Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    ہفتہ، 3 ستمبر، 2016

    عدم سے وجود میں آئی ہوئی کائنات - حصّہ اوّل



    تمام تعریفیں اس پروردگار کے لئے جو تمام جہانوں کا رب ہے اور درودو سلام ہو حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی مطہر آل و اولاد پر ۔

    کائنات کا آغاز کیسے ہوا؟ اس میں ہم اور ہماری دنیا سمیت نظر آنے والا مادہ کہاں سے آیا اور کیسے بنا؟ غالباً اس سوال نے انسانیت کو کافی عرصے سے پریشان کیا ہوا ہے اور وہ مسلسل اس جستجو میں ہے کہ کسی طرح کائنات کے آغاز و ارتقاء کے مراحل کی اچھی طرح سے تفہیم حاصل کر لے۔ پھیلتی ہوئی کائنات کا تصور کچھ زیادہ عرصہ پرانا نہیں ہے ۔ پچھلی صدی کے تیسرے عشرے کے اختتام تک ایڈون ہبل نے اپنے مشاہدات سے ثابت کیا کہ صرف ملکی وے کہکشاں ہی کل کائنات نہیں ہے بلکہ یہ تو کھربوں کہکشاؤں میں سے صرف ایک کہکشاں ہے اور اس نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔

    پھیلتی ہوئی کائنات کا اثر علم کائنات پر بہت عمیق پڑا ، اگر وقت کو پیچھے کی طرف چلانا شروع کیا جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب ہر چیز ایک ایسے نقطے میں سمائی ہوئی ہوگی جس کا حجم صفر اور کمیت لامتناہی ہوگی۔ بالفاظ دیگر کائنات کا آغاز عدم سے ہوا یا دوسرے الفاظ میں کائنات عدم سے وجود میں آئی۔

    عدم سے وجود میں آنے والی کائنات کو موحد ین و ملحدین دونوں نے اپنے اپنے عقائد کو ثابت کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔ زیر نظر کتاب مشہور نظری طبیعیات دان اور ماہر تکوینیات لارنس ایم کراس کی" آ یونیورس فرام نتھنگ"، کا اردو ترجمہ ہے۔ لارنس ایک کٹر ملحد ہیں اور جیسا کہ انہوں نے اس کتاب کی تمہید باندھتے ہوئے لکھا کہ اس کتاب کا لکھنے کا اصل مقصد اس بات کو ثابت کرنا ہے کہ کائنات عدم سے وجود میں بغیر کسی خالق کی موجودگی سے آسکتی ہے ۔ بہرحال لارنس کے ملحدانہ عقائد سے قطع نظر اس کتاب میں بڑی خوبی سے کائنات کے عدم سے وجود میں آنے کی کہانی کوسائنسی نقطہ نظر سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے ترجمے کو شائع کرنے کا مقصد ملحدانہ عقائد کی ترویج نہیں بلکہ اس کائنات کی ابتداء کے بارے میں تازہ ترین تحقیق و افکار کا اشتراک ہے۔


    مترجم 
    زہیر عبّاس 


    تمہید 


    خواب ہو یا ڈراؤنا خواب جاگنے کے بعد ہمیں اسی کی یاد کے ساتھ رہنا ہوتا ہے ، بعینہ جیسے ہمیں اپنے تجربے کے ساتھ زندہ رہنا ہوتا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس میں سائنس پوری طرح سے سرایت کر گئی ہے اور جو پوری اور حقیقی دونوں ہی ہے۔ ہم کسی کی حمایت کرکے اس کو کھیل میں نہیں بدل سکتے۔ 

    جیکب برونوسکی 


    میں شروع میں ہی بغیر کسی لگی لپٹے بغیر یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میں اس پر یقین نہیں رکھتا کہ تخلیق کے لئے کسی خالق کی ضرورت ہے جو دنیا کے تمام مذاہب کی بنیاد ہے۔ یخ موسم سرما کی صبح میں برف کے گالے سے لے کر موسم گرما کی پھوار کی طویل دوپہر کے بعد تھرتھراتی قوس و قزح تک ہر روز خوبصورت اور معجزاتی اجسام یکایک ظاہر ہوتے ہیں ۔ اس کے باوجود کوئی اور نہیں بلکہ جذباتی بنیاد پرست تجویز کرتے ہیں کہ اس طرح کا ہر جسم پیار اور عرق ریزی اور سب سے اہم کسی مقصد سے کسی خدائی حکمت کی تخلیق ہے۔ حقیقت میں کئی عام آدمی اور سائنس دان ہماری اس لیاقت پر مسرور ہوتے ہیں جس سے ہم بیان کر سکتے ہیں کہ کس طرح سے برف کا گالا اور قوس و قزح خود بخود خوبصورت قوانین طبیعیات کی بنیاد پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔ 

