سطح پر رہتے ہوئے وقت کی چوتھی جہت کو پکڑنے کی کوشش کی ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ایم نظریہ :مادر اسٹرنگس Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top