Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    اتوار، 4 ستمبر، 2016

    عدم سے وجود میں آئی ہوئی کائنات - حصّہ دوم



    اس کتاب کا مقصد بہت سادہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ دکھاؤں کہ کس طرح سے جدید سائنس مختلف صورتوں میں اس جملے اور اس سوال کو مخاطب کر سکتی ہے کہ یہاں عدم کے بجائے وجود کیوں ہے: وہ جواب جو نہ صرف شاندار خوبصورت مشاہدات سے حاصل کیا گیا ہے بلکہ جدید طبیعیات کی بنیاد بنانے والے نظریات تمام کے تمام بتاتے ہیں کہ عدم سے وجود حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ حقیقت میں عدم سے وجود ہی کائنات کو بننے کے لئے درکار تھا۔ 

    مزید براں تمام نشانات بتاتے ہیں کہ ایسے ہی ہماری کائنات بنی ہے۔ 

    میں لفظ پر یہاں زور دے سکتا ہوں کیونکہ ہمارے پاس کبھی بھی اتنی تجربی اطلاعات نہیں تھیں کہ اس سوال کو صریح طور پر حل کر سکتے۔ تاہم یہ حقیقت کہ کائنات عدم سے وجود میں آئی ہے نہ صرف معقول ہے بلکہ کم از کم میرے لئے بہت اہم ہے۔ 

    آگے جانے سے پہلے، میں چند الفاظ "عدم" کے تصور کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں - ایک ایسا موضوع جس پر میں بعد میں تفصیل سے بات کروں گا۔ میں نے یہ سیکھا ہے کہ جب اس سوال کو عوامی جگہوں پر زیر بحث کیا جائے تو ان فلسفیوں اور عالم دین کو کوئی چیز پریشان نہیں کرتی جو مجھ سے اس تصور سے کہیں زیادہ غیر متفق ہوتے ہیں کہ میں بطور سائنس دان ٹھیک طور سے "عدم" کو نہیں سمجھتا۔ ( میں یہاں یہ کہنے سے باز نہیں آتا کہ عالم دین عدم کے زیادہ ماہر ہیں۔)

    وہ زور دیتے ہیں کہ "عدم" کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو میں بیان کر رہا ہوں۔ عدم ایک طرح سے مبہم اور غیر واضح "عدم وجود" ہے۔ یہ مجھے اپنی وہ سعی یاد دلاتا ہے جو میں نے "ذہین صورت گری" کو بیان کرنے میں لگائی تھی جب میں نے تخلیقیوں سے بحث کرنا شروع کی تھی، جس سے یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ کوئی واضح تعریف نہیں ہے بجز اس کے کہ یہ کہا جائے کہ یہ کیا نہیں ہے۔ ذہین صورت گری سادہ طور پر ارتقاء کی مخالفت کرنے والوں کو ایک چھتری تلے متحد کر دیتی ہے۔ 

    اسی طرح کچھ فلسفی اور کئی عالم دین "عدم" کی تعریف اور تعریف نو اس طرح نہیں کرتے جیسا کہ سائنس دان حالیہ طور پر اس کو بیان کرتے ہیں۔ 

    تاہم میرے خیال میں اسی چیز میں زیادہ تر عالم دین اور کچھ جدید فلسفی فکری طور پر دیوالیہ ہیں۔ یقینی طور پر "عدم" ہر طرح سے طبیعی ہے جیسا کہ "وجود" بطور خاص اگر اس کو "کسی چیز کی غیر موجودگی" کے طور پر بیان کیا جائے۔ لہٰذا ہماری یہ غرض ہے کہ ان دونوں مقداروں کی طبیعی ماہیت کو ٹھیک طرح سے سمجھیں۔ بغیر سائنس کے کوئی بھی تعریف الفاظ سے زیادہ نہیں ہو گی۔ 

    ایک صدی پہلے کوئی بھی "عدم" کو بطور خالص خالی جگہ کے بیان کرتا تھا، جس میں کوئی حقیقی مادّی ہستی نہیں ہوتی، اس پر بہت تھوڑی بحث ہو سکتی تھی۔ تاہم گزشتہ صدی کے نتائج نے ہمیں بتایا کہ خالی خلاء حقیقت میں اس پائیدار عدم سے کہیں دور ہے جس کو ہم نے یہ جانے بغیر پہلے سے ہی فرض کیا ہوا ہے کہ قدرت کس طرح کام کرتی ہے۔ اب مجھے مذہبی ناقدین بتاتے ہیں کہ میں خالی جگہ کو "عدم" سے بیان نہیں کر سکتا بلکہ اس کا حوالہ "کوانٹم خلاء" سے دیا جا سکتا ہے تاکہ اس کو فلسفی اور عالم دین کے قیاس کردہ "عدم" سے الگ بیان کیا جا سکے۔ 

