Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 5 ستمبر، 2016

    ہماری کہکشاں کا زینہ - حصّہ اوّل




    اختلاف زاویہ کے طریقے کو بہتر ہونے میں مزید ساٹھ برس لگ گئے، اس کی وجہ یہ تھی کہ دوربین کے دوسرے کونے پر انسانی آنکھ کے بجائے عکاسانہ تختیوں (فوٹو گرافک پلیٹس)کا استعمال تب ہی ہونا شروع ہوا تھا اور یہ فلکیاتی معیار بن گیا تھا۔ آنکھ کے مقابلے میں تصویر کے دو اہم فائدے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا کہ یہ ستارے کے مقام کا براہ راست مستقل اندراج فراہم کرتی ہے، جس کا بعد میں فارغ اوقات میں مطالعہ کرکے درست پیمائش کی جا سکتی ہے، اور اس کام کے لئے خرد بین کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ ستارے کا مقام دوسروں کی نسبت زیادہ درست طریقے سے ناپا جا سکے۔ دوسرے انسانی آنکھ کے برعکس، عکاسانہ تختی یا فلم بہت ہی دھندلے اجسام کو بھی 'دیکھ' سکتی ہے۔ جتنا لمبے عرصے تک آپ تختی کو کھلا چھوڑیں گے، اس پر اتنی ہی زیادہ روشنی پڑے گی، اور دھندلی تصویر بہتر ہوتی جائے گی، انسانی آنکھ کے ساتھ چاہئے آپ جتنا بھی لمبا عرصے خلاء میں گھور لیں آپ کسی بھی چیز کو اس سے کم دھندلا نہیں دیکھیں گے جتنا کہ پہلی مرتبہ دیکھا ہوگا۔ لہٰذا فلکیاتی عکاس نے مزید تحقیق کے لئے ستارے دیئے اور اس بات کو ممکن بنایا کہ ان میں سے ہر ایک کا مقام زیادہ درست طریقے سے ناپا جا سکے۔ 1900ء میں جب تیکنیک کو متعارف کروایا گیا تو صرف ساٹھ ستاروں کا اختلاف زاویہ معلوم کیا گیا۔ نصف صدی بعد 1950ء میں معلوم نجمی فاصلے دس ہزار کے قریب تھے؛ تاہم یہ تمام کے تمام براہ راست اختلاف زاویہ سے ناپے نہیں گئے تھے۔

    تینوں تیکنیکوں نے بطور خاص فلکیات دانوں کو سورج کے گرد چھوٹی سے خلاء کی جگہ سے قدم رکھنے کی جگہ دی جس میں اختلاف زاویہ قابل بھروسہ فاصلوں کی رہنمائی - صرف 30 فلکی فرسخ یا 100 نوری برس تک بحیثیت مجموعی کہکشاں تک وسیلہ فراہم کرنے کے لئے کرتا ہے۔ ہرچند کہ تیزی سے یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ تمام ستاروں کے تابانی ایک جیسی نہیں ہے، ہوگنز کے رہنما کام کی بدولت ستاروں کی طیف بینی کے مطالعہ میں معلوم ہوا کہ ان میں خاندانی شباہت موجود ہے۔ ایک ستارہ جس کے طیفی خطوط میں ایک مخصوص نمونہ موجود ہے اس کی شناخت کی جا سکتی ہے اور اس کے فاصلے کی پیمائش اختلاف زاویہ سے کی جا سکتی ہے اس طرح سے اس کی حقیقی تابانی معلوم کی ہوتی ہے۔ تب جب کوئی اور دور دراز کا ستارہ ایسا ملتا تھا جس کی وہی طیفی قسم ہوتی تھی تو معقول طور پر یہ بات کہی جا سکتی تھی کہ اس کی وہی خلقی تابانی ہوگی۔ یہ دور والا ستارہ لازمی طور پر دھندلا لگتا تھا اور اس کی تابانی (یا دھندلاہٹ) کی پیمائش کرکے دوسرے ان ستاروں سے کی جا سکتی تھی جس کے فاصلے معلوم تھے، اس طرح سے زیادہ دور ستارے کے فاصلے کے بارے میں اندازہ قائم کیا جا سکتا تھا۔

