Prevention of Copy Paste


  • تازہ اشاعتیں

    سوموار، 12 ستمبر، 2016

    ایک پراسرار کائناتی کہانی: آغاز - چہارم



    ہبل نے یہ نتائج اپنی پیمائش کی گئی کہکشاؤں کے فاصلے کا موازنہ ایک دوسرے امریکی فلکیات دان، ویسٹو سلیفر کی پیمائش کردہ مختلف جوڑے سے کیا، جس نے ان کہکشاؤں سے آتی ہوئی روشنی کے طیف کی پیمائش کی تھی۔ اس طرح کے طیف کی ماہیت اور وجود کو سمجھنے کے لئے مجھے آپ کو جدید فلکیات کی بالکل ابتداء میں لے کر جانا ہو گا۔ 

    فلکیات میں ایک سب سے اہم دریافت یہ تھی کہ ستاروں کا مادّہ اور زمین کا مادّہ کافی حد تک ایک ہی جیسا تھا۔ اس کی شروعات آئزک نیوٹن کے ساتھ ویسی ہی ہوئی جیسی کہ جدید سائنس میں زیادہ تر چیزوں کی ہوئی تھی۔ 1665ء میں نیوٹن نے ، جو اس وقت کا نوجوان سائنس دان تھا، اپنے کمرے کو تاریک کرکے اپنی کھڑکی کے دروازے میں ایک سوراخ کرکے روشنی کی ایک مہین کرن کو ایک منشور کے ذریعہ اندر داخل کیا اور سورج کی روشنی کو قوس و قزح کے رنگوں میں ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔ وہ سمجھ گیا کہ سورج سے آنے والی سفید روشنی میں تمام رنگ شامل ہیں، اور وہ درست تھا۔ 

    ایک سو پچاس سال بعد، ایک اور سائنس دان نے پھیلتی ہوئی روشنی کا مزید احتیاط سے تجزیہ کیا، اور رنگوں کے درمیان تاریک پٹیوں کو دریافت کیا، وہ سمجھ گیا کہ اس کی وجہ سورج کے بیرونی کرہ ہوائی میں موجود مادّے ہیں جو روشنی کے مخصوص رنگوں یا طول امواج کو جذب کر رہے ہیں۔ یہ "جذبی خط"، جیسا کہ وہ جانے گئے، اس روشنی کے طول امواج کے ساتھ شناخت ہو سکتے ہیں جن کی پیمائش زمین پر موجود معلوم مادوں بشمول، ہائیڈروجن، آکسیجن، لوہا، سوڈیم، اور کیلشیم کے جذب ہونے سے کی تھی ۔ 

    1868ء میں ایک اور سائنس دان نے سورج کے طیف کے پیلے حصّے پر دو نئے جذبی خطوط کا مشاہدہ کیا جو زمین پر موجود کسی بھی معلوم عنصر کے مطابق نہیں تھے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ یہ کسی نئے عنصر کی وجہ سے ہو گا جس کو اس نے ہیلیئم کا نام دیا۔ ایک نسل کے بعد، ہیلیئم زمین پر دریافت ہو گئی۔ 

    دوسرے ستارے سے آنے والی اشعاع کے طیف کو دیکھنا ان کی ساخت، درجہ حرارت اور ارتقاء کو سمجھنے کا ایک اہم سائنسی آلہ تھا۔ 1912ء میں شروعات کر کے سلیفر نے متعدد سحابیوں سے آنے والی روشنی کے طیف کا مشاہدہ کیا اور پایا کہ طیف قریبی ستاروں سے ملتا جلتا ہے بجز اس کے کہ تمام جذبی خطوط طول امواج میں اتنی ہی مقدار میں منتقل تھے۔ 

    اس مظہر کو بعد میں شناسا "ڈوپلر اثر" سے سمجھا جا سکتا ہے، جس کا نام آسٹرین طبیعیات دان کرسچین ڈوپلر کے اعزاز میں رکھا گیا، جس نے 1814ء میں وضاحت کی کہ آپ کی طرف حرکت کرتے ہوئے منبع سے آنی والی امواج کھنچی ہوئی ہوں گی بشرطیکہ منبع آپ سے دور جا رہا ہو گا یا سکڑی ہوئی ہوں گی بشرطیکہ اگر حرکت کرتا ہوا جسم آپ کی طرف آ رہا ہو۔ یہ اس مظہر کا عکاس ہے جس سے ہم سب شناسا ہیں، اور جس سے مجھے سڈنی ہیرس کارٹون کی عام طور پر یاد آ جاتی ہے جہاں دو کاؤ بوائے اپنے گھوڑوں پر میدانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور دور سے آتی ہوئی ریل کو دیکھ رہے ہیں، اور ایک دوسرے کو کہتا ہے، "مجھے اس دور سے آتی ہوئی ریل کی سیٹی کے بجنے سے پیار ہے ۔کیونکہ تعدد ارتعاش کا زور ڈوپلر اثر کی وجہ سے تبدیل ہو جاتا ہے ! "حقیقت میں ٹرین کی سیٹی یا ایمبولینس کے سائرن کی آواز زیادہ ہو گی اگر ٹرین یا ایمبولینس آپ کی طرف حرکت کر رہی ہے اور کم اس وقت ہو گی جب وہ آپ سے دور جا رہی ہو گی۔ 