    تو چلیں ایسا ہی ٹھیک ہے۔ تاہم تب کیا ہو گا اگر ہم "عدم" کو مکان و زمان کی غیر موجودگی سے بیان کریں ؟ کیا یہ کافی ہے ؟ ایک بار پھر مجھے شبہ ہے کہ یہ۔ ۔ ۔ ۔ ایک مرتبہ کے لئے ہو گا۔ تاہم جیسا کہ میں بیان کروں گا مکان و زمان بذات خود طبیعی طور پر خود سے ظاہر ہو سکتے ہیں لہٰذا اب ہم جان گئے ہیں کہ یہ "عدم" اصل میں کوئی عدم نہیں ہے جس سے مسئلہ ہو۔ اور ہمیں بتایا گیا کہ "حقیقی" عدم سے فرار کے لئے خدا کی ضرورت ہوتی ہے، اس فرمان سے جس سے "عدم" کو بیان کیا جاتا ہے "کہ جس سے صرف خدا ہی کچھ تخلیق کر سکتا ہے۔ " 

    یہ بات کافی افراد نے اس وقت تجویز کی جس میں ان سے اس مسئلہ پر بات کر رہا تھا کہ اگر کوئی کچھ تخلیق کے لئے "مخفی" چیز ہے، یعنی کہ یہ اصل میں حقیقی عدم نہیں ہے۔ اور بے شک قوانین قدرت جنہوں نے ہمیں کچھ اس طرح کہ امکان دیئے کہ ہمیں حقیقی عدم وجود کے دور سے دور لے جائیں۔ تاہم جب میں دلیل دوں کہ شاید قوانین بذات خود خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں تو میں شاید اس صورتحال کو اس طرح سے پیش کروں گا جو کہ اچھی نہیں ہو گی کیونکہ جس نظام میں بھی قوانین بنیں گے وہ حقیقی عدم نہیں ہو گا۔ 

    نیچے تک کچھوے ہیں ؟ میں ایسا نہیں سمجھتا۔ تاہم کچھوے اس لئے پسندیدہ ہوتے ہیں کیونکہ سائنس کھیل کا میدان اس طرح سے تبدیل کرتی ہے جس سے لوگ بے آرام ہو جاتے ہیں۔ بلاشبہ سائنس کا ایک مقصد یہی ہے (کوئی سقراط کے وقت میں اس کو "قدرتی فلسفہ" کہہ سکتا تھا)۔ بے آرامی کا مطلب یہ ہے کہ ہم نئی بصیرت کی دہلیز پر ہیں۔ بے شک "خدا" کو بلانے سے مشکل سوالات سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی کہ "کیسے " محض ذہنی طور پر سست ہے۔ الغرض اگر تخلیق کا کوئی امکان ہی نہیں ہے تب خدا نے کوئی بھی چیز نہیں تخلیق کی ہو گی۔ یہ صرف معنوی دھوکہ دہی ہو گی کہ زور دیا جائے کہ امکانی لامحدود رجعت کو اس لئے نظر انداز کیا ہے کیونکہ خدا قدرت سے ماورا ہے لہذا وجود کا "امکان" بذات خود اس عدم کا حصّہ نہیں ہے جس سے وجود قائم ہوا۔ 

    یہاں میرا اصل مقصد اس بات کا مظاہرہ کرنا ہے کہ درحقیقت سائنس نے کھیل کے میدان کو تبدیل کر دیا ہے، لہٰذا عدم کی ماہیت سے متعلق یہ تجریدی اور بے ثمر مباحثے، عملیاتی کوششوں سے بدل دیئے گئے ہیں جو وضاحت کرتے ہیں کہ اصل میں ہماری کائنات کا آغاز کس طرح سے ہوا تھا۔ میں بہرحال ہمارے حال اور مستقبل پر پڑنے والے اس کے ممکنہ مضمرات کے بارے میں بھی بات کروں گا۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: عدم سے وجود میں آئی ہوئی کائنات - حصّہ دوم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top