Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعہ, ستمبر 23, 2016

    ایک پراسرار کائناتی کہانی: کائنات کا وزن - حصّہ اوّل

    باب - 2


    'معلوم' معلوم ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں۔ کچھ 'نامعلوم' معلوم ہیں۔ یعنی کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے۔ تاہم کچھ 'نامعلوم' نامعلوم بھی ہیں۔ کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ ہم نہیں جانتے۔ 

    -ڈونلڈ رمزفیلڈ

    اس بات کو قائم کرنے کے بعد کہ کائنات کا نقطہ آغاز تھا، اور وہ نقطہ آغاز محدود اور ماضی میں قابل پیمائش وقت میں ہوا تھا، ایک قدرتی طور پر سوال پوچھنے کے لئے اٹھتا ہے، "اس کا اختتام کیسے ہو گا؟"

    سچ بات تو یہ ہے کہ یہی وہ سوال تھا جو مجھے میرے پسندیدہ مضمون یعنی کہ ذراتی طبیعیات سے علم کائنات میں لانے کا سبب بنا۔ 1970ء اور 1980ء کے عشرے کے دوران، نہ صرف ہماری کہکشاں کے ستاروں اور گیس کی حرکت بلکہ بڑے گروہوں میں موجود جھرمٹ کہلانے والی کہکشاؤں کی حرکت کی مفصل پیمائش سے یہ تیزی سے واضح ہو رہا تھا کہ کائنات میں آنکھوں اور دوربینوں کے دیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ 

    کشش ثقل وہ اہم قوت تھی جو کہکشاؤں کے بہت بڑے پیمانے پر کام کر رہی تھی، لہٰذا اس پیمانے پر اجسام کی حرکت کی پیمائش ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ ثقلی کشش کی کھوج کریں جو اس حرکت کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح کی پیمائش کی شروعات 1970ء کی دہائی میں امریکی فلکیات دان ویرا رابن اور ان کے رفقاء کے ابتدائی کام سے ہوئی۔ رابن نے اپنی ڈاکٹریٹ کی سند جارج ٹاؤن سے رات کی کلاسز لے کر حاصل کی اور اس وقت ان کا شوہر گاڑی میں انتظار کر رہا ہوتا تھا کیونکہ ان کو گاڑی چلانی نہیں آتی تھی۔ انہوں نے ملازمت کی درخواست پرنسٹن میں دی، تاہم 1975ء تک وہ یونیورسٹی اپنے فلکیاتی پروگرام کی سند میں عورتوں کو آنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ رابن وہ دوسری خاتون ہیں جن کو کبھی رائل آسٹرونامیکل سوسائٹی کا سونے کا تمغا ملا۔ یہ انعام اور اس کے دیگر اعزاز جس کی وہ مستحق تھی اس کی جڑیں ہماری کہکشاں کی گردش کی اوّلین پیمائش سے نکلی تھیں۔ ستاروں اور گرم گیسوں کے مشاہدے سے جو ہماری کہکشاں کے مرکز سے سب سے دور تھے، رابن نے تعین کیا کہ یہ علاقے اس سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے حرکت کر رہے ہیں جتنی کہ ثقلی قوت کو انہیں کہکشاں کے اندر موجود تمام اجسام کی کمیت کی وجہ سے حرکت دینی چاہئے۔ ان کے کام کی وجہ سے ماہرین کونیات پر بالآخر یہ بات واضح ہو گئی کہ صرف اس حرکت کی ایک ہی توضیح ہے کہ ہماری کہکشاں میں اس سے کہیں زیادہ اہم کمیت موجود ہے جو نظر آنے والی گرم گیس اور ستاروں کی کمیت کو جمع کر کے ہو سکتی ہے۔ 

    بہرحال اس نقطہ نظر میں ایک مسئلہ تھا۔ وہی حسابات جو بہت خوبصورتی کے ساتھ مشاہدہ کئے گئے ہلکے ترین عناصر (ہائیڈروجن، ہیلیئم، اور لیتھیم) کو کائنات میں بیان کرتے ہیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ کم و بیش کتنے پروٹون اور نیوٹران، عام مادّے کے اجزاء، کائنات میں موجود ہونے چاہئیں۔ اس کی وجہ ہے، جیسے کہ کسی بھی کھانے بنانے کی ترکیب میں، اور اس صورت میں نیوکلیائی پکانے میں - آپ کی حتمی پیداوار کی مقدار کا انحصار ہر اس جز پر ہوتا ہے جس سے آپ نے شروعات کی تھی۔ اگر آپ ترکیب میں دو کی جگہ چار انڈے استعمال کریں - تو آپ کو حتمی پیداوار زیادہ ملے گی، دوسری صورت میں آملیٹ۔ اس کے باوجود بگ بینگ سے نکلنے والی ابتدائی پروٹون اور نیوٹران کی کثافت جس کا تعین مشاہدہ کی گئی ہائیڈروجن، ہیلیئم، اور لیتھیم سے ہوتا ہے، وہ لگ بھگ اس مادّے کی مقدار کا دوگنا ہے جو ہم ستاروں اور گرم گیس میں دیکھتے ہیں۔ ان کے ذرّات کہاں ہیں ؟

    پروٹون اور نیوٹران کو چھپانے کے لئے تصور کرنا آسان ہے (برف کے گولے، سیارے، ماہرین کونیات۔ ۔ ۔ اس میں سے کوئی بھی نہیں چمکتا)، لہٰذا کئی طبیعیات دانوں نے رائے قائم کی کہ اتنے ہی پروٹون اور نیوٹران تاریک اجسام میں ہیں جتنے کہ نظر آنے والوں میں۔ بہرحال، جب ہم جمع کر کے معلوم کرتے ہیں کہ کتنے "تاریک مادّے " کو موجود ہونا ہو گا تاکہ ہماری کہکشاں کے مادّے کی حرکت کو بیان کر سکے، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کل مادّے کا تناسب نظر آنے والے مادّے سے 2 اور 1 کا نہیں بلکہ تقریباً 10 اور 1 کا ہے۔ اگر یہ غلطی نہیں ہے، تب تاریک مادّہ پروٹون اور نیوٹران سے مل کر نہیں بن سکتا۔ وہ اتنے ہیں ہی نہیں۔ 

    1980ء کے عشرے میں بطور نوجوان بنیادی ذراتی طبیعیات دان کے اس اجنبی تاریک مادّے کے وجود کے امکان کے بارے میں سیکھنا میرے لئے انتہائی دلچسپ تھا۔ اس کا مطلب تھا، واقعی، کہ کائنات میں غالب ذرّات وہ پرانی طرز کے نیوٹران اور پروٹون کی اقسام کے نہیں تھے، بلکہ ممکنہ طور پر کچھ نئی قسم کے بنیادی ذرّات تھے، کچھ ایسے جو زمین پر وجود نہیں رکھتے، تاہم کچھ پراسرار جو ستاروں کے درمیان اور بیچ میں بہتے ہیں اور خاموشی سے ثقلی شو کو چلاتے ہیں جس کو ہم کہکشاں کہتے ہیں۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ایک پراسرار کائناتی کہانی: کائنات کا وزن - حصّہ اوّل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top