    دوسری دو تیکنیکوں کا انحصار جیومیٹریکل ترکیب کے ساتھ طیف بینی پر بھی ہوتا ہے۔ اہم طیف بینی کا عناصر ،جس کو ہم کہکشاؤں کی کہانی کی اہمیت میں اور زیادہ دیکھیں گے، طیف میں وہ مخصوص تیکھے خطوط کے مقام کی تبدیلی ہے جب روشنی کا وہ ماخذ جو طیف کو پیدا کرتا ہماری طرف آ رہا یا ہم سے دور جا رہا ہوتا ہے ۔ سب سے پہلے ایک ایسے جسم کا تصور کریں جو ہم سے دور جار ہا ہے۔ وہ جو کوئی بھی لہر خارج کرے گا - چاہئے وہ ستارے کی صورت میں روشنی کی امواج ہوں، یا زمین پر کسی جسم کی صورت میں صوتی امواج جیسا کہ پولیس کی کار - وہ حرکت کی وجہ سے کھنچتی ہیں۔ کھنچی ہوئی موج کا طول موج بھی لمبا ہو جاتا ہے؛ آواز کی صورت میں، نوٹ گہرا ہو جاتا ہے؛ روشنی کی صورت میں وہ بصری روشنی کے طول موج کو طیف کے سرخ حصّے کی جانب دھکیل دیتی ہے۔ جب موج کا ماخذ ہماری طرف حرکت کرتا ہے تو موجیں کچل جاتی ہیں، ایک ساتھ مل کر بلند پچ کا شور پیدا کرتی ہیں، یا روشنی کو نیلے طیف کے حصّے کی جانب منتقل کر دیتی ہیں۔

    یہ دریافت 1842ء میں آسٹریا کے رہائشی کرسچین ڈوپلر نے کی کہ مشاہدہ کی ہوئی آواز کے تعدد ارتعاش کا انحصار شاہد کی نسبت سے ماخذ کی سمتی رفتار پر ہوتا ہے، اس لئے اس کا نام ان کے اعزاز میں رکھا گیا۔ ڈوپلر نے خود سے اس بات کا احساس کرلیا تھا کہ اسی طرح کی تبدیلی حرکت کرتے ہوئے جسم سے آتی ہوئی روشنی میں بھی ہوگی، اور 1848ء میں فرانسیسی طبیعیات دان آرمنڈ فزیو نے پہلی مرتبہ اس سرخ منتقلی یا نیلی منتقلی کے بارے میں واضح توضیح دی۔

    اہم بات یہ ہے کہ تبدیلی کی مقدار کا انحصار اس رفتار پر ہے جس سے ستارہ ہماری طرف آ رہا ہے یا ہم سے دور جار ہا ہے۔ کیونکہ جسم کا پورا طیف یا تو کھنچتا ہے یا کچلا جاتا ہے، وہ طول موج جس پر یہ خاصیت والے خطوط جس طرح سوڈیم کے خطوط ہوتے ہیں، سرخ یا نیلے طرف اس مقدار سے منتقل ہوتے ہیں جس کا انحصار اس سمتی رفتار کے منبع پر ہوتا ہے جو سمت نظر کے ساتھ ہوتا ہے۔ لہٰذا ستارے کے طیف میں جہاں شناسا طیفی خطوط ابھرتے ہیں درست مقام کی پیمائش کرکے اور ان کا موازنہ ان طول امواج سے کرکے جو اس روشنی سے ویسے ہی خطوط زمین پر موجود تجربہ گاہ میں کسی مناسب ماخذ سے نکالتی ہیں، فلکیات دان اندازہ لگاتے ہیں کہ آیا ستارے ہمارے طرف یا ہمارے سے دور اور کس شرح سے جا رہا ہے ۔ بلاشبہ یہ آپ کو صرف سمت نظر کے ساتھ صرف حرکت کو بتاتا ہے۔ ایک ستارہ سمت نظر کے ساتھ قاطع سمتی رفتار سے حرکت کر سکتا ہے۔ خلاء میں اس کی اصل حرکت سمت نظر کے کچھ زاویے پر ہوگی، اور اس اصل حرکت کو جیومیٹریکلی مشاہدے سے حاصل کردہ دو سمتی رفتاروں کو جمع کرکے معلوم کیا جا سکتا ہے: قاطع سمتی رفتار یا خاص حرکت اور سمت نظر کے ساتھ سمتی رفتار، جس کا تعین طیف بینی سرخ منتقلی یا نیلی منتقلی سے کیا جا سکتا ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ہماری کہکشاں کا زینہ - حصّہ اوّل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top