    بلاشبہ کوئی بھی پوچھ سکتا ہے اور کئی ایسا کرتے بھی ہیں، "قوانین طبیعیات کہاں سے آئے ؟"بلکہ زیادہ تو یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں، "یہ قوانین کس نے بنائے ہیں ؟"اگر کوئی اس پہلے استفسار کا جواب بھی دے سکتا ہو، تو سوال کرنے والا پھر بھی اکثر پوچھتا ہے، 'لیکن یہ آئے کہاں سے ؟"یا "اسے کس نے بنایا ہے ؟" وغیرہ وغیرہ۔ 

    بالآخر کئی صاحب فکر لوگ بظاہر پہلی وجہ کی ضرورت کی طرف آئے جیسا کہ پلاٹو، اقیناس یا جدید رومی کیتھولک گرجا گھر اس کو ایسا سمجھتے ہیں لہٰذا وہ کسی خدائی ہستی کو فرض کرتے ہیں : ایک ایسا خالق جو موجود ہے اور یہاں ہمیشہ کوئی یا کوئی چیز ابدی اور جا بجا موجود ہو گا/ ہوگی۔ 

    بہرحال پہلی وجہ کا اعلان اب بھی جواب طلب ہے، "خالق کو کس نے تخلیق کیا ہے ؟"بہرحال اس بحث میں کیا فرق ہے کہ کوئی ایک ازلی خالق کا وجود ہے یا کائنات بغیر کسی خالق کے ازل سے موجود ہے ؟ 

    یہ دلائل ہمیشہ مجھے اس مشہور کہانی کی یاد دلاتے ہیں جس میں ایک ماہر کائنات کے ماخذ کے بارے میں لیکچر دے رہا تھا ( کبھی اس کو برٹرینڈ رسل اور کبھی ولیم جیمز کہا جاتا ہے )، جس کو ایک عورت نے للکارا تھا جس کو یقین تھا کہ دنیا کو ایک عظیم کچھوے نے تھاما ہوا ہے، اور اس کچھوے کو ایک اور دوسرے کچھوے نے، اور اس کو۔ ۔ ۔ ایک اور کچھوے نے " اور یوں یہ سلسلہ نیچے تک چلا جاتا ہے !" کسی تخلیقی قوت کی ایک لامحدود مراجعت جس نے اپنے آپ کو خود جنا تھا یہاں تک کہ کچھ تخیلاتی قوت جو ان کچھووں سے بھی عظیم ہے، اور اس کے تو قریب بھی نہیں پھٹکتی جس نے کائنات کی تخلیق کی ہے۔ اس بات سے قطع نظر اس لامحدود رجعت کے استعارہ حقیقت میں اصل عمل کے قریب تر ہو سکتا ہے جس کے ذریعہ کائنات وجود میں آئی بجائے کوئی اس کو کسی واحد خالق سے بیان کرے۔ 

    سوال سے دور جاتے ہوئے خدا کے ساتھ مقابلہ روک کر یہ دلیل دیتے ہوئے شاید لگ سکتا ہے کہ لامتناہی رجعت سے بچا جا سکتا ہے تاہم یہاں پر میں اپنے منتر کو پکارتا ہوں : کائنات ایسی ہے جیسی کہ ہونی چاہئے، چاہئے ہمیں اچھا لگے یا نہ لگے۔ خالق کا وجود یا عدم وجود ہماری خواہشات سے آزاد ہے۔ خدا کے بغیر دنیا یا مقصد سخت یا فضول لگ سکتا ہے تاہم یہ بذات خود خدا کے حقیقی وجود کے لئے کافی نہیں ہے۔ 

    بعینہ اسی طرح ہمارا دماغ لامتناہی کو نہیں سمجھ سکتا (اگرچہ ریاضی، ہمارے دماغ کی پیداوار اس سے کافی اچھے طریقے سے نمٹ لیتی ہے )، تاہم یہ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ لامحدود کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ہماری کائنات مکانی یا دنیاوی طور پر لامحدود ہو سکتی ہے۔ یا جیسا کہ رچرڈ فائن مین نے ایک مرتبہ کہا تھا، قوانین طبیعیات ایک لامحدود چھلکے والی پیاز کی طرح ہیں، جب بھی ہم نئے پیمانہ پر کھوج کرتے ہیں نئے قوانین لاگو ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ بس ہم کچھ نہیں جانتے ! دو ہزار برس سے سوال، "یہاں عدم کے بجائے وجود کیوں ہے ؟" معمے کو حل کرنے کے لئے ایک مبارزت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے کہ ہماری کائنات جس میں وسیع ستارے، کہکشائیں، انسان اور کون جانتا ہے کہ اس میں اور کیا کچھ ہو سکتا ہے بغیر کسی صورت گری، نیت یا مقصد کے بنی ہے۔ اگرچہ عام طور پر اس کو بطور فلسفیانہ یا مذہبی سوال کے طور پر رکھا جاتا ہے، تاہم یہ پہلا اور نمایاں سوال جہاں کے بارے میں ہے، لہٰذا اس کو حل کرنے کی کوشش کے لئے پہلی اور اول جگہ سائنس ہی ہے۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: عدم سے وجود میں آئی ہوئی کائنات - حصّہ اوّل Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top