Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 12 ستمبر، 2016

    کائنات کے ایک طرف سے دوسری طرف - حصّہ دوم



    یہ وہ بنیادی وجہ تھی جس کو شیپلی اپنے اس دعویٰ کو درست ہونے کے لئے استعمال کرتا تھا کہ ملکی وے ہی کا کائنات پر غلبہ ہے اور مرغولہ نما سحابیہ تو صرف اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ کرٹس نے باور کرلیا تھا کہ سحابیہ اپنے آپ میں کہکشاں ہیں اور وہ اس کے ثبوتوں کی تلاش میں لگ گیا۔ فرض کریں کہ 1885ء میں اینڈرومیڈا میں دیکھا گیا ستارہ حقیقت میں اس نوا سے کہیں زیادہ روشن تھا جس کو پرسیس میں 1901ء میں دیکھا گیا۔ اگر اینڈرومیڈا ملکی وے کی طرح پوری کی پوری کہکشاں تھی تو حقیقت میں اس کو مختصر طور پر اتنا روشن ہونا چاہئے تھا جتنی ارب ہا ستاروں کی روشنی ہوتی ہے، یہ ایک ایسی بات تھی جو شیپلی کو بے سروپا لگی تھی۔ اس کو کون الزام دے سکتا ہے - تاہم اب ہم جانتے ہیں کہ بہت ہی کم 'سپرنووا' اس طرح سے روشن ہو کر چمکتے ہیں۔ اور ایک وجہ جو ہم جانتے ہیں کہ کرٹس نے اینڈرومیڈا میں ایک اور نوا کی تلاش شروع کی اور اس کی روشنی کو 1885ء میں ہونے والے واقعہ اور 1901ء میں پرسیس میں ہونے والے نوا کی روشنی سے ملا کر دیکھا۔ یہ حقیقت کہ کرٹس نے اینڈرومیڈا میں کئی نوا تلاش کر لئے تھے (اب تک ایک سو درج کئے جا چکے ہیں) ثابت کرتی ہے کہ یہ لازمی طور پر ستاروں کا مجموعہ ہوگی کیونکہ نوا اس قدر عام نہیں تھے۔ یہ حقیقت کہ یہ تمام نوا اس سے کہیں زیادہ مدھم تھے جو 1885ء میں دیکھے گئے تھے بتاتی ہے کہ یہ وہ درست مظہر تھے جن کا موازنہ پرسیس کے نوا سے کیا جاتا ہے۔ اس نظر ثانی کی وجہ سے اینڈرومیڈا کا پیمانہ سو گنا سے زیادہ بڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ ملکی وے کے کونے سے لاکھوں برس دور ہو گئی تھی۔ تو کرٹس اور شیپلی میں سے کون درست تھا؟ اس مسئلے میں اس قدر تجسس پیدا ہوا تھا کہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز نے 1920ء میں دو فلکیات دانوں کے درمیان بحث کا انعقاد واشنگٹن ڈی سی میں کیا۔ اس بحث کی تشہیر دوسروں کے علاوہ آئن سٹائن نے بھی کافی کی۔ عمومی احساس یہ تھا کہ شیپلی ہار گیا ہے - کرٹس کی کائنات کے پیمانے کی تشریح درست تھی۔ یہی وہ شکست تھی جس کی وجہ سے شیپلی نے ماؤنٹ ولسن کو چھوڑ دیا اور ہارورڈ چلا گیا جہاں اس نے ہارورڈ کالج رصدگاہ کی سربراہی سنبھالی جس کی اس کو پہلی مرتبہ اس وقت پیش کش کی گئی تھی جب پکرنگ کی موت ہوئی تھی۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس پر وہ لازمی پچھتایا ہوگا، کیونکہ اس کی فلکیات کی دنیا میں کافی خدمات کے باوجود وہ ماؤنٹ ولسن میں ایک نئے آدمی ایڈون ہبل کو آتا ہوا دیکھ رہا تھا جس نے وہاں سے شروع کیا جہاں اس نے چھوڑا تھا۔ ہبل نے قیقاؤسیوں اور عالمگیر جھرمٹوں کا استعمال کرکے فاصلے ناپنے کی شیپلی کی تیکنیک کو بہتر کیا؛ مزید اس کے پاس ایک نئی دوربین تھی جو 60 انچ والی سے بڑی اور بہتر تھی۔

