Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات, مئی 5, 2016

    کثیر جہاں


    ابتدا میں غیر مربوطیت کافی مطمئن کرنے والی لگتی ہے، کیونکہ کہ موجی تفاعل اب شعور کے بجائے باہری دنیا کے اٹکل پچو تعاملات کی وجہ سے ہونا شروع ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات وہ بنیادی سوال کو حل نہیں کرتی جس نے آئن سٹائن کو پریشان کیا ہوا تھا: قدرت کس طرح سے اس چیز کا چناؤ کرتی ہے جس کو منہدم ہونا ہوتا ہے؟ جب ہوا کا سالمہ بلی سے ٹکراتا ہے، تو اس وقت کون کس طرح سے بلی کی حتمی حالت کا تعین کرتا ہے؟ اس سوال پر، غیر مربوطیت صرف یہ بتا دیتی ہے کہ دونوں موجی تفاعل الگ ہیں اور ایک دوسرے سے تعامل نہیں کرتے، لیکن یہ اصل سوال کا جواب نہیں دیتا۔ کیا بلی زندہ ہے یا مردہ؟ اس سوال پر غیر مربوطیت کا نظریہ خاموش ہے۔ یہ بہرحال غیر مربوطیت کی ایک قدرتی توسیع ہے جو اس سوال کا حل پیش کرتی ہے جس کو طبیعیات دانوں کے درمیان کافی زیادہ پزیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ یہ دوسرا طریقہ وہیلر کے ایک دوسرے شاگرد ہو ایورٹ سوم کا پیش کردہ ہے، جس نے یہ بات زیر بحث کی کہ ہو سکتا ہے کہ بلی بیک وقت زندہ اور مردہ دونوں ہی ہو لیکن دو مختلف کائناتوں میں۔ جب ایورٹ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ١٩٥٧ءختم ہوا تو اس پر شاید ہی کسی نے توجہ دی تھی۔ گزرتے برسوں میں "کثیر جہانوں" کی تشریح میں دلچسپی بڑھتی رہی ہے ۔ آج اس نے ایک ایسی لہر چھوڑ دی ہے جس کے نتیجے میں کوانٹم نظریئے میں موجود تناقضات میں دوبارہ سے دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔

    اس بالکل نئی تشریح میں، بلی دونوں حالتوں یعنی کہ زندہ اور مردہ ہے کیونکہ کائنات تو حصّوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک کائنات میں بلی زندہ ہے اور دوسری میں بلی مردہ ہے، اصل میں ہر کوانٹم کے سنگم پر کائنات دو آدھے حصّوں میں بٹ جاتی ہے اور یہ سلسلہ غیر مختتم طور پر کائنات کو حصّوں میں توڑتا رہتا ہے۔ ہر قسم کی کائنات اس منظر نامے میں ممکن ہے اور ان میں سے ہر ایک بالکل دوسرے جیسی اصلی ہے۔ ہر کائنات میں رہنے والا شخص شاید اس بات پر مصر ہوگا کہ اس کی کائنات ہی اصلی کائنات ہے اور دوسری تمام خیالی یا مصنوعی ہیں۔ متوازی کائناتیں کوئی آسیب زدہ بے ثبات جہاں نہیں ہیں؛ ہر ایک کائنات میں ، اجسام بالکل ٹھوس اور اصلی بالکل اس طرح کے ہیں جیسے کہ ہونے چاہئیں۔

    اس تشریح کا فائدہ یہ ہے کہ ہم اس کے نتیجے میں تیسری شرط ختم کر سکتے ہیں یعنی کہ موج کے منہدم ہونے کو۔ موجی تفاعل کبھی بھی منہدم نہیں ہوتا وہ تو بس ارتقا پاتا رہتا ہے، اور ہمیشہ کے لئے دوسرے موجی تفاعل میں ٹوٹتا رہتا ہے، ایک ایسے درخت کی مانند جس کی کبھی نہ ختم ہونے والی شاخیں پھوٹتی رہتی ہیں اور ہر شاخ ایک نئی کائنات کی نمائندگی کرتی ہے۔ کثیر جہانوں کے نظریئے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ کوپن ہیگن کی تشریح سے زیادہ سادہ ہے اس میں موجی تفاعل منہدم نہیں ہوتا۔ بس اس کی قیمت صرف اتنی سی ہے کہ اب ہمارے پاس ایک ایسی کائنات ہے جو ہمہ وقت کروڑوں شاخوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔ (کچھ لوگوں کو یہ بات سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے کہ ان تمام نمود پذیر کائناتوں کا حساب کس طرح رکھا جائے گا۔ بہرحال شروڈنگر کی موجی مساوات یہ خود کار طریقہ سے کرتی ہے۔ صرف موجی مساوات کے ارتقا کے نقش کا پیچھا کرتے ہوئے کوئی بھی موج کی تمام شاخوں کا معلوم کر سکتا ہے۔)

