Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    جمعرات, ستمبر 29, 2016

    اطلاعات کی درجہ بندی


    تہذیب کی مزید بہتر درجہ بندی نئی ٹیکنالوجی کو بنیاد بنا کر بھی کی جا سکتی ہے۔ کاردیشوف نے اصل درجہ بندی کو 1960ء کے عشرے میں، کمپیوٹر انقلاب، نینو ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور ماحول کے انحطاط کے شعور کے احساس ہونے سے پہلے لکھا تھا۔ ان میدانوں میں ہونے والی ترقی کی روشنی میں، ایک جدید تہذیب ممکن ہے تھوڑا الگ طریقے سے ترقی کرے اور اس اطلاعاتی انقلاب کا پورا فائدہ اٹھائے جس کا ہم آج مشاہدہ کر رہے ہیں۔

    جیسا کہ ایک جدید تہذیب نہایت تیزی سے ترقی کرے گی لہٰذا ضمنی فالتو وسیع حرارت خطرناک طور سے سیارے کے درجہ حرارت میں اضافہ کر سکتی ہے اور ماحولیاتی مسائل کو پیدا کر سکتی ہے۔ جرثوموں کی بستیاں برق رفتاری سے بطری قاب میں اس وقت تک اپنی تعداد بڑھاتی رہتی ہیں تاوقتیکہ ان کی خوراک کی رسد ختم ہو جائے اور واقعی میں وہ اپنے ہی فضلہ میں غرق ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح کیونکہ خلائی سفر آنے والی صدیوں تک مشکل بنا رہے گا اور قریبی سیاروں کو زمین جیسا بنانا اگر ممکن ہوا تو بھی معاشی اور سائنس چیلنج بنے گایوں ایک جماعت اوّل کی ارتقا پذیر تہذیب ممکنہ طور پر اپنی ہی پیدا کی ہوئی فالتو حرارت میں دم گھٹ کر مر جائے گی یا پھر اس کو اپنی اطلاعات کی پیداوار کو انتہائی مختصر ہموار کرنا ہوگا۔

    اس طرح کے مختصر کرنے کے اثر کو دیکھنے کے لئے انسانی دماغ پر غور کریں جس میں 100 ارب عصبانیے (جتنی قابل مشاہدہ کائنات میں کہکشائیں ہیں) ہوتے ہیں اور اس کے باوجود وہ کسی قسم کی حرارت پیدا نہیں کرتا۔ مقابلے کے طور پر اگر آج کے کمپیوٹر انجنیئر کوئی برقی کمپیوٹر بنانے شروع کر دیں جو اس قابل ہو کہ پدم ہا بائٹس فی سیکنڈ پر کام کر سکے جس طرح سے دماغ بظاہر طور پر بڑے مزے سے کام کرتا ہے، تو وہ ممکنہ طور پر حجم میں کئی منزلہ ہوگا اور اس کو ٹھنڈا ہونے کے لئے پانی کا وافر ذخیرہ درکار ہوگا۔ ہنوز ہمارا دماغ زیادہ تر پر شکوہ خیالات پر دھیان پسینہ نکالے بغیر دے سکتے ہے۔

    دماغ اس طرح اپنے سالماتی اور خلیاتی ساخت کی بنیاد پر کرتا ہے۔ سب سے پہلے یہ کوئی کمپیوٹر نہیں ہے ( ایک معیاری ٹیورنگ مشین کی طرح ، جس میں ایک دخول کی ٹیپ ہوتی ہے ایک نتیجہ حاصل کرنے کی اور ایک مرکزی عمل کار ہوتا ہے)۔ دماغ میں کسی قسم کا چلانے والا نظام موجود نہیں ہے، نہ ونڈوز ، نہ ہی سی پی یو، نہ کوئی پینٹیم چپ جن کو ہم عام طور پر کمپیوٹر سے جوڑتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی متاثر کن عصبانی جال ہے ایک سیکھنے کی مشین، جہاں پر یادداشت اور خیالات کے نمونے بجائے کسی مرکزی عمل کار یونٹ میں موجود ہونے کے پورے دماغ میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ دماغ کو بہت تیزی سے حساب لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ برقی پیغامات جو عصبانیوں کو بھیجتے ہیں وہ اصل میں کیمیائی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ تاہم یہ اپنی سست رفتاری کا ازالہ اس طرح سے کرتا ہے کہ یہ متوازی عمل کاری کرتا ہے اور نئے کام فلکیاتی رفتار سے سیکھتا ہے۔

    برقی کمپیوٹر کی خام کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے سائنس دان کوشش کر رہے ہیں کہ نئے خیالات کا استعمال کریں، ان میں سے اکثر وہ قدرت کے خیالات کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ ایک نئی نسل کے مختصر کمپیوٹر بنا سکیں۔ پرنسٹن میں پہلے ہی سائنس دان ڈی این اے کے سالمے کا استعمال کرتے ہوئے حساب کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔(ڈی این اے کو بطور کمپیوٹر ٹیپ کے لے کر انہوں نے ثنائی صفر اور ایک کے چار مرکزائی تیزاب، اے، ٹی، سی، جی ) کو لیا؛ ان کا ڈی این اے کا کمپیوٹر ایک کئی شہروں میں محو سفر فروش کار کے مسائل کو حل کر چکا ہے (یعنی سب سے مختصر راستہ جو "این" شہروں کو جوڑتا ہے۔) اسی طرح سالماتی ٹرانسسٹر کو تجربہ گاہ میں بنا لیا گیا ہے بلکہ پہلا ابتدائی کوانٹم کمپیوٹر (جو انفرادی جوہروں پر حساب کر سکتا ہے) بنا لیا گیا ہے۔

    نینو ٹیکنالوجی میں پیش رفت کو دیکھتے ہوئے یہ قرین قیاس ہے کہ ایک ترقی یافتہ تہذیب کافی اثر انگیز طریقے بنا لے گی جس سے وہ فالتو حرارت نہ نکل سکے جو ان کی اپنے ہی وجود کے لئے خطرہ ثابت ہو۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: اطلاعات کی درجہ بندی Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top