    یہ معلوم ہوا کہ وہی مظہر جو روشنی کی امواج کے لئے وقوع پذیر ہوتا ہے وہی صوتی امواج کے لئے ہوتا ہے، اگرچہ اس کی وجہ تھوڑی سی الگ ہوتی ہے۔ روشنی کی امواج ایک ایسے منبع سے جو آپ سے دور ہو رہا ہو یا تو اس کے خلاء میں مقام کے حرکت کرنے سے یا پھر خلاء کے پھیلاؤ کی وجہ سے، کھنچتی ہیں، اور لہٰذا وہ سرخی مائل ہوتی ہیں جتنا کہ انہیں نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ بصری طیف کا آخر سرخ طویل طول موج ہے، جبکہ آپ کی طرف آنے والے منبع کی طرف کی امواج سکڑی ہوئی اور نیلی مائل ہوں گی۔ 

    1912ءمیں سلیفر نے مشاہدہ کیا کہ تمام سحابی مرغولوں سے آنے والی روشنی کے جذبی خطوط لگ بھگ منظم طریقے سے طویل طول امواج کی طرف منتقل ہیں ( اگرچہ کچھ جیسا کہ اینڈرومیڈا مختصر طول امواج کی طرف منتقل ہے )۔ لہٰذا اس نے ٹھیک طرح سے استنباط کیا کہ زیادہ تر اجسام ہم سے قابل غور سمتی رفتاروں سے دور جا رہے ہیں۔ 

    ہبل اس قابل تھا کہ ان مرغولہ کہکشاؤں (جیسا کہ وہ اب جانی جاتی ہیں ) کے فاصلوں کے اپنے مشاہدات کا موازنہ سلیفر کی سمتی رفتاروں سے کرے جس سے وہ دور جا رہی ہیں۔ 1929ء میں، ماؤنٹ ولسن کے عملہ رکن، ملٹن ہماسن (جس کی تیکنیکی لیاقت ایسی تھی کہ اس نے ماؤنٹ ولسن میں نوکری بغیر کسی ہائی اسکول کے ڈپلوما کے حاصل کی ) کی مدد سے، حیرت انگیز تجربی تعلق کے دریافت کا اعلان کیا،جو اب ہبل کا قانون کہلاتا ہے : دور جاتی ہوئی سمتی رفتار اور کہکشانی فاصلے کے درمیان ایک خطی تعلق ہے۔ یعنی، کہکشائیں جو ہم سے زیادہ دور ہیں وہ ہم سے زیادہ تیز رفتار سے دور جا رہی ہیں !

    جب پہلی مرتبہ اس حیرت انگیز حقیقت کو پیش کیا گیا کہ لگ بھگ تمام کہکشائیں ہم سے دور جا رہی ہیں، اور وہ جو ہم سے دوگنا زیادہ دور ہیں وہ دوگنا رفتار سے دور جا رہی ہیں، جو تین گنا ہم سے دور ہیں تو تین گنا رفتار سے وغیرہ وغیرہ - تو اس کا مطلب عیاں ہونے لگا تھا: ہم کائنات کے مرکز میں تھے ! جیسا کہ کچھ دوستوں نے نصیحت کی، کہ مجھے روزانہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ یہ ایسا نہیں تھا۔ بلکہ یہ تو ٹھیک طرح سے اس تعلق سے میل کھاتی تھی جس کی لیمیترے نے پیش گوئی کی تھی۔ ہماری کائنات اصل میں پھیل رہی تھی۔
    • بلاگر میں تبصرے
    • فیس بک پر تبصرے

    0 comments:

    Item Reviewed: ایک پراسرار کائناتی کہانی: آغاز - چہارم Rating: 5 Reviewed By: Zuhair Abbas
    Scroll to Top