    اگر یہ توجیح صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت بھی آپ لڑتے مرتے ڈائنوسارس کے موجی تفاعل کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک کمرے میں ہم بود ہونے کا مطلب ہے کہ آپ ایک ایسی دنیا کے ساتھ موجود ہیں جہاں پر جرمن جنگ عظیم دوم جیتے ہوئے ہیں، جہاں فضائے بسیط سے آئی ہوئی خلائی مخلوق گھوم رہی ہے، جہاں آپ کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔ "اونچے محل کا آدمی" اور "شفقی علاقے " کی دنیائیں ان کائناتوں میں سے ایک ہیں جو آپ کے کمرے میں موجود ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ہم ان سے اب کوئی تعامل نہیں کرتے کیونکہ وہ ہم سے الگ ہو کر غیر مربوط ہو گئیں ہیں۔ 

    جیسا کہ ایلن گتھ نے کہا تھا، " ایک ایسی کائنات بھی ہے جہاں ایلوس اب بھی زندہ ہے۔" طبیعیات دان فرینک ویلزک نے لکھا، "ہمارے سر پر یہ بات سوار ہو گئی ہے کہ ہماری لامحدود نقول تھوڑے سے فرق کے ساتھ متوازی طور پر رہ رہی ہیں اور ہر لمحے مزید نقول بنے چلی جا رہی ہیں جس میں سے ہر ایک کا مختلف مستقبل ہوگا۔ وہ کہتا ہے کہ یونانی تہذیب اور مغربی دنیا شاید اس وقت مختلف ہوتیں اگر ٹروائے کی ہیلن خوبصورت نہ ہوتی ،اور اس کی ناک پر ایک بدصورت مسا ہوتا۔ "ویسے مسا ایک خلیہ میں تقلیب کی وجہ سے نمودار ہوتا ہے، جو اکثر اس وقت ابھر آتا ہے جب سورج کی بالائے بنفشی شعاعیں اس پر پڑتی ہیں۔" وہ مزید کہتا ہے، "نتیجہ" ایسے متعدد دنیائیں ہوں گی جہاں پر ٹروائے کی ہیلن کے ناک پر مسے ہوں گے۔"

    مجھے اولاف اسٹیپلڈن کی سائنسی کہانی "ستارہ ساز" کا وہ اقتباس یاد آ رہا ہے جس میں وہ لکھتا ہے :" جب بھی کسی مخلوق کو مختلف ممکنہ اقدامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ تمام اقدام اٹھا لیتا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف کائناتی تاریخیں بن جاتی ہیں۔ کیونکہ کائنات کے ہر ارتقائی سلسلے میں کافی ساری مخلوق ہوتی ہے اور اس میں سے ہر ایک ممکنہ مختلف حالات کا سامنا کرتی ہے، اور تمام حالات کے مجموعے کو ملا لیں تو وہ ناقابل شمار ہوں گے ، لامحدود جداگانہ کائناتیں ہر لمحے چھلکے کی طرح اتر کر وجود میں آ رہی ہیں۔"

    ہمارا دماغ اس وقت چکرا جاتا ہے جب ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کی اس توجیح کے لحاظ سے تمام ممکنہ جہاں ہمارے ساتھ وجود رکھتے ہیں۔ البتہ شاید ان متبادل جہانوں تک پہنچنے کے لئے ثقب کرم کی ضرورت ہوگی لیکن یہ کوانٹم کے جہاں اصل میں ہمارے کمرے میں بھی وجود رکھتے ہیں۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ : اگر یہ بات درست ہے تو ہمیں اپنے کمرے میں متوازی کائناتیں نظر کیوں نہیں آتیں؟ یہی وہ جگہ ہے جہاں غیر مربوطیت ظاہر ہوتی ہے، ہمارا موجی تفاعل دوسرے جہانوں سے غیر مربوط ہو گیا ہے۔(یعنی کہ موجیں اب ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہی ہیں)۔ ہم ان سے اب رابطے میں نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماحول میں ہونے والی خفیف سی تبدیلی بھی مختلف موجی تفاعل کو آپس میں ایک دوسرے سے تعامل کرنے سے روکتی ہے۔ (گیارہویں باب کے اندر میں نے اس اصول کے ممکنہ اِستثنیٰ کو بیان کیا ہے جہاں ذہین ہستیاں ان کوانٹم کی حقیقتوں کے مابین سفر کر سکتی ہیں۔)