    ہبل ہیل کی سخت محنت کے پھل کا فائدہ اٹھانے والوں میں اکیلا ہی تھا۔ اپنی ماؤنٹ ولسن رصدگاہ کی 60 انچ کی دوربین سے غیر مطمئن ہیل نے جان ڈی ہوکر جو لاس انجلیس کا ایک کاروباری شخص تھا کی منت کرکے 100 انچ (2.5 میٹر) پر پھیلے ہوئے اہم آئینہ کی دوربین میں پیسا لگانے پر راضی کیا۔ 'ہو کر' کی یہ دوربین 1918ء میں مکمل ہوئی اور تین عشروں تک دنیا کی سب سے بڑی دوربین بنی رہی۔ ہیل نے خود سے اپنی ان کوششوں کی اس وقت ضائع کر دیا جب اس نے طبی مشورے کی بنیاد پر پچپن برس کی عمر میں ماؤنٹ ولسن رصدگاہ سے استعفا دے دیا۔ فارغ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے گھر پاساڈینا سے قریب ایک چھوٹی سے رصدگاہ بنا رہا تھا اور ایک سورج پر تحقیق کرنے کے لئے ایک نئی قسم کا طیف پیما ایجاد کر رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے کوشش کی کہ جنوبی نصف کرہ میں ایک رصدگاہ بنانے کے لئے پیسا اکھٹا کر سکے تاہم وہ ناکامی سے دو چار ہوا اور اس پر دوسرے اعصابی ضعف کا حملہ ہوا۔ تاہم وہ جلد ہی ایک اور دیوہیکل دوربین کے ایک نئے منصوبہ کے ساتھ واپس آگیا، اس کا آئینہ 200 انچ (5 میٹر) پر پھیلا ہوا ہونا تھا۔ راکفیلر فاؤنڈیشن منصوبے پر 60 لاکھ ڈالر لگانے کو تیار ہو گئی جس کو کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام بنایا جانا تھا۔ ہیل اس جماعت کا صدر نشین تھا جو اس شہکار کو بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی جس کو کیلی فورنیا میں ماؤنٹ پلومر میں بننا تھا۔ منصوبے نے مکمل ہونے میں بیس برس کا عرصہ لیا، دوسری چیزوں کے علاوہ دیر سے مکمل ہونے میں جنگ عظیم دوم کا بھی ہاتھ تھا، ہیل کی موت 1938ء میں اپنے اس شہکار کام کے ختم ہونے سے پہلے ہو گئی۔ ہیل کی دوربین کے طور پر اس نے اپنا کام 1948ء میں شروع کیا؛ 1969ء میں ماؤنٹ ولسن اور ماؤنٹ پلومر میں واقع دونوں رصد گاہوں کا نام بدل کر ہیل رصدگاہ اس شخص کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے رکھا گیا جس نے بیسویں صدی میں امریکی فلکیات کو صف اوّل میں لا کھڑا کر دیا تھا۔ اس وقت تک ایڈون ہبل نے تمام فلکیات دانوں کے لئے کائنات کے پیمانے کو سمجھنے کے لئے ان کی آنکھیں بہت پہلے ہی کھول دی تھیں۔

    ہبل شیپلی کی طرح، مسوری میں (1889ء میں) پیدا ہوا تھا۔ وہ مارشفیلڈ کے قصبے سے آیا تھا اور اس کا وہاں کے مقامی وکیل کے سات بیٹوں میں پانچواں نمبر تھا۔ وہ شکاگو کے کالج اور یونیورسٹی گیا جہاں یونیورسٹی میں اس کا کچھ وقت اس دور کا تھا جب ہیل وہاں پروفیسر تھا۔ ہبل ایک زبردست قدرتی کھلاڑی تھا، اس کو عظیم جیک جانسن سے مقابلے کے لئے بطور پیشہ ور باکسر لڑنے کی پیش کش بھی ہوئی تھی۔ اس کے بجائے اس نے رہوڈز کے وظیفے کو چنا اور انگلستان میں آکسفورڈ یونیورسٹی چلا گیا، وہاںاس نے قانون کو پڑھا، یہاں یونیورسٹی کے کھلاڑی کے طور پر نمائندگی کی اور فرانسیسی باکسر اور جارجس کرپنٹیر کے ساتھ شوقیہ مقابلہ نمائشی کھیل میں حصّہ بھی لیا۔ 1913ء میں جب اس کی واپسی ریاست ہائے متحدہ میں ہوئی تو ہبل کینٹکی بار کا ممبر بن گیا تاہم اس نے بطور قانون دان اس وقت سے پہلے چند ماہ ہی کام کیا جب اس نے فیصلہ کیا کہ یہ وہ پیشہ نہیں ہے جس کو وہ چاہتا تھا۔ اس نے فلکیات میں دوبارہ دلچسپی لی جس کو جزوی طور پر ہیل نے اس وقت پیدا کیا تھا جب وہ شکاگو یونیورسٹی میں تھا، ہبل واپس یونیورسٹی آیا، فلکیات پڑھنی شروع کی اور یرکس رصدگاہ میں بطور ماتحت محقق کے کام کرنا شروع کر دیا۔ اس نے اپنی اس تحقیق کو 1917ء میں ختم کیا اور پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی؛ ہیل نے اس کو ماؤنٹ ولسن میں نوکری کی پیش کش کی، تاہم ہبل نے اس سے پہلے اپنے آپ کو فوج میں بھرتی کروا لیا اور فرانس میں لڑنے کے لئے چلا گیا جہاں پر وہ دائیں ہاتھ میں بم کا خول لگنے سے زخمی ہو گیا۔ لہٰذا یہ 1919ء کی بات تھی جب وہ ماؤنٹ ولسن آیا اسی وقت جب نئی 100 انچ کی دوربین پوری طرح سے اپنے استعمال میں آئی تھی اور شیپلی نے ہارورڈ کے لئے اس کو چھوڑا تھا۔ اس کے لئے وقت اس سے بہتر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس وقت 1917ء میں ہی پہلی مرتبہ عکسی تختیوں پر (جارج رٹچی کے ذریعہ ماؤنٹ ولسن میں) نوا کی شناخت ہوئی تھی، جس نے کرٹس میں تحریک پیدا کی وہ وہ لک کے عکسی مندرجات میں تلاش کرے اور وہ ثبوت حاصل کرے جو اس کو ماورائے کہکشانی سحابیہ کا پہلا براہ راست فاصلے کی پیمائش دے۔ چار سو برسوں سے ان سحابیوں کی ماہیت کے بارے میں بحث جاری تھی؛ 1924ء میں بحث ختم ہو گئی، اور 100 انچ کی دوربین اور ہبل کے اشتراک نے انسانیت کو کائنات کی ایک نئی تصویر عطا کی جس میں مزید چونکا دینے والی دریافتیں آنے والی تھیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: کائنات کے ایک طرف سے دوسری طرف - حصّہ دوم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top