    کیا ایسا ہونا بعید از حقیقت لگتا ہے؟ نوبیل انعام یافتہ اسٹیون وائن برگ اس کثیر کائناتی نظریئے کو ریڈیو کی طرح بیان کرتے ہیں۔ آپ کے آس پاس سینکڑوں ریڈیائی موجیں ہوتی ہیں جو دور دراز کے اسٹیشن سے نشر ہو رہی ہوتی ہیں۔ کسی بھی وقت آپ کی گاڑی، دفتر یا کمرہ ان سے بھرا ہوا ہوتا ہے ۔ البتہ جب آپ ریڈیو کو چلاتے ہیں تو آپ ایک وقت میں ایک ہی تعدد پر اس کو سن سکتے ہیں؛ دوسرے تمام تعدد ارتعاش اس سے غیر مربوط ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے خلط ملط نہیں ہوتے۔ ہر اسٹیشن کی اپنی توانائی اور اپنا تعدد ہوتا ہے۔ نتیجتاً آپ کا ریڈیو ایک وقت میں ایک ہی اسٹیشن کو نشر کر سکتا ہے۔ اسی طرح سے ہم اپنی کائنات میں اس طرح سے تعدد ارتعاش سے ہم آہنگ ہوئے ہیں جو ہماری طبیعی حقیقت سے مربوط ہے۔ لیکن یہاں لامحدود متوازی کائناتیں موجود ہیں جو ہمارے ساتھ ہمارے کمرہ میں موجود ہوتی ہیں، بس اتنا ہے کہ ہم ان سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ ہرچند یہ جہاں ہمارے جہانوں سے کافی ملتے جلتے ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک کی توانائی مختلف ہوتی ہے۔ اور کیونکہ ان میں سے ہر جہاں کھرب ہا کھرب جوہروں پر مشتمل ہوگا اس لئے توانائی کا فرق کافی بڑا ہوگا۔ کیونکہ ان موجوں کی تعدد ارتعاش ان کی توانائی (پلانک کے قانون کے مطابق) سے نسبت رکھتی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر جہاں کی موج مختلف تعدد ارتعاش میں مرتعش ہے ایک دوسرے سے کسی قسم کا کوئی تعامل نہیں کرتی ۔ تمام اغراض و مقاصد کے لئے یہ مختلف جہاں کی موجیں ایک دوسرے سے تعامل نہیں کرتی یا ایک دوسرے پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔

    حیرت انگیز طور پر سائنس دان اس عجیب نقطہ نظر کو لے کر دوبارہ سے کوپن ہیگن مکتبہ فکر کے نتائج کو موجی تفاعل کو منہدم کئے بغیر ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ بالفاظ دیگر کوپن ہیگن مکتبہ فکر کے تجربات یا کثیر جہانوں کی تشریح بعینہ ایک ہی جیسے نتائج فراہم کرتی ہے۔ بوہر کی موجی تفاعل کا منہدم ہونا ریاضیاتی طور پر ماحول میں خفیف سے گڑبڑ ہونے کے برابر ہے۔ بالفاظ دیگر شروڈنگر کی بلی مردہ اور زندہ ایک ہی وقت میں ہو سکتی ہے اگر ہم کسی طرح سے بلی کو ماحول میں ہونے والی تمام ممکنہ خفیف تبدیلیوں، جوہروں یا کائناتی اشعاع سے بھی بچا سکیں۔ ایک مرتبہ جب بلی کائناتی اشعاع کے ساتھ رابطہ میں آ جاتی ہے، تو مردہ اور زندہ بلی کے موجی تفاعل ایک دوسرے سے غیر مربوط ہو جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے کہ موجی تفاعل منہدم ہو گیا ہو ۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کثیر جہاں Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top